Daily Roshni News

وہ سیکنڈ لیفٹیننٹ، جو چھ برس بعد نشانِ حیدر بن کر امر ہوا ۔

وہ سیکنڈ لیفٹیننٹ، جو چھ برس بعد نشانِ حیدر بن کر امر ہوا

(شبیر شریف کی پہلی للکار — 4 ستمبر 1965، چھمب کا محاذ)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )چھمب کے میدان میں دھول اڑ رہی تھی، توپوں کے دھماکوں سے زمین لرز رہی تھی، اور بارود کی بو ہوا میں رچی ہوئی تھی۔ ابھی باقاعدہ جنگ کا اعلان بھی نہیں ہوا تھا — یہ 4 ستمبر 1965ء تھی، وہ دن جب دنیا کو خبر تک نہ تھی کہ دو دن بعد لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ بھی سلگ اٹھیں گے۔ مگر چھمب کی سرزمین پر جنگ اپنے پورے عروج پر تھی، اور اسی میدان میں ایک نوجوان افسر، بمشکل بائیس برس کا، اپنے سپاہیوں کے ساتھ موت کے دہانے پر کھڑا تھا۔ نام تھا — سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر شریف۔

کسی کو کیا خبر تھی کہ یہی دبلا پتلا، تیز آنکھوں والا نوجوان، جو گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے کنجاہ سے تعلق رکھتا تھا، آگے چل کر پاکستان کی تاریخ میں وہ واحد ہستی بنے گا جسے ستارہ جرات اور نشانِ حیدر — دونوں اعلیٰ ترین اعزازات ملیں گے۔ وہ اپنے ماموں، میجر عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر، کے نقشِ قدم پر چل رہا تھا، بے خبر کہ تقدیر نے اس کے لیے بھی وہی مقام لکھ رکھا ہے۔

اُس دن دشمن نے پاکستانی دستے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ چاروں طرف گولیوں کی بوچھاڑ، آسمان پر دھوئیں کے بادل، اور زمین پر زخمیوں کی چیخیں۔ ایسے نازک لمحے میں، جہاں بڑے بڑے تجربہ کار افسروں کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں، اس نوجوان لیفٹیننٹ نے وہ کر دکھایا جو کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو بھارتی نرغے سے نکالنے کا بیڑا اٹھایا — اور تن تنہا آگے بڑھ کر دشمن پر ٹوٹ پڑا۔

اس معرکے میں شبیر شریف نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنے چھ شہید ساتھیوں کے جسدِ خاکی اور پندرہ زخمی سپاہیوں کو میدانِ جنگ سے نکالا — تاکہ نہ کوئی جسم دشمن کے ہاتھ لگے، نہ کوئی زخمی تڑپتا رہے۔ پھر، جب دستے کو دوبارہ منظم کر لیا، تو اس نے تیسری بار حملہ کیا۔ اس حملے میں اس نے دشمن کی ایک آرٹلری گن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، چار بھارتی سپاہیوں کو زندہ جنگی قیدی بنا لیا، اور دشمن کی دو توپیں تباہ کر ڈالیں۔

یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہ تھی — یہ ایک نوجوان کے اندر چھپے شیر کی پہلی دہاڑ تھی۔ حکومتِ پاکستان نے اس بے مثال بہادری، قیادت، اور جنگی مہارت کے اعتراف میں سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر شریف کو ستارہ جرات سے نوازا۔ یہ اس کی زندگی کا پہلا تمغہ تھا، مگر آخری نہیں۔

چھ سال بعد، 1971ء کی جنگ میں، وہی نوجوان اب میجر شبیر شریف بن چکا تھا۔ ہیڈ سلیمانکی کے محاذ پر، اپنی 6 ایف ایف رجمنٹ کی قیادت کرتے ہوئے، اس نے ایک بار پھر تاریخ رقم کی — دشمن کے مضبوط بنکر توڑے، بارودی سرنگوں سے اٹی زمین عبور کی، اور جب بھارتی میجر نارائن سنگھ نے اسے للکارا تو وہ بغیر خوف کے اپنی پوزیشن سے نکل کر دشمن کے سامنے آ گیا۔ 6 دسمبر 1971ء کو وہ اسی محاذ پر جامِ شہادت نوش کر گیا، اور پاکستان کی تاریخ میں واحد وہ فوجی افسر بنا جسے ستارہ جرات اور نشانِ حیدر — دونوں اعزازات ملے۔

آج جب ہم 4 ستمبر کو یاد کرتے ہیں، تو یہ صرف ایک تاریخ نہیں — یہ اس سفر کی پہلی سیڑھی ہے جو ایک عام سیکنڈ لیفٹیننٹ کو امر شہید نشانِ حیدر بنا گئی۔ یہی وہ سبق ہے جو ہر نوجوان کو یاد رکھنا چاہیے: بہادری اچانک نہیں جنمتی، وہ ہر معرکے میں آزمائی جاتی ہے، اور جو دل سے وطن سے مخلص ہو، وہی وقت آنے پر تاریخ کا سب سے روشن ستارہ بن جاتا ہے۔

📅 4 ستمبر 2026ء | 21 ربیع الاول 1448ھ

#شبیر_شریف #نشان_حیدر #ستارہ_جرات #پاک_فوج #1965_جنگ #چھمب #دفاع_وطن #تاریخ_پاکستان #شہدائے_وطن #ElephantAcademia

Loading