سورۃ الفرقان، آیت 25۔وہ دن جب آسمان پھٹ جائے گا
وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا
ترجمہ:”اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتے لگا تار اتارے جائیں گے۔”
—
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جس آسمان کو دیکھ کر ہم اپنی دنیا کو محفوظ سمجھتے ہیں، ایک دن وہی آسمان پھٹ جائے گا؟
آپ صبح اٹھتے ہیں، آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ کبھی نیلا آسمان، کبھی بادل، کبھی سورج، کبھی چاند اور کبھی ستارے۔ صدیوں سے انسان اسی آسمان کو دیکھتا آیا ہے۔ نسلیں آئیں اور چلی گئیں، شہر آباد ہوئے اور اجڑ گئے، بادشاہ تختوں پر بیٹھے اور مٹی میں اتر گئے، مگر آسمان اپنی جگہ قائم رہا۔
اسی لیے شاید ہمارے دل نے اس کے قائم رہنے کو ہمیشہ کی حقیقت سمجھ لیا ہے۔
لیکن قرآن اچانک ہمیں ایک ایسے دن کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے جہاں یہ مانوس منظر باقی نہیں رہے گا۔
آسمان پھٹ جائے گا۔
بادلوں کے ساتھ ایک عظیم تبدیلی رونما ہوگی۔ فرشتے اتارے جائیں گے۔ وہ دن ہوگا جب دنیا کا پردہ اٹھ جائے گا اور انسان اس حقیقت کے سامنے کھڑا ہوگا جسے وہ دنیا میں بار بار سن کر بھی نظر انداز کرتا رہا۔
یہ صرف قیامت کا ایک منظر نہیں۔
یہ انسان کی غفلت کو توڑنے والا منظر ہے۔
یہ آیت آپ سے پوچھتی ہے:
اگر یہ دنیا واقعی ہمیشہ رہنے والی نہیں، تو آپ اپنی زندگی کو کس چیز کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟
—
سورۃ الفرقان کا تعارف: حق اور باطل کے درمیان فیصلہ
سورۃ الفرقان مکی سورت ہے۔ مکہ کے ماحول میں نبی کریم ﷺ لوگوں کو توحید، آخرت اور جواب دہی کی دعوت دے رہے تھے، جبکہ مشرکین اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے مختلف اعتراضات اٹھاتے تھے۔
“فرقان” کا مطلب ہے حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز۔
اس سورت میں قرآن انسان کو بار بار ایک بنیادی حقیقت کی طرف واپس لاتا ہے:
تمہاری اصل کامیابی دنیا کے معیار سے نہیں، اللہ کے سامنے تمہاری حالت سے طے ہوگی۔
مکہ کے لوگ بھی دنیا دیکھ رہے تھے، تجارت کر رہے تھے، دولت جمع کر رہے تھے، طاقت رکھتے تھے، خاندانوں پر فخر کرتے تھے۔ آج انسان بھی تقریباً یہی کچھ کر رہا ہے۔
فرق صرف زمانے کا ہے۔
تب بتوں پر بھروسہ تھا، آج انسان اپنی دولت، عہدے، تعلقات، شہرت، فالوورز اور اپنی قابلیت پر بھروسہ کرتا ہے۔
تب آخرت کا انکار کیا جاتا تھا، آج بھی بہت سے لوگ آخرت کو جانتے تو ہیں، مگر اپنی زندگی اس طرح گزارتے ہیں جیسے انہیں کبھی حساب دینا ہی نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہ آیت آج بھی ہمارے لیے اتنی ہی زندہ ہے۔
—
آیت کا پہلا حصہ: “اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا”
وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ
سادہ مفہوم:
“اور اس دن جب آسمان پھٹ جائے گا۔”
یہ چند الفاظ ہمارے تصورِ زندگی کو ہلا دیتے ہیں۔
ہم جس آسمان کو مضبوط سمجھتے ہیں، قرآن بتاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ جو چیز ہمیں ناقابلِ تغیر دکھائی دیتی ہے، وہ بھی اللہ کی قدرت کے سامنے مستقل نہیں۔
