حضرت آدمؑ، قدیم انسان نما مخلوقات اور نظریۂ ارتقا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)قرآن کیا کہتا ہے، مختلف اہلِ علم کی آراء کیا ہیں، اور ہمارا موقف کیا ہونا چاہیے؟سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے حوالے سے حال ہی میں ایک تفصیلی اور فکر انگیز تحریر نگاہوں سے گزری، جس میں معروف اسکالر جناب جاوید احمد غامدی صاحب کا فکری موقف پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرآنِ مجید سے انسان کی تخلیق کے تین واضح اور جداگانہ مراحل ثابت ہوتے ہیں۔
اس تحریر کے عمیق علمی اور تنقیدی جائزے سے قبل یہ امر ازحد ضروری ہے کہ ایک عام قاری پوری بصیرت کے ساتھ یہ سمجھے کہ غامدی صاحب کی یہ فکری تعبیر دراصل ہے کیا؟ کیونکہ علمی دیانت اور تنقید کا بنیادی تقاضا ہی یہ ہے کہ کسی بھی نقطۂ نظر پر بحث سے پہلے اسے بغیر کسی کمی بیشی کے، اس کی اصل روح کے ساتھ دیانتداری سے پیش کیا جائے۔
غامدی صاحب کا موقف کیا ہے؟
زیرِ بحث تحریر میں غامدی صاحب کی تفسیر ‘البیان’ کے تناظر میں جو نظریہ نقل کیا گیا ہے، اس کے مطابق روئے زمین پر انسانی تخلیق کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام سے بحیثیتِ ایک مکمل، باہوش اور کامل انسان نہیں ہوئی، بلکہ اس تاریخی مرحلے سے بہت پہلے ایک ابتدائی “حیوانی انسانی وجود” معرضِ وجود میں لایا گیا۔
اس فکری تصور کا پہلا مرحلہ خاصا غیر روایتی اور چونکا دینے والا ہے۔ غامدی صاحب کے حوالے سے رقم کیا گیا ہے کہ جس طرح دورِ حاضر میں انسان کے مادی جسم کی تشکیل ماں کے پیٹ کے محفوظ رحم میں مختلف مراحل طے کرتی ہے، بالکل اسی نہج پر پہلی مرتبہ یہی تخلیقی عمل زمین کی کوکھ کے اندر رونما ہوا۔ مٹی کے کیمیائی اجزا سڑے ہوئے بودار گارے کے اندر طویل مراحل سے گزرے۔ پھر جب یہ مادی اور جسمانی ساخت پایۂ تکمیل کو پہنچی تو اوپر کا گارا کسی انڈے کے خول کی مانند سوکھ کر کڑاکے دار ہو گیا؛ بالآخر وہ خول ٹوٹا اور اس کے بطن سے ایک زندہ وجود نمودار ہوا۔ اس وجود کو مکمل معنوں میں انسان نہیں، بلکہ محض ‘انسان کا حیوانی وجود’ قرار دیا گیا۔
اس کے بعد اس ارتقائی خاکے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ یہ ابتدائی حیوانی وجود نر اور مادہ کی شکل میں اپنی نسل بڑھانے لگا۔ یعنی وہی پیدائشی عمل جو پہلے زمین کی کوکھ میں ظہور پذیر ہوا تھا، اب وہ باقاعدہ مادہ کے رحم میں منتقل ہو گیا۔ اس طرح صدیوں پر محیط توالد و تناسل سے نسلیں آگے بڑھتی رہیں۔ غامدی صاحب کے حوالے سے اسے انسانی تاریخ کا وہ تاریک اور شعور سے خالی دور گردانا گیا ہے جب انسان:
“علم و ادراک سے یکسر محروم محض ایک ناتراشیدہ حیوان تھا۔”
پھر تیسرا اور فیصلہ کن مرحلہ طلوع ہوا۔ اس تعبیر کے مطابق، غالباً کئی نسلوں کے باہمی اختلاط اور بتدریج ارتقا سے اس حیوانی انسان کی جسمانی اور عضویاتی ساخت اس قدر نکھر گئی کہ وہ ایک باشعور اخلاقی شخصیت کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو گئی۔ اس دورانیے میں زمین پر ایسے بے شمار حیوانی انسان بستے ہوں گے۔ پھر مشیتِ ایزدی نے انہی موجود افراد میں سے دو مخصوص ہستیوں کو منتخب فرمایا، ان کے اندر اپنی روح پھونکی، اور انہیں علم، شعور، عقل، بصیرت، ارادہ اور ایک باضابطہ اخلاقی شخصیت کے منصب پر فائز کر دیا۔ یہ دو منتخب ہستیاں دراصل حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام تھیں۔
