ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )الْأُلْفَةُ وہ قربت جو دلوں کو جوڑ دے، اور وہ محبت جو انسانوں کے درمیان فاصلے مٹا دے
قرآن کے بعض الفاظ ایسے ہیں جنہیں صرف لغت کے معنی سے سمجھنا ممکن نہیں۔ *الْأُلْفَةُ* بھی انہی الفاظ میں سے ایک ہے۔ عام طور پر اس کا مفہوم بیان کیا جاتا ہے: *مانوسیت، محبت، انس، باہمی الفت، دلوں کا قریب ہونا، ایک دوسرے سے مانوس ہو جانا۔* لیکن اگر ہم اس لفظ کو قرآن کے ایک نہایت خوبصورت مقام کی روشنی میں دیکھیں تو اس کے اندر ایک پوری انسانی اور معاشرتی دنیا آباد نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا “اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی، پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔” سورۃ آلِ عمران: ۱۰۳ یہاں قرآن نے ایک ایسا منظر دکھایا ہے جو صرف ساتویں صدی کے عرب کا واقعہ نہیں۔ یہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک آئینہ ہے۔
ایک طرف: *أَعْدَاءً — دشمنی* اور دوسری طرف: *فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ — اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی۔* گویا قرآن ہمیں بتا رہا ہے کہ: معاشرے صرف قوانین سے نہیں بنتے، دلوں کے جڑنے سے بنتے ہیں۔
الْأُلْفَةُ کیا ہے؟
الْأُلْفَةُ صرف کسی کو پسند کرنے کا نام نہیں۔ یہ اس سے کہیں زیادہ گہری کیفیت ہے۔ جب دو انسان ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہتے *مانوس* ہو جائیں… جب اجنبیت کم ہونے لگے… جب دل میں اعتماد پیدا ہو… جب دوسرے کی موجودگی بوجھ محسوس نہ ہو… جب اس کی خوشی میں دل خوش ہو… جب اس کے دکھ میں دل بے چین ہو… جب اختلاف کے باوجود تعلق باقی رہے… تو وہاں *اُلفت* جنم لیتی ہے۔ اسی لیے الفت کا تعلق صرف محبت سے نہیں بلکہ: *اعتماد، قربت، انس، خیرخواہی اور دلوں کے باہمی سکون* سے بھی ہے۔
قرآن کا حیرت انگیز انداز
غور کیجیے: اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ: “میں نے تمہارے مسائل حل کر دیے۔” بلکہ فرمایا: “میں نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا۔” کیونکہ اگر دل جدا ہوں تو: ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ بھی اجنبی ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی خاندان کے افراد ایک دوسرے کے دشمن بن سکتے ہیں۔ ایک ہی قوم کئی حصوں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ اور اگر دل جڑ جائیں تو: کم وسائل میں بھی زندگی خوبصورت ہو سکتی ہے۔ یہاں قرآن ہمیں معاشرتی تعمیر کا ایک نہایت گہرا اصول دیتا ہے: باہر کا نظام بدلنے سے پہلے دلوں کے درمیان فاصلے کم کرنے پڑتے ہیں۔
اُلفت اللہ کی نعمت ہے
