Daily Roshni News

نظامِ شمسی سیریز

نظامِ شمسی سیریز

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دمدار ستارے: نظامِ شمسی کے برفانی مسافر جو سورج کے قریب آکر لاکھوں کلومیٹر لمبی دم بنا لیتے ہیں

​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

​ہزاروں برس تک جب آسمان میں اچانک ایک روشن جسم نمودار ہوتا، جس کے پیچھے لمبی سی دم پھیلی ہوتی، تو لوگ حیرت اور خوف سے اسے دیکھتے تھے۔ کسی تہذیب نے اسے جنگ کی علامت سمجھا، کسی نے بادشاہ کی موت سے جوڑا اور کہیں اسے آسمانی نحوست سمجھ لیا گیا۔

​آج ہم جانتے ہیں کہ یہ نہ کوئی ستارہ ہے، نہ آسمان میں جلتا ہوا شعلہ۔ یہ دمدار ستارہ (Comet) ہے—برف، گرد، چٹان اور منجمد گیسوں سے بنا نظامِ شمسی کے ابتدائی زمانے کا ایک قدیم مسافر۔ اور شاید سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی مشہور دم ہمیشہ موجود نہیں ہوتی۔

​دمدار ستارہ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک تاریک اور بے حد سرد جسم کی صورت میں گزارتا ہے۔ اس کی شاندار دم صرف اس وقت بنتی ہے جب وہ سورج کے قریب پہنچنے لگتا ہے۔

​یہ واقعی ستارہ نہیں

​اردو میں ہم اسے “دمدار ستارہ” کہتے ہیں، مگر سائنسی طور پر یہ ستارہ نہیں۔ ستارہ سورج کی طرح اپنی روشنی اور حرارت خود پیدا کرتا ہے۔ دمدار ستارہ اس کے برعکس ایک نسبتاً چھوٹا برفانی جسم ہے جو سورج کے گرد گردش کرتا ہے اور ہمیں سورج کی منعکس شدہ روشنی اور اپنے گرد بننے والی چمکتی گیس و گرد کی وجہ سے نظر آتا ہے۔

​اس کے درمیان موجود ٹھوس جسم کو مرکزہ (Nucleus) کہتے ہیں۔ یہ مرکزہ عموماً چند کلومیٹر چوڑا ہوتا ہے اور اس میں پانی کی برف، دوسری منجمد گیسیں، گرد، چٹانی مادّہ اور کاربن والے مرکبات شامل ہوسکتے ہیں۔

​دلچسپ بات یہ ہے کہ دمدار ستارے کا مرکزہ اکثر سفید برف کے گولے جیسا روشن نہیں ہوتا۔ بہت سے دمدار ستاروں کی سطح انتہائی تاریک ہوتی ہے، کیونکہ برف کے اوپر گرد اور کاربن سے بھرپور مادّے کی تہہ موجود ہوسکتی ہے۔

​پھر دم کہاں سے آتی ہے؟

​جب دمدار ستارہ سورج سے بہت دور ہوتا ہے تو اس کی برف سخت جمی رہتی ہے۔ مگر جیسے جیسے وہ سورج کے قریب آتا ہے، حرارت بڑھنے لگتی ہے۔ یہاں برف لازماً پہلے پانی بن کر نہیں بہتی۔

​کم دباؤ والے خلائی ماحول میں بعض منجمد مادّے براہِ راست برف سے گیس میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس عمل کو براہِ راست بخارات بننا (Sublimation) کہتے ہیں۔ یہ نکلتی ہوئی گیس اپنے ساتھ گرد کے باریک ذرّات بھی اٹھاتی ہے۔

​یوں چند کلومیٹر کے چھوٹے مرکزے کے گرد گیس اور گرد کا ایک بہت بڑا روشن غلاف بن جاتا ہے۔ اسے گیسی غلاف (Coma) کہتے ہیں۔ ادارہ NASA کے مطابق یہ غلاف بعض اوقات سینکڑوں ہزار کلومیٹر تک پھیل سکتا ہے۔ یعنی درمیان میں اصل دمدار ستارہ شاید ایک شہر جتنا ہو، لیکن سورج کے قریب اس کے گرد بننے والا روشن غلاف زمین سے بھی کئی گنا بڑا ہوسکتا ہے۔

​ایک نہیں، عموماً دو دمیں

​دمدار ستارے کی تصویر میں ہمیں عموماً ایک دم دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں اس کی دو نمایاں دمیں ہوسکتی ہیں۔

​پہلی گرد کی دم (Dust Tail) ہوتی ہے۔ یہ سورج کی روشنی کے دباؤ سے گرد کے باریک ذرّات کو پیچھے دھکیلنے سے بنتی ہے اور اکثر قدرے خم دار دکھائی دیتی ہے۔

