تذکرہ حضور قلندر بابا اولیاء
از۔۔۔ خواجہ شمس الدین عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تذکرہ حضور قلندر بابا اولیاء۔۔۔۔ از ۔۔۔خواجہ شمس الدین عظیمی ) حالاتِ زندگی:قبل اس کے کہ ہم حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے حالات اور کشف و کرامات پیش کریں، مناسب ہے کہ لفظ “قلندر” کی وضاحت کر دی جائے تاکہ ان کے مقام کا اندازہ ہو جائے اور ان سے وقوع میں آنے والے واقعات سمجھ لینے اور ان پر یقین کر لینے میں ذہن و خیال، ارادے اور نیت کو یکسوئی حاصل ہو جائے۔
ایسا انسان جس کے دیدۂ اعتبار اور چشمِ حقیقت کے سامنے ہر شئے کی شیئیت اٹھ گئی ہو اور وہ مراتبِ وجود کو سمجھ کر ان میں عروج کرتا رہے—یہاں تک کہ عالمِ تکوین سے بالا قدم رکھے اور مقامِ وحدانیت کے مشاہدے میں غرق رہ کر احدیت کی تفصیل میں عینِ وحدت کا جمال مشاہدہ کرے، اور مقامِ وحدت کی مستی و بے کیفی میں گم رہتے ہوئے مرتبۂ احدیت پر واپس آ جائے؛ اس کے بعد اپنے مراتب سے جدا ہوئے بغیر احدیت کے مشاہدے میں محو رہے، پھر انسانی مرتبے پر پہنچ کر عبودیت کا مقام حاصل کرے، یہاں تک کہ اس کا عروج و نزول ایک ہو جائے، جزو میں کُل اور کُل میں جزو کو دیکھے، اور پھر ان تمام سے مستغنیٰ ہو کر حیرتِ محمودہ (یعنی سرور) میں رہے—تو اس کو “قلندر” کہتے ہیں۔
یہ قلندر کا مقام محبوبیت کے مقام سے بھی اعلیٰ ہے؛ کیونکہ محبوبیت کے مقام میں پھر بھی دوئی باقی رہتی ہے کہ ایک عاشق اور دوسرا معشوق ہوتا ہے، لیکن قلندری کا مقام یہ ہے کہ یہاں دوئی بالکل نہیں رہتی، اور:
“من تو شدم تو من شدی” ترجمہ: میں تو ہو گیا (گیا)، تو میں ہو گیا (گئی)۔
کا معاملہ بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کلامِ مجید فرقانِ حمید میں ہادیٔ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقام کی خبر دی ہے، چنانچہ ایک موقع پر ارشاد فرمایا ہے:
یدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ
“ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔” (الفتح: 10)
حالانکہ بیعت کے وقت صحابہ کرامؓ کے ہاتھ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھا۔ وحدت کے لحاظ سے (یعنی دوئی باقی نہ رہنے کے اعتبار سے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو ربِ ذوالجلال نے اپنا ہاتھ قرار دیا ہے۔ ایک اور جگہ حضرتِ حق جل جلالہ فرماتے ہیں:
“اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے جب خاک اٹھا کر پھینکی تو وہ آپ نے نہیں پھینکی تھی، بلکہ وہ اللہ نے پھینکی تھی۔” (الانفال: 17)
یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کو اپنا فعل قرار دیا ہے۔
قلندری سلسلہ
حضرت عبد العزیز مکی قلندرؓ سے قلندری سلسلہ جاری ہوا ہے¹۔ یہ بزرگ حضرت صالح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی خوش خبری ملی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی: “مجھے اتنی بڑی عمر عطا فرما کہ میں حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا سکوں۔” اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرما لی۔
آپؓ نے آقائے نامدار، سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دستِ حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو “قلندر” کے نام سے مشرف فرمایا۔ مناقبِ قلندریہ میں لکھا ہے کہ مسجدِ نبوی کے قریب “صفہ” ایک چبوترہ تھا، وہاں پر فقراء و مساکین صحابہ کرامؓ رہتے تھے جو “اصحابِ صفہ” کہلاتے تھے۔ حضرت عبد العزیز مکی قلندرؓ بھی ان میں سے ایک تھے۔ قاضی ابو نعیم نے اصحابِ صفہ کی تعداد سو سے زیادہ بتائی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے کو قلندری کا مقام عطا کرتا ہے، وہ زمان و مکان (Time & Space) کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے؛ سارے ذی حیات اس کے ماتحت کر دیے جاتے ہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے تابعِ فرمان ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے یہ نیک بندے غرض، ریا، طمع، حرص اور لالچ سے تو کب کے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے جب خدا کی مخلوق ان کی خدمت میں کوئی گزارش پیش کرتی ہے تو اس کو سنتے بھی ہیں اور اس کا تدارک بھی کرتے ہیں، کیونکہ انہیں قدرت نے اسی کام کے لیے مقرر کیا ہے۔ یہی وہ پاکیزہ اور قدسی نفس اللہ کے بندے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“میں اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہوں اور ان کے کان، آنکھ اور زبان بن جاتا ہوں۔ پھر وہ میرے ذریعے سنتے ہیں، میرے ذریعے بولتے ہیں اور میرے ذریعے چیزیں پکڑتے ہیں۔”
¹ بعض صوفیائے کرام کا خیال ہے کہ حضرت ذو النون مصریؒ سے قلندری سلسلہ جاری ہوا ہے۔
![]()

