Daily Roshni News

مکمل اور طویل ترین حیرت انگیز داستان رولوکا۔۔۔ تحریر: اے وحید

مکمل اور طویل ترین حیرت انگیز داستان

رولوکا

تحریر: اے وحید

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔ مکمل اور طویل ترین حیرت انگیز داستان رولوکا۔۔۔ تحریر: اے وحید )ہندوستان کا ایک علاقہ ایسا ہے جس کو ڈاکوؤں کی جنت کہا جاتا ہے۔ یہاں پر ہر دور میں ڈاکو پیدا ہوتے رہے ہیں اور کسی بھی علاقے کے ڈاکو کو یہاں پناہ مل جاتی ہے۔ ہر دور کی سرکار جانتی ہے مگر پھر بھی یہ لوگ یہیں پر رہتے ہیں اور پولیس ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔۔۔۔ لن کے علاقے پر انگریزوں نے بمباری بھی کر دی تھی، مگر پھر بھی یہی جگہ ان کا ٹھکانہ بنی ہوئی ہے۔ بہت مشہور ڈاکو یہاں گزرے ہیں۔ کہتے ہیں یہ لوگ غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔

اور غریب ان کو پناہ دیا کرتے تھے۔ بہ یہ بیچ ہو۔ یہ علاقہ چمبل وادی کا علاقہ ہے۔ یہاں پر ایک دریا بھی ہے اس کا نام بھی دریائے چمبل ہے۔ آبادی دور دور ہے اور ریت کے ٹیلوں سے ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ پہاڑ بھی بہت ہیں اور ان پہاڑوں میں ہزاروں غار پانی نے بنا دیے ہیں۔ دریائے چمبل جب چڑھتا ہے تو پہاڑوں تک آ جاتا ہے اور ان غاروں کے راستے پانی کہیں دور ہی طرف نکل جاتا ہے۔ پہاڑوں کے اندر اتنی کشادہ جگہیں موجود ہیں کہ ہزاروں لوگ رہ سکتے ہیں۔ پہاڑ کے چاروں طرف پانی نظر آتا ہے مگر ڈاکو جانتے ہیں کہ ان کا ٹھکانا کہاں ہے اور وہ گھوڑے سمیت اپنی جگہ چلا جاتا ہے۔ تلاش کرنے والا سوچ بھی نہیں سکتا کہ پانی کے اندر بھی راستے ہیں۔ اندر والا باہر والے کو بڑی آسانی سے نشانہ بنا لیتا ہے۔

ہمارا یہ سفر ایک بلاوے پر تھا اور یہ پہلی دفعہ تھا کہ ہم کسی کے بلانے پر گئے تھے۔ ہوا یہ تھا کہ ایک لڑکی دلی سے بیاہ کر چمبل کے ایک گاؤں اناؤ میں گئی تھی۔ لڑکی بہت حسین تھی۔ دولہا اس کو وداع کرا کے اپنے گاؤں جا رہا تھا کہ مہرن گاؤں کے قریب ڈاکوؤں نے ان پر حملہ کر دیا۔ کئی آدمی جو بارات کے ساتھ تھے مارے گئے۔ دولہا بھی سخت زخمی ہو ڈاکر سب جہیز اور لہن لے کر چمبل گھاٹی میں روپوش ہو گئے۔ پولیس کو رپورٹ ہوئی ضرور مگر پولیس نہ سامان بر آمد کر سکی اور نہ ہی دلہن کو واپس لاسکی دلی میں اس حادثے کی اطلاع جب پہنچی تو لڑکی کے ماں باپ سخت پریشان ہوئے باپ کو تو اتنا صدمہ ہوا کہ اس پر دل کا دورہ پڑ گیا۔ اس لو میرے پاس لایا گیا تو مجھے سب ماجرا پتہ چلا میں نے رونوکا سے، اس کا ذکر کیا۔ اس نے ان کی مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی اور اس طرح ہم دلہن کے باپ کے ساتھ چمبل کو روانہ ہو گئے۔

اناؤ زیادہ بڑا گاؤں نہیں تھا۔ ساری آبادی کسانوں پر مشتمل تھی۔ دلہن کے باپ کا نام خیراتی تھا۔ وہ ہم کو لے کر سیدھا اپنے سمدھیانے پہنچا۔ میں نے اندازہ لگا لیا وہ لوگ زیادہ خوش حال نہیں تھے۔ دولہا کا نام بشیرہ تھا اور دلہن سندو یعنی شاہدہ تھی۔ ہمارے لئے ان لوگوں نے کچہر مل میں چار پائیاں ڈال دیں اور ان پر صاف بستر بھی بچھا دیے۔ اس گاؤں سے چار پانچ کوس پر چمبل گھاٹی کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ علاقہ اتنا خطرناک ہے کہ لوگ سوائے اپنے کام کے ٹھکانے کے کہیں اور نہیں جاتے۔ ایک تو ڈاکوؤں کا ڈراور دوسرا ڈر پولیس کا رہتا ہے۔ وہ ڈاکوؤں کا ساتھی سمجھ کر پکڑ لیتی ہے اور غریب لوگوں کو بلاوجہ پریشان بھی کرتی ہے۔

⭐ 3 ⭐

دوسرے روز رولوکا نے مجھے اشارہ کیا اور چلا گیا۔ وہ گھر سے نکلا یہ سب نے دیکھا مگر دروازے کے باہر کوئی نہ دیکھ سکا۔ میں نے خیراتی کو بتا دیا کہ کام شروع ہو گیا ہے۔ میرا دوست گیا ہے کچھ خیر خبر لے کر آئے گا۔

خیراتی یہ سن کر حیرت سے بولا ۔”ارے بھیا خالی ہاتھ ڈاکوؤں کی کچھار میں کیا چلے گی ۔”

“تم اس کی فکر نہ کرو۔۔۔۔ اس کے پاس بہت ہتھیار ہیں۔” میں نے کہا۔ خیراتی نے گردن ہلائی اور خاموش ہو گیا۔

