Daily Roshni News

ایک لفظِ قرآن، ایک نیا زاویہ۔۔مَرَضٌ

 

ایک لفظِ قرآن، ایک نیا زاویہ

قسط نمبر 10 — مَرَضٌ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ بیماری جو جسم میں نہیں، دل میں پیدا ہوتی ہے — اور انسان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ اندر سے بیمار ہو چکا ہے

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ انسان کو اپنے جسم کی بیماری کا پتا کیسے چلتا ہے؟

درد ہوتا ہے۔

کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

بخار آتا ہے۔

سانس میں فرق محسوس ہوتا ہے۔

پھر انسان ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، ٹیسٹ کرواتا ہے اور علاج شروع کرتا ہے۔

لیکن اگر بیماری دل کے اندر ہو تو؟

وہاں نہ بخار ہوتا ہے، نہ ایکسرے، نہ کوئی ظاہری زخم۔

انسان بظاہر بالکل ٹھیک نظر آتا ہے۔

نماز بھی پڑھ سکتا ہے۔

لوگوں سے مسکرا کر بات بھی کر سکتا ہے۔

علم کی باتیں بھی کر سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر خوبصورت دینی پوسٹس بھی شیئر کر سکتا ہے۔

مگر اندر کہیں ایک ایسی بیماری جنم لے چکی ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی سوچ، نیت، خواہش، فیصلوں اور تعلقات کو بدل رہی ہوتی ہے۔

قرآن اس کیفیت کو ایک نہایت گہرا لفظ دیتا ہے:

مَرَضٌ

یعنی بیماری۔

اور قرآن ہمیں ایک انتہائی خوفناک حقیقت بتاتا ہے:

کبھی انسان بیمار ہوتا ہے، مگر اسے اپنی بیماری کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

مَرَضٌ — بیماری صرف جسم کی نہیں ہوتی

عام طور پر جب ہم بیماری کا لفظ سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں جسمانی بیماری آتی ہے۔

لیکن قرآن بعض مقامات پر قلب کے مرض کا ذکر کرتا ہے:

﴿فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ﴾

“ان کے دلوں میں بیماری ہے۔”

— سورۃ البقرۃ، 2:10

یہاں قرآن جسمانی بیماری کی بات نہیں کر رہا۔

یہ ایک باطنی بیماری ہے۔

ایسی بیماری جو انسان کے اندر حق کے ساتھ اس کے تعلق کو متاثر کرتی ہے۔

اور یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے:

قرآن میں دل کی بیماری ایک ہی شکل میں نہیں آتی۔

مختلف مقامات پر سیاق کے اعتبار سے اس میں شک و نفاق، غلط خواہش، باطنی کینہ اور دوسری اخلاقی و روحانی خرابیاں شامل ہو سکتی ہیں۔

یعنی قرآن ہمیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ دل بیمار ہو سکتا ہے؛ بلکہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ اس بیماری کی علامتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔

پہلی خطرناک علامت: انسان اپنی بیماری کو بیماری نہیں سمجھتا

جسمانی مریض عموماً علاج چاہتا ہے۔

لیکن روحانی مریض کبھی کبھی علاج ہی نہیں چاہتا۔

کیوں؟

کیونکہ اسے لگتا ہے:

“مجھے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔”

یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔

اگر کوئی شخص کہے:

“میرے اندر غصہ بہت ہے، مجھے اس پر کام کرنا چاہیے۔”

تو امید موجود ہے۔

اگر کوئی کہے:

“مجھے دوسروں کی کامیابی سے حسد ہوتا ہے، مجھے اپنا دل صاف کرنا ہوگا۔”

تو علاج کا دروازہ کھلا ہے۔

لیکن اگر انسان کہے:

“میں تو ایسا ہی ہوں۔”

“سب لوگ ایسے کرتے ہیں۔”

“مجھے کسی سے مسئلہ نہیں، مسئلہ سب کو مجھ سے ہے۔”

“میں غلط نہیں، باقی سب غلط ہیں۔”