آیت کا ایک حصہ خاص طور پر دل کو چھوتا ہے: فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا “پھر تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے۔” یہاں بھائی بننے کو: *اللہ کی نعمت* کہا گیا۔ یعنی دلوں کا جڑ جانا بھی ایک نعمت ہے۔ ہم اکثر نعمت کو صرف: رزق، صحت، اولاد، گھر، کاروبار، دولت اور آسائشوں میں تلاش کرتے ہیں۔ لیکن قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: *اگر دلوں میں محبت نہیں تو بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان غریب ہے۔* اور اگر دلوں میں حقیقی الفت موجود ہو تو محدود وسائل میں بھی زندگی بہت بڑی نعمت بن سکتی ہے۔
دشمنی سے اخوت تک
آیت کا پورا منظر دیکھیے: *أَعْدَاءً* پہلے دشمن تھے۔ پھر: فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ اللہ نے دلوں کو جوڑ دیا۔ پھر: فَأَصْبَحْتُم… إِخْوَانًا تم بھائی بن گئے۔ یہ تبدیلی صرف رویے کی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ *دل کی تبدیلی* تھی۔ اور یہی اُلفت کا کمال ہے۔ صرف یہ نہیں کہ: “ہم لڑ نہیں رہے۔” بلکہ: “ہم ایک دوسرے کے خیرخواہ بن گئے ہیں۔”
الفت اور صرف خاموش امن میں فرق
دو لوگ ایک دوسرے سے لڑ نہیں رہے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ ان میں الفت ہے؟ ضروری نہیں۔ کبھی دو لوگ صرف اس لیے خاموش ہوتے ہیں کہ ان کے درمیان تعلق ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ نہ جھگڑا ہے۔ نہ محبت۔ نہ گفتگو۔ نہ اعتماد۔ نہ تعلق۔ یہ امن نہیں۔ یہ *اجنبیت* بھی ہو سکتی ہے۔ اُلفت اس سے آگے کی چیز ہے۔ الفت میں دل دوسرے کے لیے جگہ بناتا ہے۔
گھر میں الْأُلْفَةُ
ایک گھر کی خوبصورتی صرف اس کے فرنیچر، پردوں اور دیواروں سے نہیں ہوتی۔ اصل گھر وہ ہے جہاں: باپ تھکا ہوا آئے تو بچے اس کی طرف دوڑیں۔ ماں کی خاموشی بھی اولاد سمجھ لے۔ میاں بیوی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت نہ چھوڑیں۔ بھائی ایک دوسرے کی کامیابی سے خوش ہوں۔ بہن کی پریشانی گھر کی پریشانی بن جائے۔ اور کوئی غلطی کرے تو پورا گھر اسے ذلیل کرنے کے بجائے سنبھالنے کی کوشش کرے۔ یہی گھر کی *اُلفت* ہے۔
اُلفت ختم کیسے ہوتی ہے؟
یہ سوال بہت اہم ہے۔ محبت اکثر ایک ہی دن میں ختم نہیں ہوتی۔ وہ آہستہ آہستہ کم ہوتی ہے۔ ایک طنز۔ ایک تحقیر۔ ایک جھوٹ۔ ایک راز افشا کرنا۔ بار بار نظرانداز کرنا۔ دوسرے کی کامیابی سے حسد کرنا۔ ہر بات میں مقابلہ کرنا۔ معافی نہ مانگنا۔ معافی نہ دینا۔ اور سب سے بڑھ کر: *دوسرے کو سمجھنے کی کوشش چھوڑ دینا۔* پھر ایک وقت آتا ہے جب دو لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہوئے بھی سمجھ نہیں پاتے۔
الفت کی دشمن: انا
بعض رشتے صرف اس لیے ٹوٹ جاتے ہیں کہ دونوں طرف لوگ انتظار کرتے رہتے ہیں: “پہلے وہ معافی مانگے گا۔” پہلے وہ فون کرے۔ پہلے وہ بات کرے۔ پہلے وہ اپنی غلطی مانے۔ پہلے وہ جھکے۔ اور یوں: ایک چھوٹا سا اختلاف… *دو بڑی اناؤں کی جنگ بن جاتا ہے۔* الفت وہاں کمزور ہوتی ہے جہاں انسان تعلق سے زیادہ اپنی انا کو اہم سمجھنے لگے۔
اُلفت میں “میں” کم اور “ہم” زیادہ ہوتا ہے