ہماری سب سے بڑی نفسیاتی غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم عارضی چیزوں کو مستقل سمجھ لیتے ہیں۔
آپ اپنی ملازمت کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی زندگی کا مرکز ہے۔
آپ اپنے گھر کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی ہمیشہ رہے گا۔
آپ اپنے جسم کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جوانی ہمیشہ قائم رہے گی۔
آپ اپنی شہرت دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ آپ کو یاد رکھیں گے۔
پھر قرآن کہتا ہے:
آسمان بھی پھٹ جائے گا۔
تو پھر انسان کس چیز پر ہمیشہ کا بھروسہ کر سکتا ہے؟
—
جو چیز قائم دکھائی دیتی ہے، وہ بھی ختم ہونے والی ہے
آپ نے کبھی کسی پرانی عمارت کو دیکھا ہے؟
کبھی وہ عمارت نئی رہی ہوگی۔ لوگ اس کے بننے پر خوش ہوئے ہوں گے۔ شاید اس کے مالک نے سوچا ہوگا کہ یہ نسلوں تک قائم رہے گی۔
پھر وقت گزرا۔
دیواروں میں دراڑیں پڑیں، رنگ اتر گیا، چھت کمزور ہوگئی اور ایک دن وہ عمارت ماضی بن گئی۔
دنیا بھی ایسی ہی ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ دنیا کی عمارت اتنی بڑی ہے کہ ہمیں اس کا زوال نظر نہیں آتا۔
ہم ہر روز سورج طلوع ہوتے دیکھتے ہیں، اس لیے ہمیں لگتا ہے کہ کل بھی سورج طلوع ہوگا۔
لیکن قیامت ہمیں بتائے گی کہ اللہ کے سوا کسی چیز کو دوام حاصل نہیں۔
یہ احساس مایوسی کے لیے نہیں، بیداری کے لیے ہے۔
جب آپ جان لیں کہ دنیا عارضی ہے تو آپ دنیا چھوڑتے نہیں، بلکہ دنیا کو صحیح جگہ رکھتے ہیں۔
آپ کام کریں گے، مگر کام کو خدا نہیں بنائیں گے۔
آپ مال کمائیں گے، مگر مال کو زندگی کا مقصد نہیں بنائیں گے۔
آپ لوگوں سے محبت کریں گے، مگر اللہ کو بھول کر نہیں۔
آپ کامیابی چاہیں گے، مگر آخرت کی قیمت پر نہیں۔
—
آسمان کا پھٹنا: انسان کے لیے ایک نفسیاتی آئینہ
یہ آیت صرف مستقبل کا واقعہ نہیں بتا رہی، بلکہ آج آپ کے اندر ایک سوال پیدا کر رہی ہے:
آپ کے اندر کون سا “آسمان” پھٹنے کی ضرورت ہے؟
ہوسکتا ہے آپ نے اپنے ذہن میں کچھ غلط تصورات بنا رکھے ہوں۔
مثلاً:
“میرے بغیر یہ گھر نہیں چل سکتا۔”
“میری دولت ہی میری عزت ہے۔”
“اگر لوگ مجھے پسند نہ کریں تو میں کچھ نہیں۔”
“مجھے ہر حال میں دوسروں سے آگے نکلنا ہے۔”
“میری خواہش پوری نہ ہوئی تو میں ناکام ہوں۔”
یہ سب انسان کے اندر بنے ہوئے مصنوعی آسمان ہیں۔
قرآن کی آخرت کی یاد ان مصنوعی چھتوں کو توڑتی ہے۔
وہ کہتی ہے:
آپ کی اصل شناخت اللہ کے بندے ہونے میں ہے۔
نہ دولت آپ کی اصل قیمت ہے، نہ شہرت، نہ عہدہ، نہ لوگوں کی تعریف۔
—
دوسرا حصہ: “بادل سمیت”
بِالْغَمَامِ
سادہ مفہوم:
“بادلوں کے ساتھ۔”
قرآن قیامت کے منظر کو محض ایک لفظ میں ختم نہیں کرتا۔ وہ منظر کو ہمارے سامنے کھولتا ہے۔
آسمان پھٹنے کا منظر، بادلوں کا ذکر، اور پھر فرشتوں کا اترنا۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں ہماری موجودہ دنیا کی ترتیب بدل رہی ہوگی۔
آج بادل ہمیں بارش کی امید دیتے ہیں۔
ہم بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ شاید فصلوں کے لیے پانی آئے گا، گرمی کم ہوگی، موسم بدل جائے گا۔
