سموگ: صاف ہوا کا قومی مقدمہ.

سموگ: صاف ہوا کا قومی مقدمہ.

از قلم:طَاھر اِقْبَال طَاھرؔ

سموگ اب محض موسمِ سرما کی ایک عارضی دھند نہیں رہی؛ یہ ہمارے عہد کا ایک پیچیدہ ماحولیاتی، طبی اور شہری مسئلہ بن چکی ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ جب فضا میں ہواؤں کی رفتار کم ہوتی ہے تو دھوئیں، گردوغبار، صنعتی اخراج اور دیگر باریک آلودہ ذرات فضا میں معلق رہتے ہیں۔ یوں شہر کی فضائیں ایک ایسی دبیز چادر اوڑھ لیتی ہیں جس کے پار سورج بھی مدھم اور زندگی بھی بوجھل دکھائی دینے لگتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے فضائی آلودگی کو انسانی صحت کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیا ہے۔ بالخصوص PM2.5 جیسے باریک ذرات نظامِ تنفس سے آگے جسم کے اندرونی نظام تک اثرانداز ہوسکتے ہیں اور قلبی و تنفسی امراض کے خطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس لیے صاف ہوا محض ماحولیاتی آسائش نہیں بلکہ انسانی صحت کی بنیادی ضرورت ہے۔

پاکستان، بالخصوص پنجاب، کے لیے یہ مسئلہ مزید اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی بینک کی پنجاب کلین ایئر پروگرام سے متعلق تحقیق میں پنجاب میں PM2.5 کی بلند سطح کو ایک سنجیدہ ماحولیاتی چیلنج قرار دیا گیا ہے اور صاف ہوا کے لیے ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، توانائی اور شہری خدمات کو ایک مربوط حکمتِ عملی میں لانے پر زور دیا گیا ہے۔

سموگ کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا کوئی ایک مجرم نہیں۔ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹے، فصلوں کی باقیات جلانا، کھلے میں کچرا نذرِ آتش کرنا، تعمیراتی گردوغبار اور بعض تجارتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا دھواں، سب مل کر فضائی آلودگی کے اس پیچیدہ منظرنامے کو تشکیل دیتے ہیں۔ چنانچہ اس کا حل بھی کسی ایک محکمے، ایک مہم یا چند روزہ کارروائی میں پوشیدہ نہیں۔

اقوامِ متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام (UNEP) بھی صاف ہوا کے لیے مؤثر فضائی نگرانی، صاف ٹرانسپورٹ، صنعتی اخراج میں کمی، پائیدار زرعی طریقوں، بہتر کچرا انتظام اور مؤثر قانون نافذ کرنے کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ دنیا کا تجربہ بتاتا ہے کہ سموگ کے خلاف پائیدار کامیابی محض وقتی پابندیوں سے نہیں بلکہ مستقل پالیسی اور مسلسل عملدرآمد سے حاصل ہوتی ہے۔

اسی تناظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے انسدادِ سموگ کے لیے نگرانی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ڈرون سرویلنس، فیلڈ انفورسمنٹ، فضائی معیار کی پیمائش اور آلودگی کے مقامی ذرائع کی نشاندہی پر توجہ قابلِ ذکر ہے۔ پنجاب کے ماحولیاتی اداروں کی جانب سے پری-سموگ ایکشن پلان اور فضائی معیار کی نگرانی کے نظام کا مقصد بھی یہی ہے کہ آلودگی کے بحران کے ظاہر ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے اس کے اسباب کی پہلے سے نشاندہی اور تدارک کیا جائے۔

یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ ماحولیاتی حکمرانی محض چھاپہ مار کارروائی کا نام نہیں۔ جدید ماحولیاتی نظم و نسق اعدادوشمار، سائنسی پیمائش، مسلسل نگرانی اور شفاف احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر آلودگی کے منبع کی درست شناخت ہوجائے تو کارروائی بھی زیادہ متعین، مؤثر اور نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔

صنعتی شعبہ اس قومی کوشش کا ایک بنیادی فریق ہے۔ صنعت معاشی ترقی، روزگار اور قومی پیداوار کا ذریعہ ہے، لیکن اگر صنعتی ترقی ماحولیاتی ذمہ داری سے منقطع ہوجائے تو اس کی قیمت معاشرہ صحت اور ماحول کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ جدید فلٹریشن سسٹم، ایمیشن کنٹرول آلات، مشینری کی باقاعدہ دیکھ بھال اور اخراج کی مسلسل نگرانی صنعت اور ماحول کے درمیان ایک متوازن رشتہ قائم کرسکتی ہے۔

اسی طرح گاڑیوں کا دھواں بھی شہری فضائی آلودگی کا اہم عنصر ہے۔ پرانی یا ناقص حالت میں موجود گاڑیاں، غیر مؤثر انجن اور مناسب فٹنس کے بغیر سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں شہری فضا پر اضافی بوجھ ڈال سکتی ہیں۔ گاڑیوں کی فٹنس، ایمیشن ٹیسٹنگ، صاف ایندھن، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور کم اخراج والی ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی اس مسئلے کے مستقل حل کا حصہ ہونی چاہیے۔