نفرت کہتی ہے: *میں کیوں جھکوں؟* الفت کہتی ہے: *ہم کیسے بچیں؟* نفرت کہتی ہے: *اس نے میرے ساتھ کیا کیا؟* الفت پوچھتی ہے: *ہم اس مسئلے کو کیسے حل کریں؟* نفرت ماضی میں رہتی ہے۔ الفت مستقبل بنانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا کے دور میں اُلفت
آج انسان پہلے سے کہیں زیادہ connected ہے۔ لیکن شاید پہلے سے کہیں زیادہ lonely بھی ہے۔ ہمارے پاس: ہزاروں contacts ہیں۔ سینکڑوں followers ہیں۔ بہت سے گروپس ہیں۔ مگر کبھی کبھی دل کی بات کرنے کے لیے ایک بھی انسان نہیں ہوتا۔ یہاں *الْأُلْفَةُ* کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ایک ایسا تعلق جہاں انسان کو اپنی بہترین تصویر دکھانے کی ضرورت نہ ہو۔ جہاں وہ اپنی کمزوری بھی بتا سکے۔ جہاں اسے ہر وقت خود کو ثابت نہ کرنا پڑے۔ جہاں خاموشی بھی گفتگو بن جائے۔ یہی حقیقی انس ہے۔
سوشل میڈیا نے ایک اور مسئلہ پیدا کیا
ہم نے لوگوں کی زندگیوں کے *مناظر* دیکھنے شروع کر دیے، مگر ان کے دل نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں: وہ کہاں گئے۔ کیا کھایا۔ کیا خریدا۔ کس سے ملے۔ کیا پہنا۔ کتنے خوش نظر آئے۔ اور پھر ہم اپنی زندگی کا موازنہ ان کے دکھائے ہوئے چند لمحوں سے کرتے ہیں۔ یہ موازنہ: حسد پیدا کرتا ہے۔ فاصلہ پیدا کرتا ہے۔ اور کبھی کبھی الفت کی جگہ مقابلہ لے لیتا ہے۔ الفت کہتی ہے: “تم خوش ہو، میں خوش ہوں۔” مقابلہ کہتا ہے: “تم مجھ سے زیادہ خوش کیوں ہو؟” یہ دونوں راستے بہت مختلف ہیں۔
اُلفت صرف اپنوں کے لیے نہیں
قرآن کی تعلیم ہمیں ایک وسیع انسانی اخلاق کی طرف لے جاتی ہے۔ اُلفت کا مطلب یہ نہیں کہ صرف اپنے خاندان سے محبت کرو۔ بلکہ انسان کے اندر ایسی خیرخواہی پیدا ہو کہ وہ دوسروں کے لیے بھی آسانی کا سبب بنے۔ ایک پڑوسی۔ ایک مسافر۔ ایک غریب۔ ایک بوڑھا۔ ایک یتیم۔ ایک بیمار۔ ایک اجنبی۔ کسی کو دیکھ کر دل میں یہ احساس پیدا ہونا: “میں اس کے لیے کیا آسانی پیدا کر سکتا ہوں؟” یہی الفت کی روح ہے۔
اُلفت اور اختلاف
یہاں ایک بہت اہم بات ہے: *الفت کا مطلب اختلاف ختم کرنا نہیں۔* لوگ مختلف سوچیں گے۔ مختلف مزاج ہوں گے۔ مختلف رائے رکھیں گے۔ مختلف تجربات ہوں گے۔ لیکن اختلاف کو دشمنی بنانا ضروری نہیں۔ حقیقی اُلفت یہ سکھاتی ہے: “میں تم سے اختلاف کر سکتا ہوں، مگر تمہیں اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔” یہ آج کے معاشرے کے لیے شاید سب سے زیادہ ضروری اخلاق ہے۔
ایک مسلمان کی اصل طاقت
مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے ادوار بھی گزرے جب ان کے پاس بہت کم وسائل تھے مگر دلوں میں اجتماع تھا۔ اور ایسے ادوار بھی آئے جب دولت، طاقت اور وسائل موجود تھے مگر باہمی تقسیم نے کمزوری پیدا کر دی۔ اس لیے صرف وسائل کسی قوم کو مضبوط نہیں بناتے۔ *دلوں کا جڑنا قوموں کو طاقت دیتا ہے۔* قرآن اسی لیے فرماتا ہے: وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ “آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔” یعنی باہمی نزاع صرف تعلق نہیں توڑتا۔ *اجتماعی قوت بھی توڑ دیتا ہے۔*