یوں غامدی صاحب کی اس تعبیر کے آئینے میں حضرت آدم علیہ السلام:
انسانی مادی جسم کے پہلے فرد نہیں، بلکہ روئے زمین پر بسنے والے پہلے باشعور، صاحبِ ارادہ اور اخلاقی انسان ہیں۔ اور موجودہ بنی نوع انسان درحقیقت انہی آدم و حوا کی نسل ہیں، گو کہ ان سے قبل ایک طویل مادی، تولیدی اور حیاتیاتی “حیوانی انسانی سلسلہ” زمین پر متحرک تھا۔
اب تاریخ، عقل اور عقیدے کے کٹہرے میں بنیادی سوال یہ کھڑا ہوتا ہے:
کیا قرآنِ حکیم واقعی یہ تمام تفصیلی داستان بیان کرتا ہے؟
اور بالکل یہی وہ موڑ ہے جہاں سے ہمارا علمی اختلاف جنم لیتا ہے۔
امت کا معروف اور تاریخی فہم کیا رہا؟
مسلمانوں کے ہاں چودہ صدیوں سے جمہور اہلِ علم اور مفسرین کا غالب اور معروف فہم یہی رہا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہی ‘ابوالبشر’ (تمام انسانوں کے باپ) ہیں۔ اللہ رب العزت نے ان کی تخلیق کسی ارتقائی سلسلے کے بغیر ایک خصوصی اور معجزاتی امر کے تحت فرمائی، ان کے جوڑے کو پیدا کیا اور روئے زمین پر موجود تمام انسانی خاندان انہی کی شاخیں ہیں۔
یہ دعویٰ کرنا تاریخی طور پر قطعاً درست نہیں ہوگا کہ اسلامی فکری روایت میں حضرت آدمؑ سے قبل کسی دوسری مخلوق کے وجود پر کبھی لب کشائی ہی نہیں کی گئی؛ تاہم یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ موجودہ بنی نوع انسان کو کسی ماقبل حیوانی انسانی آبادی یا بندر نما مخلوقات کے تولیدی تسلسل سے نکالنا امت کی کلاسیکی تفسیری روایت کا موقف کبھی نہیں رہا۔
یہ فکری مسئلہ دورِ جدید میں اس وقت شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا جب ارضیاتی کھدائیوں، فوسلز (قدیم ہڈیوں) کی دریافت اور جدید جینیاتی تحقیقات نے انسانی تاریخ کے لاکھوں سال پرانے شواہد لا کر میز پر رکھ دیے۔ دورِ حاضر کے سائنسدانوں کے پاس موجودہ انسانی نوع (Homo sapiens) کے قریباً تین لاکھ سال پرانے آثار موجود ہیں، جبکہ دیگر قدیم انسان نما انواع (Hominins) اس سے بھی کہیں زیادہ قدیم ادوار میں اس دھرتی پر سانس لیتی رہی ہیں۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین اب تک ہزاروں قدیم انسانی فوسلز اور ان کے زیرِ استعمال پتھر کے اوزار دریافت کر چکے ہیں۔
چنانچہ دورِ حاضر میں ایک حقیقی علمی کشمکش نے جنم لیا:
اگر حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان تھے، تو پھر زمین کی تہوں سے ملنے والی یہ قدیم انسان نما مخلوقات آخر کون تھیں؟
مسلم مفکرین اور مفسرین نے اس پیچیدہ سوال کے جواب میں مختلف زاویۂ ہائے نگاہ پیش کیے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا موقف
