Daily Roshni News

یہیں سے علم کے اگلے مرحلے کا دروازہ کھلتا ہے

یہیں سے علم کے اگلے

مرحلے کا دروازہ کھلتا ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )عقل کے سفر میں جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ حواس اسے حقیقت کا کچھ حصہ دکھاتے ہیں، تجربہ اسے بعض نتائج تک پہنچاتا ہے، خبر اسے اپنے مشاہدے سے باہر کی دنیا سے جوڑتی ہے اور عقل ان تمام معلومات کو ترتیب دے کر ان کے درمیان ربط قائم کرتی ہے، تو ایک اور بنیادی سوال اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: کیا انسان حقیقت کی تلاش بالکل خالی ذہن اور بے سمت وجود کے ساتھ شروع کرتا ہے، یا اس کے اندر پہلے ہی سے کوئی ایسی داخلی ساخت ودیعت کر دی گئی ہے جو اسے بعض حقائق کی طرف مائل کرتی ہے؟ یہی سوال ہمیں فطرت تک لے جاتا ہے۔

فطرت محض انسانی طبیعت، مزاج یا پسند کا نام نہیں۔ ہر انسان کی طبیعت الگ ہو سکتی ہے، مزاج مختلف ہو سکتے ہیں، خواہشیں متضاد ہو سکتی ہیں اور عادات ماحول سے بدل سکتی ہیں، مگر فطرت اس بنیادی ساخت کا نام ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔ قرآن مجید اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ﴿فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا﴾؛ یعنی اللہ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔ اس لیے فطرت انسان کی ایجاد نہیں بلکہ اس کی تخلیق کے ساتھ ودیعت کی گئی ایک بنیادی استعداد ہے۔

یہاں انسانی فطرت کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ اگر فطرت کو صرف جبلّی خواہش سمجھ لیا جائے تو پھر بھوک، شہوت، غصہ، ملکیت، غلبہ اور انتقام بھی فطرت قرار پائیں گے، حالاں کہ شریعت کا کام ان تمام قوتوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں صحیح سمت دینا ہے۔ فطرت انسان کے اندر موجود وہ بنیادی استعداد ہے جس کے ذریعے وہ حق، خیر، عدل، عبودیت اور اپنے خالق کی طرف میلان کے امکان کو قبول کر سکتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ»؛ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ماحول، تربیت اور معاشرتی اثرات اس کے فکری و اعتقادی رخ کو متاثر کرتے ہیں۔

فطرت کا سب سے گہرا تعلق توحید سے ہے۔ انسان جب اپنے وجود پر غور کرتا ہے تو محض یہ نہیں دیکھتا کہ وہ موجود ہے، بلکہ اس کے اندر ایک ایسا سوال بھی پیدا ہوتا ہے جو اسے اپنے وجود کے سبب، اپنے خالق اور اپنی وابستگی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ قرآن انسان کو بار بار آفاق و انفس کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ توحید اسی داخلی میلان کو صحیح معرفت عطا کرتی ہے: انسان اپنی محتاجی کو پہچانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ خود اپنا خالق، مالک اور آخری مرجع نہیں۔

اسی طرح فطرت اور ایمان کا تعلق بھی محض جذباتی نہیں۔ ایمان انسان کے اندر موجود حق پذیری کو وحی کے ذریعے واضح، منظم اور مکمل کرتا ہے۔ فطرت راستہ پہچاننے کی ابتدائی استعداد دے سکتی ہے، مگر تفصیلی ہدایت، عبادات، حلال و حرام، آخرت کی حقیقت اور اللہ کی مرضیات کا علم وحی سے آتا ہے۔ اس لیے فطرت کو وحی کا متبادل سمجھنا درست نہیں؛ فطرت ہدایت کی قبولیت کے لیے ایک بنیادی داخلی استعداد ہے، جبکہ وحی اس استعداد کو صحیح سمت، واضح معیار اور مکمل رہنمائی عطا کرتی ہے۔