❄️…….❄️…….❄️

“یہ علاقہ اتنا ڈراؤنا اور خوف میں ڈوبا ہوا تھا کہ گاؤں والوں کو ہر اجنبی آدمی ڈاکو نظر آتا تھا۔ آبادی بھی دور دور تھی اور کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا تھا کیونکہ ڈاکو پھر اس کے دشمن ہو جاتے تھے۔ میں آگے بڑھتا گیا اور دریا کے کنارے پہنچ گیا۔ دریا کے دوسری طرف پہاڑی سلسلہ تھا اور دریا چڑھا ہوا تھا پہاڑی سلسلے کو نگر میں مار رہا تھا۔ دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ پانی کی وجہ سے کوئی غار یا راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ میں ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور دریا پر نظریں رکھیں۔ کچھ ہی دیر بعد میں نے دیکھا کہ ایک گھوڑا سوار پہاڑی سے نکلا اور دریا پار کرنے لگا۔ وہ مجھے چونکہ نہیں دیکھ سکا تھا اس لئے میں اطمینان سے بیٹھا رہا۔ وہ میری طرف ہی آرہا تھا۔ وہ بڑی مہارت سے گھوڑے کو کنٹرول کر رہا تھا اور گھوڑا بھی اس کا عادی لگتا تھا۔ وہ بڑے اطمینان سے دریا کے باہر آ گیا اس کے باہر آتے ہی اس کا گھوڑا اس کے قابو سے باہر ہو گیا۔ کیونکہ اب وہ میرے کنٹرول میں تھا۔ اس نے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر اس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی مگر گھوڑے نے اس کو زمین پر گرا دیا۔ وہ پھر اٹھا اور سوار ہونے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ سوار اتنا غصے میں آ گیا کہ پیٹی سے پستول نکال کر فائر کرنا چاہتا تھا کہ گھوڑے نے دونوں اگلی ٹانگیں اس کے سینے پر اتنی زور سے ماریں کہ وہ الٹ کر زمین پر اتنی زور سے گرا کہ چند منٹ تو پتہ لگا کہ شاید مر ہی گیا ہو۔ مگر وہ بڑا ڈھیٹ تھا مرا نہیں تھا چوٹ تو اس کو کراری آئی تھی۔ کچھ دیر وہ پڑا گہری گہری سانسیں لیتا رہا۔ گھوڑا چوکیدار کی طرح اس کے قریب ہی کھڑا رہا وہ بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔

وہ جہاں جا رہا تھا اب وہاں جانے کے قابل نہیں تھا۔ اس کی بندوق زمین میں لٹک رہی تھی اور گھوڑا دور تھا اور پستول گھوڑے کی لات نے پانی میں گم کر دیا تھا۔ وہ بڑی مشکلوں کے بعد کھڑا ہوا اور گھوڑے کی لگام پکڑلی گھوڑا خاموش کھڑا رہا پھر وہ اس پر سوار بھی ہو گیا اور گھوڑا پھر پانی میں اتر گیا۔ یہ سب گھوڑے نے میری ہدایت پر کیا گھوڑا تیرتا ہوا پہاڑوں کی طرف چلا میں ان کے ساتھ تھا۔ عین پہاڑی کی جڑ پر پہنچ کر وہ پانی کے اندر اترا اور پھر باہر آیا اب وہ غار کے منہ پر تھا۔ اس غار کے اندر بھی پانی تھا مگر جوں جوں اندر گئے پانی کم ہوتے ہوئے ختم ہو گیا اور سوکھی زمین آ گئی۔ سوار بڑی مشکلوں سے گھوڑے سے اترا۔ اس کے اترتے ہی ایک طرف سے ایک آدمی نمودار ہوا اور گرجتی آواز میں بولا۔

“تم گئے نہیں دھر مو۔۔۔۔؟”

“میری حالت دیکھ رہے ہو اس حالت میں جاتا تو پکڑا ہی جاتا ۔” دھرمو نے کہا۔

“ارے بول تو کیا ہوا تھا تو اتنا کمزور تو نہیں تھا کہ پٹ کے چلا آیا۔” وہ بولا۔

“ارے کا کا بھیا پٹ کے نہیں آیا ہوں یہ حرامی نے میری یہ حالت کر دی ہے گولی مار دے اس کو ۔” دھرمو بولا۔

“ارے یہ تو تیرا من پسند گھوڑا ہے بے قابو ہو گیا کیا۔” کا کا نے پوچھا۔

“ارے کا کا پوچھو ہو۔ ایسا ویسا بے قابو پھر ایک دم سیدھا بھی ہو گیا اور واپس لے آیا۔” دھرمو نے کہا۔

“ارے کیا بات کرے ہوا یکا یکی بگڑ گیا اور پھر واپس بھی لے آیا بچ بتا کوئی چلیتر مت کر یو۔ سردار کو پتہ چل گیا تو ایک منٹ میں تم دونوں کو گولی ماردے گا۔” کا کا بھیا بولا۔

“میں کا چلیتر کروں گا۔ تو یقین کریں نے جو کہا ہے وہی ہوا ہے۔” دھرمو نے کہا۔

“اچھا چل ۔۔۔۔۔ سردار کے پاس چل۔۔۔۔ وہی فیصلہ کرے گا ۔”

⭐ 4 ⭐

اور وہ دونوں اندر کی طرف چلے۔ ان کو پتہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ میں بھی تھا وہ تین ٹیڑھی میڑھی سرنگوں سے گزرنے کے بعد وہ ایک کشادہ سرنگ میں داخل ہو گئے۔ اندر کافی کشادہ جگہ موجود تھی یہاں پر کسی کا نام و نشان نہیں تھا۔ ایک بہت بڑا تخت پڑا تھا اس کے سامنے کے رخ پر لکڑی کی کرسیاں پڑی تھیں ان کرسیوں پر دو تین آدمی بیٹھے تھے اور تخت پر ایک نہایت رعب دار شخص پیر لٹکا کر بیٹھا تھا۔ اس شخص کے چہرے سے سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ایک نڈر اور بہادر شخص ہے۔ ان دونوں کو دیکھ کر وہ کھڑا ہو گیا اور کڑک کر بولا۔

“دھرمو تو ابھی تک گیا نہیں۔۔۔۔؟”

دھرمو نے اپنی حالت کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ “گیا تھا سردار۔ میرا گھوڑا پانی سے پار اترتے ہی بگڑ گیا۔ میں نے لاکھ جتن کر لئے پر وہ سیدھا نہ ہوا اور دونوں لا تیں میرے سینے پر دے ماریں۔ سردار میری حالت اس نے بہت خراب کر دی اب بتاؤ میں اس حالت میں کیسے جاتا۔ میرا تو واپس آنا بھی مشکل تھا۔ پھر وہی گھوڑا مجھے واپس لے آیا۔”