لیکن قیامت کے دن یہی آسمانی منظر ایک مختلف حقیقت کی علامت ہوگا۔
یہاں ایک گہرا سبق ہے:
ایک ہی چیز کا معنی حالات بدلنے سے بدل سکتا ہے۔
دنیا میں موت ایک خوفناک حقیقت لگتی ہے۔
لیکن مومن کے لیے موت آخرت کی طرف منتقلی ہے۔
دنیا میں مال امتحان ہے۔
اگر صحیح استعمال ہو تو یہی مال آخرت کا سرمایہ بن سکتا ہے۔
دنیا میں طاقت فتنہ بن سکتی ہے۔
لیکن عدل کے لیے استعمال ہو تو یہی طاقت عبادت بن سکتی ہے۔
اصل مسئلہ چیز نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
—
تیسرا حصہ: “اور فرشتے اتارے جائیں گے”
وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا
سادہ مفہوم:
“اور فرشتے پے در پے اتارے جائیں گے۔”
یہاں قرآن قیامت کے منظر میں ایک اور عظیم حقیقت سامنے لاتا ہے۔
فرشتے۔
وہ مخلوق جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتی، جو اللہ کے احکامات بجا لاتی ہے، جو ہماری دنیا سے اوپر ایک ایسی حقیقت سے تعلق رکھتی ہے جسے ہماری آنکھیں عام حالات میں نہیں دیکھ سکتیں۔
قیامت کے دن وہ حقیقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوگی۔
دنیا میں ایمان کا مطلب یہ ہے کہ آپ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔
آپ فرشتوں کو نہیں دیکھتے، مگر مانتے ہیں۔
آپ آخرت کو ابھی آنکھوں سے نہیں دیکھتے، مگر یقین رکھتے ہیں۔
آپ جنت اور جہنم کو ابھی نہیں دیکھتے، مگر قرآن کی خبر پر یقین کرتے ہیں۔
یہی ایمان کی اصل آزمائش ہے۔
—
آج آپ کس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں؟
ذرا اپنے دل سے پوچھیں:
آپ کو معلوم ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے، پھر بھی آپ کبھی گناہ کیوں کرتے ہیں؟
آپ جانتے ہیں کہ موت یقینی ہے، پھر بھی توبہ کو مؤخر کیوں کرتے ہیں؟
آپ جانتے ہیں کہ نماز فرض ہے، پھر بھی دنیا کے کاموں کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟
آپ جانتے ہیں کہ غیبت نقصان دہ ہے، پھر بھی محفل میں کسی کی عزت کیوں اچھالتے ہیں؟
آپ جانتے ہیں کہ قیامت آئے گی، پھر بھی دنیا کی خواہشات کو آخرت پر کیوں ترجیح دیتے ہیں؟
مسئلہ صرف جاننے کا نہیں۔
اصل مسئلہ پہچاننے کا ہے۔
آپ قیامت کو جانتے ہیں، لیکن کیا آپ نے اسے اپنی زندگی کی حقیقت کے طور پر پہچانا ہے؟
آپ موت کو جانتے ہیں، لیکن کیا آپ نے اسے اپنے قریب سمجھا ہے؟
آپ اللہ کو جانتے ہیں، لیکن کیا آپ نے اسے اپنی زندگی کا مرکز بنایا ہے؟
—
علم اور یقین میں فرق
ایک شخص کو معلوم ہے کہ شہد میٹھا ہوتا ہے۔
دوسرے شخص نے شہد چکھا ہے۔
دونوں کے پاس علم ہے، مگر دوسرے کے پاس تجربے سے پیدا ہونے والی کیفیت بھی ہے۔
اسی طرح ہمیں معلوم ہوسکتا ہے کہ قیامت آئے گی۔
لیکن جب یہ حقیقت دل میں اتر جائے تو انسان کی ترجیحات بدلنے لگتی ہیں۔
وہ نماز کو بوجھ نہیں سمجھتا۔
وہ حرام کمائی سے ڈرتا ہے۔
وہ کسی کا حق مارنے سے پہلے رک جاتا ہے۔
وہ ظلم کرنے سے پہلے سوچتا ہے۔
وہ کسی کا دل توڑ کر رات کو سکون سے نہیں سوتا۔
کیوں؟
کیونکہ آخرت اس کے لیے صرف ایک عقیدہ نہیں رہتی۔
وہ ایک زندہ حقیقت بن جاتی ہے۔
—
دنیا کی نظر اور آخرت کی نظر
