ادراکِ خرد اور پیمانے کا فریب: مادی تجربہ گاہ میں غیر مادی خالق کی تلاش! – بلال شوکت آزاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی تاریخ میں جب سے جدید سائنس نے اپنے قدم جمائے ہیں اور تجربہ گاہوں سے نکلنے والی ایجادات نے ہماری روزمرہ زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، انسانی ذہن پر سائنس کی حاکمیت ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔
آج کا نوجوان، جو سمارٹ فون کی سکرین پر کائنات کے دور دراز گوشوں کی تصاویر دیکھتا ہے اور کوانٹم فزکس کے حیرت انگیز کرشموں کے بارے میں پڑھتا ہے، فطری طور پر ہر اس شے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے جسے کسی سائنسی آلے سے ماپا، تولا یا دیکھا نہ جا سکے۔
اسی سائنسی اور تجربی غلبے کے سائے میں الحاد کا وہ طاقتور ترین اور سب سے زیادہ دہرایا جانے والا اعتراض جنم لیتا ہے جو بظاہر انتہائی معقول اور ناقابلِ تردید محسوس ہوتا ہے۔
یہ اعتراض کچھ یوں ہے:
“اگر خدا واقعی موجود ہے، تو اس کا کوئی ٹھوس، قابلِ مشاہدہ اور تجربی (Empirical) ثبوت کیوں نہیں ملتا؟ ہم دور دراز کی کہکشاؤں اور ایٹم کے اندر موجود سب اٹامک ذرات کو تو دیکھ سکتے ہیں، تو پھر اس کائنات کے خالق کو کسی دوربین یا خوردبین سے کیوں نہیں دیکھا جا سکتا؟ جب سائنس ہر حقیقت کو دریافت کر سکتی ہے، تو خدا کے معاملے میں ہمیں اندھے عقیدے (Blind Faith) کا سہارا کیوں لینا پڑتا ہے؟”
یہ سوال کوئی سرسری اشکال نہیں ہے بلکہ جدید فلسفے کے ایک پورے مکتبِ فکر کی بنیاد ہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں منطقی اثباتیت (Logical Positivism) کے نام سے ایک فلسفیانہ تحریک نے جنم لیا۔
اس تحریک کے نمایاں مفکر اے جے ایئر (A. J. Ayer) نے اپنی مشہور کتاب “زبان، سچائی اور منطق” (Language, Truth and Logic, Victor Gollancz, 1936, p. 115) میں یہ دعویٰ کیا کہ صرف وہی بیانات معنی خیز اور حقیقت پر مبنی ہیں جنہیں تجربی طور پر (سائنسی مشاہدے کے ذریعے) ثابت کیا جا سکے۔
ان کے نزدیک چونکہ “خدا موجود ہے” کا دعویٰ کسی سائنسی تجربہ گاہ میں ٹیسٹ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے یہ دعویٰ سرے سے بے معنی ہے۔
اسی طرح معروف امریکی ماہرِ فلکیات کارل ساگاں (Carl Sagan) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب اور ٹی وی سیریز میں یہ جملہ کہا جو آج بھی ملحدین کا مقبول نعرہ ہے:
“کائنات ہی وہ سب کچھ ہے جو کبھی تھی، جو ہے اور جو کبھی ہوگی” (Cosmos, Random House, 1980, p. 4)۔
کارل ساگاں کا ایک اور مشہور اصول یہ بھی ہے کہ
“غیر معمولی دعووں کے لیے غیر معمولی ثبوت درکار ہوتے ہیں” (Extraordinary claims require extraordinary evidence)۔
ان تمام مقدمات کا لبِ لباب یہ ہے کہ علم حاصل کرنے کا واحد معتبر ذریعہ صرف اور صرف سائنسی طریقہ کار (Scientific Method) ہے، اور جو چیز سائنس کی گرفت میں نہ آئے، اس کا وجود ماننا غیر عقلی ہے۔
ایک متذبذب ذہن کے لیے یہ دلیل بڑی پرکشش ہے۔