مولانا مودودیؒ کا نقطۂ نظر اس معاملے میں دو ٹوک اور نہایت واضح ہے۔ ان کے فہم کے مطابق قرآنی نصوص کا سیدھا مفہوم یہ ہے کہ انسان نے اس کرۂ ارض پر اپنی حیات کا آغاز پہلے دن سے ہی ایک مکمل ‘انسان’ کی حیثیت سے کیا۔ وہ اس مفروضے کو قطعاً تسلیم نہیں کرتے کہ انسان ابتدا میں کسی غیر انسانی، حیوانی یا نیم انسانی مرحلے میں بھٹکتا رہا اور پھر کروڑوں سال کے اندھے ارتقا سے گھس پٹ کر انسان بنا۔
وہ سورۂ اعراف کی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ قرآنی اسلوب کے مطابق پہلے ایک انسانی قالب تیار کیا گیا، پھر اس کے اعضاء کو درست اور متناسب کیا گیا، اور اس کے بعد ‘نفخِ روح’ کے الٰہی مرحلے سے حضرت آدمؑ کی شخصیت وجود میں آئی۔ ان کے نزدیک یہ قرآنی تصور اس ڈارونی ارتقائی نظریے کی قطعی ضد ہے جس میں انسان کو حیوانات کی نچلی سطحوں سے مسلسل تدریجی تبدیلیوں کا مرہونِ منت قرار دیا جاتا ہے۔ سورۂ سجدہ کی تفسیری بحث میں بھی مولانا مودودیؒ پہلے انسان کی براہِ راست اور خصوصی تخلیق کے روایتی موقف پر مضبوطی سے قائم نظر آتے ہیں۔ یعنی ان کے نزدیک: آدمؑ ہی پہلے انسان ہیں، ان کی تخلیق مٹی سے بلا واسطہ ہوئی، اور بعد ازاں ان کی نسل کو نطفے اور توالد کے نظام کے تحت آگے بڑھایا گیا۔
مولانا عبدالرحمن کیلانیؒ کا موقف
معروف مفسر مولانا عبدالرحمن کیلانیؒ بھی اسی روایتی اور محتاط صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنی تفسیر ‘تیسیر القرآن’ میں سورۂ حجر کے تحت دو ٹوک الفاظ میں واضح کرتے ہیں کہ انسانی تخلیق کسی حیوانی ارتقا کے طویل سلسلے کی پیداوار نہیں۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے مٹی سے خود حضرت آدم علیہ السلام کو تراشا، ان کی شریکِ حیات کو پیدا فرمایا، اور انہی دو نفوسِ قدسیہ سے پوری انسانیت کے قافلے کو پھیلایا۔ سورۂ نساء کی پہلی آیت کے تحت وہ “نفسِ واحدہ” سے مراد بلاشبہ حضرت آدمؑ اور ان کے جوڑے سے حضرت حوا علیہا السلام ہی مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ کیلانی صاحب کی فکری تعبیر بھی جمہور امت کے خصوصی تخلیق (Special Creation) کے موقف کی مکمل ترجمانی کرتی ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کا موقف
معروف بین الاقوامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی حضرت آدم علیہ السلام کو کرۂ ارض پر پہلا حقیقی انسان ماننے پر اصرار کرتے ہیں۔ ایک عوامی نشست میں جب ایک سائل نے یہ علمی سوال داغا کہ قرآن تو آدمؑ کو پہلا انسان قرار دیتا ہے جبکہ جدید حیاتیاتی ارتقا کا سائنسی نظریہ اس کے برعکس شواہد لاتا ہے، تو ڈاکٹر ذاکر نائیک نے دو ٹوک جواب دیا کہ ان کے فہم کے مطابق قرآن کا بیانیہ اور ڈارون کا انسانی ارتقا کا تصور باہم متصادم ہیں، اور وہ نصوص کی بنیاد پر آدمؑ ہی کو نسلِ انسانی کا نقطۂ آغاز تسلیم کرتے ہیں۔
البتہ یہاں ایک سنجیدہ علمی احتیاط ناگزیر ہے: ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اس گفتگو میں ارتقا کے سائنسی پہلوؤں پر کلام کرتے ہوئے بعض ایسے دعوے بھی کیے جو جدید بائیولوجی اور فوسل سائنس کے موجودہ مسلمات سے مکمل ہم آہنگ نہیں ہیں۔ لہٰذا ہم یہاں ان کے خالص دینی اور قرآنی موقف کی حد تک تو بات کرتے ہیں، مگر ان کی پیش کردہ ہر سائنسی توجیہ کی توثیق کرنا مقصود نہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا موقف