دنیا کی نظر کہتی ہے:
“کتنا کما لیا؟”
آخرت کی نظر پوچھتی ہے:
“کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟”
دنیا پوچھتی ہے:
“کتنے لوگ آپ کو جانتے ہیں؟”
آخرت پوچھے گی:
“اللہ آپ سے راضی تھا؟”
دنیا کہتی ہے:
“آپ کتنے طاقتور ہیں؟”
آخرت پوچھے گی:
“طاقت ملنے کے بعد آپ نے کمزوروں کے ساتھ کیا کیا؟”
دنیا کہتی ہے:
“آپ نے کتنی کامیابیاں حاصل کیں؟”
آخرت پوچھے گی:
“آپ نے اپنی زندگی کس مقصد میں لگا دی؟”
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنی کامیابی کی تعریف دوبارہ لکھنی پڑتی ہے۔
—
قیامت کی یاد انسان کو توڑتی نہیں، سنوارتی ہے
بعض لوگ آخرت کی بات سن کر خوف محسوس کرتے ہیں۔
خوف اپنی جگہ ضروری ہے، مگر قرآن کا مقصد صرف خوف پیدا کرنا نہیں۔
قرآن خوف کے ساتھ امید بھی دیتا ہے۔
قیامت کا یقین مومن کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں اگر کسی نے آپ کے ساتھ ناانصافی کی اور آپ انصاف نہ لے سکے تو معاملہ ختم نہیں ہوا۔
اگر آپ نے کسی کا حق ادا کیا اور اس نے آپ کی قدر نہیں کی تو آپ کا اجر ضائع نہیں ہوا۔
اگر آپ نے اللہ کے لیے کوئی قربانی دی اور دنیا نے اسے نہیں دیکھا تو اللہ نے اسے دیکھا ہے۔
اگر آپ نے خاموشی سے کسی کی مدد کی اور کسی کو معلوم نہ ہوا تو اللہ جانتا ہے۔
یہی آخرت کا سکون ہے۔
دنیا میں ہر عمل کا نتیجہ فوراً نظر نہیں آتا، مگر اللہ کے ہاں کوئی عمل گم نہیں ہوتا۔
—
ایک اہم تدبری نکتہ: پردہ اٹھنے والا ہے
دنیا میں بہت سی چیزیں چھپی رہ سکتی ہیں۔
آپ کسی انسان کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔
اپنی نیت چھپا سکتے ہیں۔
اپنے کردار کا ایک مصنوعی چہرہ بنا سکتے ہیں۔
لوگوں کے سامنے نیک بن سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کا خوبصورت حصہ دکھا سکتے ہیں اور اندر کی حقیقت چھپا سکتے ہیں۔
لیکن قیامت کا دن وہ دن ہوگا جب ظاہر اور باطن کے درمیان پردہ نہیں رہے گا۔
یہ خیال انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔
میں جو نظر آتا ہوں، کیا حقیقت میں بھی وہی ہوں؟
میری زبان اور دل ایک ہیں؟
میری عبادت اور اخلاق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؟
میں لوگوں کے سامنے اللہ والا اور تنہائی میں خواہشات کا غلام تو نہیں؟
یہ سوالات تکلیف دیتے ہیں۔
لیکن بعض اوقات یہی تکلیف اصلاح کی ابتدا ہوتی ہے۔
—
قیامت اور ہماری ترجیحات
کبھی اپنی زندگی کی ترجیحات کی فہرست بنائیں۔
آپ کے دن کا سب سے زیادہ وقت کہاں جاتا ہے؟
موبائل؟
کاروبار؟
ملازمت؟
تفریح؟
لوگوں کی باتیں؟
سوشل میڈیا؟
اور اللہ کے ساتھ تعلق کے لیے کتنا وقت؟
یہ سوال کسی پر الزام لگانے کے لیے نہیں۔
یہ اپنے دل کا آئینہ دیکھنے کے لیے ہے۔
اگر آخرت واقعی یقینی ہے تو ہماری روزمرہ ترجیحات میں اس کا عکس بھی نظر آنا چاہیے۔
آخرت کا یقین صرف زبان پر نہیں، شیڈول میں بھی نظر آتا ہے۔
—
اس آیت سے نکلنے والے بنیادی اصول
1۔ دنیا مستقل نہیں
جو کچھ آپ کے پاس ہے، وہ عارضی ہے۔
اس لیے دنیا کو استعمال کریں، دنیا کو اپنا معبود نہ بنائیں۔
—
2۔ اللہ کی قدرت ہماری سوچ سے بڑی ہے
