سلسلۂ سلوک
قسط ہفتم: جسم، مزاج اور باطن
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل) اعتدال کا راز:مدینہ منورہ کی فضا نورِ رسالت سے منور تھی۔ ایک روز تین نفوسِ قدسیہ نبی کریم ﷺ کے درِ دولت پر حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کی عبادت و شب بیداری کے بارے میں دریافت کیا۔
جب انہیں بادی النظر میں آپ ﷺ کی ظاہری عبادت کے احوال بتائے گئے، تو انہوں نے اسے (اپنے زعم و شوقِ فراوان میں) کم جانا۔ وہ آپس میں کہنے لگے: “ہم کہاں اور رسولِ خدا ﷺ کا مقام کہاں؟ آپ ﷺ تو معصوم عن الخطأ ہیں اور آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو چکے ہیں”
اس پر ایک نے کہا: “میں تو ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا۔”
دوسرے نے کہا: “میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا۔”
تیسرے نے کہا: “میں عورتوں سے الگ رہوں گا، کبھی نکاح نہیں کروں گا۔”
جب نبی کریم ﷺ کو اس بات کی خبر ہوئی، تو آپ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: “کیا تم لوگوں نے یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو، اللہ کی قسم میں تم سب میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور سب سے زیادہ تقویٰ رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو میرے طریقے سے منہ موڑے، وہ مجھ سے نہیں۔”
یہ واقعہ اسلام کی روح کو ایک جملے میں سمو دیتا ہے۔ روحانیت کا مطلب جسم کو دبانا، اذیت دینا یا اس کی فطری ضروریات کو مکمل طور پر رد کرنا نہیں۔ روحانیت کا مطلب اعتدال ہے، جسم کا حق بھی ادا ہو، اور روح کی بلندی بھی حاصل ہو۔
یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان “جو میرے طریقے سے منہ موڑے، وہ مجھ سے نہیں” اس بات کی سب سے واضح دلیل ہے کہ افراط و تفریط، دونوں ہی سنت سے انحراف ہیں۔ جس طرح فسق و فجور میں پڑنا گمراہی ہے، اسی طرح جسم پر ضرورت سے زیادہ سختی کرنا بھی سنت کے خلاف ہے۔
کیا کبھی آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ “اصل روحانیت تو یہ ہے کہ میں دنیا کی ہر آسائش چھوڑ دوں، کم کھاؤں، کم سوؤں، ہر وقت عبادت میں گزار دوں”؟ اور پھر جب آپ نے ایسا کرنے کی کوشش کی، تو چند دنوں بعد جسم نے جواب دے دیا۔ تھکن، چڑچڑاپن، بیزاری، اور آخرکار وہی عبادت بھی متاثر ہو گئی جس کے لیے یہ سختی کی گئی تھی؟
یہ ایک عام تجربہ ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اکثر روحانیت کو جسم کے خلاف ایک جنگ سمجھ بیٹھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جسم روح کا دشمن نہیں، اس کی سواری ہے۔ اگر سواری کا خیال نہ رکھا جائے، تو وہ سفر کے بیچ میں ہی جواب دے دیتی ہے، اور مسافر منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔
قدیم مسلمان اطباء و حکماء، جن میں امام غزالیؒ بھی شامل ہیں، نے انسانی جسم کی صحت کو چار “اخلاط” کے توازن سے جوڑا۔
خون، بلغم، صفراء اور سوداء۔
یہ محض طبی تصور نہیں تھا بلکہ اسے روحانی تربیت سے بھی جوڑا گیا، کیونکہ جسمانی توازن کا اثر مزاج اور مزاج کا اثر عبادت کی کیفیت پر پڑتا ہے۔ جس شخص کا جسم بھوک، نیند کی کمی، یا بیماری سے کمزور ہو، اس کا دل بھی عبادت میں یکسوئی حاصل کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جسم کی دیکھ بھال کو دین کا حصہ قرار دیا، اس سے الگ کوئی چیز نہیں سمجھا۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی اس اعتدال کی سب سے بڑی مثال ہے۔ آپ ﷺ راتوں کو تہجد میں کھڑے ہوتے، مگر آرام بھی فرماتے۔ آپ ﷺ روزہ رکھتے، مگر افطار میں تاخیر نہ فرماتے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو یہ تعلیم دی کہ جسم کا بھی حق ہے، آنکھ کا بھی حق ہے، بیوی کا بھی حق ہے، اور اللہ کا بھی حق ہے، اور دین کا اصل حسن یہ ہے کہ ہر حق دار کو اس کا حق ادا کیا جائے۔