یہی معاملہ ضمیر کے ساتھ بھی ہے۔ انسان کے اندر خیر و شر کے درمیان فرق محسوس کرنے کی ایک اخلاقی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ بعض اعمال پر دل کا سکڑنا اور بعض پر اطمینان محسوس ہونا اسی داخلی اخلاقی شعور کی ایک صورت ہو سکتی ہے۔ لیکن ضمیر بذاتِ خود ہمیشہ معصوم اور صحیح معیار نہیں۔ اگر اسے مسلسل غلط ماحول، غلط نظریات اور گناہ کی عادتوں کے تابع کر دیا جائے تو اس کی حساسیت کم ہو سکتی ہے۔ اس لیے فطری اخلاقی شعور کو وحی کی روشنی میں پاکیزہ اور درست رکھنا ضروری ہے۔

انسان میں خیر کا ایک بنیادی شعور بھی رکھا گیا ہے۔ عدل، سچائی، امانت، رحم اور وفا جیسی قدریں انسانی معاشروں میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ اسی طرح ظلم، خیانت، دھوکا اور بے وفائی کے خلاف ایک بنیادی نفرت بھی انسانی شعور میں پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر انسان ہر اخلاقی مسئلے کا درست فیصلہ خود بخود کر لیتا ہے؛ بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر خیر کو قبول کرنے اور شر کو محسوس کرنے کی ایک ابتدائی صلاحیت موجود ہے جس کی تکمیل تعلیم، عقل، تربیت اور وحی سے ہوتی ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے تو اس کی فطرت میں بگاڑ کیوں پیدا ہو جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ فطرت مٹ جانے کے بجائے دب سکتی ہے، اس پر پردے پڑ سکتے ہیں اور اس کی آواز کمزور ہو سکتی ہے۔ مسلسل گناہ، خواہشات کی غلامی، غلط تربیت، فکری تعصب، ماحول کا دباؤ اور دنیاوی مفادات انسان کے اندر موجود حق پسندی کو کمزور کر سکتے ہیں۔ انسان کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسے حق کا احساس ہوتا ہے مگر وہ اسے قبول کرنے کے لیے اپنی خواہش قربان نہیں کرنا چاہتا۔

یہاں ماحول کا کردار سامنے آتا ہے۔ بچہ جس گھر، زبان، معاشرے، تہذیب اور فکری ماحول میں پروان چڑھتا ہے، وہ اس کے تصورات کی تشکیل میں گہرا اثر ڈالتا ہے۔ ماحول انسان کو بہت سی چیزیں معمول، غیر معمول، درست یا غلط محسوس کرا سکتا ہے۔ لیکن ماحول فطرت کا خالق نہیں؛ وہ فطرت پر اثر انداز ہونے والی قوت ہے۔ اسی لیے انسان اپنے ماحول کے باوجود اس سے بلند ہو سکتا ہے۔ اگر ماحول ہی انسان کی آخری تقدیر ہوتا تو انبیاء علیہم السلام کی دعوت، اصلاح، توبہ اور ہدایت کا مفہوم باقی نہ رہتا۔

گناہ فطرت کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرتا ہے۔ گناہ صرف ایک بیرونی قانونی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسان کے اندر موجود اخلاقی توازن پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ابتدا میں جس گناہ پر دل ملامت کرتا ہے، اگر اسے بار بار کیا جائے تو ملامت کی شدت کم ہو سکتی ہے۔ پھر گناہ معمول بن جاتا ہے، معمول جواز میں بدلتا ہے اور جواز بالآخر نظریے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ یوں انسان کبھی اپنی فطرت کی آواز کو دبانے کے لیے اپنے لیے ایک فکری نظام تک بنا لیتا ہے۔

خواہش اس عمل کو مزید پیچیدہ کر دیتی ہے۔ عقل کبھی خواہش کی وکیل بن جاتی ہے اور ضمیر کبھی خواہش کے دباؤ میں خاموش ہونے لگتا ہے۔ انسان جس چیز کو چاہتا ہے، اس کے لیے دلیل تلاش کرنے لگتا ہے؛ اور جس حقیقت سے اس کی خواہش ٹکراتی ہے، اس کے خلاف تاویل پیدا کر لیتا ہے۔ اس مقام پر فطرت کی آواز موجود ہونے کے باوجود انسان اسے سننا چھوڑ سکتا ہے۔ فطرت کی خرابی سے زیادہ خطرناک فطرت کی مخالفت کو حق ثابت کرنے کی کوشش ہے۔

