فلسفہ زدہ ذہن اورعلامہ اقبالؒ کی پکار: خودی سے عمل تک کا سفر
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ فلسفہ زدہ ذہن اورعلامہ اقبالؒ کی پکار: خودی سے عمل تک کا سفر۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا)’ایک فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام‘ میں علامہ اقبالؒ کا مغربی فلسفے سے مکالمہ، فکری غلامی پر تنقید اور خودی، ایمان و عمل کی تشکیل کا پیغام
دنیا آج جس فکری، اخلاقی اور تہذیبی بحران سے گزر رہی ہے، اس میں انسان کی سب سے بڑی الجھن اپنی شناخت، مقصدِ حیات اور اپنی داخلی معنویت کا سوال بن چکی ہے۔ سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب، جدید ٹیکنالوجی اور مادی آسائشوں نے انسانی زندگی کے ظاہری امکانات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، مگر اس کے باوجود انسان کے اندر ایک گہرا روحانی خلا، اضطراب، اور افتراق و انتشار موجود ہے۔ جدید انسان معلومات کی فراوانی کے باوجود حکمت کی تلاش میں ہے، طاقت حاصل کرنے کے باوجود مقصد کی تلاش میں ہے اور دنیوی تسخیر کے باوجود اپنی ذات کو سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے فکری منظرنامے میں علامہ محمد اقبال کا تصورِ خودی ایک غیر معمولی معنوی قوت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
علامہ اقبالؒ کے نزدیک خودی محض فلسفیانہ اصطلاح، نفسیاتی کیفیت یا فرد کی خود پسندی کا نام نہیں۔ خودی ایک زندہ، متحرک، اخلاقی، روحانی اور تخلیقی قوت ہے جو انسان کو اس کی اصل حقیقت سے آگاہ کرتی ہے اور اسے جمود سے حرکت، غلامی سے آزادی، تقلید سے اجتہاد اور بے معنویت سے مقصدیت کی طرف لے جاتی ہے۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک مرد مومن محض حالات کا تابع نہیں بلکہ اپنے کردار، ارادے اور عمل کے ذریعے حالات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے ان کے ہاں خودی کا تصور فرد کی داخلی تعمیر کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور تہذیبی تعمیر کا بھی بنیادی اصول بن جاتا ہے۔
علامہ اقبالؒ مغربی فلسفے سے ناواقف فلسفی نہیں تھے۔ انہوں نے یورپ میں تعلیم حاصل کی، جدید فلسفے کا باقاعدہ مطالعہ کیا اور ہیگل، کانٹ، نطشے، برگساں اور دیگر مفکرین کے افکار سے گہری واقفیت حاصل کی۔ اس لیے مغرب پر ان کی تنقید محض جذباتی ردِعمل یا تہذیبی تعصب کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے مفکر کی تنقید ہے جو مغربی فکر کے اندر سے اس کے امکانات اور حدود دونوں کو دیکھتا ہے۔علامہ اقبالؒ نے مغربی فلسفے سے بہت کچھ اخذ کیا، مگر وہ مغربی فلسفے سے اس وقت شدید اختلاف کرتے ہیں جب عقل انسان کی مکمل رہنما بننے کا دعویٰ کرتی ہے اور روحانی، اخلاقی اور وحیانی شعور کو ثانوی بنا دیتی ہے۔
