Daily Roshni News

قرآن سے زندگی کی اصلاح

قرآن سے زندگی کی اصلاح

سورۃ البقرہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب دل زندہ ہو تو ایک نشانی کافی ہے، اور جب دل سخت ہو تو معجزے بھی کم پڑ جاتے ہیں

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک ہی نصیحت کسی انسان کی پوری زندگی بدل دیتی ہے، جبکہ دوسرا شخص وہی بات بار بار سنتا ہے اور اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا؟

ایک شخص قرآن کی ایک آیت سنتا ہے اور اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

دوسرا شخص وہی آیت سنتا ہے، سر ہلاتا ہے، شاید اسے بہت خوبصورت بھی کہتا ہے، لیکن اگلے ہی لمحے اپنی پرانی زندگی میں واپس چلا جاتا ہے۔

آخر فرق کہاں ہے؟

الفاظ میں؟ نہیں۔

بات میں؟ نہیں۔

فرق کہیں اور ہے۔

فرق دل کی کیفیت میں ہے۔

سورۃ البقرہ کا یہ حصہ ہمیں اسی حقیقت کے بہت قریب لے جاتا ہے۔

پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ انسان نعمت ملنے کے بعد اسے بھول سکتا ہے، حق سامنے آنے کے باوجود بہانے بنا سکتا ہے اور دوسروں کو نصیحت کرتے ہوئے خود کو بھول سکتا ہے۔

اب قرآن ہمیں ایک اور سوال کے سامنے کھڑا کرتا ہے:

آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان بار بار اللہ کی نشانیاں دیکھتا ہے، پھر بھی اس کے دل میں حقیقی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی؟

اللہ کے نزدیک صرف نسبت کافی نہیں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَىٰ وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

“بے شک جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی، نصاریٰ اور صابئین ہوئے، ان میں سے جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور نیک عمل کیا، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے، نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔”

(البقرہ: 62)

یہ آیت ہمیں ایک بنیادی اصول سمجھاتی ہے:

اللہ کے ہاں اصل قدر صرف نام، خاندان، گروہ یا ظاہری نسبت کی نہیں بلکہ حقیقی ایمان اور نیک عمل کی ہے۔

انسان دنیا میں اپنی شناخت کے لیے بہت سی چیزوں پر فخر کرتا ہے۔

میرا خاندان۔

میرا قبیلہ۔

میرا ملک۔

میرا ادارہ۔

میرا مذہبی تعارف۔

میری شہرت۔

لیکن آخرت کے میدان میں سوال یہ نہیں ہوگا کہ تم اپنے آپ کو کیا کہتے تھے۔

اصل سوال یہ ہوگا:

تم حقیقت میں کیا تھے؟

تمہارے ایمان نے تمہیں کتنا بدلا؟

تمہارے یقین نے تمہارے کردار کو کتنا سنوارا؟

تمہارے رب کے ساتھ تعلق نے تمہارے معاملات میں کیا تبدیلی پیدا کی؟

یہاں قرآن ہمیں ظاہری شناخت سے نکال کر حقیقی کردار کی طرف لے جاتا ہے۔»

ایمان دعویٰ نہیں، زندگی کا رخ ہے

ہم میں سے بہت سے لوگ ایمان کو ایک ایسی چیز سمجھتے ہیں جسے بس زبان سے بیان کرنا کافی ہے۔

ہم کہتے ہیں:

“ہم مسلمان ہیں۔”

“ہم اللہ کو مانتے ہیں۔”

“ہم قرآن پر ایمان رکھتے ہیں۔”

یہ سب اپنی جگہ بہت اہم ہے، لیکن قرآن ہمیں اس سے آگے لے جاتا ہے۔

اگر ایمان دل میں ہے تو زندگی میں اس کا اثر کہاں ہے؟

اگر اللہ واقعی سب سے بڑا ہے تو پھر میری خواہش اس کے حکم سے بڑی کیوں ہو جاتی ہے؟

اگر آخرت واقعی یقینی ہے تو پھر میں دنیا کے فائدے کے لیے حرام راستہ کیوں اختیار کرتا ہوں؟