لیکن جب ہم اس استدلال کی سطح سے نیچے اتر کر اس کی منطقی اور فلسفیانہ بنیادوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا اعتراض سائنس پر نہیں، بلکہ “سائنس پرستی” (Scientism) نامی ایک خود ساختہ اور کھوکھلے فلسفے پر کھڑا ہے۔
سائنس پرستی یہ نظریہ ہے کہ حقائق تک پہنچنے کا واحد اور حتمی راستہ صرف مادی سائنس ہے۔
آئیے سب سے پہلے اس دعوے کا منطقی پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔
اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ
“میں صرف اسی بات کو سچ مانوں گا جو سائنسی تجربے سے ثابت ہو سکے”،
تو اس سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ کیا اس کا یہ اپنا دعویٰ کسی سائنسی تجربے سے ثابت ہے؟
کیا دنیا کی کسی تجربہ گاہ میں کوئی کیمیائی تعامل (Chemical reaction) یا فزکس کا کوئی قانون یہ ثابت کر سکتا ہے کہ
“علم صرف سائنس سے حاصل ہوتا ہے”؟
ہرگز نہیں۔
درحقیقت، یہ دعویٰ بذاتِ خود ایک سائنسی دعویٰ نہیں ہے بلکہ ایک فلسفیانہ دعویٰ (Epistemological claim) ہے۔
یعنی سائنس پرستی کا وہ اصول جس کے تحت خدا کا سائنسی ثبوت مانگا جا رہا ہے، وہ اپنا اصول آپ ہی باطل (Self-defeating) ہے۔
معروف فلاسفر آف سائنس ایڈورڈ فیزر (Edward Feser) اپنی کتاب “اسکالیسٹک میٹافزکس” (Scholastic Metaphysics: A Contemporary Introduction, Editiones Scholasticae, 2014, p. 17) میں واضح کرتے ہیں کہ سائنس کی بنیاد ان مفروضوں پر کھڑی ہے جنہیں خود سائنس ثابت نہیں کر سکتی، مثلاً ریاضی اور منطق کے اصول، یہ کائنات قابلِ فہم ہے، اور ہمارے حواس ہمیں دھوکہ نہیں دے رہے۔
ہم ان حقائق کو مانتے ہیں تب جا کر سائنس ممکن ہوتی ہے۔
مزید برآں، ہماری روزمرہ زندگی اور کائنات کی بے شمار ٹھوس حقیقتیں ایسی ہیں جن کا کوئی “سائنسی مشاہدہ” ممکن نہیں، مگر ہم ان پر کامل یقین رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر ریاضی کی مساوات، جیسے دو اور دو چار ہوتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی ہندسہ “2” کو کسی مائیکروسکوپ کے نیچے دیکھا ہے؟
ہندسے اور ریاضی کے اصول مادی اشیاء نہیں ہیں، وہ خالصتاً تجریدی اور عقلی حقائق ہیں، مگر سائنس ان کی محتاج ہے۔
اسی طرح اخلاقیات کو لیجیے۔
کیا سائنس یہ ثابت کر سکتی ہے کہ کسی معصوم کو قتل کرنا ظالمانہ فعل ہے؟
آپ مقتول کے جسم کا پوسٹ مارٹم کر سکتے ہیں، خون کے بہاؤ کی فزکس ماپ سکتے ہیں، گولی چلنے کی کیمسٹری بیان کر سکتے ہیں، لیکن کسی خلیے، کسی ایٹم یا کسی مالیکیول میں آپ کو “ظلم” نامی کوئی مادی چیز نظر نہیں آئے گی۔
اخلاقیات، جمالیات، محبت، شعور اور منطق، یہ سب وہ حقائق ہیں جن کا وجود سائنسی تجربہ گاہ سے باہر ہے، مگر ان کا انکار کوئی ذی شعور انسان نہیں کر سکتا۔
پس یہ مفروضہ کہ “جو سائنسی طور پر قابلِ مشاہدہ نہیں، وہ موجود نہیں”، انسانی علم کی تاریخ کا ایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔
اب ہم اس بحث کے دوسرے اور سب سے اہم مرحلے کی طرف آتے ہیں، جسے فلسفے میں “زمرے کی غلطی” (Category Mistake) کہا جاتا ہے۔
