Daily Roshni News

ہم خدا کو بھی مالک جیسا کیوں سوچتے ہیں؟

ہم خدا کو بھی مالک جیسا کیوں سوچتے ہیں؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان نے کبھی خدا کو دیکھا نہیں۔ اس نے ہمیشہ خدا کو اپنے ارد گرد موجود سب سے بڑی طاقت جیسا سوچا ہے۔ اور سب سے بڑی طاقت ہمیشہ وہی رہی ہے جو اس کو روٹی دیتی ہے۔

یہی وہ نقطہ ہے جہاں مادی ترقی سے انسانی سوچ جنم لیتی ہے۔ ہم آسمان کو بھی زمین سے دیکھتے ہیں۔

کارل مارکس کا یہی کہنا تھا کہ انسان کا خیال اس کے ہاتھ سے نکلتا ہے۔ جیسا اس کا ہاتھ کام کرتا ہے، ویسا اس کا دل خدا کو سوچتا ہے۔

پہلا دور – جب روٹی فطرت سے آتی تھی، خدا بھی فطرت جیسا تھا۔

جب انسان جنگل میں تھا، جب اس کا معاش شکار تھا، بارش تھی، دریا تھا۔ اس وقت اس کا مالک کوئی انسان نہیں تھا، اس کا مالک موسم تھا۔

تو اس وقت خدا بھی موسم جیسا تھا۔ کبھی بارش کا دیوتا، کبھی سورج کا دیوتا، کبھی دریا کا دیوتا۔ خدا ناراض ہوتا تھا تو سیلاب آتا تھا، خوش ہوتا تھا تو فصل اگتی تھی۔ یہ خدا سزا دینے والا نہیں، فطرت جیسا تھا۔ انسان اس سے ڈرتا نہیں تھا، اس کے ساتھ جیتا تھا۔

دوسرا دور – جب روٹی زمین سے آئی، خدا بھی زمیندار جیسا بن گیا۔

پھر انسان نے زمین پر قبضہ کیا۔ ایک آدمی زمین کا مالک بنا، باقی اس کے مزارعے۔ اب روٹی فطرت سے نہیں، زمیندار سے آنے لگی۔ زمیندار کہتا تھا کام کرو گے تو روٹی ملے گی، نافرمانی کرو گے تو زمین سے نکال دوں گا۔

اب انسان نے خدا کو بھی اسی زمیندار جیسا سوچنا شروع کر دیا۔ خدا بھی ایک بڑا زمیندار ہے۔ اوپر بیٹھا ہے۔ حساب رکھتا ہے۔ جو حکم مانے گا اس کو جنت کی زمین دے گا، جو نافرمانی کرے گا اس کو دوزخ میں نکال دے گا۔

اس دور میں ہماری زبان میں بھی خدا کے لیے وہی لفظ آئے جو زمیندار کے لیے تھے۔ آقا، مالک، حاکم، بندہ، غلام، حکم، اطاعت۔ یہ سب زمین کی معیشت کے لفظ ہیں جو عبادت میں آ گئے۔

یہاں انسان کی سوچ میں خوف پیدا ہوا۔ کیونکہ مزارعہ ہمیشہ ڈرتا ہے کہ مالک ناراض نہ ہو جائے۔

تیسرا دور – جب روٹی فیکٹری سے آئی، خدا بھی منیجر جیسا بن گیا۔

پھر فیکٹری آ گئی۔ اب زمیندار نہیں، منیجر ہے۔ منیجر کہتا ہے ہر چیز کا حساب ہے۔ تمہاری حاضری، تمہاری چھٹی، تمہارا بونس۔

اب انسان نے خدا کو بھی منیجر جیسا سوچنا شروع کر دیا۔ اب خدا وہ نہیں جو دل دیکھتا ہے، اب خدا وہ ہے جو رجسٹر دیکھتا ہے۔ اس نے نیکیوں کا کھاتہ بنایا، گناہوں کا کھاتہ بنایا۔ ہر سانس کا حساب، ہر لمحے کی فائل۔

اس دور میں عبادت بھی نوکری جیسی بن گئی۔ ہم نماز بھی ٹائم کارڈ کی طرح پڑھتے ہیں، بس حاضری لگ جائے۔ دعا بھی درخواست جیسی مانگتے ہیں، جیسے چھٹی کی درخواست۔ ہم سمجھتے ہیں خدا بھی فائل دیکھ کر فیصلہ کرے گا۔

تو اصل سیکھ کیا ہے؟

سیکھ یہ ہے کہ ہم خدا کو ویسا نہیں سوچتے جیسا خدا ہے، ہم خدا کو ویسا سوچتے ہیں جیسا ہمارا معاش ہے۔

جس کا معاش ڈر پر چلتا ہے، اس کا خدا بھی ڈرانے والا لگتا ہے۔ جس کا معاش محبت پر چلتا ہے، اس کا خدا بھی محبت والا لگتا ہے۔

مادی ترقی نے ہمارے ہاتھ میں اوزار تو بدل دیے، مگر ہمارے دل میں خدا کا تصور بھی اسی اوزار سے بدل دیا۔

جس دن تمہاری روٹی خوف سے نہیں، محبت سے آئے گی۔ اس دن تمہیں خدا بھی خوف والا نہیں، محبت والا لگے گا۔

جیسا معاش، ویسی سوچ۔

Loading