اگر مجھے یقین ہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر تنہائی میں میرا رویہ مختلف کیوں ہو جاتا ہے؟

یہ سوال کسی دوسرے کے لیے نہیں۔

یہ سوال میرے اور آپ کے لیے ہے۔

عہد لینے کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے

سورۃ البقرہ میں آگے بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد کا ذکر آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

“اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تمہارے اوپر طور پہاڑ کو بلند کیا، جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔”

(البقرہ: 63)

یہاں ایک خوبصورت اصول سامنے آتا ہے:

ہدایت صرف پڑھنے کی چیز نہیں، پکڑنے کی چیز ہے۔

کتاب گھر میں ہو سکتی ہے۔

قرآن موبائل میں موجود ہو سکتا ہے۔

آیات زبان پر ہو سکتی ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے:

کیا قرآن ہماری زندگی میں بھی موجود ہے؟

ہم قرآن کو پڑھتے ہیں، مگر کیا قرآن ہمیں پڑھ رہا ہے؟

ہم قرآن کی آیات دوسروں کو سناتے ہیں، مگر کیا ہم خود ان آیات کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں؟»

قرآن آئینہ ہے، دوسروں کی فہرست نہیں

قرآن پڑھتے ہوئے ہماری ایک عام غلطی یہ ہے کہ ہم ہر آیت میں کسی دوسرے انسان کو تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ آیت فلاں شخص کے بارے میں ہے۔

یہ فلاں گروہ کے بارے میں ہے۔

یہ فلاں آدمی کی غلطی ہے۔

لیکن قرآن کا اصل کمال تب شروع ہوتا ہے جب انسان آیت پڑھ کر کہے:

“یا اللہ! اس میں میرے لیے کیا ہے؟”

جب قرآن تکبر کا ذکر کرے تو میں اپنے اندر دیکھوں۔

جب قرآن ناشکری کا ذکر کرے تو میں اپنی زندگی دیکھوں۔

جب قرآن جھوٹ سے روکے تو اپنی زبان دیکھوں۔

جب قرآن دنیا کی محبت سے خبردار کرے تو اپنی ترجیحات دیکھوں۔

قرآن دوسروں کو بدلنے سے پہلے ہمیں خود کو دیکھنا سکھاتا ہے۔

دل سخت کیسے ہوتا ہے؟

پھر سورۃ البقرہ ایک نہایت خوفناک حقیقت بیان کرتی ہے:

«ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً

“پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھروں جیسے بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔”

(البقرہ: 74)

یہ آیت صرف ایک قوم کے بارے میں پڑھ کر آگے بڑھ جانے کے لیے نہیں۔

یہ انسان کے اندر ہونے والی ایک خطرناک تبدیلی کی خبر دیتی ہے۔

دل ایک دن میں پتھر نہیں بنتا۔

اکثر دل آہستہ آہستہ سخت ہوتا ہے۔

ایک گناہ۔

پھر دوسرا۔

پھر تیسرا۔

پہلے گناہ کے بعد دل بے چین ہوتا ہے۔

پھر وہ بے چینی کم ہونے لگتی ہے۔

پھر انسان گناہ کا جواز بناتا ہے۔

پھر دوسروں کو بھی وہی کام کرتے دیکھ کر مطمئن ہو جاتا ہے۔

پھر نصیحت بری لگنے لگتی ہے۔

پھر قرآن کی آیت سن کر دل میں سوال نہیں، چڑچڑاہٹ پیدا ہوتی ہے۔

اور ایک وقت آتا ہے جب انسان غلط کام کرتا ہے اور اسے غلط بھی محسوس نہیں ہوتا۔

یہ دل کی سختی کی خطرناک منزل ہے۔»

گناہ سے زیادہ خطرناک گناہ کا بے اثر ہو جانا ہے

ہم اکثر گناہ کے بعد یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی بڑی سزا کیوں نہیں آئی۔