​دوسری برقی گیس کی دم (Ion Tail) ہوتی ہے۔ سورج مسلسل تیز رفتار برقی ذرّات خلا میں بھیج رہا ہے۔ اسے شمسی ہوا (Solar Wind) کہتے ہیں۔ یہ شمسی ہوا دمدار ستارے کی برقی گیسوں کو ایک نسبتاً سیدھی دم کی صورت میں دھکیل دیتی ہے۔ اور یہاں ایک بہت عام غلط فہمی ختم ہوجاتی ہے۔

​دم ہمیشہ دمدار ستارے کے “پیچھے” نہیں ہوتی

​ہم روزمرہ زندگی میں سمجھتے ہیں کہ گاڑی یا جہاز کے پیچھے دھواں آتا ہے، اس لیے دمدار ستارے کی دم بھی لازماً اس کی حرکت کے پیچھے ہونی چاہیے۔ ایسا نہیں۔

​دمدار ستارے کی دم تقریباً ہمیشہ سورج سے مخالف سمت میں رہتی ہے۔ وہ سورج کی طرف آرہا ہو تب بھی دم سورج سے دوسری طرف ہوگی۔ اور جب وہ سورج کو گھوم کر واپس دور جارہا ہو تو بعض اوقات اس کی دم اس کی حرکت کی سمت کے سامنے دکھائی دے سکتی ہے۔ کیونکہ دم کی سمت دمدار ستارے کی رفتار نہیں، بلکہ سورج کی روشنی اور شمسی ہوا طے کرتی ہے۔

​یہ آتے کہاں سے ہیں؟

​گزشتہ قسط میں ہم نے خطہ Oort Cloud کا سفر کیا تھا۔ وہی دمدار ستاروں کے ایک بڑے خاندان کا ممکنہ گھر ہے۔

​ایسے دمدار ستارے جنہیں سورج کا ایک چکر لگانے میں 200 سال سے زیادہ لگتے ہیں، عموماً طویل مدت والے دمدار ستارے کہلاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے خطہ Oort Cloud سے آنے والے سمجھے جاتے ہیں۔ بعض کا ایک ہی چکر لاکھوں سال طویل ہوسکتا ہے۔

​دوسری طرف نسبتاً مختصر مدت والے بہت سے دمدار ستاروں کی اصل خطہ Kuiper Belt سے جڑی سمجھی جاتی ہے۔ سیارہ Neptune اور پھر سیارہ Jupiter کی کشش ایسے برفانی اجسام کے مدار بدل سکتی ہے، اور بالآخر وہ سورج کے قریب آنے لگتے ہیں۔

​یعنی جب ہم کسی دمدار ستارے کو آسمان میں دیکھتے ہیں تو ممکن ہے وہ نظامِ شمسی کے انتہائی دور کنارے سے شروع ہونے والے سفر کے بعد ہمارے علاقے میں پہنچا ہو۔

​ہیلی: وہ دمدار ستارہ جس نے ہماری سمجھ بدل دی

​دنیا کا شاید سب سے مشہور دمدار ستارہ Halley ہے۔ صدیوں تک انسان اسے مختلف اوقات میں الگ الگ دمدار ستارہ سمجھتا رہا۔

​پھر انگریز ماہرِ فلکیات Edmond Halley نے سائنسدان Isaac Newton کے کششِ ثقل کے قوانین استعمال کرتے ہوئے 1531ء، 1607ء اور 1682ء میں دکھائی دینے والے دمدار ستاروں کے مدار کا حساب کیا۔ انہوں نے نتیجہ نکالا کہ یہ دراصل ایک ہی جسم ہے جو بار بار واپس آتا ہے۔

​ان کی پیش گوئی درست نکلی۔ آج ہم جانتے ہیں کہ جرمِ فلکی Halley تقریباً 76 سال میں سورج کا ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ یہ آخری بار 1986ء میں ہمارے اندرونی نظامِ شمسی میں آیا تھا۔ اگلی مرتبہ اسے 2061ء میں دیکھا جائے گا۔ یعنی آج زندہ بہت سے بچے اپنی زندگی میں اسے دوبارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔

​ہم دمدار ستارے پر اتر بھی چکے ہیں

​ایک وقت تھا جب دمدار ستارے صرف دوربین میں دکھائی دینے والے دھندلے اجسام تھے۔ پھر یورپی خلائی ادارے کا مشن Rosetta Mission دمدار ستارے Comet 67P کے پاس پہنچا۔

​سال 2014ء میں خلائی جہاز Rosetta کسی دمدار ستارے کے گرد مدار میں جانے والا پہلا خلائی جہاز بنا۔ اس کے ساتھ موجود چھوٹا لینڈر Philae اسی دمدار ستارے کی سطح پر اترا۔