اسی فکری پس منظر میں نظم ’ایک فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام‘ کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ نظم محض کسی ایک شخص کو نصیحت نہیں بلکہ اس مسلم ذہن پر تنقید ہے جو جدید مغربی فلسفے سے متاثر ہو کر اپنی تہذیبی اور روحانی بنیادوں سے دور ہو جاتا ہے۔ نظم کا عنوان ہی اپنے اندر طنز، تشویش اور اصلاح کی ایک پوری دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ ’فلسفہ زدہ‘ سے مراد فلسفے کا مطالعہ کرنے والا شخص نہیں بلکہ وہ ذہن ہے جو فلسفیانہ افکار کا اسیر ہو جائے اور اپنے فکری مرکز سے محروم ہو بیٹھے۔
علامہ اقبالؒ نظم کے آغاز ہی میں خودی کے زوال کو فکری غلامی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں:
تُو اپنی خودی اگر نہ کھوتا
زُناّریِ برگساں نہ ہوتا
یہ یاد رہے کہ محولہ بالا شور
’زنّار‘ محض ایک مذہبی علامت نہیں بلکہ فکری وابستگی اور غلامی کا استعارہ بھی ہے۔ اقبال کا بنیادی اعتراض برگساں کے مطالعے پر نہیں بلکہ اس ذہنی کیفیت پر ہے جس میں مسلمان اپنی خودی کھو کر مغربی فلسفے کو حتمی معیار سمجھنے لگتا ہے۔ اگر خودی مضبوط ہو تو انسان دوسرے فلسفوں سے استفادہ کر سکتا ہے، ان کا تنقیدی مطالعہ کر سکتا ہے، ان کے مثبت پہلو قبول اور کمزور پہلو رد کر سکتا ہے؛ لیکن اگر خودی کمزور ہو تو مطالعہ تقلید میں اور استفادہ مرعوبیت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر علامہ اقبالؒ کے تصورِ خودی کا ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: فکری آزادی۔علامہ اقبالؒ کے نزدیک خودی کی مضبوطی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دوسری تہذیبوں اور فلسفوں سے قطع تعلقی کر لے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی فکری شخصیت اس قدر مضبوط کرے کہ دوسروں کے افکار کا مطالعہ آزادیٔ فکر کے ساتھ کر سکے۔ یہی فرق ’مکالمے‘ اور ’مرعوبیت‘ میں ہے۔ہیگل کے حوالے سے علامہ اقبالؒ مزید کہتے ہیں:
ہیگل کا صدَف گُہر سے خالی
ہے اُس کا طلِسم سب خیالی
اس شعرمیں’صدف‘ اور ’گہر‘ کی علامتیں نہایت معنی خیز ہیں۔ صدف ایک ظاہری ساخت رکھتا ہے، مگر اس کے اندر موتی ہو تو وہ حقیقی قدر و قیمت حاصل کرتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک ہیگل کا فلسفہ ایک عظیم فکری عمارت ضرور ہے، مگر ان کی نظر میں اس میں وہ روحانی گوہر موجود نہیں جو انسان کو زندگی کا حقیقی مقصد عطا کر سکے۔ ’’طلسم‘‘ کا لفظ بھی اس فلسفے کی پیچیدگی اور فکری کشش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔علامہ اقبالؒ کے نزدیک پیچیدگی اور گہرائی لازماً حقیقت اور معنویت کی ضمانت نہیں۔