لیکن شاید اصل خطرہ یہ نہیں کہ سزا فوراً کیوں نہیں آئی۔

اصل خطرہ یہ ہے کہ گناہ کے بعد دل نے درد محسوس کرنا کیوں چھوڑ دیا؟

ایک وقت تھا جب جھوٹ بولتے ہوئے دل کانپتا تھا۔

اب جھوٹ معمول بن گیا۔

ایک وقت تھا جب کسی کا حق مارنے پر شرمندگی ہوتی تھی۔

اب اسے کاروباری چال کہا جاتا ہے۔

ایک وقت تھا جب غیبت کے بعد دل پریشان ہوتا تھا۔

اب محفل غیبت کے بغیر ادھوری لگتی ہے۔

ایک وقت تھا جب نماز رہ جانے پر افسوس ہوتا تھا۔

اب نماز رہ جائے تو صرف ایک معمولی خلل محسوس ہوتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو رک جانا چاہیے۔

دل کا زندہ ہونا کیا ہے؟

دل کا زندہ ہونا یہ نہیں کہ انسان کبھی غلطی نہ کرے۔

انسان غلطی کرے گا۔

لیکن زندہ دل غلطی کے بعد بے چین ہوتا ہے۔

وہ واپس آنا چاہتا ہے۔

وہ معافی مانگتا ہے۔

وہ اپنے آپ کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جبکہ سخت دل کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان غلطی کو غلط ماننے سے انکار کرنے لگتا ہے۔

وہ کہتا ہے:

“سب کرتے ہیں۔”

“زمانہ ہی ایسا ہے۔”

“اس میں کیا بڑی بات ہے؟”

“اللہ غفور الرحیم ہے۔”

“دل صاف ہونا چاہیے۔”

یہ جملے کبھی کبھی انسان کو توبہ کی طرف لے جانے کے بجائے گناہ کے ساتھ مطمئن رہنے کا بہانہ بن جاتے ہیں۔

پتھر بھی اللہ کی نشانیوں سے خالی نہیں

اسی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ

“اور بے شک بعض پتھروں سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، اور بعض پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے، اور بعض اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔”

(البقرہ: 74)

ذرا سوچیں۔

قرآن پتھر کی مثال دے کر انسان کو جگا رہا ہے۔

پتھر بھی اللہ کے نظام کے سامنے اپنا اثر دکھاتے ہیں۔

پہاڑ اللہ کے حکم سے پانی کے چشمے نکالتے ہیں۔

قدرت کی مخلوقات اپنے رب کے سامنے اپنے مقررہ نظام کے مطابق چل رہی ہیں۔

اور انسان؟

وہ عقل، شعور، قرآن اور ہدایت ملنے کے باوجود کبھی اپنے رب کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے۔

یہی آیت دل کو ہلا دیتی ہے:

کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارا دل اس پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو گیا ہے جسے ہم بے جان سمجھتے ہیں؟»

ہمیں معجزے نہیں، بیدار دل چاہیے

ہم کبھی کہتے ہیں:

“کاش مجھے کوئی ایسی نشانی مل جائے کہ میرا ایمان مضبوط ہو جائے۔”

“کاش میری آنکھوں کے سامنے کوئی غیر معمولی واقعہ ہو جائے۔”

“کاش مجھے کوئی خواب آ جائے۔”

لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ مسئلہ ہمیشہ نشانیوں کی کمی نہیں ہوتا۔

کبھی مسئلہ دیکھنے والے دل کا ہوتا ہے۔

سورج روز نکلتا ہے۔

رات روز آتی ہے۔

بارش زمین کو زندہ کرتی ہے۔

انسان پیدا ہوتا ہے اور مر جاتا ہے۔

ایک بچہ ماں کے پیٹ میں تشکیل پاتا ہے۔

دل بغیر ہماری اجازت کے دھڑکتا ہے۔

اور پھر بھی انسان کہتا ہے:

“نشانی کہاں ہے؟”

شاید سوال یہ نہیں کہ نشانی کہاں ہے۔

سوال یہ ہے:

“میرا دل اسے دیکھنے کے لیے کتنا زندہ ہے؟”

بچھڑے کے واقعے سے ایک اور سبق

بنی اسرائیل کے واقعے میں گائے ذبح کرنے کا حکم آیا تو وہ سیدھے سادے انداز میں حکم ماننے کے بجائے بار بار سوال کرتے رہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا بَقَرَةً

“بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔”

(البقرہ: 67)