تو بیماری چھپنے لگی ہے۔

کیونکہ پہلی علامت بیماری نہیں۔

پہلی علامت بیماری کو تسلیم نہ کرنا ہے۔

قرآن کا پہلا آئینہ: فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ

سورۃ البقرۃ میں قرآن منافقین کے بارے میں فرماتا ہے:

﴿فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا﴾

“ان کے دلوں میں بیماری ہے، پھر اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا۔”

— البقرۃ، 2:10

یہ آیت انسان کو ہلا دینے والی ہے۔

کیونکہ یہاں بیماری بڑھنے کا ذکر ہے۔

یعنی دل کی بیماری جامد نہیں رہتی۔

اگر اسے پہچانا نہ جائے، اس کا علاج نہ کیا جائے، اور انسان مسلسل اسی راستے پر چلتا رہے تو وہ بڑھ سکتی ہے۔

بالکل ایسے جیسے جسم میں ایک بیماری ابتدا میں معمولی ہو، لیکن علاج نہ ہونے پر پیچیدہ ہو جائے۔

گناہ ہمیشہ ایک ہی شکل میں نہیں آتا

کبھی انسان گناہ کرتا ہے اور اسے فوراً احساس ہو جاتا ہے:

“میں نے غلط کیا۔”

یہ احساس دراصل رحمت ہے۔

لیکن ایک اور مرحلہ آتا ہے۔

انسان وہی غلطی بار بار کرتا ہے۔

پھر ضمیر کی آواز مدھم ہونے لگتی ہے۔

پہلے غلطی پر شرمندگی تھی۔

پھر وضاحت پیدا ہوئی۔

پھر جواز پیدا ہوا۔

پھر عادت بن گئی۔

اور آخرکار انسان کہنے لگا:

“اس میں غلط کیا ہے؟”

یہاں مسئلہ صرف عمل نہیں رہا۔

اب دل کی حساسیت متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری شکل: خواہش کا بیمار ہو جانا

قرآن سورۃ الاحزاب میں فرماتا ہے:

﴿فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ﴾

“تاکہ وہ شخص جس کے دل میں بیماری ہے، لالچ میں نہ پڑے۔”

— الاحزاب، 33:32

یہاں دل کی بیماری کا تعلق ایک خاص قسم کی غلط خواہش سے سامنے آتا ہے۔

اس سے ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے:

ہر خواہش بری نہیں ہوتی، لیکن ہر خواہش کو آزاد چھوڑ دینا بھی درست نہیں۔

انسان کے اندر خواہشات رکھی گئی ہیں۔

محبت کی خواہش۔

مال کی خواہش۔

عزت کی خواہش۔

توجہ کی خواہش۔

جسمانی خواہش۔

کامیابی کی خواہش۔

یہ سب انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خواہش حدود کو کھا جاتی ہے۔

پھر انسان یہ نہیں سوچتا:

“کیا یہ درست ہے؟”

بلکہ صرف یہ سوچتا ہے:

“مجھے یہ چاہیے۔”

اور یہی فرق انسان کو خواہش کا مالک یا خواہش کا غلام بناتا ہے۔

تیسری شکل: دل میں چھپی ہوئی کڑواہٹ

قرآن ایک اور مقام پر فرماتا ہے:

﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَن لَّن يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغَانَهُمْ﴾

“کیا جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے، انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ ان کے دلوں کے کینے ظاہر نہیں کرے گا؟”

— محمد، 47:29

یہاں ایک اور اندرونی بیماری سامنے آتی ہے:

أَضْغَانٌ

دلوں کے چھپے ہوئے کینے، بغض اور اندرونی دشمنی۔

یہ وہ چیز ہے جسے دنیا ہمیشہ نہیں دیکھ سکتی۔

آپ کسی کے ساتھ مسکرا کر مل سکتے ہیں، لیکن دل میں اس کے لیے آگ ہو سکتی ہے۔

آپ کسی کی کامیابی پر “مبارک ہو” کہہ سکتے ہیں، لیکن اندر سے چاہتے ہوں کہ وہ ناکام ہو جائے۔