جب کوئی کہتا ہے کہ مجھے خدا کا مادی یا سائنسی ثبوت دکھاؤ، تو وہ دراصل اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ خدا کا تصور کیا ہے۔
سائنس کائنات کے اندر موجود مادی چیزوں (Space, Time, Matter, and Energy) کے طبعی رویوں کا مطالعہ کرتی ہے۔
سائنس کا دائرہِ کار وہ ہے جو فطرت کے قوانین کے تابع ہے۔
لیکن کلاسیکی فلسفے اور الہامی مذاہب میں خدا کا تصور یہ نہیں ہے کہ وہ اس کائنات کے اندر بیٹھا ہوا کوئی بہت طاقتور انسان، کوئی دیو، یا مادی کائنات کا کوئی حصہ ہے۔
خدا کائنات سے ماورا (Transcendent) ہے، وہ زمان و مکان اور مادے کا خالق ہے۔
جس نے وقت، جگہ اور مادے کو پیدا کیا ہے، وہ لازماً وقت، جگہ اور مادے سے پاک ہوگا۔
اسے ایک سادہ مثال سے سمجھیے۔
فرض کریں آپ ساحلِ سمندر پر ایک میٹل ڈیٹیکٹر (دھات تلاش کرنے والا آلہ) لے کر چل رہے ہیں۔ وہ آلہ لوہا، سونا، چاندی اور تانبا تو تلاش کر لیتا ہے، لیکن اگر آپ کہیں کہ چونکہ اس آلے نے آج تک کوئی پلاسٹک کا کپ یا لکڑی کا ٹکڑا تلاش نہیں کیا، لہٰذا لکڑی اور پلاسٹک کا کوئی وجود ہی نہیں، تو یہ ایک مضحکہ خیز استدلال ہوگا۔
میٹل ڈیٹیکٹر کی یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ غیر دھاتی اشیاء کو پہچان سکے۔
بالکل اسی طرح سائنس ایک ایسا آلہ ہے جو صرف مادی اسباب کو ناپنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس مادی آلے سے غیر مادی خالق کو تلاش کرنا، اور نہ ملنے پر اس کے وجود کا انکار کر دینا، سائنس کی نہیں بلکہ اس آلے کو استعمال کرنے والے کی فکری کوتاہی ہے۔
اس نکتے کو مشہور برطانوی ریاضی دان اور مفکر پروفیسر جان لینکس (John Lennox) نے ایک انتہائی خوبصورت اور عام فہم مثال سے واضح کیا ہے۔
وہ اپنی کتاب “خدا کا انڈرٹیکر: کیا سائنس نے خدا کو دفن کر دیا ہے؟” (God’s Undertaker: Has Science Buried God?, Lion Books, 2009, p. 44) میں لکھتے ہیں کہ فرض کریں آپ کے سامنے ایک بہت شاندار کیک رکھا ہے جسے آنٹی میٹلڈا نے بنایا ہے۔
اب ہم اس کیک کا سائنسی تجزیہ شروع کرتے ہیں۔
ماہرِ کیمیات بتائے گا کہ اس میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس کی کیمسٹری کیا ہے۔
ماہرِ طبیعیات اس کے ذرات اور حرارت کے قوانین بیان کرے گا۔
غذائی ماہر اس کی کیلوریز بتائے گا۔
ان تمام سائنسی ماہرین نے کیک کی ساخت (How) کے بارے میں سب کچھ بتا دیا، لیکن اگر آپ ان سے پوچھیں کہ یہ کیک “کیوں” (Why) بنایا گیا ہے؟
تو سائنس کی تمام تر ترقی یہاں آ کر خاموش ہو جائے گی۔
اس “کیوں” کا جواب صرف آنٹی میٹلڈا دے سکتی ہیں کہ انہوں نے یہ کیک اپنے بھتیجے کی سالگرہ کے لیے بنایا تھا۔
جان لینکس سمجھاتے ہیں کہ سائنس میکانزم (طریقہ کار) دریافت کرتی ہے، ایجنسی (بنانے والے کے ارادے) کو نہیں۔
اگر ہم یہ جان لیں کہ گاڑی کا انجن کیسے کام کرتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہنری فورڈ کا کوئی وجود نہیں؟
کائنات کے طبعی قوانین اس بات کا ثبوت ہیں کہ کائنات چل کیسے رہی ہے، یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسے چلانے والا کوئی نہیں۔
نیوٹن نے جب کشش ثقل کا قانون دریافت کیا تو اس نے یہ نہیں کہا کہ
