اب عام دیدار یار ہوگا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سوشل میڈیا پر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ گانوں، نشانیوں اور مختلف اشاروں کے ذریعے علانیہ طور پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ایلومیناٹی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے مختلف symbols اور کئی انداز میں یہ بات کہی کہ اگر کوئی شہرت یا پیسہ چاہتا ہے تو وہ بھی ایلومیـــ ــناٹی کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہ بات سن کر میرے ذہن میں کئی گہرے سوالات اٹھتے ہیں۔ آخر یہ تنظیمیں ہیں کیا؟ یہ کیسے کام کرتی ہیں؟ اور بڑے بڑے مشہور لوگ ان سے کیسے جڑ جاتے ہیں؟
شیطان لوگوں سے روح کا سودا کرتا ہے اور پھر ان سے اپنے کام کرواتا ہے۔ یہ تنظیمیں اصل میں خفیہ ہوتی ہیں، مگر اب کھلے عام سامنے آنے لگی ہیں کیونکہ دجال کے ظہور کا وقت قریب آ چکا ہے۔ دجال اکیلے نہیں آئے گا بلکہ اس سے پہلے اس کا پورا system تیار ہو چکا ہوگا۔ Freemasonry، Knights Templar اور ایلومیناٹی اسی system کا حصہ ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایک کے بعد ایک Blood Moons کا آنا بھی اسی سلسلے کی ایک علامت ہے۔
علامہ اقبال کی نظم ابلیس کی مجلس شوریٰ میں شیطان اپنی کابینہ سے بات کر رہا ہے کہ اس نظام کو کیسے control کیا جائے۔ افسوس کہ ہم نے علامہ اقبال کو اپنی جڑوں سے نکال دیا ہے، حالانکہ انہوں نے آنے والے تمام مسائل کی نشاندہی بھی کی تھی اور ان سے بچنے کا راستہ بھی دکھایا تھا۔ آج ہمارا educational system، ہماری سوچ اور ہماری research سب کچھ control کر لیا گیا ہے۔ ہم صرف social media پر scroll کرتے رہتے ہیں اور اسے ہی علم سمجھ بیٹھے ہیں۔
شیطان کو آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے نکالا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ اب میں خود کو سجدہ کرواؤں گا۔ Lucifer دراصل ابلیس کا دوسرا نام ہے، جسے ’’روشنی دینے والا‘‘ کہا جاتا ہے، حالانکہ وہ اندھیرا ہے۔ ان کا منصوبہ ہمیشہ نعوذباللہ اللہ سے ایک قدم آگے رہنا ہے۔ اللہ کا عدد 66 ہے جبکہ شیطان کا 666۔ یورپ میں منفی عدد 13 ہے جو 12 کے بعد ایک قدم آگے ہے۔ ہماری آنکھوں پر پٹے ڈال دیے گئے ہیں تاکہ ہم حقیقت کو نہ دیکھ سکیں۔
ہماری اصل طاقت ہمارا دینی ورثہ اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت ہے۔ اگر ہم اس پر مضبوطی سے کھڑے ہو جائیں تو ہم ان negative قوتوں کو ٹکر دے سکتے ہیں۔ مگر ہمارا دیکھنے، سوچنے اور سمجھنے کا انداز بدل دیا گیا ہے۔ شیطان حقیقت اور جھوٹ کے درمیان ایک دھند کی دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں ایسی معلومات plot کی جاتی ہیں جو حقیقت کے قریب لگتی ہیں، مگر اصل حقیقت سے دور لے جاتی ہیں۔ جو لوگ شک اور تذبذب کا شکار ہوتے ہیں وہ ان قوتوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
شیطان کسی کی مرضی کے بغیر اسے manipulate نہیں کر سکتا۔ یہ قوتیں فائدے دیتی ہیں، Business چلا دیتی ہیں، شہرت دے دیتی ہیں اور videos viral کروا دیتی ہیں۔ بدلے میں کہتی ہیں کہ ہمارے لیے کام کرو۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو قرآن میں ہے کہ انہوں نے تھوڑی سی قیمت کے بدلے اپنی آخرت بیچ دی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ترقی کر رہے ہیں، حالانکہ وہ نیچے گر رہے ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج بعض معروف لوگ کھلے عام ایلومـــ ــیناٹی سے وابستگی کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ مختلف اشاروں، symbols اور اپنے انداز کے ذریعے وہ لوگوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ شہرت، دولت اور طاقت حاصل کرنے کے لیے اس system کا حصہ بننا ممکن ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم آنکھیں کھولیں اور حقیقت کو سمجھیں۔