یہی وہ تعلیم ہے جو حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کو دی گئی جب انہوں نے مسلسل روزے اور قیام کی نذر مانی، اور نبی کریم ﷺ نے انہیں اعتدال کی طرف لوٹایا، یہاں تک کہ فرمایا: “تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔”
یہاں ایک اہم اصول سمجھنا ضروری ہے۔ اعتدال کمزوری یا سستی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک باریک میزان ہے جسے ہر انسان کو اپنی حیثیت کے مطابق خود طے کرنا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ زیادہ عبادت کی طاقت رکھتے ہیں، کچھ کم۔ اصل معیار یہ نہیں کہ کتنا کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ جو بھی کیا جائے، اس میں تسلسل اور خلوص ہو۔
نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اصول جسم اور روح کے درمیان توازن قائم کرنے کی کنجی ہے، تھوڑا مگر مستقل عمل، بہت زیادہ مگر وقتی جوش سے بہتر ہے۔
امام غزالیؒ نے اپنی کتاب “احیاء علوم الدین” میں اسی نکتے کو یوں بیان کیا ہے کہ جس طرح ایک سوار اپنی سواری کو نہ اتنا تھکاتا ہے کہ وہ راستے میں گر جائے، اور نہ اتنا آرام دیتا ہے کہ سفر ہی نہ ہو، اسی طرح دانا سالک اپنے جسم کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، نہ اسے بگاڑنے دیتا ہے، نہ اسے اتنی سختی دیتا ہے کہ وہ روح کے سفر میں رکاوٹ بن جائے۔
اعتدال کا یہ اصول زندگی کے تین بنیادی میدانوں میں خاص طور پر لاگو ہوتا ہے۔
کھانے میں نہ حرص کی حد تک زیادہ کھانا، نہ جسم کو کمزور کرنے کی حد تک کم کھانا۔
نیند میں نہ اتنی نیند کہ عبادت اور کام کے لیے وقت نہ بچے، نہ اتنی کمی کہ جسم بیمار پڑ جائے۔
عبادت میں نہ اتنا بوجھ اٹھانا کہ چند دن بعد ہی ہمت جواب دے دے، نہ اتنی سستی کہ کوئی روحانی ترقی ہی نہ ہو۔
یہی وہ تعلیم ہے جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی: “دین آسان ہے، اور جو شخص دین میں سختی کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا۔”
اس مضمون سے سالک ایک نہایت اہم اصول سیکھتا ہے، جسے میزانِ اعتدال کہا جا سکتا ہے۔ یہاں سالک سے مطلوب ہے کہ وہ اپنی روحانی مشقوں، اپنے کھانے پینے، اپنی نیند اور اپنی عبادت کے درمیان ایک ایسا توازن قائم کرے جسے وہ طویل عرصے تک نبھا سکے۔
اس منزل کی سب سے بڑی لغزش ابتدائی جوش میں بہت زیادہ سختی اختیار کر لینا ہے مثلاً ایک ہی ہفتے میں مکمل طرزِ زندگی بدل ڈالنا، جس کا نتیجہ چند دنوں بعد مکمل ترکِ عمل کی صورت میں نکلتا ہے۔ سلوک ایک میراتھن ہے، سو میٹر کی دوڑ نہیں۔
اے اللہ تو نے ہمیں اعتدال کا دین عطا فرمایا، اور تیرے نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ افراط و تفریط دونوں گمراہی ہیں۔ مجھے اپنے جسم اور اپنی روح کے درمیان توازن قائم کرنے کی توفیق عطا فرما۔ مجھے وہ عمل نصیب فرما جو تھوڑا ہو مگر مستقل ہو، اور مجھے سنتِ نبوی ﷺ سے منہ موڑنے والوں میں شامل نہ فرما۔
آمین یا رب العالمین
#Khaak_e_rawan
![]()

