Daily Roshni News

واسکو ڈے گاما: سمندروں کا فاتح یا تاریخ کا فیصلہ کن موڑ؟۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

واسکو ڈے گاما: سمندروں کا فاتح یا تاریخ کا فیصلہ کن موڑ؟

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی ) واپس آنے والا فاتح — دوسری مہم، توپوں کا سایہ اور بحرِ ہند میں طاقت کی نئی سیاست۔۔۔

جب 1499ء میں واسکو ڈے گاما لزبن کی بندرگاہ پر واپس پہنچا تو اس کے جہازوں کی حالت ایسی نہیں تھی کہ ان پر رشک کیا جا سکے۔ بادبان پھٹے ہوئے تھے اور ملاحوں کے چہروں پر سمندری بیماریوں، بھوک اور تھکن کی گہری لکیریں نمایاں تھیں۔ کئی ساتھی بحرِ ہند کی بے رحم لہروں کی نذر ہو چکے تھے اور کچھ جہاز راستے کے طوفانوں میں غرق ہو چکے تھے۔ لیکن پرتگال کے لیے یہ بھاری قیمت ایک ایسی بے مثال کامیابی کے بدلے چکائی گئی تھی جس نے یورپ کے مقدر کا ستارہ ہمیشہ کے لیے چمکا دیا تھا۔ یورپ سے ہندوستان تک براہِ راست سمندری راستہ کھل چکا تھا، اور وہ خواب حقیقت کا روپ دھار چکا تھا جس کے لیے نسلیں کھپا دی گئی تھیں۔ لزبن کے شاہی دربار میں واسکو ڈے گاما اب محض ایک کپتان نہیں رہا تھا، بلکہ وہ ایک قومی ہیرو اور دیومالائی کردار بن چکا تھا۔ بادشاہ منوئل اول نے اسے دولت، اعزازات اور القابات سے لاد دیا، اور اس کا نام پرتگال کی آنے والی سامراجی عظمت کا استعارہ بن گیا۔

لیکن شاہی محلات کی راہداریوں میں اب ایک نیا اور سفاک سوال جنم لے رہا تھا۔ کیا صرف ایک سمندری راستہ دریافت کر لینا ہی کافی تھا؟ کیا اس دریافت کا مطلب یہ تھا کہ ایشیا کے تاجر اپنا سارا منافع خود بخود پرتگالیوں کی جھولی میں ڈال دیں گے؟ پرتگال کے حکمرانوں کا جواب بڑا واضح تھا۔ وہ صرف ہندوستان تک رسائی نہیں چاہتے تھے، بلکہ وہ بحرِ ہند کی صدیوں پرانی، منافع بخش تجارت پر اپنی مکمل اور مسلح اجارہ داری قائم کرنا چاہتے تھے۔ اور اس ہوس نے سفارت کاری کی جگہ بارود کو دے دی۔ یہیں سے واسکو ڈے گاما کی کہانی ایک مہم جو کی حیرت انگیز داستان سے نکل کر ایک ہولناک عالمی سیاست اور استعماریت کا خونی حصہ بن جاتی ہے۔

پندرھویں صدی کے آخر میں پرتگال اگرچہ یورپ کے نقشے پر ایک چھوٹی سی ریاست تھی، مگر اس کے عزائم سمندروں سے بھی زیادہ وسیع تھے۔ انہوں نے جان لیا تھا کہ بحیرہ روم اور مشرق کی منڈیوں پر عرب، فارسی اور مقامی تاجروں کا گہرا اور مضبوط کنٹرول ہے۔ اگر اس پرانے نظام میں نقب لگانی ہے تو جہازوں کو صرف تجارتی سامان ڈھونے والی کشتیاں نہیں، بلکہ توپوں سے لیس تیرتی ہوئی فوجی چھاؤنیاں بنانا ہوگا۔ یہ سوچ بحرِ ہند کی قدیم اور پرامن تجارتی روایت کے لیے موت کا پروانہ تھی۔ صدیوں سے اس سمندر میں تجارت اخلاقیات، باہمی تعلقات اور مون سون ہواؤں کے قدرتی نظام پر چل رہی تھی۔ لیکن اب پرتگالی اس پرامن فضا میں ایک خونی بدعت شامل کر رہے تھے: ‘مسلح بحری طاقت اور گن بوٹ ڈپلومیسی’۔

واسکو ڈے گاما کی پہلی مہم کے بعد 1500ء میں پیڈرو آلویریز کابرال کی قیادت میں ایک بھاری بھرکم بیڑا ہندوستان بھیجا گیا، جس نے کالی کٹ کے ساحلوں پر خونریزی کی اور یہ ثابت کر دیا کہ پرتگالی اب تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ آقا بننے آئے ہیں۔ کالی کٹ میں ہونے والے ان تنازعات نے یہ پیغام دے دیا تھا کہ بحرِ ہند کے پرانے اور طاقتور کھلاڑی اس نئی بدمعاشی کو اتنی آسانی سے ہضم نہیں کریں گے، کیونکہ یہاں ہر بندرگاہ اور ہر حکمران کے اپنے مضبوط مفادات تھے۔ انہی کشیدہ حالات میں 1502ء میں واسکو ڈے گاما کو ایک بار پھر ہندوستان کی طرف روانہ کیا گیا۔