اب دجال کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ بات واضح ہے کہ دجال ایک شخصیت ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مگر کوئی بھی بڑا آدمی جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے ساتھ اس کا پورا system، security اور انتظام ہوتا ہے۔ دجال اکیلا نہیں آئے گا۔ اس کے آنے سے پہلے اس کا پورا نظام تیار ہو چکا ہوگا۔ یہی تنظیمیں اس نظام کی تیاری کر رہی ہیں۔
دنیا میں تین بڑی تنظیمیں ہیں۔ پہلی تنظیم Knights Templar ہے جو بہت پرانی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور سے بھی پہلے، جب دوسرے ہیکل کو آگ لگائی گئی، تو اس کے بعد یہ تنظیم وجود میں آئی اور اس کا اعلان سولہویں صدی کے آس پاس ہوا۔ یہی لوگ French Revolution کے پیچھے تھے۔ اس وقت کے بادشاہ کو ختم کیا گیا اور Media بھی ان کے ہاتھ میں تھا۔
دوسری تنظیم Freemasonry ہے۔ یہ تیسری ہیکل بنانے والوں اور One World Order کی تیاری کرنے والوں کی تنظیم ہے۔ تیسری تنظیم ایلومیناٹی ہے، جس میں آج کل بہت سے لوگ شامل ہیں۔ یہ تینوں تنظیمیں ایک مرحلے پر آپس میں مل گئیں اور انہوں نے دنیا کی دولت پر قبضہ کرنے، سب کو اپنی نگرانی میں رکھنے اور اپنی سلطنت قائم کرنے کا معاہدہ کیا۔ Dollar کے نوٹ پر اہرام اور آنکھ کا نشان بھی اسی کا حصہ ہے۔
یہ تنظیمیں میز کے نیچے کام کرتی ہیں، کھلے عام نہیں۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ یہ سامنے آنے لگی ہیں۔
“زمانہ آیا ہے بے حجابی کا
اب عام دیدارِ یار ہوگا “
جو پردہ دار تھا، وہ راز اب آشکار ہوگا۔ شیطانی قوتوں کو مختلف سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ چاند بار بار سرخ ہوگا اور منفی قوتیں مضبوط ہوتی جائیں گی۔ پہلے Blood Moon بہت کم ہوتے تھے، پندرہ سال بعد یا پانچ سال بعد، مگر گزشتہ تین سال میں ایک کے بعد ایک پانچ Blood Moons آ چکے ہیں۔
اس کے بعد Red Heifer کا معاملہ سامنے آیا۔ فلسطین میں زیتون کے درخت کاٹ کر غرقد کے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے غرقد کو یہودیوں کا درخت قرار دیا ہے۔ ان درختوں کے پیچھے وہ چھپیں گے۔ پودوں میں بھی ایک خاص energy ہوتی ہے جو signal دیتی ہے۔ یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں۔
یہ تنظیمیں صرف سیاسی یا سماجی نہیں۔ ان میں bankers ہوتے ہیں، سیاستدان ہوتے ہیں اور مذہبی رہنما بھی شامل ہوتے ہیں۔ صیہونیت بنیادی طور پر ایک سیاسی نظام ہے جو پوری دنیا کو ایک حکومت کے تحت لانا چاہتا ہے۔ One World Order میں کوئی مذہب نہیں ہوگا، فوج غیر مرکزی ہوگی اور پوری دنیا ایک طاقت کے ماتحت ہوگی۔ وہ طاقت ایلومیـــ ــناٹی کی negative قوت ہوگی۔
ایران کی حالیہ جنگ میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ ان میں سے کچھ طویل عرصے سے انہی کے system میں کام کر رہے تھے۔ یہ صرف ایران میں نہیں بلکہ ہر جگہ موجود ہیں۔ دنیا کی policies وہیں بنتی ہیں۔ IMF جیسی تنظیمیں ان ممالک میں آواز بند کر دیتی ہیں جہاں سے انہیں خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ Media بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔
مغلوں کی بادشاہت ختم کرنے میں بھی یہی لوگ شامل تھے۔ عثمانی سلطنت کے خاتمے میں بھی ان کا ہاتھ تھا۔ ارطغرل جیسی series میں جو لوگ مندروں میں بیٹھے دکھائے گئے ہیں، وہ Freemason اور Knights Templar ہی تھے۔ ایلومیناٹی 1776 میں بنی تھی، مگر اس کی جڑیں بہت پرانی ہیں۔ اب یہ کھلے عام سامنے آ رہے ہیں کیونکہ Antichrist کے آنے کا وقت قریب ہے۔