“اب مجھے خدا کی ضرورت نہیں رہی”،
بلکہ اس نے کہا کہ
“اس دریافت سے کائنات کے خالق کی عظمت میرے دل میں اور بڑھ گئی ہے”۔
یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ اگر خدا موجود ہے تو وہ خود کو ظاہر کیوں نہیں کر دیتا؟
وہ بادلوں کو ہٹا کر آسمان پر کیوں نہیں جلوہ گر ہو جاتا تاکہ سائنسدان اسے دیکھ لیں اور ساری بحث ہی ختم ہو جائے؟
یہ سوال خالصتاً اسلامی تناظر میں ایک انتہائی گہری حکمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
قرآنِ مجید کے آغاز میں ہی، جہاں متقین کی صفات بیان کی گئی ہیں، سب سے پہلی صفت “الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ” (جو ان دیکھے پر ایمان لاتے ہیں) بتائی گئی ہے (سورۃ البقرہ: 3)۔
غیب کا تصور اسلام میں کوئی خامی نہیں بلکہ امتحانِ حیات کی بنیادی ضرورت ہے۔
اگر کائنات کا مقصد انسان کا اخلاقی اور فکری امتحان لینا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون اپنی عقلِ سلیم اور آزادئ ارادہ (Free Will) کا درست استعمال کرتا ہے، تو خالق کا پردے میں رہنا اس امتحان کی پہلی شرط ہے۔
ذرا تصور کریں کہ آپ ایک امتحانی کمرے میں بیٹھے ہیں اور ممتحن آپ کے سر پر چھڑی لے کر کھڑا ہے اور ہر سوال کا جواب بورڈ پر لکھتا جا رہا ہے۔
کیا ایسی صورت میں آپ کے امتحان کی کوئی وقعت رہے گی؟
کیا کوئی طالب علم اس کے سامنے نقل کرنے یا غلطی کرنے کی جرات کر سکے گا؟
جب حقائق جبر بن کر سامنے آ جائیں تو پھر ماننا کمال نہیں رہتا بلکہ مجبوری بن جاتا ہے۔
اگر خدا ایک سائنسی حقیقت کے طور پر لیبارٹری میں نظر آ جائے، تو انسان کے پاس کفر کرنے یا بغاوت کرنے کا اختیار ہی ختم ہو جائے گا۔
اخلاقی انتخاب (Moral Choice) کا حسن اسی میں ہے کہ دلیل موجود ہو مگر جبر نہ ہو۔
قرآن اسی نفسیات کو سورۃ الانعام کی آیت 8 اور 9 میں بیان کرتا ہے، جہاں کفارِ مکہ نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے سامنے کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا جاتا جسے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
قرآن جواب دیتا ہے کہ اگر ہم فرشتہ اتار دیتے، تو پھر مہلت ختم کر دی جاتی اور فیصلہ کر دیا جاتا، اور اگر ہم فرشتے کو بھیجتے بھی تو اسے انسانی شکل میں ہی بھیجتے اور یہ پھر اسی شک میں مبتلا رہتے۔
یعنی جب تک دنیا کی زندگی مہلت کے طور پر قائم ہے، حقیقت اپنے مکمل جلوے کے ساتھ ظاہر نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے نشانیوں میں تلاش کرنا ہوگا۔
یہاں یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ مذہب خدا کے وجود کا سائنسی لیبارٹری ٹیسٹ پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ “آیات” (Signs) کا تصور پیش کرتا ہے۔
قرآن کائنات کے مظاہر کو آیات کہتا ہے (سورۃ آل عمران: 190)۔
آیات کا مطلب ہے ایسی نشانیاں جو کسی منزل کی طرف اشارہ کرتی ہوں۔