“تیری باتیں سمجھ نہیں آرہیں دھرمو۔۔۔۔ سچ بتا ہوا کیا ہے؟” سردار نے کہا۔

“میری بات کا یقین کرو سردار۔ میں تمہارے حکم پر اپنی جان بھی دے سکتا ہوں میں جھوٹ نہیں بول رہا۔” دھرمو نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔

“تو اگر سچا ہے تو بھی کچھ نہ کچھ پھیر ضرور ہے۔ ارے تیرا گھوڑا تیری دھمالی کر دے ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ تو بتا بھوندو تجھے کیا لگتا ہے۔” سردار نے کرسی پر بیٹھے ایک شخص سے پوچھا۔

“سردار بات گلے سے اتر نہیں رہی۔۔۔۔۔ پر دھرمو پرانا ساتھی ہے آزمایا ہوا جوان ہے اس پر شک کس طرح کروں۔ میں نے اس میں کھوٹ نہیں پایا ہے۔” بھوندو نے رائے دی نہ۔

“تیری وجہ سے سارا پروگرام خراب ہو گیا۔ اب نہ جانے کب موقعہ ملے گا۔ مگر خیر تو جا، دوا دارو کر اور سن اس گھوڑے کو گولی ماردے ۔”

یہ سنتے ہی کا کا بھیا اور دھرمو واپس پلٹ گئے۔ ان کے واپس ہوتے ہی میں نمودار ہو گیا۔ میں ایک بوڑھے کسان کے روپ میں سردار کے سامنے کھڑا تھا۔ سردار نے اور اس کے ساتھیوں نے حیرت سے مجھے دیکھا اور گرجتی ہوئی آواز میں بولا۔” تو کون ہے رے اور یہاں تک کیسے آ گیا۔”

میں نے بہت کمزور آواز میں کہا۔ “میں ان دونوں کے ساتھ آیا تھا۔”

“ارے میں پوچھتا ہوں تو اڈے کے اندر کس طرح آ گیا؟” سردار بولا۔

“جس طرح دھرمو آیا اسی طرح میں بھی آ گیا۔” میں نے کہا۔

“تجھے دھرمو ساتھ لگا کر لایا ہے۔” سردار نے غصے سے کہا۔

“نہیں دھرمو کو پتہ نہیں ہے وہ بے قصور ہے۔” میں نے کہا۔

“کیوں آیا ہے بوڑھے۔ تجھے پتہ نہیں ہے تو موت کی وادی میں آ گیا ہے۔ یہ میرا ٹھکانہ ہے، ڈاکو شادولال کا اڈا ہے۔ دور دور پہرے لگے ہیں اور تو منہ اٹھا کر چلا آیا۔” وہ غصے سے بولا۔

“ہاں تم نے ٹھیک کہا ہے۔ مگر میرا آنا ضروری تھا۔” میں نے جواب دیا۔

“زندگی بہت ضروری چیز ہے۔ مانا کہ تو اپنی عمر گزار چکا ہے مگر پھر بھی موت سے کون دل لگی کرتا ہے مجھے تو کوئی پاگل لگتا ہے۔” سردار نے کہا۔

“طاقت کا نشہ بہت برا ہے۔ دنیا کے سارے نشوں سے یہ بدتر ہے۔ میں تیرے اڈے پر موجود ہوں ہر طرف تیری راج دھانی ہے تیرے ایک اشارے پر میرے بدن میں سوراخ ہو سکتے ہیں۔ مگر تو بھول رہا ہے کہ میں تیرے پہرے داروں کے سامنے سے گزر کر تیرے آدمیوں کے ساتھ آیا ہوں۔ اگر تو بھول گیا ہے تو میں یاد کرادوں کہ دنیا

⭐ 5 ⭐

میں ہزاروں شادو لال گزرے ہیں مگر اب کوئی ان کو جانتا بھی نہیں۔۔۔ تیری طاقت اور جوانی بھی ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے جو ڈٹ رہنے والی ہے وہی مجھے یہاں تک لائی ہے میں جس کام سے آیا ہوں وہ کر کے جاؤں گا۔” میں نے کہا۔

چند منٹ سردار شادولال خاموش گردن جھکائے سوچتا رہا پھر بولا۔”تیری کچھ باتیں میری سمجھ میں آرہی ہیں۔ اپنا کام بتا۔”

“اناؤ گاؤں میں ایک آدمی رہتا ہے۔ اس نے اپنی لڑکی شندو عرف شاہدہ کی شادی کر دی ۔ اس کے دولہا کا نام بشیرہ ہے۔ وہ دلہن تیرے علاقے میں آگئی مگر آتے ہی تیرے آدمی اس کو اٹھا کر لے گئے۔ سب کا خیال ہے وہ چمبل گھاٹی کے ڈاکو تھے اور تو ان کا سردار ہے تو بتا میں اس غریب کسان خیراتی کی فریاد کہاں لے کر جاتا کیا پولیس اس کی مدد کر سکتی تھی تو میں تیرے پاس چلا آیا۔” میں نے کہا۔

سردار یہ سن کر غصے میں اٹھ کھڑا ہوا اور چیخ کر بولا۔ “بھوندو دوڑ کر جا اور پتہ کر یہ حرکت کس نے کی ہے اور سن چھوری کو بھی میرے پاس لے کر آنا۔”

بھوندو تیزی سے اٹھ کر چلا گیا۔ سردار نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔” اگر یہ حرکت میرے کسی آدمی نے کی ہے تو تمہاری نظروں کے سامنے اس کی دونوں ٹانگیں چیر دوں گا۔”

دس منٹ کے بعد بھوندو واپس آ گیا اور بولا ۔ “سردار اڈے پر تو کوئی عورت نہیں ہے اور نہ ہی اس واردات کا کسی کو پتہ ہے۔”

“اچھا، مگر میں خود پتہ کرتا ہوں۔۔۔” میری طرف اشارہ کر کے وہ بولا۔ ” آؤ بوڑھے میاں میرے ساتھ تم بھی اپنا اطمینان کر لو۔” اور ہم سب سردار کے ساتھ چل پڑے سردار ہر سرنگ میں گیا۔ ہر طرف اس کے آدمی موجود تھے ۔ کھانے پک رہے تھے ہتھیار صاف کئے جا رہے تھے پورے اڈے پر کسی عورت کا وجود نہیں تھا۔ اور پھر ہم واپس اسی جگہ آگئے جہاں سے ہم گئے تھے۔