الفت کا ایک عجیب قانون
کسی انسان کے ساتھ محبت کرنے کے لیے ہمیشہ بڑے بڑے کام ضروری نہیں۔ کبھی: ایک توجہ سے سن لینا، ایک سچا جملہ، ایک معذرت، ایک مسکراہٹ، ایک فون، ایک دعا، ایک گلاس پانی، ایک مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہو جانا… دل میں ایسی جگہ بنا دیتا ہے جو بڑے تحفے بھی نہیں بنا سکتے۔ الفت اکثر *چھوٹی چھوٹی نیکیوں سے بنتی ہے۔*
کبھی صرف سن لینا بھی اُلفت ہے
ہم اکثر ہر مسئلے کا حل دینا چاہتے ہیں۔ سامنے والا پریشان ہے تو فوراً مشورہ دیتے ہیں۔ وہ غمگین ہے تو فوراً نصیحت شروع کر دیتے ہیں۔ وہ شکایت کر رہا ہے تو فوراً اپنی مثال پیش کر دیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی انسان کو حل نہیں چاہیے ہوتا۔ اسے صرف یہ چاہیے ہوتا ہے کہ: *کوئی اسے خاموشی سے سن لے۔* یہ بھی الفت ہے۔
اُلفت میں راز محفوظ رہتے ہیں
جس شخص نے آپ کو اپنا دکھ بتایا، اس نے صرف ایک بات نہیں بتائی۔ اس نے آپ کو: *اپنے دل کے اندر داخل ہونے کی اجازت دی۔* اس لیے اس کے راز کو محفوظ رکھنا بھی الفت ہے۔ اس کی کمزوری کو دوسروں کے سامنے بیان نہ کرنا بھی الفت ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں اس کا دفاع کرنا بھی الفت ہے۔ اور اس کی غلطی کو اصلاح کے لیے استعمال کرنا، تذلیل کے لیے نہیں، یہ بھی الفت ہے۔
اُلفت اور معافی
کوئی تعلق ایسا نہیں جس میں کبھی غلطی نہ ہو۔ جہاں انسان ہیں وہاں: غلط فہمیاں ہوں گی۔ غلط الفاظ ہوں گے۔ غلط فیصلے ہوں گے۔ کبھی لہجہ خراب ہوگا۔ کبھی رویہ۔ اس لیے ہر تعلق کو دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے: *معافی مانگنے والا دل* اور *معاف کرنے والا دل* ان دونوں کے بغیر الفت زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔
اللہ دلوں کو جوڑ سکتا ہے
سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ “اور اس نے ان کے دلوں میں الفت پیدا کر دی۔ اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتے تو بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت پیدا کر دی۔” یہ آیت دلوں کے بارے میں ایک حیرت انگیز حقیقت بیان کرتی ہے: *دلوں کو حقیقی طور پر جوڑنے کی قدرت اللہ کے پاس ہے۔* انسان کوشش کرتا ہے۔ الفاظ استعمال کرتا ہے۔ تحفے دیتا ہے۔ معذرت کرتا ہے۔ رشتے بناتا ہے۔ مگر دلوں کی گہرائی میں جو تبدیلی آتی ہے، وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے۔
پھر ہمارا کام کیا ہے؟
اگر دل اللہ جوڑتا ہے تو کیا انسان کچھ نہ کرے؟ نہیں۔ ہمیں اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ اپنی زبان کو نرم رکھنا ہے۔ لوگوں کے بارے میں بدگمانی کم کرنی ہے۔ معافی مانگنی ہے۔ معاف کرنا سیکھنا ہے۔ دوسروں کی عزت کرنی ہے۔ افواہوں سے بچنا ہے۔ کسی کی کامیابی پر خوش ہونا ہے۔ کسی کے دکھ میں شریک ہونا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر: *دلوں کو توڑنے کے بجائے جوڑنے والا انسان بننا ہے۔*