یہاں پہنچ کر یہ علمی بحث ایک نہایت باریک اور دلچسپ موڑ اختیار کر جاتی ہے۔ نامور مفکرِ قرآن ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا زاویۂ نگاہ مولانا مودودیؒ اور مولانا کیلانیؒ کے روایتی فہم سے خاصا مختلف ہے، اور حیرت انگیز طور پر وہ غامدی صاحب کے پیش کردہ تطبیقی خاکے سے کئی مقامات پر بہت قریب دکھائی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے قرآنی اصطلاحات ‘بشر’ اور ‘انسان’ کے درمیان ایک گہرا لغوی اور معنوی فرق قائم کیا۔ ان کے نقطۂ نظر کے مطابق لفظِ ‘بشر’ سے مراد انسان کا مادی، حیوانی اور حیاتیاتی ڈھانچہ لیا جا سکتا ہے۔ وہ اس لفظ کے دائرے میں لاکھوں سال قدیم ان انسان نما ہڈیاں رکھنے والے جانداروں (Hominids) کو بھی سمونے کی گنجائش نکالتے ہیں۔ ان کا استدلال تھا کہ انہی ارتقائی بشری وجودوں میں سے بالآخر ایک فرد کو مشیتِ ایزدی نے اپنے خاص منصوبے کے تحت منتخب فرمایا، اس میں روحِ ربانی پھونکی اور وہ حیوان سے ترقی پا کر ‘آدم’ کے شعوری منصب پر فائز ہو گیا۔
ڈاکٹر صاحب کی تصنیف ‘The Process of Creation’ میں یہ بات صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ آدم درحقیقت ایک ‘منتخب بشر’ تھے اور نفخِ روح کے بعد ہی وہ کائنات کے حقیقی آدم بنے۔ مزید برآں، ان کی ایک اور انگریزی کتاب ‘Lessons from History’ میں یہ موقف اور بھی کھل کر سامنے آتا ہے، جہاں وہ حیاتیاتی ارتقا کے ایک خاص کمال پر انسان نما حیوانوں کے ایک جوڑے کے چناؤ، انہیں روحانی نفوس کی بخشش، اور اسی واقعے کو آدم و حوا کی اصل قرآنی تخلیق قرار دینے کی گفتگو کرتے ہیں۔
لہٰذا ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو محض یہ کہہ کر غامدی صاحب کے نظریے سے یکسر الگ تھلگ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ صرف قدیم مخلوقات کو ‘بشر’ کہتے تھے مگر آدمؑ کی تخلیق الگ مانتے تھے۔ بنظرِ غائر دیکھا جائے تو ان کا موقف بھی دراصل سائنس کے ارتقائی شواہد اور قرآن کے تخلیقی بیانیے کے درمیان ایک قسم کی فکری ‘تطبیق’ (Reconciliation) پیدا کرنے کی ہی سنجیدہ کاوش تھی۔ البتہ غامدی صاحب کی تفصیلی منطق—جس میں زمین کے اندر رحم جیسا عمل، گارے کا خول بننا، اس کا ٹوٹنا، اور نسلوں کے اختلاط سے ساخت کا سنورنا شامل ہے—اپنی جزئیات میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے بیان سے قدرے مختلف اور منفرد ہے۔
اب فیصلہ کس بنیاد پر کیا جائے؟
یہاں وہ بنیادی اور زریں اصول سامنے آتا ہے جس پر ہر طالبِ علم کو نظر رکھنی چاہیے۔ مولانا مودودیؒ ایک محترم رائے رکھتے ہیں۔ مولانا عبدالرحمن کیلانیؒ کی ایک مستند تفسیری تعبیر ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے ایک گہری فکر پیش کی۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کا ایک الگ زاویہ ہے۔ اور جناب جاوید احمد غامدی صاحب ایک نیا استدلال سامنے لاتے ہیں۔