تہذیب بھی انسانی فطرت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ تہذیب انسان کو لباس، زبان، رہن سہن، ادارے اور اجتماعی اقدار ہی نہیں دیتی بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ کامیابی کیا ہے، عزت کس چیز میں ہے، خوب صورتی کیا ہے اور زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اس لیے ہر تہذیبی تصور کو فطرت کا نام دے دینا درست نہیں۔ کوئی چیز معاشرے میں عام ہو جائے تو ضروری نہیں کہ وہ حق بھی ہو۔ انسان کی فطرت کو تہذیبی عادات اور تاریخی معمولات سے الگ پہچاننے کے لیے عقل اور وحی دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

جب فطرت مسلسل دبتی رہے تو ایک وقت آتا ہے جب انسان اپنے اندر ایک عجیب خلا محسوس کرتا ہے۔ بظاہر زندگی درست چل رہی ہوتی ہے، خواہشیں پوری ہو رہی ہوتی ہیں، دنیاوی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہوتی ہیں، مگر اندر سے کوئی سوال اٹھتا رہتا ہے: کیا یہی سب کچھ ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں فطرت کی بیداری شروع ہو سکتی ہے۔ کبھی تنہائی، کبھی مصیبت، کبھی موت کا مشاہدہ، کبھی کسی آیت کی تاثیر اور کبھی زندگی کا کوئی غیر معمولی واقعہ انسان کے اندر دبے ہوئے سوال کو دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔

فطرت کی بیداری دراصل کسی نئی چیز کی تخلیق نہیں بلکہ ایک دبی ہوئی حقیقت کے دوبارہ نمایاں ہونے کا نام ہے۔ انسان اپنے اندر موجود اس احساس کی طرف لوٹتا ہے جسے اس نے مدت سے نظر انداز کیا تھا۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات سے بڑا ہے، اپنے ماحول سے زیادہ وسیع ہے اور دنیاوی کامیابی سے زیادہ گہری کسی حقیقت کا محتاج ہے۔ یہی احساس اسے توبہ کی طرف لے جا سکتا ہے۔

توبہ اسی لیے صرف گناہ چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ اپنے اصل رخ کی طرف واپسی بھی ہے۔ انسان جب اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے تو وہ محض ایک حکم کی تعمیل نہیں کرتا بلکہ اپنے وجود کے اس بنیادی مقصد کی طرف واپس آتا ہے جس سے اس کی فطرت ہم آہنگ ہے۔ قرآن کا تصورِ توبہ انسان کو ماضی کے بوجھ میں قید نہیں کرتا بلکہ اسے واپسی کا دروازہ دکھاتا ہے۔ گناہ جتنا بھی پردہ ڈال دے، اللہ کی طرف رجوع کا امکان باقی رہتا ہے۔

لیکن فطرت کو بیدار کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے قرآن سے تعلق ناگزیر ہے۔ قرآن انسان کے اندر پہلے سے موجود سوالات کو صحیح سمت دیتا ہے، اس کے فکری مغالطوں کو توڑتا ہے، اس کے ضمیر کو جگاتا ہے، اس کے اعمال کا اخلاقی معیار متعین کرتا ہے اور اسے اپنے رب کے ساتھ اس تعلق کی حقیقت سمجھاتا ہے جس کی طرف فطرت اشارہ کرتی ہے۔ قرآن فطرت کو بدلنے کے بجائے اسے اس کے صحیح مقام پر لاتا ہے۔