بایں ہمہ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ علامہ اقبالؒ کے اس شعر کو ہیگل کے پورے فلسفے کی علمی تردید نہیں سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ علامہ اقبالؒ خود جدلیاتی فکر، تاریخی حرکت اور ارتقائی تصورات سے متاثر تھے۔ ان کا اعتراض ہیگل کے ہر فلسفیانہ تصور پر نہیں بلکہ اس فکری نظام پر ہے جو ان کی نظر میں روحانی اور وجودی حقیقت کو محض عقلی نظام میں جذب کر دیتا ہے۔ اس لحاظ سے ان کی تنقید ’’ہیگل باطل ہے‘‘ کے سادہ دعوے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے؛ وہ پوچھتے ہیں کہ فلسفہ انسان کو زندگی، اخلاق اور مقصد کہاں فراہم کرتا ہے؟اسی سوال کوعلامہ اقبالؒ اگلے اشعار میں مزید گہرائی عطا کرتے ہیں:
محکم کیسے ہو زندگانی
کس طرح خودی ہو لازمانی
یہ سوال دراصل علامہ اقبالؒ کے پورے فلسفۂ حیات کا سوال ہے۔ زندگی کو مضبوط کیسے بنایا جائے؟ خودی کو دوام کیسے حاصل ہو؟ انسان اپنی محدود جسمانی زندگی سے بلند ہو کر ایسی معنویت کیسے پیدا کرے جو وقت کے گزرنے سے ختم نہ ہو؟ ان کا جواب محض فلسفیانہ استدلال نہیں بلکہ ایک روحانی و اخلاقی نظام کی تلاش ہے۔اسی لیے وہ کہتے ہیں:
آدم کو ثبات کی طلب ہے
دستورِ حیات کی طلب ہے
محولہ بالا شعر میں’ثبات‘ محض جسمانی بقا نہیں بلکہ وجودی استحکام، اخلاقی استقلال اور مقصدیت کا نام ہے۔ انسان کو ایسی زندگی چاہیے جس میں اس کے اعمال کا کوئی اعلیٰ مقصد ہو۔ اسے ایسا ’’دستورِ حیات‘‘ چاہیے جو اسے صرف یہ نہ بتائے کہ وہ کیا سوچے بلکہ یہ بھی بتائے کہ اسے کیسے جینا ہے۔
علامہ اقبالؒ کے نزدیک یہی وہ مقام ہے جہاں دین اور فلسفہ کا فرق نمایاں ہوتا ہے۔ فلسفہ سوال پیدا کر سکتا ہے، تصورات کی تحلیل کر سکتا ہے اور حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے؛ لیکن علامہ اقبالؒ کے نزدیک انسان کی مکمل رہنمائی کے لیے صرف فلسفیانہ عقل کافی نہیں۔ اسے وحی، اخلاق، روحانی بصیرت اور عملی نمونے کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔اسی تصور کو وہ نہایت خوب صورت علامت میں بیان کرتے ہیں:
دُنیا کی عشا ہو جس سے اِشراق
مومن کی اذاں نِدائے آفاق
’عشا‘ اور’اشراق‘کا تضاد رات اور روشنی، غفلت اور بیداری، تاریکی اور شعور کی علامت بن جاتا ہے۔ مومن کی اذان محض نماز کی دعوت نہیں بلکہ ایک ایسی کائناتی بیداری کی صدا ہے جو انسان کو خوابِ غفلت سے نکالتی ہے۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک ایمان انسان کو زندگی سے فرار نہیں سکھاتا بلکہ زندگی کو ایک بلند مقصد کے تحت برتنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ نظم میں تہذیبی شناخت کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ وہ اپنے مخاطب کے سامنے اس کی روحانی نسبت کو رکھتے ہوئے کہتے ہیں:
تو سیّدِ ہاشمی کی اولاد
میری کفِ خاک برہمن زاد
مندرجہ بالا شعرمیں علامہ اقبالؒ ایک برہمن زادے اور سیّد زادے کا علامتی تقابل قائم کرتے ہیں۔ مقصد نسلی تفاخر پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور فکری سوال اٹھانا ہےکہ اگر ایک شخص اپنی سابقہ تہذیبی شناخت سے آگے بڑھ کر اسلام کی روح کو سمجھ سکتا ہے تو ایک مسلمان، خصوصاً ایک سیّد زادہ، اپنی روحانی روایت سے بیگانہ ہو کر محض مغربی فلسفے کی تقلید کیوں کرے؟