لیکن ان تمام جلیل القدر ہستیوں میں سے کسی کی بھی ذاتی رائے بذاتِ خود ‘قرآن’ نہیں ہے۔ اصل حاکم، میزان اور کسوٹی صرف اور صرف کلامِ الٰہی اور سنتِ رسول ﷺ کی قطعی نصوص ہیں۔ اس لیے کسی بھی نظریے کو پرکھنے کا علمی پیمانہ یہ ہونا چاہیے:
کون سی تعبیر قرآنی الفاظ کے ظاہر اور اسلوب سے زیادہ قریب تر ہے؟
کس تعبیر میں متن کے باہر سے کم سے کم مفروضات زبردستی ٹھونسے گئے ہیں؟
اور کون سی فکر ایسی ہے جو پہلے اپنے ذہن میں ایک سائنسی یا جدید تصور قائم کرتی ہے اور پھر قرآن کی آیات کو توڑ مروڑ کر اس کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے؟
غامدی صاحب کی تعبیر پر ہمارا بنیادی اور اصولی اعتراض
ہمارا اعتراض ہرگز یہ نہیں ہے کہ غامدی صاحب نے ایک منفرد یا اجتہادی رائے کیوں پیش کی۔ فکر و نظر کی دنیا میں ہر صاحبِ علم کو دلائل کی بنیاد پر بات کرنے کا حق حاصل ہے۔ اصل فکری اور متودولوجیکل اعتراض یہ ہے کہ زیرِ بحث مضمون کا آغاز ان پرشکوہ الفاظ سے کیا جاتا ہے کہ:
“قرآن مجید سے واضح ہے…”
اور اس محکم دعوے کے فوراً بعد ایک ایسی طویل حیاتیاتی داستان بیان کر دی جاتی ہے جس کا ذکر تک قرآن میں نہیں۔
ہم پورے ادب کے ساتھ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ قرآنِ مجید کے کس پارے، کس سورت یا کس آیت میں یہ تصریح موجود ہے کہ:
زمین ایک طبعی رحمِ مادر کی مانند بنی؟
مٹی کے سڑنے کے بعد اس پر انڈے کے چھلکے جیسا کڑا خول چڑھا؟
وہ خول پٹاخے کی طرح ٹوٹا اور اس میں سے ایک ناتراشیدہ حیوانی انسان برآمد ہوا؟
پھر وہ صدیوں تک جانوروں کی طرح نسل در نسل افزائش پاتا رہا؟
پھر بے شمار نسلوں کے جنسی اختلاط سے جا کر اس کا ڈھانچہ درست ہوا؟
اور پھر زمین پر چلتے پھرتے انہی حیوانی انسانوں کے ہجوم میں سے دو مخصوص افراد کو الگ کر لیا گیا؟
یہ تمام باریک تفصیلات قرآن کے الفاظ اور اس کے روایتی عربی اسلوب میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ لہٰذا علمی دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ یوں فرمایا جاتا:
“غامدی صاحب قرآنی آیات کا فہم یہ بیان کرتے ہیں،”
نہ کہ پورے وثوق سے یہ دعویٰ داغ دیا جائے کہ:
“قرآن کے الفاظ سے بالکل واضح ہے کہ بعینہٖ یہی وقوعہ پیش آیا تھا۔”
ایک عجیب داخلی تضاد
زیرِ بحث تحریر کے اختتام پر مصنف نے خود ایک نہایت خوبصورت اور زریں اصول رقم فرمایا ہے کہ:
“تعبیر ہمیشہ متن سے پیدا ہونی چاہیے، متن کو تعبیر کا غلام نہیں بنانا چاہیے۔”
ہم اس شاندار اصول کی دل و جان سے تائید کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی ترازو خود غامدی صاحب کی اپنی پیش کردہ تعبیر پر لاگو نہیں ہوگا؟ اگر کسی روایتی عالم پر یہ طعنہ کسا جائے کہ آپ نے پہلے سے ایک تصور ذہن میں بٹھایا اور پھر آیات میں اس کا عکس تلاش کیا، تو کیا ٹھیک یہی سوال “زمین کی کوکھ”، “انڈے کا خول”، “ناتراشیدہ حیوانی انسان” اور “نسلوں کے ارتقائی اختلاط” کے مفروضوں کے بارے میں نہیں پوچھا جا سکتا؟ کیا یہ تمام حیاتیاتی تصورات براہِ راست قرآنی متن سے برآمد ہوئے ہیں، یا جدید ارتقائی سائنس سے مرعوب ہو کر ان کے مفاہیم کو زبردستی قرآنی آیات پر چسپاں کیا گیا ہے؟