آپ بظاہر خاموش رہ سکتے ہیں، مگر اندر ہی اندر کسی کی شکست کا انتظار کر سکتے ہیں۔

لوگ آپ کا چہرہ دیکھتے ہیں۔

اللہ آپ کے دل کو جانتا ہے۔

یہ بیماری پیدا کیسے ہوتی ہے؟

اکثر دل ایک ہی دن میں بیمار نہیں ہوتا۔

یہ بیماری چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے بنتی ہے۔

ایک حسد۔

پھر اس حسد کو پالنا۔

ایک بدگمانی۔

پھر اس بدگمانی کو حقیقت سمجھ لینا۔

ایک خواہش۔

پھر اس خواہش کے لیے حدود توڑنا۔

ایک غلطی۔

پھر اس غلطی کا جواز بنانا۔

ایک ظلم۔

پھر مظلوم کو ہی قصوروار ٹھہرا دینا۔

ایک گناہ۔

پھر گناہ پر شرمندہ ہونے کے بجائے اس کا دفاع کرنا۔

یوں دل کے اندر ایک چھوٹی سی دراڑ پیدا ہوتی ہے۔

پھر دوسری۔

پھر تیسری۔

اور ایک وقت آتا ہے جب انسان باہر سے مضبوط دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے کمزور ہو چکا ہوتا ہے۔

سب سے خطرناک بیماری: دوہرا معیار

روحانی بیماری کی ایک بڑی علامت یہ بھی ہے کہ انسان اپنے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار رکھتا ہے۔

اگر دوسرا غصہ کرے:

“اس میں اخلاق نہیں۔”

اگر میں غصہ کروں:

“میرا غصہ جائز تھا۔”

اگر دوسرا اپنی غلطی چھپائے:

“یہ منافقت ہے۔”

اگر میں چھپاؤں:

“مجبوری تھی۔”

اگر دوسرا مال چاہے:

“دنیا کا لالچی ہے۔”

اگر میں چاہوں:

“اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کر رہا ہوں۔”

یہاں انسان دوسروں کو قانون سے دیکھتا ہے اور خود کو عذر سے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے دل کے سامنے رکنا چاہیے۔

سوشل میڈیا اور دل کی پوشیدہ بیماریاں

آج دل کی بیماریوں کے لیے ایک نیا میدان بھی پیدا ہو گیا ہے:

سوشل میڈیا۔

کسی کی کامیابی دیکھ کر دل جلنے لگتا ہے۔

کسی کی خوبصورت زندگی دیکھ کر اپنی زندگی حقیر لگنے لگتی ہے۔

کسی کی شہرت دیکھ کر دل میں مقابلہ پیدا ہوتا ہے۔

کسی کی تعریف دیکھ کر انسان چاہتا ہے کہ لوگ اسے بھی اسی طرح سراہیں۔

اور کبھی انسان نیکی بھی اس لیے دکھانے لگتا ہے کہ لوگ اسے نیک سمجھیں۔

پھر ایک عجیب صورت پیدا ہوتی ہے:

انسان دوسروں کے سامنے اپنی زندگی سنوار رہا ہوتا ہے، مگر اندر اپنی روح کھو رہا ہوتا ہے۔

اسی لیے کبھی کبھی ہمیں سوشل میڈیا سے زیادہ اپنے دل کی اسکرین صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیا ہر منفی خیال دل کی بیماری ہے؟

نہیں۔

یہ فرق بہت ضروری ہے۔

انسان کے ذہن میں کبھی اچانک کوئی خیال آ سکتا ہے۔

غصہ آ سکتا ہے۔

حسد کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔

بری خواہش کا خیال آ سکتا ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ محض خیال آ جانے سے انسان روحانی طور پر بیمار قرار پا جائے۔

اصل سوال یہ ہے:

آپ اس خیال کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟

کیا آپ اسے رد کرتے ہیں؟

کیا آپ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں؟

کیا آپ اپنے نفس کو روکتے ہیں؟

یا آپ اسے پالنا شروع کر دیتے ہیں؟

خیال کا آ جانا ہمیشہ اختیار میں نہیں ہوتا۔

لیکن اسے دل میں جگہ دینا، اس کے مطابق عمل کرنا اور اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کرنا ایک الگ معاملہ ہے۔