یہ شعر ان کی تہذیبی فکر کا ایک اہم پہلو سامنے لاتا ہے کہ ان کے نزدیک شناخت محض نسب یا ظاہری نسبت کا نام نہیں۔ نسب اگر کردار اور فکر میں تبدیل نہ ہو تو بے معنی ہے۔ اسی لیے ان کا اصل تفکر خودی کی تعمیر ہے۔ سیّد ہونا، مسلمان ہونا یا کسی تہذیب سے تعلق رکھنا اس وقت معنی خیز بنتا ہے جب وہ انسان کے کردار، اخلاق اور عمل میں ظاہر ہو۔چنانچہ اسی پس منظر میں وہ اپنی فکری وابستگی کے بارے میں کہتے ہیں:
ہے فلسفہ میرے آب و گِل میں
پوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل میں
نظم کے اس شعر میں علامہ اقبال کا نہایت دلچسپ خود شناسانہ پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ فلسفے کو رد نہیں کرتے؛ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ فلسفہ ان کی اپنی فکر اور وجود میں بھی رچا بسا ہے۔ اس لیے ان کی تنقید فلسفے سے دشمنی نہیں۔ اصل مسئلہ فلسفے کا زندگی سے رشتہ ہے۔ اگر فلسفہ انسان کو حقیقت، اخلاق اور عمل کی طرف لے جائے تو وہ مفید ہے؛ لیکن اگر وہ انسان کو اپنی اصل، اپنی ذمہ داری اور اپنے مقصد سے دور کر دے تو وہ نقصان دہ ہے۔ اسی لیے وہ مخاطب کے فکری جوش کو ایک سخت مگر معنی خیز استعارے میں بیان کرتے ہیں
ع شُعلہ ہے ترے جُنوں کا بے سوز
ان کا خیال ہے کہ شعلہ تو موجود ہے مگر اس میں سوز نہیں رہا۔ جوش موجود ہے مگر حرارت نہیں۔ فکر موجود ہے مگر زندگی نہیں۔ یہ ان کی تنقید کا بنیادی نکتہ ہے۔ محض ذہنی اضطراب، فلسفیانہ بحث اور علمی کثرت انسان کو عظیم نہیں بناتے؛ اصل عظمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فکر کردار میں اور علم عمل میں تبدیل ہو۔اس مقام پر نظم کا مرکزی فکری نکتہ سامنے آتا ہے کہ:
انجامِ خِرد ہے بے حضوری
ہے فلسفہ زندگی سے دُوری
بے حضوری علامہ اقبالؒ کی ایک نہایت اہم اصطلاح ہے۔ اس سے مراد محض ذہنی عدم توجہ نہیں بلکہ اپنی حقیقت، روحانی مرکز اور مقصدِ حیات سے بیگانگی ہے۔ ان کے نزدیک خرد جب اپنی حدود سے تجاوز کرتی ہے اور خود کو حقیقت کا آخری معیار سمجھنے لگتی ہے تو انسان ’حاضر‘ ہونے کے باوجود اپنی حقیقی زندگی سے غائب ہو جاتا ہے۔ غور کرنے سے یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ وہ عقل کو مسترد نہیں کرتے۔ ان کے پورے فکری نظام میں عقل ایک بنیادی قوت ہے، لیکن عقل کو وحی، عشق اور روحانی تجربے کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک عقل راستہ تلاش کر سکتی ہے، مگر منزل کا حتمی شعور صرف عقل کے ذریعے حاصل نہیں ہوتا۔ عقل سوال اٹھاتی ہے، عشق مقصد عطا کرتا ہے اور عمل اس مقصد کو دنیا میں ظاہر کرتا ہے۔
اسی لیے وہ کہتے ہیں:
افکار کے نغمہ ہائے بے صوت
ہیں ذوقِ عمل کے واسطے موت