کائنات کا غیر معمولی نظم و ضبط (Fine-tuning)، طبعی قوانین کی ریاضیاتی ہم آہنگی، اور بے جان مادے سے شعور کا پیدا ہونا، یہ سب وہ نشانیاں ہیں جو ایک اندھے سائنسی عمل سے زیادہ ایک باشعور ارادے (Conscious Will) کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں۔
جدید کاسمولوجی نے دریافت کیا ہے کہ کائنات کے بنیادی ثوابت (Fundamental Constants) اتنے باریک بینی سے متوازن ہیں کہ اگر ان میں کھربوں حصے کی بھی کمی بیشی ہو جاتی تو کائنات اور اس میں زندگی کبھی وجود میں نہ آ سکتی۔
نامور برطانوی ماہرِ فلکیات سر مارٹن ریس (Martin Rees) اپنی مشہور کتاب “محض چھ عدد” (Just Six Numbers, Basic Books, 2000) میں ان چھ بنیادی ریاضیاتی اعداد کا ذکر کرتے ہیں جو پوری کائنات کو تھامے ہوئے ہیں۔
ان کا توازن اس قدر حیران کن ہے کہ بہت سے سائنسدانوں کو مجبوراً “ملٹی ورس” (Multiverse) جیسے غیر ثابت شدہ اور غیر سائنسی مفروضوں کا سہارا لینا پڑتا ہے تاکہ ایک خالق کے ارادے سے بچا جا سکے۔
اگر ہم سائنسی طریقہ کار کے بنیادی اصول، یعنی ‘بہترین وضاحت کا استنباط’ (Inference to the Best Explanation) کو استعمال کریں، تو اس حد تک مربوط اور منظم کائنات کی سب سے معقول، منطقی اور تسلی بخش وضاحت یہی ہے کہ اس کے پیچھے ایک عظیم الشان علم اور ارادہ کارفرما ہے۔
اس بحث کا منطقی نچوڑ یہ ہے کہ خدا کا قابلِ مشاہدہ مادی ثبوت مانگنا دراصل فزکس کی تجربہ گاہ میں میٹافزکس (ما بعد الطبیعیات) کو تولنے کی ایک بچگانہ کوشش ہے۔
خدا کوئی مادی مالیکیول، کوئی سیارہ یا کوئی طبعی قوت نہیں جسے دوربین سے دیکھا جا سکے یا مساواتوں میں قید کیا جا سکے۔
وہ ان طبعی قوتوں، مالیکیولز، قوانین اور اس عقل کا خالق ہے جس کے ذریعے انسان سائنس کو سمجھتا ہے۔
اگر آپ ایک عمارت کے نقشے، اس کی اینٹوں کی ترتیب اور اس کے شاہکار ڈیزائن کا مطالعہ کریں، تو آپ کو عمارت کے ہر گوشے سے اس کے معمار کی ذہانت کا ثبوت ملے گا، مگر آپ یہ ضد نہیں کر سکتے کہ معمار مجھے خود کسی اینٹ کے اندر چھپا ہوا نظر آنا چاہیے۔
کائنات اسی معمار کی بنائی ہوئی عمارت ہے، اور سائنس اس عمارت کی اینٹوں کا مطالعہ ہے۔
سائنس کا کام یہ بتانا ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے، جبکہ یہ بتانا کہ کائنات کیوں موجود ہے اور اس کا بنانے والا کون ہے، فلسفے، عقل اور الہام کا دائرہ ہے۔
ملحدین کا یہ اعتراض اپنی بنیاد میں سائنس کی محبت سے نہیں، بلکہ انسانی ادراک کے ایک خاص زمرے کو کُل کائنات پر مسلط کرنے کی ضد سے پیدا ہوتا ہے۔
جس دن انسان یہ جان لیتا ہے کہ اس کا پیمانہ محدود ہے اور حقیقت پیمانے کی حدود سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اسی دن اس پر یہ راز کھلتا ہے کہ خالق کا مادی ثبوت نہ ہونا اس کے وجود کی نفی نہیں، بلکہ اس کی ماورائی عظمت (Transcendence) کا سب سے بڑا اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سچا محقق اپنی خرد کے محدود ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اس لامحدود ذات کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے جو آنکھوں سے اوجھل رہ کر بھی ہر شے میں نمایاں ہے۔
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
![]()