جو آسمان ہمیں ناقابلِ شکست دکھائی دیتا ہے، وہ بھی اللہ کے حکم کے سامنے بے اختیار ہے۔
اس لیے اپنے مسائل کو اللہ سے بڑا نہ سمجھیں۔
—
3۔ آخرت کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں
آخرت صرف جنازے یا مذہبی گفتگو کا موضوع نہیں۔
یہ آپ کی خریداری، کاروبار، رشتوں، گفتگو اور فیصلوں میں نظر آنی چاہیے۔
—
4۔ علم کو عمل میں بدلیں
قیامت کے بارے میں جاننا کافی نہیں۔
ایسا یقین پیدا کریں جو آپ کے فیصلوں کو بدل دے۔
—
5۔ ظاہر سے زیادہ باطن کی اصلاح کریں
لوگ آپ کی تصویر دیکھتے ہیں۔
اللہ آپ کا دل دیکھتا ہے۔
اس لیے اپنی اندرونی دنیا کو سنواریں۔
—
6۔ کسی نیکی کو معمولی نہ سمجھیں
ایک مسکراہٹ، ایک معافی، ایک صدقہ، ایک اچھا لفظ، ایک چھپی ہوئی نیکی—کچھ بھی اللہ کے ہاں معمولی نہیں۔
—
7۔ ظلم سے پہلے آخرت کو یاد کریں
کسی کا حق مارنے سے پہلے خود سے پوچھیں:
اگر آج میرا حساب ہو تو میں کیا جواب دوں گا؟
یہ سوال بہت سے ظلم روک سکتا ہے۔
—
8۔ مصیبت میں امید نہ چھوڑیں
دنیا میں انصاف مکمل نہیں۔
لیکن آخرت میں اللہ کا انصاف کامل ہے۔
اس لیے صبر کرنے والے کے لیے امید کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔
—
9۔ اپنی کامیابی کی تعریف بدلیں
زیادہ مال، زیادہ شہرت اور زیادہ اختیار کامیابی کی مکمل تعریف نہیں۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے سرخرو ہو۔
—
10۔ آج کو آخری موقع سمجھ کر بہتر بنائیں
یہ نہ کہیں:
“بعد میں توبہ کرلوں گا۔”
“بعد میں نماز کی پابندی کروں گا۔”
“بعد میں والدین کو وقت دوں گا۔”
“بعد میں معافی مانگ لوں گا۔”
آپ کو “بعد میں” کی ضمانت نہیں دی گئی۔
—
آج سے زندگی میں کیا بدلا جا سکتا ہے؟
1۔ روز پانچ منٹ آخرت پر غور کریں
خاموش بیٹھیں اور سوچیں کہ ایک دن مجھے اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔
2۔ ہر بڑے فیصلے سے پہلے ایک سوال کریں
“کیا یہ کام اللہ کو پسند ہوگا؟”
3۔ ایک چھپی ہوئی نیکی شروع کریں
ایسی نیکی جس کا علم صرف آپ اور اللہ کو ہو۔
4۔ کسی کا حق واپس کریں
اگر کسی کا مال، عزت یا حق آپ کے ذمہ ہے تو اسے ادا کرنے کی کوشش کریں۔
5۔ گناہ کے بعد فوراً توبہ کریں
گناہ کے بعد مایوس نہ ہوں؛ واپس پلٹیں۔
6۔ اپنے موبائل کے استعمال کا جائزہ لیں
جو چیز آپ کے آخرت کے وقت کو کھا رہی ہے، اس میں کمی کریں۔
7۔ نماز کو زندگی کا مرکز بنائیں
نماز کو فارغ وقت میں کرنے والا کام نہ سمجھیں؛ اپنے دن کو نماز کے گرد ترتیب دیں۔
8۔ زبان کی حفاظت کریں
غیبت، جھوٹ، طعنہ اور دل دکھانے والی باتوں سے بچنا آخرت کی تیاری ہے۔
9۔ والدین اور گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں
بعض اوقات آخرت کی سب سے بڑی تیاری ہمارے اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے۔
10۔ روزانہ اپنا محاسبہ کریں
سونے سے پہلے خود سے پوچھیں:
آج میں نے ایسا کیا کیا جو مجھے اللہ کے قریب لے گیا؟ اور ایسا کیا کیا جس سے مجھے توبہ کرنی چاہیے؟
—
ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے…
آپ ایک دن صبح اٹھتے ہیں۔
لیکن یہ عام صبح نہیں۔
دنیا کا نظام بدل چکا ہے۔
وہ آسمان جسے آپ نے ہزاروں مرتبہ دیکھا تھا، اپنی موجودہ حالت میں نہیں۔