ہمارا اپنا تحقیقی اور متوازن موقف کیا ہے؟
ہمارے فہم کے مطابق، اس پرآشوب دور میں سب سے زیادہ محفوظ، باوقار، متوازن اور معقول علمی روش یہ ہے کہ:
جہاں قرآنی نصوص بالکل دو ٹوک اور قطعی ہیں، وہاں بغیر کسی احساسِ کمتری کے پورے شرحِ صدر کے ساتھ قرآن کے کلمات کے ساتھ کھڑا ہوا جائے؛ اور جن خاموش گوشوں پر قرآن نے کوئی روشنی نہیں ڈالی، وہاں اپنی طرف سے قصے کہانیاں گھڑ کر اللہ کے کلام کے کھاتے میں نہ ڈالی جائیں۔
قرآنِ حکیم ہمیں سیدنا آدم علیہ السلام کے بارے میں نہایت واضح اور غیر مبہم حقیقت سے آگاہ کرتا ہے:
وہ ایک حقیقی، تاریخی اور گوشت پوست کی ہستی تھے۔ اللہ رب العزت نے انہیں خاص عنایت سے مٹی کے مادے سے پیدا فرمایا۔ ان کے قالب میں اپنی روح پھونکی۔ انہیں براہِ راست اشیاء کے ناموں اور حقیقتوں کا علم عطا کیا۔ کائنات کے فرشتوں کو ان کی عظمت کے آگے سر بسجود ہونے کا حکم دیا گیا۔ اور آج روئے زمین پر بسنے والا موجودہ انسانی خاندان بلا تفریق انہی آدم و حوا علیہما السلام کی صلب سے وجود میں آیا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ، قرآنِ مجید کا یہ موضوع ہی نہیں ہے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ:
آیا حضرت آدمؑ کی تخلیق سے لاکھوں سال پہلے زمین کی وسعتوں میں کوئی انسان نما، بندر نما یا بن مانس جیسی مخلوقات بستی تھیں یا نہیں؟ وحیِ الٰہی انسان کی روحانی ہدایت کے لیے اتری ہے، وہ قدیم حیاتیات (Paleontology) کا کوئی انسائیکلوپیڈیا نہیں ہے۔
لہٰذا اگر جدید آثارِ قدیمہ اور فوسل سائنس لاکھوں سال پرانی انسان نما مخلوقات (Neanderthals یادیگر انواع) کی باقیات ہمارے سامنے لا کر رکھتی ہے، تو ہمیں ایک روایتی معذرت خواہ کی طرح فوراً گھبرا کر یہ نعرہ لگانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ:
“یہ تمام سائنسی دریافتیں جھوٹ اور فریب ہیں، کیونکہ قرآن نے ان کا نام نہیں لیا۔”
علم کا بنیادی قاعدہ ہے کہ: کسی چیز کا قرآن میں ذکر نہ ہونا، اس کے خارج میں موجود نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوتا۔
اور نہ ہی ہمیں دوسری انتہا پر جا کر احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہوئے یہ عذر تراشنا چاہیے کہ:
“چونکہ فوسلز دریافت ہو گئے ہیں، اس لیے اب ہم کھینچ تان کر یہ ثابت کریں گے کہ قرآن کی آیات میں انہی حیوانی انسانوں کا ذکر تھا جن کے اختلاط سے آدمؑ برآمد ہوئے۔”
یہ دونوں رویے علمی اسراف اور حد سے تجاوز کی بدترین مثالیں ہیں۔
ہمیں سائنسی تحقیقات سے خائف ہونے کی ضرورت کیوں نہیں؟
یہ نکتہ ہمارے فکری موقف کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔ ایک صاحبِ ایمان کے لیے قرآنِ مجید کی حقانیت اور ابدیت، دنیا کی لیبارٹریوں سے جاری ہونے والی روزمرہ کی سائنسی رپورٹس کی محتاج نہیں۔ ہمیں اپنے دین کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ہر دس بیس سال بعد بدلنے والے سائنسی نظریات کے پیچھے دوڑ کر قرآنی آیات کے معنی بدلنے کی کوئی مجبوری لاحق نہیں۔