یہ شعر نظم کے سب سے زیادہ جامع اور عصرِ حاضر سے متعلق اشعار میں سے ہے۔ ’افکار کے نغمہ ہائے بے صوت‘ ایسی فکر کی علامت ہیں جو سننے میں دلکش مگر عملی زندگی میں بے اثر ہو۔ ان کے نزدیک فکر اگر انسان کو عمل پر آمادہ نہ کرے تو وہ زندگی کے لیے قوت کے بجائے کمزوری بن جاتی ہے۔ یہی تصور ان کے تصورِ خودی کی اساس ہے۔ خودی جامد وجود نہیں بلکہ مسلسل تعمیر کا نام ہے۔ انسان اپنے عمل سے اپنی شخصیت بناتا ہے۔ خودی کی قوت محض اندرونی احساس نہیں بلکہ ارادے، کردار، قربانی، جدوجہد اور تخلیق میں ظاہر ہوتی ہے۔ اسی لیے جب علامہ اقبالؒ مرد مومن کا نقشہ پیش کرتے ہیں تو اس کی نشانیوں میں تین خاصیتیں بہت اہمیت کی حامل ہیں کہ وہ ایک فعال، باارادہ اور ذمہ دار انسان ہوتا ہے۔ آج کے خزاں رسیدہ دور میں انہی خصائص کہ اشد ضرورت ہے۔ چنانچہ جیسے جیسے نظم آگے بڑھتی ہے اس کا لب ولہجہ اور مضمون بھی وسعت پاتا چلا جاتا ہے۔ ان کا تصورِ خودی جدید مغربی فردیت سے بھی مختلف ہو جاتا ہے۔ جدید فردیت میں فرد کی آزادی اکثر اس کی شخصی خواہشات اور ذاتی حقوق کے گرد تشکیل پاتی ہے، جب کہ ان کے ہاں خودی آزادی کے ساتھ ذمہ داری کو بھی لازم قرار دیتی ہے۔ لہذا ایک مضبوط فرد معاشرے سےراہِ فراراختیار نہیں کرتا بلکہ معاشرے کی اصلاح اور تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی خودی جتنی مضبوط ہوتی ہے، اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی وسیع ہوتی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ دین کو ایک زندہ نظامِ حیات قرار دیتے ہیں:
دیں مسلکِ زندگی کی تقویم
دیں سِرِّ محمدؐ و براہیمؑ
یاد رہے کہ محولہ شعرمیں ’تقویم‘ کا مفہوم محض مذہبی کیلنڈر نہیں بلکہ زندگی کی تنظیم، توازن اور تعمیر سے ہے۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک دین انسان کو صرف آخرت کے لیے تیار نہیں کرتا بلکہ دنیا میں اس کے کردار، اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت محمد ﷺ کا حوالہ بھی اتفاقی نہیں۔ حضرت ابراہیمؑ علامہ اقبالؒ کے ہاں توحید، بت شکنی، قربانی اور جراتِ عمل کی علامت ہیں، جبکہ حضرت محمد ﷺ کامل انسانی قیادت، اخلاق، روحانیت اور اجتماعی تعمیر کے نمونہ ہیں۔ یوں علامہ اقبالؒ کا دینی تصور محض نظری عقیدے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک عملی اور انقلابی کردار اختیار کر لیتا ہے۔ نظم کے آخری فارسی اشعار میں انہوں نے اسی فکر کو انتہائی جامع انداز میں بیان کیا ہے:
دل در سخنِ محمدیؐ بند
اے پورِ علیؓ ز بوعلی چند
