Daily Roshni News

۔ سلسلہ عظیمیہ  کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کے ارشادات کی روشنی میں ایک رہنما تحریر۔۔۔ با ادب با نصیب ۔۔۔ تحریر۔۔۔محمد مرسلی۔۔۔قسط نمبر2

 

سلسلہ عظیمیہ  کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کے ارشادات کی روشنی میں ایک رہنما تحریر۔۔۔ با ادب با نصیب

تحریر۔۔۔محمد مرسلین

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ سلسلہ عظیمیہ  کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کے ارشادات کی روشنی میں ایک رہنما تحریر۔۔۔ با ادب با نصیب ۔۔۔ تحریر۔۔۔محمد مرسلین) حقوق کا احترام کرنا ہے ، حدود کا خیال رکھنا ہے، اور عدل اختیار کرنا ہے۔ اسی تعلیم نے انسان کو حیوانات سے الگ مقام دیا۔

خالق کائنات اللہ فطرت کے سب قوانین کا خالق ہے تو علم کا ہر شعبہ اس کی عطا ہے۔ وہ خالق بھی ہے، مالک بھی، معلم بھی۔ تمام علوم کی بنیاد اسی کی طرف لوٹتی ہے۔ انبیاء علیہم الصلواۃ والسلام نے انہی تعلیمات کو انسان تک پہنچایا۔

تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، انسانی ترقی کے علوم کی بنیاد کسی پیغمبر کی تعلیم میں ملتی ہے۔ اس اعتبار سے تمام انبیاء انسانیت کے معلم ہیں۔

جنہوں نے انبیاء کی بات نہیں مانی، ان کے حکم کی تعمیل نہ کی، وہ ہدایت سے محروم رہے۔ تعمیل ہی نسبت کو مضبوط کرتی ہے۔

حضور قلندر بابا اولیا نے ایک مثال سنائی۔ ایک پیر صاحب کے دو مرید تھے۔ ایک شکوہ کرنے والا اور دوسرا خاموش مزاج۔ پیر صاحب نے ایک کو کہا کہ کسی ایسی جگہ جانور ذبح کرو جہاں کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ وہ شخص کسی گوشے میں جاکر سمجھا کہ کوئی انسان موجود نہیں، اور کام کر آیا۔ دوسرے مرید کو بھی یہی ہدایت دی گئی۔ وہ ساری رات تلاش کرتارہا اور واپس آیا تو جانور سلامت تھا۔ اس نے عرض کیا: حضور ! جہاں بھی گیا، مجھے یہی احساس رہا کہ اللہ دیکھ رہا ہے، اس لیے میں ایسی جگہ نہ پاسکا جہاں کوئی نہ دیکھتا ہو۔ پیر صاحب نے بتایا کہ اصل تعمیل یہی ہے کہ آدمی حکم کی روح کو سمجھے۔

اسی طرح ایک اور مرید کو ایک بند ڈبہ امانت کے طور پر دے کر کہا گیا کہ اسے کھولنا نہیں۔ راستے میں تجسس غالب آیا، ڈھکن اٹھایا تو اندر کی چیز نکل گئی۔

جب وہ منزل پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ امانت محفوظ نہ رہی۔ اسے سمجھایا گیا کہ جو شخص معمولی امانت کی حفاظت نہ کر سکے وہ بڑے اسرار کا اہل کیسے بنے گا؟ روحانیت میں تعمیل، امانت داری اور راز داری بنیادی اصول ہیں۔ جو انہیں نبھالے ، وہی آگے بڑھتا ہے۔ حضرت خواجہ شمس الدین بھی بتاتے ہیں کہ مجھ سے ایک مرتبہ حضور قلندر بابا اولیاء نے فرمایا کہ فقیر قبرستان کی مانند ہوتا ہے۔ قبر میں جو بھی آتا ہے، اچھایا برا، صحت مند یا بیمار، وہ سب پر دے میں چلا جاتا ہے۔ قبر یہ ظاہر نہیں کرتی کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ اسی طرح صاحب دل انسان لوگوں کی کمزوریاں اپنے سینے میں محفوظ رکھتا ہے اور انہیں ظاہر نہیں کرتا۔ یہ بھی ادب کا حصہ ہے۔

انسان کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ بات کو اپنے ر محفوظ نہیں رکھ پاتا۔ حالانکہ ادب میں صرف احترام اور تعمیل ہی نہیں، صبر ، برداشت اور رازداری انور بھی شامل ہیں۔

ادب منافقت نہیں سکھاتا۔ منافق شخص بالدب نہیں ہو سکتا۔ ادب انسان کے اندر عاجزی اور انکسار پیدا کرتا ہے اور اس کی روحانی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ جتنا ادب ہوگا، اتنا ہی صبر اور وقار بڑھے گا۔ دل میں آنے والا علم بھی حکمت کے ساتھ استعمال ہونا چاہیے۔