کائنات، آفاق اور انسانی وجود کے اندرونی نظام پر قرآن کے جو بیانات روزِ روشن کی طرح محکم ہیں، وہ دنیا کے کسی بھی ثابت شدہ اور حتمی سائنسی اصول سے متصادم نہیں۔ اس کے باوجود، اگر کسی ایک مخصوص مقام پر مروجہ سائنسی تھیوری اور ہمارے روایتی مذہبی فہم کے مابین کوئی گرہ الجھی ہوئی نظر آتی ہے، تو ایمان کے متزلزل ہونے یا بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کا کیا جواز ہے؟
ہم نہایت وقار اور علمی اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں:
“سائنس کا یہ مشاہدہ ابھی نامکمل اور تغیر پذیر ہے؛ ہم مزید مستند تحقیق کا انتظار کریں گے۔”
یہ کوئی اندھی ضد نہیں، بلکہ خالص سائنسی اور معقول طرزِ عمل ہے۔
خود ارتقائی حیاتیات کی دنیا میں بھی انسانی شجرۂ نسب کے حوالے سے روز نئی بحثیں چھڑتی ہیں۔ مختلف انواع کا باہمی ربط کیا تھا؟ کون سی شاخ کس سے پھوٹی؟ اور کیا دریافت ہونے والا فلاں فوسل واقعی انسان کا جدِ امجد تھا یا محض ایک معدوم جانور؟ ان سوالات پر خود ماہرین کے مابین شدید ترین اختلافات موجود ہیں۔ سائنس کا سارا حسن اور طاقت ہی اس بات میں ہے کہ وہ نئے شواہد کی روشنی میں اپنے ہی پرانے دعووں کی تصحیح کرتی رہتی ہے۔
ایک غیر مسلم محقق کے سامنے ہمارا مکالمہ کیا ہو؟
دعوت اور مکالمے کے میدان میں بھی ہمیں غیر مسلموں کے سامنے کوئی غیر سائنسی، جذباتی یا جھوٹے دعوے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ کہنا کہ “سائنس کی اتنے فیصد باتیں چودہ سو سال پہلے قرآن نے من و عن بتا دی تھیں”، ایک انتہائی بودا، غیر محتاط اور عامیانہ طرزِ گفتگو ہے، کیونکہ نہ تو سائنس کوئی جامد شے ہے اور نہ ہی ایسی کسی نام نہاد فیصد کی کوئی سائنسی سند موجود ہے۔
ہمارا سنجیدہ اور پروقار استدلال یہ ہونا چاہیے:
قرآن کی حقانیت پر ہمارے پاس بے پناہ تاریخی، عقلی، لسانی اور روحانی دلائل کے انبار موجود ہیں۔ کائنات کے مظاہر پر اس کی رہنمائی انسانی فکر کو جلا بخشتی ہے اور اب تک کا کوئی مسلمہ، قطعی اور حتمی سائنسی مشاہدہ قرآن کے صریح بیانات سے نہیں ٹکرایا۔
اگر ارتقا جیسے کسی ایک متنازع اور فرضی مسئلے پر آج کی سائنسی تشریح ہمارے مذہبی فہم سے الگ کھڑی دکھائی دیتی ہے، تو عجلت میں کسی ایک کو جھٹلانے کے بجائے عقل کا تقاضا ہے کہ حتمی فیصلے کو مؤخر رکھا جائے۔ ہم ایک غیر مسلم مفکر سے برملا کہیں گے:
آپ اس موضوع پر اپنی سائنسی تحقیق جاری رکھیے۔ کل کو اگر مزید ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے تو ہم ان کا علمی وزن دیکھیں گے۔ اگر ہماری ماضی کی کوئی بشری تفسیری رائے غلط ثابت ہو جائے تو وہ مفسر کی بشری خطا ہوگی، اللہ کا کلام اس سے پاک رہے گا۔ لیکن جب تک قرآن کا ایک واضح اور قطعی مفہوم ہمارے سامنے موجود ہے، ہم سائنس کے کسی عارضی اور غیر حتمی مفروضے کے دباؤ میں آ کر اپنے بنیادی عقیدے کی عمارت کو کبھی مسمار نہیں کریں گے۔
حاصلِ کلام
کیا حضرت آدم علیہ السلام کی بعثت سے قبل زمین پر انسان نما مخلوقات گھومتی تھیں؟