لیکن یہ سفر اس کی پہلی مہم سے یکسر مختلف تھا۔ پہلی بار وہ ایک سائل اور راستہ تلاش کرنے والا بن کر آیا تھا، مگر اب کی بار وہ ایک جنگجو اور غاصب فاتح بن کر لوٹ رہا تھا۔ اس کے بیڑے میں پہلے سے کہیں زیادہ جہاز تھے، ان کے عرشوں پر بھاری توپیں نصب تھیں، اور اس کی جیب میں پرتگالی تاج کا وہ واضح سیاسی فرمان تھا جس کا مقصد بحرِ ہند میں دہشت اور طاقت کے زور پر تجارتی کنٹرول قائم کرنا تھا۔ پرتگالیوں کی ضد تھی کہ اب جو بھی اس سمندر میں تجارت کرے، وہ ان کی مرضی، اجازت اور ٹیکس کے دائرے میں رہ کر کرے۔

دوسری مہم کے دوران واسکو ڈے گاما نے مشرقی افریقہ، موزمبیق اور ہندوستان کے ساحلوں پر جو وحشت ناک بحری پالیسی اور تشدد اپنایا، اس نے اس کی تاریخی شخصیت کو ہمیشہ کے لیے متنازع بنا دیا۔ کچھ یورپی تاریخ نگار اسے ایک عظیم مہم جو، جغرافیائی سرحدوں کو مٹانے والا اور جدید عالمی تجارت کا بانی قرار دے کر اس کے گن گاتے ہیں۔ لیکن ایشیائی مؤرخین اور تاریخ کا بے لاگ کٹہرا اسے ایک ایسے غاصب کے طور پر دیکھتا ہے جس نے ایک پرامن خطے میں عسکری دباؤ، بحری دہشت گردی اور استحصالی نوآبادیاتی نظام کا بیج بویا۔ یہ حقیقت ہے کہ واسکو ڈے گاما کا سفر دنیا کو آپس میں جوڑنے کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا، مگر اس رابطے کی قیمت ایشیا اور افریقہ کے باشندوں نے اپنے خون سے ادا کی۔

اس کی مہمات نے ثابت کر دیا کہ اب دنیا کی سیاست خشکی کے میدانوں سے نکل کر سمندر کی بپھری ہوئی لہروں پر لڑی جائے گی۔ پرتگال کی دیکھا دیکھی جلد ہی ہالینڈ، برطانیہ اور فرانس جیسی طاقتیں بھی اس خطے پر ٹوٹ پڑیں گی، اور سمندر عالمی سیاست کا سب سے بڑا اکھاڑا بن جائے گا۔ واسکو ڈے گاما جب دوسری مہم کے بعد بے پناہ دولت اور طاقت سمیٹ کر لزبن لوٹا، تو وہ اب محض ایک دریافت کنندہ نہیں بلکہ ایک سفاک سامراجی منصوبے کا سب سے بڑا نمائندہ بن چکا تھا۔

لیکن اس کی کہانی کی کتاب ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ آنے والے برسوں میں پرتگال ہندوستان کے ساحلوں پر گوا جیسی ریاستوں پر اپنا تسلط جما کر ایک ایشیائی سلطنت کی بنیاد رکھنے والا تھا، اور زندگی کے آخری پہر میں واسکو ڈے گاما کو ایک بار پھر انہی سمندروں کی طرف لوٹنا تھا۔ مگر یہ آخری سفر اس کے لیے شہرت اور طاقت سے بڑھ کر ایک کڑی آزمائش ثابت ہونے والا تھا۔

(اگلی قسط میں: واسکو ڈے گاما کا آخری سفر — ہندوستان کا وائسرائے بننا، گوا کی خون آشام سیاست، زندگی کے آخری دن اور دنیا کا نقشہ بدلنے والے اس شخص کی متنازع میراث)

حوالہ جات برائے تحقیق:

Sanjay Subrahmanyam — The Career and Legend of Vasco da Gama

Malyn Newitt — A History of Portuguese Overseas Expansion

  1. M. Panikkar — Asia and Western Dominance

  1. S. Whiteway — The Rise of Portuguese Power in India

João de Barros — Décadas da Ásia

Fernão Lopes de Castanheda — History of the Discovery and Conquest of India by the Portuguese

#واسکو_ڈے_گاما #تاریخ_عالم #بحر_ہند #پرتگالی_تاریخ #ہندوستان_کی_تاریخ #سمندری_مہمات #عالمی_تجارت #یورپی_نوآبادیات #تاریخ_کے_اہم_کردار #GlobalTareekhHub

Loading