دل کا مریض کون ہے؟

کبھی وہ شخص جو ہر نصیحت سے ناراض ہو جاتا ہے۔

کبھی وہ جو اپنی ہر غلطی کا جواز تلاش کرتا ہے۔

کبھی وہ جو دوسروں کی خامیاں فوراً دیکھ لیتا ہے مگر اپنی نہیں۔

کبھی وہ جو حق بات صرف اس وقت قبول کرتا ہے جب وہ اس کے فائدے میں ہو۔

کبھی وہ جو دوسروں کی کامیابی برداشت نہیں کر پاتا۔

کبھی وہ جو گناہ چھوڑنے کے بجائے گناہ کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اور کبھی وہ شخص بھی جس کے دل میں اتنا غرور آ جاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے:

“مجھے کسی اصلاح کی ضرورت نہیں۔”

لیکن کیا اس بیماری کا علاج ہے؟

بالکل ہے۔

اور یہی قرآن کی امید ہے۔

قرآن صرف بیماری کی خبر نہیں دیتا۔

وہ شفا کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ﴾

“اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ چکی ہے اور ان بیماریوں کے لیے شفا جو سینوں میں ہیں۔”

— یونس، 10:57

یہاں قرآن اپنے آپ کو سینوں کی بیماریوں کے لیے شفا قرار دیتا ہے۔

اور یہی ہماری اگلی قسط کا دروازہ ہے۔

علاج کا پہلا قدم: بیماری کو مان لینا

اپنے دل کے بارے میں یہ کہنے کی ہمت پیدا کریں:

“ہاں، میرے اندر بھی کمزوریاں ہیں۔”

“مجھے بھی حسد ہو سکتا ہے۔”

“میرے اندر بھی غرور آ سکتا ہے۔”

“میں بھی کبھی اپنے نفس کے ہاتھوں شکست کھا جاتا ہوں۔”

“مجھے بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔”

یہ اعتراف شکست نہیں۔

یہ علاج کا آغاز ہے۔

جو شخص اپنے مرض کو پہچان لیتا ہے، وہ ڈاکٹر تلاش کر لیتا ہے۔

اور جو اپنے مرض سے انکار کرے، وہ بیماری کو ساتھ لے کر چلتا رہتا ہے۔

دوسرا قدم: قرآن کو صرف پڑھیں نہیں، اپنے اوپر رکھیں

قرآن دوسروں کے لیے فیصلے سنانے کی کتاب نہیں۔

یہ سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھنے کا آئینہ ہے۔

جب قرآن تکبر کا ذکر کرے تو سوچیں:

“کیا یہ میرے اندر تو نہیں؟”

جب حسد کا ذکر آئے تو دیکھیں:

“کیا میں کسی کی نعمت سے پریشان تو نہیں؟”

جب نفاق کا ذکر آئے تو پوچھیں:

“کیا میرا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہے؟”

جب توبہ کا ذکر آئے تو سوچیں:

“میں کس چیز سے واپس آنا چاہتا ہوں؟”

یہی قرآن کے ساتھ زندہ تعلق ہے۔

تیسرا قدم: تنہائی میں دل کا معائنہ

ہر رات صرف پانچ منٹ۔

فون ایک طرف رکھ دیں۔

خاموش بیٹھیں۔

اور اپنے آپ سے پانچ سوال کریں:

آج مجھے کس کی کامیابی نے اندر سے پریشان کیا؟

آج میں نے کہاں اپنے نفس کو حق سے بڑا سمجھا؟

آج میں نے کون سی غلطی کا جواز بنایا؟

آج کس شخص کے لیے میرے دل میں کڑواہٹ پیدا ہوئی؟

اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہوتا تو میں اپنے دل کی حالت سے مطمئن ہوتا؟

ان سوالات کے جواب کسی انسان کو نہ دیں۔

پہلے اپنے رب کے سامنے رکھیں۔

اور پھر ایک دعا

قرآن ہمیں ایک نہایت خوبصورت دعا سکھاتا ہے:

﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا﴾

“اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کرنا۔”

— آل عمران، 3:8

غور کیجیے!