بادلوں کے ساتھ ایک عظیم منظر ہے۔
فرشتے اتارے جا رہے ہیں۔
انسان حیران، پریشان اور بے بس ہے۔
جن چیزوں پر وہ فخر کرتا تھا، ان میں سے بہت سی چیزیں بے معنی ہوچکی ہیں۔
نہ بینک بیلنس ساتھ ہے۔
نہ عہدہ۔
نہ شہرت۔
نہ فالوورز۔
نہ لوگوں کی تعریف۔
صرف انسان اور اس کے اعمال۔
اور اس لمحے شاید انسان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہو:
کاش مجھے ایک بار واپس بھیج دیا جاتا۔
لیکن وہاں واپسی نہیں ہوگی۔
اس لیے قرآن ہمیں قیامت کے دن سے پہلے قیامت کی خبر دے رہا ہے۔
تاکہ ہم آج بدل جائیں۔
—
امید کا دروازہ ابھی کھلا ہے
اگر یہ مضمون پڑھتے ہوئے آپ کو اپنی غلطیاں یاد آگئی ہیں تو اسے اپنی ناکامی نہ سمجھیں۔
یہ اللہ کی طرف سے بیداری کی ایک علامت سمجھیں۔
آپ نے ماضی میں بہت سی غلطیاں کی ہوں گی۔
شاید نمازیں چھوڑی ہوں۔
شاید کسی کا حق مارا ہو۔
شاید کسی کا دل دکھایا ہو۔
شاید گناہوں میں وقت گزارا ہو۔
لیکن جب تک زندگی باقی ہے، واپسی کا راستہ باقی ہے۔
اللہ کی طرف ایک قدم بڑھائیں۔
توبہ کریں۔
حق ادا کریں۔
نماز سنبھالیں۔
دل صاف کریں۔
لوگوں کو معاف کریں۔
اور سب سے بڑھ کر اللہ سے تعلق مضبوط کریں۔
یاد رکھیے:
آخرت کی یاد انسان کو ماضی میں قید کرنے کے لیے نہیں، مستقبل کو سنوارنے کے لیے ہے۔
—
تدبر کا سوال
آج رات جب آپ تنہائی میں ہوں تو اپنے آپ سے صرف یہ سوال پوچھیں:
اگر مجھے یقین ہو کہ قیامت بہت قریب ہے، تو میری زندگی میں سب سے پہلے کیا بدل جائے گا؟
میرا موبائل؟
میری کمائی؟
میری نماز؟
میرے تعلقات؟
میری زبان؟
میرا غرور؟
میری ترجیحات؟
یا میری توبہ؟
اور پھر دوسرا سوال:
اگر میں جانتا ہوں کہ آسمان بھی ایک دن پھٹ جائے گا، تو میں اپنے دل کی اس دنیا کو کب تک قائم رکھوں گا جو مجھے اللہ سے دور کر رہی ہے؟
—
آخری بات
سورۃ الفرقان کی یہ آیت ہمیں صرف ایک خوفناک مستقبل کا منظر نہیں دکھاتی۔
یہ ہمیں آج کی زندگی کا آئینہ دکھاتی ہے۔
آسمان پھٹے گا۔
دنیا کا نظام بدلے گا۔
فرشتے اتریں گے۔
حساب ہوگا۔
لیکن اس سب سے پہلے ایک موقع ہمارے پاس موجود ہے۔
آج۔
آج آپ نماز کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔
آج آپ کسی کا حق ادا کر سکتے ہیں۔
آج آپ کسی کو معاف کر سکتے ہیں۔
آج آپ حرام چھوڑ سکتے ہیں۔
آج آپ توبہ کر سکتے ہیں۔
آج آپ اپنے دل کو اللہ کے لیے صاف کر سکتے ہیں۔
دنیا کا سب سے بڑا نقصان یہ نہیں کہ انسان کے پاس مال کم ہو۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کے پاس واپسی کا موقع ہو اور وہ واپس نہ آئے۔
اور دنیا کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ آپ کا نام جانیں۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ جب وہ دن آئے، جب آسمان پھٹ جائے، جب دنیا کے سارے سہارے ختم ہوجائیں، جب انسان اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو—
تو اللہ آپ سے راضی ہو۔
پس آج ہی اپنے دل سے دنیا کی وہ چھت ہٹا دیجیے جو آپ کو غفلت میں رکھتی ہے؛ کیونکہ ایک دن آسمان ضرور پھٹے گا، مگر اس سے پہلے اگر آپ کا دل اللہ کے سامنے جھک گیا، تو شاید یہی جھکنا آپ کی ہمیشہ کی سربلندی بن جائے
![]()