یعنی اپنے دل کو سخنِ محمدیؐ سے وابستہ کرو؛ محض ’بوعلی‘ یعنی فلسفیانہ دانش اور عقلی موشگافیوں پر اکتفا نہ کرو۔ اس مقام پر ’بوعلی‘ علم و فلسفے کی علامت بن جاتا ہے جبکہ ’محمدیؐ‘ وحی، اخلاق، روحانیت اور عملی قیادت کی علامت ہے۔ تاہم اس شعر کو علم اور فلسفے کی نفی سمجھنا درست نہیں۔ علامہ اقبالؒ خود علم، فکر اور فلسفے کے بڑے طالب علم تھے۔ ان کا مسئلہ علم نہیں بلکہ علم کی خود کفالت کا دعویٰ ہے۔ وہ ایسی عقل چاہتے ہیں جو اپنے محدود دائرے کو پہچانے اور وحی و روحانی بصیرت سے مکالمہ کرے۔ اسی لیے ان کی فکر میں ’عقل‘ اور ’عشق‘ ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ صحیح ترتیب میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ نظم کے آخری شعر میں رسول اکرم ﷺ کی عملی قیادت، علمِ حدیث اور علمی ذخیرے کی طرف اشارہ ہے۔ علامہ اقبال کا نکتہ یہ ہے کہ جب انسان کے پاس راستہ دیکھنے والی بصیرت نہ ہو تو محض معلومات اور علمی ذخیرے کافی نہیں۔ اسے ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اسے زندگی کے راستے پر چلنا سکھائے۔
اس پورے تناظر میں دیکھا جائے تو علامہ اقبالؒ کا مغربی فلسفے پر اعتراض ’مغرب دشمنی‘ نہیں بلکہ ’زندگی سے کٹے ہوئے فلسفے‘ پر تنقید ہے۔ انہوں نے مغرب سے سائنس، تحقیق، تنظیم، حرکت اور جدت کے کئی پہلو اخذ کیے، لیکن وہ اس تہذیب کے اس پہلو سے اختلاف کرتے ہیں جہاں مادی طاقت روحانی مقصد پر غالب آ جائے، عقل اخلاق سے جدا ہو جائے اور فرد اپنی تہذیبی و معنوی بنیادوں سے کٹ جائے۔
غور کیا جائے یہ بات اظہرمن الشمس ہوجاتی ہے کہ علامہ اقبالؒ مغرب کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ تنقیدی مکالمہ کرتے ہیں۔ ان کی تنقید انتخابی ہے، کلی نہیں۔ وہ برگساں کے تصورِ زمان اور تخلیقی ارتقا سے متاثر ہوتے ہیں، نطشے کے ارادۂ قوت میں بعض امکانات دیکھتے ہیں، جرمن فلسفے کی فکری قوت کو سمجھتے ہیں، مگر ان تمام تصورات کو اسلامی روحانی مرکز کے ساتھ پرکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر محض مشرقی روایت کی تکرار نہیں بلکہ مشرق اور مغرب کے درمیان ایک تخلیقی مکالمہ ہے۔
علامہ اقبالؒ کی اصل ترجیح یہ ہے کہ مسلمان جدید دنیا سے کٹے نہیں بلکہ اپنی خودی کے ساتھ اس دنیا میں داخل ہو۔ وہ مغرب کی سائنس اور فکری قوت سے فائدہ اٹھائے مگر اپنی روحانی آزادی قربان نہ کرے۔ وہ جدید ہو مگر اپنی شناخت سے بے خبر نہ ہو؛ وہ فلسفہ پڑھے مگر فلسفے کا غلام نہ بنے؛ وہ عقل استعمال کرے مگر عقل کو خدا نہ بنائے؛ وہ فرد کی آزادی کو تسلیم کرے مگر اجتماعی ذمہ داری سے فرار اختیار نہ کرے۔
آج کے دور میں اس نظم کی معنویت مزید بڑھ گئی ہے۔ موجودہ انسان صرف مغربی فلسفے ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، صارفیت، عالمی ثقافتی صنعت اور بے شمار فکری رجحانات کے دباؤ میں ہے۔ معلومات کی رفتار نے غور و فکر کی گہرائی کو متاثر کیا ہے۔ انسان کے پاس اظہار کے بے شمار ذرائع ہیں مگر اپنے آپ سے مکالمے کا وقت کم ہے۔ ایسے میں علامہ اقبالؒ کا سوال پھر ہمارے سامنے آتا ہے کہ اگر ہم نے اپنی خودی کھو دی تو ہماری علمی ترقی ہمیں کہاں لے جائے گی؟
