حیا اور ایمان
انتخاب ۔ چوہدری محمد اصغر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ حیا اور ایمان۔۔۔ انتخاب ۔ چوہدری محمد اصغر)حیاء اور ایمان کا آپس میں گہرا اور لاینفک تعلق ہے۔**
اسلام میں حیاء محض ایک اخلاقی صفت نہیں، بلکہ یہ ایمان کا بنیادی حصہ اور اس کا پاسبان ہے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں حیاء اور ایمان کی اہمیت کو درج ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے:
### ۱. حیاء ایمان کا حصہ ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> **”الْإِيمَانُ بَضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً… وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ”**
> *(ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں… اور حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔)* — [صحیح مسلم]
>
### ۲. دونوں لازم و ملزوم ہیں
حیاء اور ایمان ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک کے جانے سے دوسرا بھی رخصت ہو جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
> **”الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ قُرِنَا جَمِيعًا، فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الْآخَرُ”**
> *(حیاء اور ایمان کو ایک ساتھ ملا دیا گیا ہے، جب ان میں سے ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے۔)* — [شعب الایمان]
>
### ۳. حیاء کی اقسام
* **اللہ سے حیاء:** اللہ کے احکامات کی پابندی کرنا، اس کی معصیت سے بچنا اور یہ احساس رکھنا کہ وہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔
* **لوگوں سے حیاء:** ایسے افعال، گفتار اور لباس سے پرہیز کرنا جو اخلاقی و دینی حدود کے خلاف ہوں۔
* **اپنے آپ سے حیاء:** تنہائی میں بھی گناہ سے بچنا اور اپنی عزتِ نفس کا خیال رکھنا۔
>
حیاء انسان کے دل میں وہ روشنی پیدا کرتی ہے جو اسے برائی سے روکتی ہے اور نیکی کی طرف راغب کرتی ہے۔ جب انسان کے اندر حیاء قائم رہتی ہے، تو اس کا ایمان محفوظ رہتا ہے۔
![]()