​پہلی مرتبہ انسان نے ایک دمدار ستارے کو قریب سے ایک پوری دنیا کی طرح دیکھا۔ اس کی شکل کسی ایک گول پتھر جیسی نہیں، بلکہ دو جڑے ہوئے بڑے حصوں جیسی تھی۔ اس کی سطح تاریک، گرد آلود، دراڑوں اور چٹانی ڈھلوانوں سے بھری ہوئی تھی۔ دھوپ پڑتے ہی مختلف جگہوں سے گیس اور گرد کے فوارے نکلتے تھے۔ اور اس کی اندرونی ساخت اتنی ہلکی اور سوراخ دار تھی کہ اس کی اوسط کثافت پانی کے نصف سے بھی کم نکلی۔

​زندگی نہیں ملی، مگر اہم کیمیائی مادّے ضرور ملے

​مشن Rosetta نے دمدار ستارے Comet 67P پر زندگی دریافت نہیں کی۔ لیکن اسے وہاں ایسے کیمیائی مادّے ملے جو زندگی کی کیمیا میں اہم ہیں۔

​ان میں مرکب Glycine نامی ایک امینو ایسڈ اور عنصر Phosphorus شامل تھے۔ امینو ایسڈ پروٹین بنانے میں استعمال ہوتے ہیں، جبکہ عنصر Phosphorus ہماری جینیاتی معلومات کے نظام اور خلیوں کے لیے اہم ہے۔

​اس کا مطلب یہ نہیں کہ دمدار ستاروں پر زندگی موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے لیے اہم بعض بنیادی کیمیائی اجزا نظامِ شمسی کے قدیم برفانی اجسام میں بھی بن اور محفوظ رہ سکتے ہیں۔

​کیا زمین کا پانی دمدار ستارے لائے؟

​ایک عرصے سے یہ خیال زیرِ تحقیق ہے کہ ابتدائی زمین پر دمدار ستاروں کی ٹکروں نے پانی اور بعض نامیاتی مادّے پہنچانے میں کردار ادا کیا ہوگا۔ یہ امکان آج بھی موجود ہے۔

​لیکن کہانی سادہ نہیں۔ مشن Rosetta نے دمدار ستارے Comet 67P کے پانی کا باریک کیمیائی نشان ناپا تو وہ زمین کے سمندری پانی سے واضح طور پر مختلف نکلا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ زمین کا تمام پانی دمدار ستاروں نے دیا۔ ممکن ہے مختلف قسم کے سیارچوں اور دمدار ستاروں نے مختلف مقدار میں حصہ ڈالا ہو۔ یہ سوال ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔

​کبھی دمدار ستارہ کسی سیارے سے ٹکرا بھی جاتا ہے

​سال 1994ء میں انسان نے پہلی مرتبہ دو بڑے نظامِ شمسی اجسام کی ٹکر براہِ راست دیکھی۔ دمدار ستارہ Shoemaker-Levy 9 سیارہ Jupiter کی شدید کشش کے باعث بیس سے زیادہ بڑے ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکا تھا۔

​پھر 16 سے 22 جولائی 1994ء کے درمیان وہ ٹکڑے ایک ایک کرکے سیارہ Jupiter کی فضا سے ٹکرائے۔ ان ٹکروں نے اس سیارے کے بادلوں پر اتنے بڑے تاریک نشان چھوڑے کہ بعض زمین سے بھی بڑے تھے۔ اس واقعے نے ایک حقیقت بہت واضح کردی: نظامِ شمسی کوئی مکمل طور پر خاموش جگہ نہیں، یہاں آج بھی ٹکراؤ ہوسکتے ہیں۔

​شہابِ ثاقب اور دمدار ستارے کا تعلق

​دمدار ستارہ سورج کے قریب سے گزرتا ہے تو اپنے راستے میں گرد اور چھوٹے ذرّات چھوڑ جاتا ہے۔ اگر زمین بعد میں اسی راستے سے گزرے تو یہ ذرّات ہماری فضا میں انتہائی تیزی سے داخل ہوکر جلتے ہیں۔ ہم انہیں آسمان میں روشن لکیروں کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ انہیں شہاب (Meteor) کہا جاتا ہے۔

​مثلاً ہر سال آنے والی بارشیں Eta Aquariids اور Orionids کے ذرّات مشہور دمدار ستارے Halley نے اپنے مدار میں چھوڑے ہیں۔ یعنی یہ دمدار ستارہ خود 1986ء سے ہمارے پاس واپس نہیں آیا، لیکن زمین آج بھی ہر سال اس کی چھوڑی ہوئی گرد سے گزرتی ہے۔