“تم نے دیکھ لیا بڑے میاں اب بھی الزام دو گے۔” سردار نے کہا۔

“تمہاری راج دھانی میں یہ ظلم کی واردات ہوئی اور تم بے خبر رہے تم اندازہ کرو کتنے دن یہ راج پاٹ تم چلا سکو گے۔ یہ ظلم کسی نے کیا ہو پڑے گا تمہارے نئے کھاتے ہیں یہ جانتے ہو؟” میں نے کہا۔

“ڈال دو میرے کھاتے میں ایک ہزار قتل ڈال دو۔ دو ہزار ڈاکے ڈال دو مگر میں کسی ناری کو اٹھاؤں اس کو بے عزت کروں یہ میرے کھاتے سے نکال دو۔ میں دھرتی کے اندر سے بھی اس کو پکڑ کر تمہارے سامنے کھڑا کر دوں گا۔ میں سب کچھ کر سکتا ہوں مگر کسی عورت ذات کی بے عزتی نہیں کر سکتا۔ میں ڈاکو ہوں۔ سونا چاندی لوٹنا ہوں کسی کی عزت نہیں لوٹتی۔” سردار نے غصے سے کہا۔

“تم کچہڑ کے اندر کھڑے ہو کر صفائی مت دکھاؤ۔ میں اس پر یقین نہیں کروں گا۔” میں نے کہا۔

“دیکھ بوڑھے میاں جو خود اسی تیر کا گھائل ہو وہ اس دکھ کو جانتا ہے مجھ پر بھی ایسا ہی ظلم ہوا تھا اور اسی کے کارن میں یہاں پر ہوں۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس پر یقین کرو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ لڑکی جہاں پر جس کے پاس بھی ہوئی میں برآمد کروں گا اور ظالم کو سخت سزا دوں گا۔” سردار نے کہا۔

“تم جیسے کڑیل چھ فٹے جوان پر یہ ظلم ہوا سمجھ میں نہیں آرہا۔” میں نے کہا۔

“میری داستان بھی وہی ہے جو اس گھاٹی میں ہر آنے والے ڈاکو کی ہے۔ کوئی خوشی سے اس جگہ نہیں آتا۔ کون نفرتوں کا کاروبار کرتا ہے کیونکہ ڈاکو نام ہی نفرت ہے ہر ڈاکو ظالم بے حس اور سماج کا باغی کہا جاتا ہے مگر وہ اس منزل پر کیوں آتا ہے جو لوگ اس کو اس آگ میں ڈالنے والے ہوتے ہیں ان سے کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ میں بھی ایک مظلوم ذات کا فرد ہوں ہم لوگ پشت ہا پشت سے ظلم برداشت کرتے آئے ہیں۔ ہماری ہر اچھی چیز دوسرے ہتھیا لیتے ہیں۔ اپنی طاقت سے چھین لیتے ہیں۔ ہم اپنی زبان سے شکوہ نہیں کر سکتے۔ کرتے ہیں تو زبان کاٹ دی جاتی ہے۔ میں بھی ٹھاکروں کی جوتیوں میں جوان ہوا اور ان کی جوتیاں بنانے لگا۔ میرا باپ بھی یہی کرتا تھا۔ اس کا باپ

⭐ 6 ⭐

بھی یہی کرتا تھا ہماری گردن تو کبھی اٹھی ہی نہیں آسمان تو ہم نے دیکھا ہی نہیں ہمیشہ زمین کو دیکھا پھر اسی زمین پر میں نے باپ کی لاش کو پڑے دیکھا اسی زمین پر میں نے اپنی بہنوں کو بے عزت ہوتے دیکھا اور پھر میں نے اٹھ کر پہلی بار آسمان کو دیکھا اور پھر نکل کر اس گھاٹی تک آگیا جہاں پر نہ کوئی ذات ہے نہ برادری سب برابر ہیں سب کا ایک نام ہے وہ ہے ڈاکو۔” سردار خاموش ہو گیا۔

“تم پر جس نے ظلم کیا تھا اس سے بدلہ لیتے سب نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔” میں نے پوچھا۔

“میں بھی سب کو اپنا نشانہ نہیں بناتا میں صرف ٹھاکروں کا دشمن ہوں۔” سردار نے کہا۔

“تم اس لڑکی کو اب کہاں تلاش کرو گے؟” میں نے پوچھا۔

“ٹھاکروں کے نئی نسل کے لڑکے اپنے پرکھوں سے بھی آگے چلے گئے ہیں یہ کام صرف ان ہی کا ہے۔” سردار نے کہا۔

“ٹھیک ہے تم تلاش کرو۔ میں پھر آ کر پتہ کروں گا۔” میں نے کہا۔

“بات ادھوری چھوڑ کر تم نہیں جاؤ گے تم یہ بتاؤ مجھ تک کس طرح آئے ہو۔” سردار نے کہا۔

“میں جس طرح واپس جاؤں گا اسی طرح آیا تھا۔” میں نے کہا۔

“دیکھو بڑے میاں میں نے تم سے وعدہ کیا ہے میں تمہارا کام جان لڑا کے کروں گا مگر مجھے اپنی کمزوری کا بھی تو پتہ چلنا چاہئے تاکہ میں آئندہ کو ہوشیار ہو جاؤں۔” سردار نے کہا۔

“تم بہت ہوشیار آدمی ہو۔ مگر جو راز کی باتیں ہیں ان کو جاننے کی کرید مت کرو تم مجھے نہ جانے سے روک سکتے ہو اور نہ دوبارہ آنے سے روکو گے۔” میں نے یہ کہا اور دروازے سے سے نکل کر روپوش ہو گیا۔ پورے غار میں ہچل مچ گئی اور ایمرجنسی نافذ ہو گئی مگر میں چلا آیا۔”

رولوکا نے رات کو واپس آ کر مجھے اپنی روداد سنائی تو میں نے کہا۔” لڑکی کا پتہ نہیں چلا۔”

