قرآن کے ایک لفظ کی پوری دنیا — قسط 4
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )الرَّجَاءُ — امید: جب بندہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے سے انکار کر دے
انسان کی زندگی میں ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ راستے ختم ہوگئے ہیں۔
دعا بہت کی، مگر جواب نظر نہیں آیا۔
غلطی ہوگئی، اور دل کہتا ہے:
“اب میری واپسی کیسے ہوگی؟”
گناہ اتنے بڑھ گئے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کے قابل نہیں سمجھتا۔
کوشش بہت کی، مگر کامیابی نہ ملی۔
دروازے ایک ایک کرکے بند ہوتے گئے۔
اور پھر دل کے اندر ایک خطرناک آواز پیدا ہوتی ہے:
“شاید اب میرے لیے کچھ باقی نہیں۔”
یہی وہ لمحہ ہے جہاں قرآن انسان کے سامنے ایک انتہائی خوبصورت لفظ رکھتا ہے:
الرَّجَاءُ
امید۔
لیکن یہ عام دنیاوی امید نہیں۔
یہ اس یقین کا نام ہے کہ:
اللہ کی رحمت میری کمزوریوں سے بڑی ہے۔
—
الرَّجَاءُ کیا ہے؟
امید کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کچھ نہ کرے اور صرف یہ سوچتا رہے کہ اللہ سب ٹھیک کردے گا۔
یہ خواب دیکھنا نہیں۔
یہ حقیقت سے فرار نہیں۔
اور نہ ہی یہ اپنے اعمال کو نظر انداز کرنے کا نام ہے۔
قرآنی مفہوم میں امید کا تعلق اللہ کی رحمت، اس کے فضل اور اس سے اچھا گمان رکھنے سے ہے، جبکہ بندہ اپنی اصلاح اور عمل جاری رکھتا ہے۔
یعنی:
دل اللہ سے امید رکھے،
اور جسم اللہ کی اطاعت میں چلتا رہے۔
یہی زندہ امید ہے۔
—
قرآن کا ایک ایسا پیغام جو ٹوٹے ہوئے انسان کو دوبارہ کھڑا کردیتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ
“کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔”
(سورۃ الزمر 39:53)
ذرا غور کیجیے۔
یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی۔
یعنی گناہ کیے۔
غلطیاں کیں۔
حدود سے تجاوز کیا۔
لیکن اللہ نے انہیں صرف ان کے ماضی سے نہیں پکارا۔
فرمایا:
يَا عِبَادِيَ
“اے میرے بندو!”
کتنی حیرت انگیز بات ہے۔
انسان اپنے گناہ کی وجہ سے خود کو اللہ سے دور سمجھ سکتا ہے، مگر اللہ اسے پھر بھی:
“میرے بندے”
کہہ کر پکار رہا ہے۔
—
مایوسی اور توبہ کے درمیان ایک پردہ
کبھی گناہ سے زیادہ خطرناک چیز گناہ کے بعد پیدا ہونے والی مایوسی ہوتی ہے۔
انسان غلطی کرتا ہے۔
پھر شرمندہ ہوتا ہے۔
پھر اپنے آپ کو برا سمجھتا ہے۔
پھر سوچتا ہے:
“میں بار بار یہی غلطی کرتا ہوں، اللہ مجھے کیسے معاف کرے گا؟”
پھر شیطان ایک اور خیال ڈالتا ہے:
“اب بہت دیر ہوگئی۔”
یہی وہ جگہ ہے جہاں قرآن کہتا ہے:
لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ
“اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔”
غلطی ہوئی ہے؟
واپس آؤ۔
گناہ ہوگیا؟
توبہ کرو۔
دور چلے گئے؟
پلٹ آؤ۔
کیونکہ اللہ کا دروازہ بند نہیں ہوا۔
—
لیکن امید اور خود فریبی میں فرق ہے
یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
ایک شخص کہتا ہے:
“اللہ بہت غفور الرحیم ہے، اس لیے میں جو چاہوں کرتا رہوں گا۔”
یہ امید نہیں۔
یہ خود فریبی ہے۔
دوسرا شخص گناہ سے لڑ رہا ہے۔
کبھی کامیاب ہوتا ہے، کبھی پھسل جاتا ہے۔
لیکن ہر بار اٹھ کر کہتا ہے:
“یا اللہ! میں پھر واپس آگیا ہوں۔”
یہ رجاء کی روح ہے۔
امید انسان کو گناہ پر مطمئن نہیں کرتی۔
امید انسان کو گناہ کے بعد واپس اللہ کی طرف لے آتی ہے۔
—
اللہ کی رحمت سے ناامیدی کیوں خطرناک ہے؟
کیونکہ مایوسی انسان سے کوشش چھین لیتی ہے۔
جب انسان سوچتا ہے:
“اب کچھ نہیں بدل سکتا”
تو وہ بدلنے کی کوشش بھی چھوڑ دیتا ہے۔
نماز چھوڑ دیتا ہے۔
توبہ چھوڑ دیتا ہے۔
دعا چھوڑ دیتا ہے۔
اصلاح چھوڑ دیتا ہے۔
پھر گناہ ایک عادت بن جاتا ہے۔
لیکن امید کہتی ہے:
“ایک قدم اٹھاؤ۔”
شاید ابھی مکمل تبدیلی نہ آئے۔
لیکن ایک قدم تو اٹھاؤ۔
پھر دوسرا۔
پھر تیسرا۔
اللہ کی طرف سفر ہمیشہ ایک ہی چھلانگ میں مکمل نہیں ہوتا۔
کبھی یہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے ہوتا ہے۔
—
امید انسان کو انتظار سکھاتی ہے
کبھی انسان کی سب سے بڑی آزمائش یہ نہیں ہوتی کہ اسے کچھ نہیں ملا۔
بلکہ یہ ہوتی ہے کہ:
اسے ابھی نہیں ملا۔
دعا کی۔
انتظار کیا۔
پھر انتظار کیا۔
اور دل میں سوال پیدا ہوا:
“یا اللہ! کب؟”
یہاں رجاء انسان کو سکھاتا ہے:
“اللہ سے مانگتے رہو، لیکن اللہ کے وقت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں نہ لو۔”
ہم چاہتے ہیں:
ابھی۔
اللہ جانتا ہے:
کب۔
ہم صرف نتیجہ دیکھتے ہیں۔
اللہ پورا راستہ جانتا ہے۔
—
حضرت یعقوبؑ: غم کے اندر امید
قرآن حضرت یعقوبؑ کا ایک ایسا منظر دکھاتا ہے جس میں جدائی کا غم بہت شدید ہے۔
وہ اپنے بیٹے یوسفؑ سے جدا ہیں۔
پھر ایک اور بیٹے کی خبر بھی مشکل ہوگئی۔
اس موقع پر بھی وہ اپنے بیٹوں سے فرماتے ہیں:
> وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ
“اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔”
(سورۃ یوسف 12:87)
یہاں ایک بہت بڑی حقیقت سامنے آتی ہے:
غم اور امید ایک ساتھ موجود ہوسکتے ہیں۔
انسان رو بھی سکتا ہے اور امید بھی رکھ سکتا ہے۔
دل زخمی بھی ہوسکتا ہے اور اللہ سے جڑا بھی رہ سکتا ہے۔
یہی ایمان کی خوبصورتی ہے۔
—
امید کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خواہش پوری ہوگی
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے۔
اللہ سے امید رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ:
جو میں مانگوں گا، وہ لازماً اسی شکل میں ملے گا۔
بلکہ مومن کی امید اس سے بھی بڑی ہوتی ہے۔
وہ کہتا ہے:
“یا اللہ! مجھے وہ عطا فرما جو میرے لیے بہتر ہے۔”
کبھی انسان جس چیز کو اپنے لیے خیر سمجھتا ہے، وہ اس کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔
اور کبھی جس چیز کو وہ محرومی سمجھتا ہے، وہی اس کے لیے حفاظت ہوتی ہے۔
اس لیے رجاء کا اعلیٰ درجہ صرف یہ نہیں:
“اللہ میری مرضی پوری کرے گا۔”
بلکہ:
“اللہ میرے لیے بہتر فیصلہ کرے گا، کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔”
—
دعا اور امید کا تعلق
دعا اس وقت خوبصورت ہوجاتی ہے جب انسان نتیجے سے پہلے اپنے رب پر اعتماد رکھتا ہے۔
وہ دعا کرتا ہے۔
پھر کوشش کرتا ہے۔
پھر انتظار کرتا ہے۔
اور انتظار کے دوران اللہ کو چھوڑتا نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دعا صرف مانگنے کا نام نہیں۔