اسی لیے فطرت اور وحی کو باہم متصادم سمجھنا بنیادی غلطی ہے۔ فطرت انسان کے اندر سے حق کی طلب پیدا کرتی ہے اور وحی باہر سے حق کی تفصیلی خبر دیتی ہے۔ فطرت سوال اٹھاتی ہے، وحی جواب کی راہ دکھاتی ہے؛ فطرت حق کو قبول کرنے کی استعداد دیتی ہے، وحی حق کی تعیین کرتی ہے؛ فطرت خیر کی طرف میلان پیدا کرتی ہے، وحی خیر کا معیار اور اس کا عملی راستہ واضح کرتی ہے۔ اس طرح دونوں مل کر انسانی ہدایت کے سفر کو مکمل کرتے ہیں۔

فطرت اور اخلاق کا تعلق بھی اسی جامع نظام کا حصہ ہے۔ اخلاق صرف معاشرتی آداب کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کے اندر موجود خیر کی طلب کو عملی کردار میں تبدیل کرنے کا نام ہے۔ سچائی صرف سچ کو اچھا سمجھنے سے نہیں آتی، بلکہ سچ بولنے کے وقت اپنے مفاد کی قربانی دینے سے ظاہر ہوتی ہے۔ عدل صرف ظلم کو برا سمجھنے کا نام نہیں بلکہ اپنے خلاف بھی انصاف کرنے کی قوت پیدا کرنا ہے۔ یوں فطرت کا شعور جب عمل میں اترتا ہے تو اخلاق بنتا ہے، اور جب وحی اس اخلاق کو اللہ کی رضا سے جوڑ دیتی ہے تو کردار عبادت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔

آخرکار انسان کے سامنے دو راستے رہتے ہیں: یا تو وہ اپنی فطرت پر تہذیب، خواہش، گناہ، تعصب اور مفاد کے پردے بڑھاتا چلا جائے، یا ان پردوں کو ہٹا کر اپنے اصل رخ کی طرف واپس آئے۔ فطرت کی طرف واپسی ماضی کی طرف واپسی نہیں بلکہ حقیقت کی طرف واپسی ہے۔ یہ انسان کو اس کے رب، اس کے مقصد، اس کی اخلاقی ذمہ داری اور اس کے آخری انجام سے دوبارہ جوڑتی ہے۔

یہاں فطرت کا سفر ہدایت کے دروازے پر آ کر مکمل ہوتا ہے۔ حیرت نے سوال پیدا کیا تھا، علم نے حقیقت کی تلاش سکھائی، ذرائعِ علم نے جاننے کے راستے دکھائے، عقل نے ان راستوں سے آنے والے مواد کو پرکھا، اور فطرت نے انسان کے اندر موجود اس بنیادی میلان کو ظاہر کیا جو حق کی طرف متوجہ ہونے کے لیے پہلے ہی ودیعت کیا گیا تھا۔ مگر ابھی سفر مکمل نہیں ہوا؛ کیونکہ حق کا امکان جان لینا اور حق پر یقین حاصل کر لینا دو الگ مرحلے ہیں۔

فطرت انسان کو حق کی طرف متوجہ کرتی ہے، مگر ہدایت اسے حق پر ثابت قدم کرتی ہے۔ عقل امکان اور دلیل کو سمجھتی ہے، فطرت حق کی طرف میلان پیدا کرتی ہے، وحی حق کو واضح کرتی ہے، اور ایمان انسان کو اس حق کے سامنے جھکا دیتا ہے۔ یوں فطرت سے ہدایت تک کا سفر انسان کے اندر موجود استعداد سے شروع ہو کر اللہ کی عطا کردہ رہنمائی تک پہنچتا ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں اگلا بنیادی سوال جنم لیتا ہے: جب انسان کسی حقیقت کو جانتا ہے تو اسے کس درجے کا یقین حاصل ہوتا ہے؟ کیا ہر علم یقین ہوتا ہے؟ کیا ہر احتمال شک ہے؟ ظن، شک، وہم اور یقین میں کیا فرق ہے؟ اور انسان کیسے پہچانے کہ اس کا ذہن حقیقت تک پہنچا ہے یا محض ایک گمان کو حقیقت سمجھ بیٹھا ہے؟

یہیں سے علم کے اگلے مرحلے کا دروازہ کھلتا ہے: یقین، ظن، شک اور وہم۔

Loading