قرآنِ مجید نے اس تاریخی جزئیے کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی۔ لہٰذا نہ تو ہم قرآن کی من گھڑت تاویلیں کر کے ان کے وجود پر مہرِ تصدیق ثبت کریں گے، اور نہ ہی قرآنی نصوص کو زبردستی کھینچ کر ان کے مادی وجود کی مطلق نفی کا فتویٰ صادر کریں گے۔
مولانا مودودیؒ اور مولانا عبدالرحمن کیلانیؒ نصوص کے ظاہر کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کی اعجازی اور خصوصی تخلیق کے قائل ہیں، اور انسان کے آغاز کو پہلے دن سے ہی ‘مکمل انسان’ مانتے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی اسی موقف پر جمے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے نصوص اور سائنسی فوسلز کے درمیان ایک فکری پل بناتے ہوئے پہلے سے موجود بشری قالب میں سے آدمؑ اور ان کے جوڑے کے انتخاب کی بات کی۔ اور جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے بھی تطبیق کا راستہ چنا، مگر ان کی تعبیر میں زمین کی کوکھ، انڈے کا خول، حیوانی انسانوں کی نسلیں، اور ان کے طویل اختلاط جیسے بے شمار غیر قرآنی مفروضات در آئے۔
یہ تمام اقوال درحقیقت مفسرین کے اپنے اجتہادی افکار ہیں۔ کلامِ الٰہی بذاتِ خود ان تفصیلی ارتقائی خاکوں کی گواہی سے یکسر خاموش ہے۔
لہٰذا ہمارا اساسی، متوازن اور آخری اصول یہی ہے:
قرآن جہاں بولے، وہاں ہم پورے وجود اور ایمان کے ساتھ قرآن کے کلمات پر پہرہ دیں۔
قرآن جہاں مصلحتاً خاموش رہے، وہاں اپنی خیالی داستانیں قرآن کے کھاتے میں ڈالنے سے باز رہیں۔
سائنس جہاں ٹھوس اور ثابت شدہ حقائق لائے، اس کا کھلے دل سے اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔
اور جہاں سائنسی نظریات اور مذہبی فہم میں الجھاؤ پیدا ہو، وہاں قرآن کو مسخ کرنے کے بجائے کمالِ صبر اور وقار کے ساتھ مزید سائنسی پیش رفت کا انتظار کریں۔
کیونکہ یہ مادی کائنات بھی اسی ایک اللہ کی تخلیق ہے، اور قرآنِ مجید بھی اسی کی نازل کردہ کتاب ہے۔ حق کی ان دونوں کتابوں (کتابِ تکوین اور کتابِ تدوین) کے درمیان حقیقت میں کبھی کوئی حقیقی تضاد ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر کہیں کوئی تصادم دکھائی دیتا ہے تو وہ خرابی یا تو سائنس کے کچے نظریات میں ہے، یا پھر ہماری تفسیری فہم کی محدودیت میں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
بنیادی مراجع برائے مطالعہ:
القرآن الکریم: سورۃ النساء (4:1)
القرآن الکریم: سورۃ آل عمران (3:33، 3:59)
القرآن الکریم: سورۃ الاعراف (7:11)
القرآن الکریم: سورۃ الحجر (15:28–29)
القرآن الکریم: سورۃ السجدہ (32:7–9)
القرآن الکریم: سورۃ ص (38:71–72)
تفہیم القرآن — سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
تیسیر القرآن — مولانا عبدالرحمن کیلانیؒ
The Process of Creation — ڈاکٹر اسرار احمدؒ
Lessons from History — ڈاکٹر اسرار احمدؒ
ڈاکٹر ذاکر نائیک — قرآن اور نظریۂ ارتقا سے متعلق سوال و جواب
Smithsonian Human Origins Program (Smithsonian Institution)
#تخلیق_آدم #حضرت_آدم #قرآن_اور_سائنس #نظریہ_ارتقا #تحقیق #GlobalTareekhHub
![]()