آج اپنے گھر میں اُلفت کیسے پیدا کریں؟
آج ایک چھوٹا سا کام کیجیے۔ گھر کے کسی فرد سے بغیر کسی مقصد کے صرف یہ پوچھ لیجیے: “آپ کیسے ہیں؟” اور جواب واقعی سن لیجیے۔ کسی پرانے رشتے دار کو فون کر لیجیے۔ کسی ایسے شخص سے سلام کر لیجیے جس سے کچھ عرصے سے بات نہیں ہوئی۔ کسی کی اچھی بات کی تعریف کر دیجیے۔ کسی کی غلطی کو دوسروں تک پہنچانے کے بجائے وہیں روک دیجیے۔ اور اگر کسی سے ناراضی ہے تو کم از کم اللہ سے یہ دعا شروع کر دیجیے: “اے اللہ! ہمارے دلوں سے وہ چیز نکال دے جو ہمیں ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے۔” ممکن ہے تبدیلی وہیں سے شروع ہو۔
آخر میں ایک سوال
ہم دنیا میں بہت سی چیزیں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بڑی عمارتیں۔ بڑے ادارے۔ بڑی سڑکیں۔ بڑی یونیورسٹیاں۔ بڑی معیشتیں۔ بڑے نظام۔ لیکن سوال یہ ہے: *کیا ہم ایسے دل بھی بنا رہے ہیں جو ایک دوسرے کو برداشت کر سکیں؟* کیونکہ اگر: گھر میں الفت نہیں، خاندان میں الفت نہیں، دوستوں میں الفت نہیں، معاشرے میں الفت نہیں، اور امت میں الفت نہیں، تو ہماری ترقی کا ایک بڑا حصہ صرف ظاہری ترقی رہ جائے گا۔
الْأُلْفَةُ — ایک لفظ، ایک انقلاب
الْأُلْفَةُ ہمیں سکھاتی ہے کہ: ہر اختلاف دشمنی نہیں۔ ہر خاموشی نفرت نہیں۔ ہر اجنبی ہمیشہ اجنبی نہیں رہتا۔ اور ہر ٹوٹا ہوا رشتہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹا ہوا نہیں ہوتا۔ کبھی ایک سچی معذرت کافی ہوتی ہے۔ کبھی ایک قدم کافی ہوتا ہے۔ کبھی ایک فون کافی ہوتا ہے۔ کبھی ایک جملہ: “مجھے افسوس ہے۔” اور کبھی ایک دعا: “اے اللہ! ہمارے دل جوڑ دے۔”
آخری بات
ہم اکثر دعا کرتے ہیں: *یا اللہ! ہمارے حالات بدل دے۔* شاید کبھی ہمیں یہ دعا بھی کرنی چاہیے: *یا اللہ! ہمارے دل بدل دے۔* کیونکہ حالات بدل جائیں اور دل نہ بدلیں تو انسان پھر وہی غلطیاں دہرا دیتا ہے۔ لیکن اگر دل بدل جائیں… تو: گھر بدل سکتا ہے۔ رشتہ بدل سکتا ہے۔ محلہ بدل سکتا ہے۔ معاشرہ بدل سکتا ہے۔ اور شاید ایک دن: *دشمنی کی جگہ اُلفت لے سکتی ہے۔* قرآن کے اس ایک مفہوم میں شاید ہمارے پورے معاشرتی زوال کا ایک علاج چھپا ہوا ہے: *فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ* “پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی۔” اور شاید آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم صرف ایک دوسرے کے ساتھ رہنا نہ سیکھیں… *بلکہ ایک دوسرے کے دل میں جگہ بنانا سیکھیں۔*
*اللہ ہمارے دلوں سے کینہ، حسد، بغض اور بدگمانی نکال کر محبت، رحمت، خیرخواہی اور اُلفت عطا فرمائے۔ آمین۔*
#الْأُلْفَةُ #قرآنی_الفاظ #قرآن_اور_زندگی #دلوں_کی_دنیا #دلوں_کو_جوڑنے_والا_دین #قرآن_کی_روشنی #اسلامی_فکر #اصلاحی_تحریر #معاشرتی_اصلاح #محبت #اخوت #انسانیت #دلوں_کا_رشتہ #قرآنی_فکر
![]()