“ڈاکو شادولال کا شبہ ٹھاکروں پر ہے۔ وہ ان کو چیک کرے گا اور میں اس کو چیک کروں گا۔” رولوکا نے کہا۔

“کیا تم کو شادولال پر بھروسہ نہیں ہے۔” میں نے کہا۔

“بات بھروسے کی نہیں ہے۔ مجھے اس نے جو کہا ہے میں نے اس پر پوری طرح یقین نہیں کیا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے وہ کسی اپنے پیارے کو بچانے کو مجھے گول مول کر رہا ہو۔” رولوکا نے کہا۔

“کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے؟” میں نے کہا۔

“سب کچھ ہو سکتا ہے وہ ایک ڈاکو ہے وہ ہر طرف دیکھ رہا ہو گا۔ اس کو اپنے گروہ کو قائم اور اپنے وفاداروں کا خیال بھی رکھنا ہو گا اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو گروہ کی مالا ٹوٹ جائے گی اور ہر دانہ بکھر جائے گا۔” رولوکا نے جواب دیا۔

“تم اس کی سچائی کو پرکھ رہے ہو۔” میں نے کہا۔

“تلاش کرنا تو زیادہ مشکل نہیں ہے۔ پر چور اپنی کچھ نہ کچھ نشانیاں ضرور چھوڑ جاتا ہے ضرورت صرف ان کو دیکھنے کی ہوتی ہے۔ اگر ٹھاکروں کی یہ واردات ہے تو یہ بھی زیادہ دور نہیں ہیں۔ مگر میں ایک ڈاکو کے کردار کا جائزہ لینا چاہتا ہوں ۔ اس کی شرافت کو جانچنا چاہتا ہوں۔ وہ کل سے تلاش شروع کرے گا اور میں اس کے ساتھ رہ کر بھی اس سے الگ رہوں گا۔۔۔۔”

❄️…….❄️…….❄️

“شادو لال نے ایک کسان کا بھیس بھرا اور گھوڑے پر اکیلا نکل کھڑا ہوا۔ دریائے چمبل پار کرنے کے بعد اس نے گھوڑا چھوڑ دیا۔ گھوڑا دوڑتا ہوا واپس چلا گیا اور شادولال پیدل جنوب کی طرف چل گیا۔ پھر ایک بیل گاڑی روک کر اس پر سوار ہو گیا۔ اس کا رخ ایک بڑے گاؤں کی طرف تھا وہ بیل گاڑی اسی گاؤں کو جا رہی تھی۔ شادو نے گاڑی بان سے پوچھ لیا تھا۔ گاؤں آ گیا تو گاڑی بان سے پوچھا۔

“اب کہو بھیا آگے کس سے بھینٹ کرنا ہے۔”

شادو گاڑی سے کود پڑا اور بولا۔”تم اب جاؤ میں خود ہی پیدا کر لوں گا۔” اور گاڑی والا چلا گیا۔

شادو نے ٹھاکر پر تاب سنگھ کی حویلی کا رخ کیا ہی تھا کہ میں ایک درخت کی اوٹ سے نکل کر اس کے سامنے آ گیا اس نے مجھے حیرت سے دیکھا اور بولا۔” ارے تم مجھ سے پہلے ہی پہنچ گئے۔ کون گاڑی سے آئے۔”

“میں بھی اسی طرح آیا ہوں جس طرح تم آئے ہو۔” میں نے جواب دیا۔

“ٹھاکر پرتاب سنگھ کو تم جانتے ہو۔” شادو نے پوچھا۔

“نہیں میں نہیں جانتا۔” میں نے جواب دیا۔

“مگر میں جانتا ہوں۔ وہ بظاہر تو بڑا نیک نام ہے غریب کسانوں کا خیال بھی کرتا ہے۔ اس سے مجھے کوئی شکایت بھی نہیں ہے مگر اندر سے یہ کیا ہے اس کا پتہ نہیں ہے۔” شادو نے کہا۔

“ابھی پتہ کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔” میں نے کہا۔

اب ہم حویلی کے سامنے آ چکے تھے۔ شادو نے دروازے پر کھڑے ایک لٹھ بند سے کہا۔” بات سن لالہ ہمیں ٹھاکر سے ملنا ہے۔ ذرا اندر خبر کر دے۔”

اس لٹھ بند جوان نے سر سے پیر تک مجھے اور شادو کو دیکھا اور بولا۔” کون گام سے آئے ہو اور کا کام ہے۔ یہ بتلاؤ۔” میں جلدی سے اس کے قریب چلا گیا اور بولا۔

“ٹھاکر سے بول اناؤ سے آئے ہیں ۔”

اس نے گردن ہلائی اور دروازے کے اندر چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی دوسرا لٹھ بند دروازے پر آ گیا۔ دس منٹ کے بعد وہ واپس آیا اور بولا۔” آؤ میرے ساتھ۔” اور ہم حویلی کے اندر داخل ہو گئے۔ دروازے کے بعد ایک بہت لمبا بر آمدہ تھا۔ اس کے ختم ہوتے ہی کمروں کے دروازے نظر آنے لگے وہ لٹھ بند ایک دروازے کے باہر کھڑا ہو گیا اور اس نے دروازے پر دستک دی تو اندر سے آواز آئی۔۔۔۔۔ “آ جا……۔”

لٹھ بند نے دروازہ پورا کھول دیا اور ہمیں اندر جانے کا اشارہ کیا۔ ہم دونوں چلے گئے۔ یہ ایک بہت بڑا کمرہ تھا۔ قدیم زمانے کی آرام دہ کرسیاں دیوار کے ساتھ ساتھ لگی ہوئی تھیں اور ان کی پالش چمک رہی تھی فرش پر قالین پڑا تھا ایک بہت بڑا تخت پڑا تھا اس کے پائے گول تھے اور کسی ماہر کاریگر کی ہنرمندی کا زندہ ثبوت ہے۔ تخت پر بھی ایک سرخ رنگ کا دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔ بڑے بڑے گاؤ تکئے اس کے کنارے لگے ہوئے تھے اور ان ہی کے سہارے ایک شخص جس کی مونچھیں بڑی بڑی چہرے پر رعب و دبدبہ تھا بیٹھا تھا۔ کمرے میں وہ اکیلا تھا یہ بات میرے لئے اور شادو کے لئے سنور در حیرت کی تھی۔