ہدایت ملنے کے بعد بھی دل کے بدل جانے کا خوف رکھا گیا ہے۔

اس لیے ایک مومن اپنے ایمان پر غرور نہیں کرتا۔

وہ اپنے دل کے لیے دعا کرتا ہے۔

کیونکہ وہ جانتا ہے:

دل کا حال بدل سکتا ہے۔

ایک لمحے کے لیے اپنے دل کے سامنے کھڑے ہوں

آج خود سے ایک سوال کریں:

اگر میرے دل کو ایک آئینے میں دکھا دیا جائے…

اور اس آئینے میں میرا چہرہ نہیں بلکہ میری نیتیں نظر آئیں…

تو کیا میں خود کو دیکھ سکوں گا؟

اگر لوگوں کی تعریف کے پیچھے چھپی میری خواہش نظر آ جائے…

اگر خاموش حسد دکھائی دے…

اگر چھپا ہوا غصہ نظر آ جائے…

اگر وہ کینہ نظر آ جائے جسے میں نے کبھی زبان سے ظاہر نہیں کیا…

اگر وہ خواہش نظر آ جائے جسے میں دنیا سے چھپا لیتا ہوں…

تو کیا میں اس آئینے کو دیکھنے کی ہمت کروں گا؟

یا اسے توڑ دوں گا؟

قرآن ہمیں آئینہ توڑنے نہیں، اپنے اندر کی صفائی کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اختتامیہ: بیماری کا معلوم ہونا بھی رحمت ہے

اگر آج آپ کو اپنے اندر کوئی کمزوری نظر آ گئی ہے تو مایوس نہ ہوں۔

یہ ضروری نہیں کہ بیماری کا احساس تباہی کی علامت ہو۔

کبھی کبھی درد کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ دل ابھی زندہ ہے۔

جس دل کو اپنی غلطی پر افسوس ہوتا ہے، وہ ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوا۔

جس دل میں توبہ کی خواہش پیدا ہوتی ہے، اس کے لیے واپسی کا راستہ ابھی کھلا ہے۔

جس انسان کو اپنے باطن کی فکر ہونے لگے، وہ اصلاح کی طرف سفر شروع کر چکا ہے۔

اصل خطرہ یہ نہیں کہ انسان کے اندر کمزوری ہے۔

اصل خطرہ یہ ہے کہ وہ کمزوری کو کمزوری ماننا چھوڑ دے۔

اسی لیے آج صرف یہ دعا کریں:

اے اللہ! ہمارے ظاہر کو بھی درست کر، ہمارے باطن کو بھی۔

ہماری زبان کو بھی پاک کر، ہمارے دل کو بھی۔

اور اگر ہمارے سینوں میں کوئی ایسی بیماری ہے جسے ہم خود نہیں دیکھ پا رہے، تو ہمیں اس کا شعور دے اور اپنی کتاب کے ذریعے اس کی شفا عطا فرما۔ آمین۔

اگلی قسط کا دروازہ

اگر قرآن نے دل کی بیماری کا ذکر کیا ہے تو پھر ایک سوال لازماً پیدا ہوتا ہے:

کیا قرآن صرف بیماری کی نشاندہی کرتا ہے، یا واقعی ایسی شفا بھی دیتا ہے جو انسان کے سینے کے اندر چھپی ہوئی بیماریوں کو بدل سکتی ہے؟

اگلی قسط میں ہم قرآن کے ایک اور حیرت انگیز لفظ کے قریب جائیں گے:

الشِّفَاءُ

“وہ شفا جو صرف جسم کے درد کے لیے نہیں، سینوں کے اندر چھپی بیماریوں کے لیے بھی قرآن بیان کرتا ہے۔”

اور شاید وہاں ہمیں پہلی بار یہ سمجھ آئے کہ

قرآن کو پڑھنا اور قرآن سے شفا لینا — دونوں ایک ہی بات نہیں۔

Loading