دعا بندے اور رب کے درمیان تعلق کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔
اگر جواب دیر سے آئے تو دعا ختم نہیں ہونی چاہیے۔
اگر راستہ بدل جائے تو تعلق ختم نہیں ہونا چاہیے۔
اگر حالات خراب ہوجائیں تو اللہ سے حسنِ ظن ختم نہیں ہونا چاہیے۔
—
رجاء اور خوف: دونوں کیوں ضروری ہیں؟
قرآن مومن کو صرف امید نہیں دیتا۔
وہ اللہ کے خوف کا شعور بھی دیتا ہے۔
ایک طرف:
اللہ کی رحمت سے امید۔
دوسری طرف:
اللہ کی پکڑ کا خوف۔
اگر انسان صرف خوف میں رہے تو وہ مایوس ہوسکتا ہے۔
اگر صرف امید میں رہے اور خوف ختم ہوجائے تو وہ بے فکری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
مومن کا دل دونوں کے درمیان چلتا ہے:
خوف اسے گناہ سے روکتا ہے۔
امید اسے اللہ سے جوڑے رکھتی ہے۔
اور یہی توازن اسے راستے پر قائم رکھتا ہے۔
—
امید کا سب سے خوبصورت نتیجہ
جب انسان اللہ سے امید رکھتا ہے تو وہ ناکامی کو آخری باب نہیں سمجھتا۔
وہ کہتا ہے:
“میں ناکام ہوا ہوں، لیکن میری زندگی ختم نہیں ہوئی۔”
گناہ ہوا:
“میں واپس آسکتا ہوں۔”
کاروبار ناکام ہوا:
“میں دوبارہ کوشش کرسکتا ہوں۔”
رشتہ ٹوٹ گیا:
“اللہ میرے دل کو سنبھال سکتا ہے۔”
دعا دیر سے قبول ہوئی:
“اللہ میرے حال سے بے خبر نہیں۔”
راستہ بند ہوا:
“اللہ دوسرے راستے کھول سکتا ہے۔”
یہی رجاء انسان کو اندر سے زندہ رکھتا ہے۔
—
ایک بہت بڑا سوال
اگر انسان کو یقین ہوجائے کہ:
“اللہ مجھے دیکھ رہا ہے،
اللہ میری دعا سن رہا ہے،
اللہ میری توبہ قبول کرسکتا ہے،
اللہ کی رحمت میرے گناہوں سے بڑی ہے،
اور اللہ میرے مستقبل کو مجھ سے بہتر جانتا ہے…”
تو کیا وہ پھر بھی مایوسی میں ڈوبا رہے گا؟
شاید نہیں۔
کیونکہ امید حالات کے بدلنے سے پہلے دل کو بدل دیتی ہے۔
—
الرَّجَاءُ — ایک جملے میں
رجاء یہ نہیں کہ مجھے یقین ہے میری مرضی پوری ہوگی۔
رجاء یہ ہے کہ مجھے یقین ہے میرا رب مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔
یہی امید گناہ گار کو توبہ کی طرف لاتی ہے۔
یہی امید ناکام انسان کو دوبارہ کوشش کرواتی ہے۔
یہی امید دعا کو زندہ رکھتی ہے۔
یہی امید انتظار کو عبادت میں بدل سکتی ہے۔
اور یہی امید انسان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جہاں وہ کہتا ہے:
“مجھے اپنے رب کے فیصلے کا پورا علم نہیں،
لیکن مجھے اپنے رب کی رحمت پر یقین ہے۔”
—
اب اگلا دروازہ…
ہم نے دیکھا:
آزمائش میں — الصَّبْرُ
نعمت میں — الشُّكْرُ
اور مایوسی کے مقابل — الرَّجَاءُ
لیکن انسان کے دل میں ایک اور کیفیت بھی ہے۔
وہ اللہ کو صرف اس لیے نہیں چاہتا کہ وہ نعمت دے۔
وہ اللہ سے صرف اس لیے نہیں جڑتا کہ وہ مصیبت دور کرے۔
بلکہ ایک وقت آتا ہے جب بندہ اپنے رب کو محض اس لیے چاہنے لگتا ہے کہ وہ اس کا رب ہے۔
پھر عبادت صرف خوف اور امید کے درمیان معاملہ نہیں رہتی۔
دل میں ایک اور حقیقت جاگتی ہے:
الْمَحَبَّةُ
محبت۔
لیکن قرآن کی محبتِ الٰہی کیا ہے؟
کیا صرف جذباتی کیفیت کا نام ہے؟
یا محبت کا کوئی ایسا عملی معیار بھی ہے جس سے معلوم ہو کہ انسان واقعی اللہ سے محبت کرتا ہے؟
اگلی قسط میں:
الْمَحَبَّةُ — جب دل اللہ کو سب سے بڑھ کر چاہنے لگے۔
![]()