اس نے ایک نظر شادو کی طرف ڈالی پھر مجھے دیکھا اور رعب دار آواز میں بولا۔”آؤ شادو میرے پاس بیٹھو۔” شادو نے چونک کر اس کو دیکھا تو وہ مسکرا کر پھر بولا۔

“پریشان مت ہو شادو۔ تم میرے پاس آئے ہو میرے مہمان ہو تمہاری عزت مجھے فرض ہے۔”

اب شادو پہلے جھٹکے سے سنبھل چکا تھا۔ بولا۔” تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں وہی ہوں جو تم سمجھ رہے ہو۔۔۔”

“تمہارے سوال کے کئی جوابات میرے پاس ہیں مگر میں صرف یہ کہوں گا کہ شادو ڈاکو اتنا گمنام آدمی نہیں ہے کہ اس کو میں نہ پہچان سکوں۔ تم نے بے شک اچھا بہروپ بھرا ہے مگر میری نظریں اندر تک دیکھتی ہیں تم مان لو کہ تم شادو ہی ہو۔” ٹھاکر پرتاب سنگھ اطمینان سے بولا۔

“چلو میں مانے لیتا ہوں تم نے مجھے خوب پہچانا مگر میں اس وقت تمہارے پاس ڈاکو بن کر نہیں آیا ہوں۔” شادو نے جواب دیا۔

“ڈاکو بن کر میرے پاس کبھی آنا بھی نہیں۔۔۔۔۔ میں تمہاری ہر ضرورت ویسے ہی پوری کرنے کو تیار ہوں اور اگر ڈاکو بن کر آؤ گے تو مجھے کمزور نہیں پاؤ گے۔” اور پھر ہنس کر بولا ۔” تم نے اپنے ساتھی کا پریچے نہیں کرایا۔”

“یہ میرے ایک بہت قریبی مترا ہیں اناؤ سے آئے ہیں۔ ان کے کارن ہی مجھے یہ بہروپ بھرنا پڑا ہے۔ ان کی ہی ایک ضرورت سے تمہارے پاس آیا ہوں۔” شادو نے کہا۔

⭐ 8 ⭐

“اگر ضرورت میں پوری کر سکا؟ تو ضرور کروں گا۔ کسی ڈر خوف سے نہیں بلکہ اس لئے کہ تم لوگ چبل کر میرے پاس آئے ہو، میں خاندانی ٹھاکر ہوں، اپنے مہمانوں کے لئے سب کچھ کروں گا بولو۔” ٹھاکر نے کہا۔

“ایک کنیا اناؤ کی بیاہ کر چمبل کے علاقے میں آئی اور کسی نے اس کو وہیں سے اٹھا لیا اور الزام میرے سر آ گیا۔ تم پتہ نہیں جانتے ہو کہ نہیں میں ڈاکے ضرور مارتا ہوں مگر کسی عورت کی بے عزتی نہیں کرتا۔ کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتا۔ مگر الزام مجھ پر ہی آ گیا ہے میں اس داغ کو دھونا چاہتا ہوں وہ کنیا جب تک نہیں ملے گی میں سکون سے نہیں رہوں گا۔” شادو نے کہا۔

“اور تم میرے پاس چلے آئے۔”۔۔۔۔۔ میں اتنا گرا ہوا ہوں کہ لڑکیاں اٹھواؤں گا۔ میرے سات گاؤں ہیں ان میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں لڑکیاں رہتی ہیں میں نے کسی کی پراج تک میلی نظر نہیں ڈالی اور تم میرے پاس چلے آئے۔ شادو تم میرے مہمان ہو تم نے بہت بڑی گالی مجھے دے دی ہے۔” ٹھاکر غصے سے سرخ ہو گیا۔

میں نے پہلی بار زبان کھولی اور کہا۔”ٹھاکر صاحب آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے۔ پتہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے یہ کام کیا ہوگا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس کے بارے میں کچھ پتہ ہو۔۔۔۔۔ کسی سے کچھ سنا ہو ڈھونڈنے کا بھی طریقہ ہوتا ہے کہ کڑی سے کڑی ملاتے چلے جائیں۔۔۔۔ اگر آپ کچھ جانتے ہیں یا آپ کچھ اندازے لگا سکتے ہیں تو بتائیں ہم آپ پر شک نہیں کر رہے ہیں ۔”

ٹھاکر نے سکون سے میری بات سنی تو اس کے چہرے کی رنگت معمول پر آئی اور اس نے کہا۔”ہاں یہ بات آپ نے قاعدے کی کی ہے آپ کا کیا نام ہے؟”

“میرا نام حکیم کامل خان ہے دلی میں مطب کرتا ہوں۔” میں نے جواب دیا۔

“میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ یہ کام کس نے کیا ہو گا میرا اندازہ ٹھیک ہی ہو گا ایسا کام صرف ایک شخص کرتا ہے وہ ہے تو میرا رشتہ دار مگر میں اس سے نہیں ملتا اور نہ ملنے کی وجہ اس کا گندہ کردار ہے مجھے اپنا دشمن نمبر ایک سمجھتا ہے۔ اس کا نام کسی دشمنی کی وجہ سے نہیں لے رہا، بلکہ اس کے گھناؤنے کردار کی وجہ سے لے رہا ہوں۔ یہاں سے بیس کوس دور ایک علاقہ ہے چتر والی۔۔۔۔۔ یہ ایک بہت بڑا گاؤں ہے۔ اس کا زمین دار تھا کو دھرم داس ہے۔ نام تو اس کا دھرم داس ہے مگر دھرم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، اس نے ٹھاکروں کے نام کو بٹہ لگا دیا ہے۔ مجھے شبہ ہے اس کے کارندوں کی نظر میں کنیا آگئی ہوگی اور وہ دھرم داس کو خوش کرنے اور انعام حاصل کرنے کو اٹھا لے گئے ہوں گے۔”

ٹھاکر نے بتایا۔ تو میں نے کہا۔” آپ صرف یہ کام کر دیں کہ ہمیں اس کا پتہ بتا دیں۔”

“نہیں صرف اتنا کافی نہیں ہو گا۔ میں آپ کو وہاں پہنچاؤں گا اور جس قسم کی مدد کی ضرورت ہو پوری کروں گا۔ یہ کر کے میں آپ پر یا شادو پر احسان نہیں کروں گا میرا بھی تو کچھ فرض ہے۔” ٹھاکر نے جواب دیا۔