دجال کا مطلب دھوکہ دینے والا ہے۔ وہ جنت اور دوزخ دکھائے گا۔ جو جنت دکھائے گا وہ دراصل دوزخ ہوگی۔ لوگ پیسہ، شہرت اور viral videos کے لالچ میں پھنس جاتے ہیں اور اپنی قبر میں آگ بھرتے رہتے ہیں۔ جو انکار کرے گا، اس کا channel بند ہو جائے گا، job نہیں ملے گی اور سارا کچھ رک جائے گا۔
علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا ہے۔ مومن بغیر تلوار کے بھی سپاہی بن کر لڑتا ہے۔ آج کی machines، Artificial Intelligence اور Media یہی سہارا ہیں۔ Positive اور negative دونوں تنظیمیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ان کے لوگ ایک دوسرے کے اندر بیٹھے ہوتے ہیں۔
اللہ نے ارواح سے عہد لیا تھا۔ کچھ روحیں پاکیزہ رہیں، کچھ کافر ہو گئیں اور کچھ تذبذب کا شکار ہو گئیں۔ اللہ نے اس امتحان کے جہاں میں دونوں طرف کشش رکھی ہے۔ پاکیزہ روحیں ایک طرف بد روحیں ایک طرف ۔مسلمانوں کے گھروں میں کافر اور کافروں کے گھروں میں مسلمان پیدا ہوجاتے ہیں۔ پھر اللہ الگ الگ کر دیتا ہے۔ یہ اللہ کا نظام ہے۔ اچھائی اور برائی مل کر نہیں رہ سکتیں۔
آج بھی ان کے لوگ ہمارے مذہبی مراکز میں موجود ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی ہم اس system کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم حقیقت کو پہچانیں اور اپنے عہد پر قائم رہیں۔
تفرقہ بازی، وہابی، دیوبندی کی لڑائیاں کروا کر ہمیں تقسیم کیا جاتا ہے۔ دین تو اللہ تعالیٰ کا ہے اور راہ رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ British Empire نے عثمانی خلافت کو توڑا اور اس کے پیچھے Knights Templar، Freemasons اور ایلومیناٹی ہی تھے۔ اسرائیل اسی کے بعد وجود میں آیا۔
اب ہم ملحمۃ الکبریٰ کے قریب ہیں۔ یہ سات سال کی بڑی جنگ ہے جس کے بعد Armageddon ہوگا۔ خراسان کے جھنڈے اور یورپ سے نکلنے والا لشکر اس کی نشانیاں ہیں۔ فتح اللہ اور اس کے نظام کی ہوگی، بشرطیکہ ہم پرہیزگار ہوں۔ ایک طرف اللہ کے ساتھ اور دوسری طرف دشمنوں کے ساتھ رہنا منافقت ہے، جو اللہ کو ناپسند ہے۔
یہ لوگ عام لوگوں پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں اور انہیں بڑی شہرت دے دیتے ہیں۔ بعض لوگ دنیا کے مہنگے ترین دورے کرتے ہیں اور اچانک عالمی سطح پر شہرت حاصل کر لیتے ہیں۔ رابطہ شخص سے شخص ہوتا ہے۔ روح کا سودا ہوتا ہے اور اس کے رسوم و رواج ہوتے ہیں۔ قربانی دینی پڑتی ہے۔
شیطان کو اللہ نے اجازت نہیں دی کہ تمہاری مرضی کے بغیر تمہیں بہکائے۔ انسان کے اندر پاکیزگی کا ایک نظام ہے جسے ضمیر کہتے ہیں۔ جب دلوں پر مہر لگ جاتی ہے تو negative قوتوں کا راستہ کھل جاتا ہے۔ روشنی کے لیے connection چاہیے، مگر اندھیرا کرنے کے لیے صرف روشنی ختم کرنا کافی ہے۔
جادو کی تاریخ میں Diana نامی دیوی کا ذکر ہے۔ کچھ جگہوں پر مخصوص سیڑھیاں اتار کر چڑھنے سے یا مخصوص جھیلوں کے گرد گھومنے سے اندر کی پاکیزگی تباہ کر دی جاتی ہے۔ لاعلمی میں لوگ مر جاتے ہیں۔ دین صرف عبادت نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا پورا طریقہ ہے۔ رہن سہن، سوچ اور ہر چیز اللہ کے تحت ہونی چاہیے۔
لوسیفیرینز نے اب باقاعدہ اپنا مذہب registered کروا لیا ہے۔ پہلے خفیہ تھے، اب کھلے عام ہیں۔ زمانے کے انداز بدل گئے۔ ہم نے اپنے بچوں کو صحیح heroes نہیں دکھائے۔ Villains کو hero بنا کر دکھایا جاتا ہے تو بچے وہی بننا شروع کر دیتے ہیں۔
لوگوں کو عیش و آرام کی زندگی کا عادی بنایا جاتا ہے۔ بڑے گھر اور گاڑیاں کرائے پر لی جاتی ہیں، پھر انہیں پکڑ لیا جاتا ہے۔ رابطہ اس وقت ہوتا ہے جب کمزوری ہو۔ شہرت کی بھوک ہو تو شہرت، پیسے کی بھوک ہو تو پیسہ۔ پھر انسان ان کے پنجے سے باہر نہیں نکل پاتا۔ خواہش ہونا ٹھیک ہے، مگر اسے پورا کرنے کا راستہ صرف صراطِ مستقیم ہونا چاہیے۔
#غزالیات #غــزالیــات #احـمــدالــغــزالی
احمـــد الغــزالی
![]()