​ایک ایسا دمدار ستارہ جو ہمارا تھا ہی نہیں

​دمدار ستاروں کی کہانی میں حالیہ برسوں نے ایک اور حیرت شامل کردی۔ سال 2025ء میں دریافت ہونے والا دمدار ستارہ 3I/ATLAS ایک عام نظامِ شمسی دمدار ستارہ نہیں تھا۔

​اس کی رفتار اور راستہ بتاتے ہیں کہ یہ کسی دوسرے ستارے کے نظام سے آیا تھا۔ یہ ہمارے نظامِ شمسی سے صرف گزر رہا تھا اور دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ یہ انسانی تاریخ میں دریافت ہونے والا صرف تیسرا معلوم بین النجمی جسم تھا۔

​اس کے گرد گیس اور گرد کا روشن غلاف موجود تھا، اس لیے اسے باقاعدہ دمدار ستارہ قرار دیا گیا۔ سوچیے: ایک ایسا برفانی جسم جو شاید اربوں سال پہلے کسی دوسرے ستارے کے گرد بنا، اپنے نظام سے باہر نکلا، بین النجمی خلا میں بھٹکتا رہا، اور پھر اتفاق سے ہمارے سورج کے قریب سے گزر گیا۔ ایسے اجسام ہمیں پہلی مرتبہ دوسرے ستاروں کے نظاموں کا مادّہ براہِ راست دیکھنے کا موقع دے رہے ہیں۔

​قرآن اور آسمان کا مسلسل مشاہدہ

​قرآن مجید فرماتا ہے:

﴿ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ﴾

ترجمہ: “پھر بار بار نگاہ اٹھا کر دیکھو۔” (سورۃ الملک: 4)

​یہ آیت دمدار ستاروں کی کوئی سائنسی تشریح نہیں کرتی۔ لیکن آسمان کو بار بار دیکھنے اور تخلیق میں غور کرنے کی دعوت یقیناً قابلِ توجہ ہے۔

​انسان نے دمدار ستاروں کو ہزاروں سال دیکھا۔ پہلے ان سے خوف کھایا، پھر ان کے آنے کی تاریخیں لکھیں، بعد میں ان کے مدار کا حساب کیا، پھر خلائی جہاز ان تک بھیجا، اور بالآخر ان کی سطح پر مشین اتار دی۔ آسمان وہی تھا، بدلی تو ہماری دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت تھی۔

​حاصلِ کلام

​دمدار ستارے دراصل نظامِ شمسی کے تقریباً 4.6 ارب سال پرانے برفانی باقیات ہیں۔ یہ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سرد اور تاریک حالت میں گزارتے ہیں، مگر سورج کے قریب آنے پر ان کی برف گیس میں بدلنے لگتی ہے اور ان کے گرد عظیم روشن غلاف اور لاکھوں کلومیٹر لمبی دمیں بن سکتی ہیں۔

​ان کی عموماً دو نمایاں دمیں ہوتی ہیں، اور دونوں سورج سے مخالف سمت میں جاتی ہیں۔ مختصر مدت والے بہت سے دمدار ستاروں کی اصل خطہ Kuiper Belt سے اور طویل مدت والوں کی اصل خطہ Oort Cloud سے جوڑی جاتی ہے۔

​ہمارا جانا پہچانا دمدار ستارہ Halley سال 2061ء میں دوبارہ آئے گا، مشن Rosetta ہمیں ایک دمدار ستارے کی سطح تک پہنچا چکا ہے، اور دمدار ستارہ 3I/ATLAS نے یہ دکھا دیا کہ کبھی کبھار کسی دوسرے ستارے کی دنیا کا برفانی مسافر بھی ہمارے نظامِ شمسی سے گزر سکتا ہے۔

​دمدار ستارے صرف آسمان کی خوبصورت دمیں نہیں، یہ نظامِ شمسی کے بچپن کے منجمد ریکارڈ ہیں۔

​اگلی قسط میں ہم مریخ اور مشتری کے درمیان موجود سیارچوں کی پٹی کا سفر کریں گے—جہاں لاکھوں چٹانی اجسام سورج کے گرد گردش کررہے ہیں، مگر پھر بھی وہاں کبھی کوئی مکمل سیارہ کیوں نہ بن سکا؟

​#نظام_شمسی #دمدار_ستارے #فلکیات #خلائی_تحقیق #سائنس_اور_قرآن

​رپورٹ: ادارہ NASA Science — Comet Facts

رپورٹ: ادارہ NASA Science — Halley’s Comet

رپورٹ: ادارہ NASA Science — Oort Cloud and Kuiper Belt

رپورٹ: ادارہ ESA — Rosetta Mission and Comet 67P

رپورٹ: ادارہ NASA — Shoemaker-Levy 9

رپورٹ: ادارہ NASA Science — 3I/ATLAS

حوالہ: القرآن الكريم — سورۃ الملک: 4

Loading