“نہیں ٹھاکر صاحب آپ ایسا نہیں کریں گے۔ میں آپ کی دشمنی کو اور بڑھانا نہیں چاہتا ہم خود جائیں گے اپنے طریقے پر جائیں گے آپ صرف پتہ بتا دیں۔” شادو نے کہا۔

“میں آپ کا کام آسان کرنا چاہتا تھا کیونکہ تم جس کے پاس جا رہے ہے وہ ایک مشکل آدمی ہے۔ اس کو تم نہیں جانتے۔ وہ تمہاری مشکلات بڑھا سکتا ہے۔ علاقہ بھی اس کا ہو گا ہر طرف اس کے آدمی ہوں گے اس کے علاوہ بھی ایک مدد اور اس کو حاصل ہے اور وہ ہے اس کا گرو۔ وہ ہر اچھے برے کام میں اس کی مدد کرتا ہے۔ کچھ ٹونے ٹوٹکے کرنے کا ماہر ہے۔ اسی پر دھرم داس پھولتا ہے۔ آپ دونوں کے لئے گھوڑوں کا تو بندوبست میں کر سکتا ہوں ۔” ٹھاکر نے کہا۔

“شادو کے لئے بندوبست کر دیں اگر یہ پسند کریں تو میں تو گھوڑا سواری نہیں کرتا۔ آپ دیکھ رہے ہیں بوڑھا آدمی ہوں میں اپنے طریقے پر چتر والی گاؤں جاؤں گا” میں نے کہا۔

“میں بھی گھوڑے پر نہیں جاؤں گا آپ کو پتہ ہے

⭐ 9 ⭐

میں ایک بدنام آدمی ہوں چھپتا چھپاتا ہی جانا ہو گا۔” شادو نے کہا تو ٹھاکر نے کہا۔

“مطلب یہ ہوا کہ آپ لوگ میری کسی قسم کی مدد لینا نہیں چاہتے۔”

“ٹھاکر صاحب آپ ناراض نہ ہوں جب بھی آپ کی ضرورت پڑی ہم آپ کو ضرور یاد کریں گے۔ آپ کے اخلاق اور صاف گوئی کے تو ہم قائل ہو گئے ہیں۔” میں نے کہا۔

چتر والی گاؤں کہنے کو بیس کوس تھا مگر راستہ بہت خراب تھا مٹی اور پتھر کے ٹیلے جا بجا پھیلے ہوئے تھے۔ ان کے درمیان ٹیڑھا میڑھا کچا راستہ بنا ہوا تھا جس میں کہیں کہیں پانی اور کیچڑ بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف جنگلی جھاڑیاں اور گھاس اگئی ہوئی تھی۔ ان جھاڑیوں میں مختلف قسم کے حشرات الارض چھپے ہوئے تھے۔

شادو نے ایک بیل گاڑی حاصل کر لی تھی اس نے اپنا حلیہ مکمل طور پر دیہاتی بنایا ہوا تھا۔ وہی گاڑی چلا رہا تھا۔ چتر والی گاؤں ابھی دور تھا کہ اچانک ایک طرف سے دو بھیڑیے نمودار ہوئے اور بیلوں کے سامنے آ گئے بیل ڈر کے کھڑے ہو گئے اور گاڑی سے آزادی کی خاطر دوڑ کرنے لگے۔ جھٹکا مجھے بھی لگا میں نے سامنے نظر ڈالی تو دونوں بھیڑیے نظر آ گئے۔ میں گاڑی پر کھڑا ہو گیا۔ میرے ہاتھ اٹھاتے ہی دونوں بھیڑیے ایک طرف چل دیے۔ شادو نے حیرت سے ان کو دیکھا اور پھر بولا۔

“آئے تو بڑے غصے میں تھے مگر چلے کیوں گئے شاید پھر آئیں گے زیادہ تعداد میں۔”

میں نے کہا۔” تم اپنا سفر جاری رکھو وہ اب نہیں آئیں گے۔”

“حیرت کی بات ہے میں نے اب غور کیا آپ کے کھڑے ہوتے ہی وہ خاموشی سے چلے گئے۔” شادو نے کہا۔

“شریف بھیڑیے تھے اس لئے شرافت سے چلے گئے ۔” میں نے ہس کر کہا۔

“حکیم صاحب آپ نہ بتائیں آپ کی مرضی مگر میرے حلق سے یہ بات اتر نہیں رہی کہ وہ آپ کو دیکھتے ہی کیوں چلے گئے ۔ آپ کے لئے یہ بات معمولی ہوگی میرے لئے یہ اس لئے حیرت انگیز ہے کہ میرا واسطہ ان سے پڑتا رہتا ہے۔ یہ اتنی آسانی سے ٹلنے والے نہیں ہوتے۔” شادو نے کہا۔

“تم نے زندگی کی جو کتاب پڑھی ہے اس میں یہ سبق نہیں تھا اور بھی بہت سے سبق تم کو ملنے لگیں گے جوں جوں عمر کی رسی دراز ہو گی نئی باتیں نئے لوگ نئے تجربات آتے جائیں گے۔ دنیا کی کسی درس گاہ میں نہیں پڑھایا جاتا وہ زندگی خود پڑھاتی ہے اور آدمی مرتے دم تک پڑھتا رہتا ہے۔ موت بھی ایک سبق پڑھاتی ہے۔ اس لئے تعجب کا اظہار نہ کرو۔ تم نے ایک قدم نیکی کی طرف اٹھایا ہے تمہاری مدد ہوگی اس پر تعجب مت کرو شکر کرو رب کائنات کا۔۔۔۔” میں نے کہا۔

“میں زیادہ سمجھ دار پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں آپ کی رمز بھری باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں جو سمجھ میں نہیں آرہی ہیں ان کو سمجھنا چاہتا ہوں۔” شادو نے کہا۔

“قصور تیرا بھی نہیں ہے۔ جہاں انسان کے اندر بہت سے جذبے ہیں وہیں پر ایک جذبہ تجسس کا بھی ہے۔ وہی جذبہ یہ کرید کراتا ہے اور آدمی ہر بات فوراً سمجھ لینا چاہتا ہے۔ مگر یاد رکھو بلا وجہ کی کھوج نقصان بھی کر دیتی ہے ہر کام کا وقت ہوتا ہے۔ صبح آپ ناشتہ کرتے تھے ہیں رات کا نہیں کھاتے اس لئے کہ رات آئی ہی نہیں۔ جو سامنے ہے بے شک اس پر غور کرنا چاہئے جب بتانے کا وقت آئے گا تو تمہارے دل میں خود بات اتر جائے گی۔” میں نے جواب دیا۔