لیکن انہوں نے سوال پر سوال شروع کر دیے۔

کیسی گائے؟

کس عمر کی؟

اس کا رنگ کیا ہو؟

اس کی مزید خصوصیات کیا ہیں؟

ظاہری طور پر یہ سوالات معلومات حاصل کرنے کے لیے تھے، لیکن قرآن کے مجموعی بیان میں ان کی روش ایک ایسی قوم کی تصویر بن جاتی ہے جو سادہ اطاعت کے بجائے غیر ضروری پیچیدگی میں پڑ گئی۔

یہ ہمارے لیے بھی ایک سبق ہے۔

کبھی اللہ کا حکم واضح ہوتا ہے، مگر ہم عمل کرنے کے بجائے بحث شروع کر دیتے ہیں۔

“یہ کیوں؟”

“اس طرح کیوں؟”

“اگر ایسا ہو تو؟”

“اگر ویسا ہو تو؟”

علم حاصل کرنا اچھی چیز ہے۔

سمجھنا بھی ضروری ہے۔

لیکن جب سوال کا مقصد حق سمجھنا نہ رہے بلکہ عمل سے بچنا بن جائے تو سوال خود ایک پردہ بن سکتا ہے۔»

ہم بھی کتنے بہانے بناتے ہیں؟

اللہ نے کہا نماز قائم کرو۔

ہم کہتے ہیں:

“ابھی کام بہت ہے۔”

اللہ نے کہا حرام سے بچو۔

ہم کہتے ہیں:

“مجبوری ہے۔”

اللہ نے کہا والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔

ہم کہتے ہیں:

“وہ بھی تو مجھے نہیں سمجھتے۔”

اللہ نے کہا غیبت سے بچو۔

ہم کہتے ہیں:

“ہم تو صرف حقیقت بیان کر رہے تھے۔”

اللہ نے کہا صدقہ دو۔

ہم کہتے ہیں:

“ابھی حالات اچھے نہیں۔”

اللہ نے کہا دل صاف کرو۔

ہم کہتے ہیں:

“پہلے وہ معافی مانگے۔”

اور یوں ایک واضح حکم کے سامنے ہمارا نفس ہمیں سو دلیلیں دے دیتا ہے۔

مسئلہ کبھی حکم کی مشکل نہیں ہوتا؛ مسئلہ ہماری خواہش کی مضبوطی ہوتی ہے۔

قرآن ہمیں ایک خطرناک آئینہ دکھا رہا ہے

سورۃ البقرہ کے یہ واقعات پڑھ کر ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے:

“بنی اسرائیل نے بہت غلطیاں کیں۔”

بلکہ ہمیں رک کر کہنا چاہیے:

“کیا میں بھی اسی طرح اللہ کی نعمتوں کو بھولتا ہوں؟”

“کیا میں بھی واضح بات کے بعد بہانے تلاش کرتا ہوں؟”

“کیا میں بھی دوسروں کو نصیحت کرتا ہوں مگر اپنی اصلاح مؤخر کرتا ہوں؟”

“کیا میری زندگی میں ایسے گناہ ہیں جن پر اب مجھے پہلے جیسی شرمندگی نہیں ہوتی؟”

“کیا قرآن سن کر میری زندگی میں واقعی کوئی تبدیلی آ رہی ہے؟”

یہ سوالات شاید اس پوری قسط کا اصل مقصد ہیں۔

دل کو دوبارہ زندہ کیسے کیا جائے؟

دل کی سختی کا علاج صرف زیادہ معلومات نہیں۔

کبھی انسان کو بہت کچھ معلوم ہوتا ہے لیکن وہ پھر بھی نہیں بدلتا۔

دل کی اصلاح کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں:

پہلی: سچائی۔

اپنے آپ سے جھوٹ بولنا بند کریں۔

غلطی ہے تو غلطی کہیں۔

گناہ ہے تو گناہ کہیں۔

کمزوری ہے تو کمزوری تسلیم کریں۔

دوسری: توبہ۔

غلطی کے بعد اللہ کی طرف واپس آئیں۔

توبہ کو صرف زبان کا جملہ نہ بنائیں بلکہ رویے کی تبدیلی بنائیں۔

تیسری: قرآن کے سامنے خود کو رکھنا۔

قرآن پڑھتے ہوئے یہ نہ پوچھیں:

“یہ کس کے بارے میں ہے؟”

پہلے پوچھیں:

“یہ میرے بارے میں کیا کہہ رہا ہے؟”

آج کی عملی اصلاح

آج ایک ایسا گناہ یا کمزوری منتخب کریں جس کے ساتھ آپ کا دل اب پہلے جیسا حساس نہیں رہا۔

اسے لکھیں۔

پھر خود سے کہیں:

“میں اس کو معمول نہیں بننے دوں گا۔”

آج ایک چھوٹا قدم اٹھائیں۔

کسی کا حق ہے تو واپس کریں۔

کسی سے زیادتی ہوئی ہے تو معافی مانگیں۔

نماز میں کوتاہی ہے تو ایک نماز کو خاص اہتمام سے وقت پر ادا کریں۔

زبان کی لغزش ہے تو آج غیبت سے مکمل پرہیز کریں۔

اور رات کو اللہ کے سامنے چند لمحے بیٹھ کر صرف اتنا کہیں:

“یا اللہ! میرے دل کو دوبارہ زندہ کر دے۔ مجھے حق کو حق دیکھنے اور اس پر چلنے کی توفیق دے۔”

سورۃ البقرہ ہمیں بتا رہی ہے کہ انسان کی اصل تباہی ہمیشہ معلومات کی کمی سے نہیں ہوتی۔

کبھی انسان جانتا ہے مگر عمل نہیں کرتا۔

کبھی سنتا ہے مگر قبول نہیں کرتا۔

کبھی نعمت دیکھتا ہے مگر شکر نہیں کرتا۔

کبھی نشانی دیکھتا ہے مگر عبرت نہیں لیتا۔

کبھی قرآن پڑھتا ہے مگر اپنے آپ کو اس میں تلاش نہیں کرتا۔

اور یہی چیز آہستہ آہستہ دل کو سخت کر دیتی ہے۔

دل کو زندہ رکھنے کے لیے ہر روز اپنے رب کی طرف پلٹنا ضروری ہے۔

کیونکہ ایمان صرف یہ نہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں۔

ایمان یہ بھی ہے کہ اللہ کا حکم ہماری خواہش پر غالب آ جائے۔

آج اپنے دل سے بہت سچائی کے ساتھ پوچھیں:

“قرآن کی کون سی بات میں جانتا ہوں، لیکن ابھی تک اپنی زندگی میں نافذ نہیں کر سکا؟”

پھر دوسرا سوال:

“کون سا گناہ ہے جس پر کبھی میرا دل شرمندہ ہوتا تھا، مگر اب میں اسے معمول سمجھنے لگا ہوں؟”

اور سب سے اہم سوال:

“اگر میرے دل کی سختی مجھے نظر نہیں آ رہی، تو کیا میں اللہ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے میرے اندر کی حقیقت دکھا دے؟”

شاید دل کی اصلاح کا پہلا قدم یہی ہے کہ انسان اپنے دل کی بیماری کو تسلیم کر لے۔

اگلی قسط میں…

سورۃ البقرہ کا سفر اب ایک ایسے مقام کی طرف بڑھے گا جہاں قبلہ، امت کی شناخت، آزمائش، صبر، نماز اور اللہ کی معیت جیسے عظیم موضوعات سامنے آئیں گے۔

اور ہم ایک بنیادی سوال پر غور کریں گے:

جب اللہ ہمیں آزماتا ہے تو ہمیں کیوں لگتا ہے کہ شاید اللہ نے ہمیں چھوڑ دیا ہے؟

کیا آزمائش اللہ کی ناراضی کی علامت ہے، یا کبھی یہی آزمائش انسان کو اپنے رب کے سب سے قریب لے آتی ہے؟

اگر یہ تحریر آپ کے دل تک پہنچی ہے تو پوسٹ کو لائک اور شیئر ضرور کریں تاکہ قرآن کی یہ بات کسی اور دل تک بھی پہنچ سکے، اور “قرآن سے زندگی کی اصلاح” کے اس سفر کو جاری رکھنے کے لیے پیج کو فالو ضرور کریں۔

Loading