Daily Roshni News

طالوت اور جالوت: جب ایک چھوٹے سے پتھر نے دیوہیکل غرور کا ماتھا پھاڑ دیا! – بلال شوکت آزاد

طالوت اور جالوت: جب ایک چھوٹے سے پتھر نے دیوہیکل غرور کا ماتھا پھاڑ دیا! – بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ تاریخ کا سب سے خوفناک اور ناقابلِ شکست جنگجو، جو سر سے پاؤں تک لوہے کی زرہ میں غرق ہو، ایک ایسے نہتے اور کم عمر چرواہے کے سامنے ڈھیر ہو جائے جس کے پاس نہ کوئی تلوار ہو، نہ شیلڈ، بلکہ صرف ایک چمڑے کی گوپھن اور ندی سے اٹھایا گیا ایک چھوٹا سا پتھر ہو؟

ذرا جنگی فزکس اور ملٹری اسٹریٹجی کے اس سب سے بڑے الٹ پھیر کو محسوس کریں!

بنی اسرائیل مسلسل شکستوں کے بعد اپنی زمینوں سے نکالے جا چکے تھے اور ان کا مقدس صندوق (تابوتِ سکینہ) بھی چھن چکا تھا۔

انہوں نے اپنے نبی (حضرت شموئیلؑ) سے ایک بادشاہ کا مطالبہ کیا تاکہ اس کی قیادت میں جہاد کر سکیں۔

اللہ نے “طالوت” (Saul) کو ان کا پہلا بادشاہ مقرر کیا۔

اشرافیہ اور سرمایہ داروں نے طعنہ دیا کہ یہ تو ایک غریب اور عام سا انسان ہے، اس کے پاس تو مال ہی نہیں!

مگر قرآنِ مجید سورت البقرہ (آیت 247) میں لیڈرشپ اور بادشاہت کا ابدی میرٹ یوں بیان کرتا ہے:

“إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ”

(بے شک اللہ نے اسے تم پر چن لیا ہے اور اسے علم اور جسمانی طاقت میں کشادگی عطا فرمائی ہے)۔

رب نے واضح کر دیا کہ حکمرانی کا تعلق خاندانی وراثت یا بینک بیلنس سے نہیں، بلکہ اہلیت، علم اور جسمانی فٹنس سے ہوتا ہے۔

طالوت کی فوج جب جالوت کے مقابلے کے لیے نکلی تو راستے میں ایک نہر پر ان کے ڈسپلن کا کڑا امتحان لیا گیا۔

حکم تھا کہ کوئی پانی نہیں پیے گا سوائے ایک چلو کے۔

اکثریت نے پانی پی کر ہمت ہار دی، اور روایات کے مطابق صرف 313 مجاہدین (جو بدر کے صحابہ کی تعداد کے برابر تھے) طالوت کے ساتھ میدان میں پہنچے۔

ان کے سامنے ‘جالوت’ (Goliath) کی فولادی اور دیوہیکل فوج کھڑی تھی۔

یہاں اسماء الرجال اور علمی نقد کی چھلنی سے ایک بہت بڑے افسانے کو رد کرنا ضروری ہے۔

قدیم تفاسیر اور تاریخی کتب میں یہ کہانیاں عام ہیں کہ جالوت کا قد سینکڑوں فٹ تھا، وہ قومِ عاد کا بچا ہوا آخری دیو تھا، یا حضرت داؤدؑ کے تھیلے میں موجود تین پتھر آپس میں باتیں کرتے تھے کہ “ہمیں اٹھاؤ ہم جالوت کو ماریں گے” اور پھر وہ اچھل کر خود ایک پتھر بن گئے، محققین اور محدثین (بشمول حافظ ابن کثیرؒ) کے مطابق یہ باتیں خالصتاً “اسرائیلیات” اور کعب الاحبار و وہب بن منبہ وغیرہ کی من گھڑت ڈرامائی داستانیں ہیں!

نصِ قرآن اور مستند احادیث میں پتھروں کے بولنے یا جالوت کے سینکڑوں فٹ قد کا کوئی ذکر نہیں؛ وہ محض ایک انتہائی قوی ہیکل، جنگجو اور خوفناک پہلوان تھا۔

جب جالوت نے میدان میں آ کر تکبر سے للکارا اور کسی نامور پہلوان کی ہمت نہ پڑی، تو طالوت کے لشکر سے ایک کم عمر، نڈر نوجوان نکلا، حضرت داؤد علیہ السلام۔

انہوں نے بھاری زرہ پہننے سے انکار کر دیا، اپنی چمڑے کی گوپھن (Slingshot) نکالی، ایک پتھر رکھا، اور پوری قوت سے گھما کر جالوت کے ماتھے کا نشانہ لیا۔

وہ پتھر کسی سنائپر کی گولی کی طرح جالوت کے ماتھے پر لگا اور اس کا لوہے کا ٹوپ توڑتے ہوئے دماغ میں گھس گیا۔

قرآنِ مجید (سورت البقرہ: 251) نے اس فتحِ مبین کو چند جامع الفاظ میں سمیٹ دیا:

“فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ”

(پس انہوں نے اللہ کے حکم سے انہیں شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا)۔

داؤدؑ کی وہ گوپھن اور ایک چھوٹا سا پتھر آج کی جدید دنیا کے لیے ایک عظیم ترین اسٹریٹجک سبق ہے۔

جب انسان کا یقین (ایمان) چٹان کی طرح مضبوط ہو، تو اسے جنگ جیتنے کے لیے دشمن جیسی ٹیکنالوجی، زرہ اور وسائل کی محتاجی نہیں رہتی۔

تکبر کا ماتھا چاہے کتنا ہی فولادی کیوں نہ ہو، اسے توڑنے کے لیے رب کے نام پر پوری قوت اور حکمت سے پھینکا گیا ایک چھوٹا سا پتھر ہی کافی ہوتا ہے۔

جالوت کا غرور اس کے کام نہ آیا اور داؤدؑ کی اس ضرب نے بنی اسرائیل کی تاریخ میں اس عظیم الشان سلطنت کی بنیاد رکھ دی جسے ہم ‘سلطنتِ داؤدی’ کے نام سے جانتے ہیں۔

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

Loading