زرعی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانا بھی توجہ طلب مسئلہ ہے۔ اس کے لیے قانون کے نفاذ کے ساتھ کسانوں کو متبادل طریقوں، جدید زرعی مشینری اور باقیات کے مفید انتظام سے متعلق سہولت اور آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے۔ محض پابندی اس وقت تک مکمل حل نہیں بنتی جب تک اس پابندی پر عمل کے لیے قابلِ عمل متبادل بھی موجود نہ ہوں۔

کچرے کو کھلے میں جلانے کا عمل بھی بظاہر معمولی مگر مجموعی طور پر سنگین ماحولیاتی اثرات پیدا کرسکتا ہے۔ ایک جگہ جلنے والا کچرا شاید معمولی محسوس ہو، لیکن جب یہی عمل ہزاروں مقامات پر دہرایا جائے تو فضا پر اس کے اثرات ایک اجتماعی المیے کی صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ مؤثر ویسٹ مینجمنٹ، بروقت صفائی اور شہری شعور اس مسئلے کے بنیادی ستون ہیں۔

سموگ کا ایک اہم پہلو صحت ہے۔ آلودہ فضا بچوں، بزرگوں اور پہلے سے سانس کے مسائل رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ آنکھوں میں جلن، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر تنفسی علامات فضائی آلودگی کے دنوں میں بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے انسدادِ سموگ کو صحتِ عامہ کی پالیسی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

مرئیت میں کمی بھی اس مسئلے کی ایک اہم جہت ہے۔ جب دھند اور آلودگی مل کر فضا کو دھندلا کردیتی ہیں تو شاہراہوں، موٹرویز اور شہری سڑکوں پر نقل و حرکت متاثر ہوسکتی ہے۔ یوں سموگ صرف صحت نہیں بلکہ شہری سلامتی، معاشی سرگرمی اور روزمرہ معمولات کے لیے بھی ایک چیلنج بن جاتی ہے۔

تاہم کسی بھی انسدادِ سموگ مہم کی کامیابی صرف جرمانوں، سیل کیے گئے یونٹس یا معائنوں کی تعداد سے نہیں ناپی جانی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آلودگی کے بنیادی ذرائع میں مستقل کمی آئی؟ کیا فضائی معیار میں بہتری ہوئی؟ کیا صنعتی اور شہری نظام میں ایسی تبدیلی پیدا ہوئی جو آئندہ برسوں تک برقرار رہ سکے؟

یہیں سے حکومت کے ساتھ معاشرے کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ انتظامیہ قانون بنا اور نافذ کرسکتی ہے، ماحولیاتی ادارے نگرانی کرسکتے ہیں، صنعتکار اخراج کم کرسکتے ہیں، کسان فصلوں کی باقیات کے بہتر انتظام کی طرف آسکتے ہیں؛ مگر شہری بھی اپنے حصے کی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہوسکتا۔

صاف ہوا حکومت کی عطا نہیں، ہر شہری کا بنیادی حق ہے؛ لیکن اس حق کا تحفظ بھی اجتماعی فرض ہے۔ گاڑی کی بروقت فٹنس، غیر ضروری دھوئیں سے اجتناب، کچرا نہ جلانا، شجرکاری، پبلک ٹرانسپورٹ کے مناسب استعمال اور ماحولیاتی قوانین کی پاسداری جیسے بظاہر معمولی اقدامات مجموعی طور پر بڑے ماحولیاتی نتائج پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ پنجاب میں انسدادِ سموگ کی حکمتِ عملی بتدریج روایتی کارروائی سے آگے بڑھ کر ڈیٹا، ڈیجیٹل نگرانی، ڈرون ٹیکنالوجی، فیلڈ انفورسمنٹ اور پیشگی منصوبہ بندی کی سمت بڑھ رہی ہے۔ مگر کسی بھی پالیسی کی اصل قوت اس کے تسلسل، شفافیت اور مؤثر عملدرآمد میں مضمر ہوتی ہے۔

سموگ کے خلاف جنگ دراصل صرف دھوئیں کے خلاف جنگ نہیں؛ یہ غفلت، بے احتیاطی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے خلاف بھی ایک اجتماعی معرکہ ہے۔ عالمی اداروں کی تحقیق ہمیں سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے، قومی ادارے ہمیں پالیسی کا راستہ دکھاتے ہیں، حکومت عملی اقدامات کا نظام وضع کرسکتی ہے، مگر کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب معاشرہ اس جدوجہد کو اپنا مسئلہ سمجھے۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آنے والی نسلوں کو ہم دھوئیں میں لپٹا ہوا افق دیں گے یا صاف آسمان کی میراث۔

اگر حکومت کی قوتِ قانون، سائنس کی قوتِ تحقیق، صنعت کی قوتِ ذمہ داری اور عوام کی قوتِ شعور ایک نقطۂ ارتکاز پر جمع ہوجائیں تو سموگ کی یہ دبیز چادر ضرور چھٹ سکتی ہے۔

پھر ہماری صبحیں محض طلوعِ آفتاب کا منظر نہیں ہوں گی بلکہ صاف ہوا، شفاف افق اور صحت مند زندگی کا استعارہ بن جائیں گی۔

صاف ہوا کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ضرور ہے، مگر اس کا حق اور فرض ہم سب کا مشترکہ قومی مقدمہ ہے۔ از قلم:طَاھر اِقْبَال طَاھرؔ

Loading