انسانی آنکھ…. جو نگاہ کا تصوّر دے رہی ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) انسانی آنکھ…. جو نگاہ کا تصوّر دے رہی ہے…. کائنات کو دیکھتی ہے۔کائنات کا دیکھنا دو طرزوں میں ہے:

o ایک کائنات کو صرف دیکھنا

o دوسری طرز یہ ہے کہ کائنات کی ماہیت سے واقف ہونا…. یہ معلوم کرنا کہ کائنات کن فارمولوں سے مرکب ہے….

کائنات کو دیکھنا یا مظاہر کو دیکھنا شعوری دائرہ کار میں آتا ہے ….

کائنات کے باطن کو دیکھنا یعنی کائنات کن فارمولوں پر قائم ہے…. لاشعور میں دیکھنا ہے۔

انسان کا لاشعور اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ کائنات کے ہر ذرّہ کی شکل و صورت، حرکات اور باطنی حسّیات کیا ہیں؟ یہ علم شعور میں اس لئے نہیں آتا کہ انسانی شعور کو اپنے لاشعور کا مطالعہ کرنا نہیں آتا۔ اگر ہمارے اندر لاشعور کو مطالعہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے تو پھر کائنات کے ہر ذرّہ کی شکل و صورت، حرکات اور باطنی حسّیات کا مطالعہ کرنا آسان ہو جائے گا۔ کائنات کی باطنی حسّیات کو مطالعہ کرنے کی صلاحیتوں میں پہلی صلاحیت کا نام “کشف الجُو” ہے۔

مضمون نگار کی مثال دی جا چکی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مضمون نگار جبمضمون لکھنے بیٹھتا ہے تو:

o مضمون کا مفہوم پہلے مضمون نگار کے لاشعور میں موجود تھا…. وہاں سے منتقل ہو کر ذہن تک پہنچا ….اور

o جب شعور لاشعور میں موجود مضمون کی طرف متوجہ ہُوا…. تو مضمون الفاظ کی شکل اختیار کر کے کاغذ پر منتقل ہو گیا

روحانی نقطۂ نگاہ سے مضمون کا موجود ہونا زمان اور مکان میں قید نہیں ہے۔ لاشعور میں مضمون پہلے سے موجود تھا خواہ وہ ہزاروں سال پہلے لکھا جا چکا ہو یا ہزاروں سال بعد لکھا جانے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے “کُن” کہا تو ازل سے ابد تک جو کچھ جس جس ترتیب کے ساتھ وقوع میں آنا تھا وقوع میں آ گیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذہن میں کائنات سے متعلق جو پروگرام تھا…. اُس پروگرام سے متعلق جو فارمولے تھے…. اَجزائے ترکیبی تھے…. اُن اَجزائے ترکیبی میں ماضی حال مستقبل جس طرح موجود تھے…. ‘‘کُن’’ کہتے ہی…. وُجود میں آ گئے۔

‘‘کُن’’ کہنے کے بعد…. کسی زمانے میں بھی…. لاکھوں سال پہلے یا لاکھوں سال بعد…. جو چیز بھی مظاہرے میں آئے گی…. وہ اس کُن کا مظہر ہو گی جو کُن کے بعد وُجود میں آ چکا ہے۔ یعنی کائنات میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہو سکتی جو پہلے سے اپنا وُجود نہ رکھتی ہو۔

Loading