آج کا ’فلسفہ زدہ سیّد زادہ‘ صرف وہ شخص نہیں جو ہیگل یا برگساں پڑھتا ہے۔ یہ اصطلاح وسیع معنوں میں اس ہر انسان کی علامت بن سکتی ہے جو اپنی فکری خود مختاری کھو کر کسی بھی بیرونی نظریے، تہذیبی رجحان یا فکری فیشن کا محض صارف بن جائے۔ علامہ اقبالؒ ہمیں فلسفہ چھوڑنے کا نہیں، بلکہ فلسفے کو تنقیدی شعور کے ساتھ پڑھنے کا سبق دیتے ہیں۔ وہ ہمیں مغرب سے سیکھنے سے نہیں روکتے؛ وہ ہمیں خود کو بھول کر سیکھنے سے روکتے ہیں۔ اسی لیے ان کا تصورِ خودی آج بھی محض اقبالیاتی مطالعے کا موضوع نہیں بلکہ شخصیت سازی، تعلیم، قیادت اور تہذیبی بقا کا اہم سوال ہے۔ ایک ایسا انسان جس کی خودی بیدار ہو، وہ علم کو مقصد کے ساتھ، آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ، عقل کو اخلاق کے ساتھ اور فکر کو عمل کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہی ان کے نزدیک زندہ انسان ہے۔
المختصر اس نظم کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کے پاس موجود معلومات، فلسفیانہ اصطلاحات یا علمی اسناد میں نہیں بلکہ اس کی بیدار خودی میں ہے۔ ایسی خودی جو اپنی روحانی بنیاد سے وابستہ ہو، عقل کو استعمال کرے مگر اس کی غلام نہ بنے، مغرب سے استفادہ کرے مگر مرعوب نہ ہو، فلسفہ پڑھے مگر زندگی سے دور نہ ہو اور ایمان کو محض عقیدہ نہیں بلکہ عمل کی قوت بنائے۔
علامہ اقبالؒ کا سوال آج بھی پوری شدت سے ہمارے سامنے موجود ہے: کیا ہماری تعلیم نے ہمیں صرف خبر دی ہے یا بصیرت بھی؟ کیا ہماری عقل نے ہمیں زیادہ آزاد کیا ہے یا نئے فکری تعصبات کا اسیر بنا دیا ہے؟ کیا ہمارے افکار زندگی کو بدل رہے ہیں یا صرف ’نغمہ ہائے بے صوت‘ بن کر رہ گئے ہیں؟
علامہ اقبالؒ کی آواز کا جواب واضح ہے: خودی کو پہچانو، فکر کو زندگی سے جوڑو، علم کو عمل میں ڈھالو اور اپنی روحانی بنیاد سے وابستہ رہتے ہوئے زمانے کے فکری چیلنجز کا سامنا کرو۔ کیونکہ وہ انسان جو اپنی خودی کو محفوظ رکھتا ہے، وہ بیرونی فلسفوں کا غلام نہیں بنتا؛ وہ ان سے مکالمہ کرتا ہے، انہیں پرکھتا ہے اور اپنی اخلاقی و روحانی بصیرت کی روشنی میں اپنے لیے راستہ متعین کرتا ہے۔
یوں ’ایک فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام‘ محض ایک طنزیہ نظم نہیں رہتی بلکہ علامہ اقبالؒ کے فکری نظام کا ایک مختصر مگر نہایت گہرا منشور بن جاتی ہے۔ اس میں خودی فکری آزادی کی علامت ہے، فلسفہ تنقیدی شعور کا میدان، عقل محدود مگر ضروری قوت، عشق مقصد و حرارت کا سرچشمہ، عمل فکر کی کسوٹی اور دین زندگی کی جامع رہنمائی کا ذریعہ بن کر سامنے آتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ انسان اپنے زمانے سے فرار اختیار نہ کرے بلکہ اپنی خودی کی قوت کے ساتھ زمانے کو سمجھنے اور بدلنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ اس طرح ان کا فلسفہ محض کتابی فلسفہ نہیں رہتا بلکہ زندگی کا فلسفہ بن جاتا ہے۔
![]()