علم کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو عام شہر کے مطابق ہو اور ایک وہ جو بلند سطح کا ہو ۔ اگر آپ کسی سادہ مزاج شخص کے سامنے پیچیدہ سائنسی فارمولے بیان کریں گے تو وہ نہ سمجھے گا اور نہ قدر کرے گا۔ اگر آپ اس کی ضرورت کے مطابق بات کریں تو وہ فائدہ اٹھائے گا۔ یہ بھی ادب ہے۔ مخاطب کی استعداد سے بڑھ کر بات کرنا علم کا اسراف ہے۔ حت خواجت الدین میں یہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ خواب کی تعبیر کے ضمن میں لکھا گیا کہ فلاں شخص اخلاق کی فضول خرچی کرتا ہے۔

ابتدا میں ہی بات عجیب لگی، کیونکہ ہمیں تو اخلاق اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ بعد میں سمجھ آیا کہ اخلاق بھی حکمت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اگر کسی ایسے شخص کے ساتھ نرمی کی جائے جو اخلاق کی قدر ہی نہ جانتا ہو تو وہ اسے کم زوری سمجھتا ہے۔ پہلے اسے اخلاق کا مفہوم سمجھانا ضروری ہے۔

مثلا اگر کوئی شخص بار بار غلط راستہ اختیار کرے اور ہر مرتبہ اس کی غیر مشروط مدد کی جائے تو یہ نہ اس کے لیے فائدہ مند ہے اور نہ معاشرے کے لیے۔ اس سے وہ اپنی غلطی پر قائم رہتا ہے اور اصل ضرورت مند محروم ہو جاتا ہے۔ یہ اخلاق کا بے محل خرچی ہے۔ اللہ نے اس کائنات کو توازن کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ ہر چیز ایک مقرر وانداز اور معین مقدار میں ہے۔ انسان ہو یا دیگر مخلوقات، پیدائش کا نظام ایک ہی اصول کے تحت چلتا ہے، مگر ہر نوع کی اپنی حدود اور مقداریں ہیں۔ انسان سے انسان پیدا ہوتا ہے، دوسرے جانداروں سے انہی کی جنس۔ یہ سارا نظام تقدیر اور توازن پر قائم ہے۔ اگر انسان ان مقررہ حدود میں بے جا مداخلت کرے تو یہ نہ صرف اخلاقی بے اعتدالی ہے بلکہ تخلیقی نظام کے ادب کے بھی خلاف ہے۔ اللہ تعالی نے ایک ترتیب قائم کی ہے؛ انسان کا کام اس نظام کو سمجھنا اور اس کے مطابق چلنا ہے ، نہ کہ اس میں غرور کے ساتھ دخل اندازی کرنا۔ ادب کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنی حد پہچانے اور اخلاق کے دائرے میں رہے۔

ادب در اصل اخلاق ہی کا دوسرا نام ہے۔ مرشد کا ادب بھی یہی ہے کہ اس کی ہدایت کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ اگر مرشد کسی عمل، مثلاً مراقبہ کی پابندی بتائے اور مرید اسے مسلسل ترک کرے تو یہ ادب نہیں بلکہ غفلت ہے۔ جیسے شاگرد ہوم ورک نہ کرے تو اگلی جماعت میں ترقی نہیں پاتا، ویسے ہی روحانی طالب بھی تعمیل کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

آداب مرشد کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ماورائی تصور سے خوف کھایا جائے۔ مرشد کوئی غیر مرئی

مخلوق نہیں۔

اگرانسان میں اللہ کے احکامات کی تعمیل اور ادب نہ ہو تو محض ظاہری عبادت اسے منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔ برسوں عبادت کے باوجود آدمی کے دل میں اگر یقین پیدا نہ ہو تو مسئلہ عبادت میں نہیں بلکہ آدمی کے شعور میں ہے۔

جب انسان کہتا ہے اللہ مجھے دیکھ رہا ہے تو اس کی عملی زندگی میں بھی اس قول کا یقین نظر آنا چاہیے۔

جو آدمی اس یقین کو نہیں پاتا وہ اپنی کہی گئی بات کی محمود نفی کر رہا ہوتا ہے۔

مرشد کی تعلیم کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ طالب علم کے دل میں یقین پیدا ہو اور یہ یقین اس کی عملی زندگی کے معاملات میں نظر آئے۔ شاگرد میں جب تعمیل کا جذبہ اور ادب کا احساس

قوی ہو جائے تو وہ اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں اسے واقعی یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ یہی شعور تعلیمات تصوف کا حاصل ہے۔

Loading