“میں معافی چاہتا ہوں میں اب تک آپ کو نہیں سمجھ سکا۔” شادو نے کہا۔

“میں صرف تم سے یہ کہوں گا کہ تم اپنی سوچ کو غلط رخ پر مت موڑ و اس سے بہت سے سوال پیدا ہوں گے۔ بہت سی غلط فہمیاں گندگی کے پہاڑ کھڑے کر دیں گی۔ انسان کوئی ہو ہر ایک کی حقیقتیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ تم

⭐ 10 ⭐

صرف ایک بات ذہن میں بٹھا لو کہ میں تمہارا دوست ہوں۔” میں نے کہا۔

“میرا دل گواہی دیتا ہے کہ آپ میرے دوست ہو” شادو نے کہا۔

“چتر والی کتنی دور ہے؟” میں نے پوچھا۔

“ایک گاؤں نظر آرہا ہے وہی شاید چتر والی ہے” شادو نے جواب دیا۔

“میں تم سے ایک درخواست کروں مانو گے۔” میں نے پوچھا۔

“آپ حکم کریں درخواست کر کے شرمندہ نہ کریں۔” شادو نے جواب دیا۔

“حالات کچھ بھی ہوں تم ہتھیار استعمال نہیں کرو گے اور اگر تم کو کوئی پہچان بھی لے تب بھی خود کو ظاہر نہیں کرو گے۔ تمہارے اندر جو ڈاکو شادو ہے وہ بے شک بہت نڈر ہے بہادر ہے مگر میں اس کو استعمال کرنا نہیں چاہتا۔ میرے ساتھ جو سادہ سا دیہاتی جوان ہے وہ میرے لئے بہت ہے۔” میں نے کہا۔

شادو چند منٹ خاموش رہا۔ پھر بولا ۔”حالانکہ آپ کی بات میں نہیں سمجھ سکا ہوں مگر میرا وعدہ ہے کہ ڈاکو شادو اندر ہی رہے گا اور گاؤں کا یہ سیدھا سادھا شریف شادو آپ کے ساتھ رہے گا۔۔۔۔۔ اگر جان بھی جاتی ہوگی تو بھی ڈاکو اندر ہی رہے گا۔” شادو نے کہا۔

“تو پھر تم یقین کرو کہ تمہارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔” میں نے کہا۔

“شام ہو گئی تھی چتر والی گاؤں بھی قریب آ گیا تھا۔ ہم جس طرف سے گاؤں آئے تھے وہاں پر جو سب سے پہلا گھر ہمیں ملا وہ بہت بڑا تھا۔ کچا مکان تھا باہر ہی ایک بھینس کا بچھڑا پڑا ہوا تھا اور کچھ جانور اس کے اندر کھڑے تھے اور ایک لالٹین درمیان میں لٹک رہی تھی مگر اس کی روشنی بہت کم تھی اور ایک دھوتی پوش آدمی باہر کھڑا تھا۔ شادو نے اس کے قریب گاڑی روک دی اور پوچھا۔” یہ کون گام ہے بھیا۔”

دھوتی پوش گاڑی کے قریب آ گیا اور بولا ۔” چتر والی ہے۔ کہاں سے آئے ہو بھا۔”

“بڑی دور سے آئے ہیں بھا۔ جل پانی ملے گا۔” شادو نے پوچھا۔

“کا ہے نہ ملے گا۔ آجاؤ گاڑی دھورے کھڑی کر دو جوڑی کھول دوان کا بھی دانہ پانی کر لو۔”

شادو گاڑی سے اتر گیا اور بولا ۔” آ جاؤ حکیم صاحب۔”

میں بھی گاڑی سے سے اتر پڑا۔ شادو نے بیلوں کو گاڑی سے الگ کر دیا۔ گاڑی دیوار کے سامنے کھڑی کر دی۔ دھوتی پوش نے بیلوں کو ایک ناند کے پاس کھڑا کر دیا اور اس میں چارہ ڈال دیا۔ بیل دن بھر کے بھوکے تھے کھانے لگے۔ اس سے فارغ ہو کر دھوتی پوش ہمارے پاس آ گیا اور بولا۔” آؤ اندر آجاؤ۔” چہپر بہت بڑا تھا ہم چہپر کے دوسرے کنارے کی طرف چلے۔ اسی چہپر کے نیچے دو چار پائیاں پڑی تھیں ان کے پاس پہنچ کر وہ بولا۔ بیٹھو بھا اور میدان کی طرف چلا گیا۔ اس میدان کے پار ایک اور چہپر پڑا تھا وہاں پر بھی ایک لالٹین جل رہی تھی۔ درمیانی میدان اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ واپس آ گیا ۔ اس کے ایک ہاتھ میں پانی کا ڈول اور ایک ہاتھ میں حقہ پکڑا ہوا تھا۔

“لو بھا پہلے منہ ہاتھ دھولو جب تک میں حقہ تازہ کر لوں جو روگرم گرم روٹی ڈال رہی ہے۔”

شادو نے کہا۔ “حقہ تو تم تازہ نہ ہی کرو بھا۔ ہم دونوں یہ شوق نہیں کرتے تم نے اپنا نام بتایا نہ تم نے ہمارا پوچھا۔”

“میرا نام رادھے ہے اب تم بتلائے دیو۔” وہ بولا۔

“میں شادولال ہوں یہ حکیم کامل ہیں۔” شادو نے کہا۔

“حکیم کا دوا دارو کرے ہیں یہ۔” وہ بولا۔

“ہاں وہ یہی کرتا ہوں کیا کوئی بیمار ہے۔” میں نے پوچھا۔

“ارے بھا بیمار ایسا بیمار۔ بہت وید کے دکھایا پر ٹھیک نہ ہوا اب تو ہم امید ہی چھوڑ چکے ہیں مرنا تو اس کو ہے۔” وہ اداسی سے بولا۔

⭐ 11 ⭐

جاری ہے ‼️

Loading