Daily Roshni News

دنیا ہاتھ میں ہو… دل میں نہ ہو

سورۃ الانعام — توحید اور فکری وضاحت

دنیا ہاتھ میں ہو… دل میں نہ ہو

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جس چیز کو حاصل کرنے کے لیے ہم زندگی لگا دیتے ہیں… اگر وہ مل بھی جائے تو کیا وہ ہمیں وہ سکون دے سکتی ہے جس کے لیے ہم اسے حاصل کر رہے ہیں؟

ذرا تصور کریں…

ایک شخص صبح سے رات تک کام کرتا ہے۔

پھر زیادہ کام کرتا ہے۔

پھر زیادہ پیسہ کمانے کی کوشش کرتا ہے۔

پھر بڑا گھر چاہتا ہے۔

پھر نئی گاڑی۔

پھر کاروبار میں ترقی۔

پھر شہرت۔

پھر لوگوں میں مقام۔

اور جب ایک منزل حاصل ہو جاتی ہے تو اگلی منزل سامنے آ جاتی ہے۔

وہ خود سے کہتا ہے:

“بس یہ حاصل ہو جائے، پھر سکون ملے گا۔”

لیکن جب وہ چیز مل جاتی ہے تو سکون چند دن رہتا ہے…

پھر دل دوبارہ کسی نئی چیز کا مطالبہ شروع کر دیتا ہے۔

یہ سلسلہ کہاں رکے گا؟

کیا زندگی کا مقصد صرف اگلی چیز حاصل کرنا ہے؟

سورۃ الانعام انسان کو دنیا سے بھاگنے کا نہیں، دنیا کو صحیح مقام دینے کا شعور دیتی ہے۔

دنیا بری نہیں۔

مال برا نہیں۔

کامیابی بری نہیں۔

خوبصورت گھر، اچھا لباس، کاروبار، تعلیم، ترقی — یہ سب اپنی جگہ جائز نعمتیں ہیں۔

مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں دنیا وسیلہ رہنے کے بجائے زندگی کا مقصد بن جاتی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی غلط فہمی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

ترجمہ:

اور دنیا کی زندگی کھیل اور تماشا کے سوا کچھ نہیں، اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

(سورۃ الانعام: 32)

یہ آیت دنیا کو بے معنی قرار دینے کے لیے نہیں آئی۔

یہ ہمیں دنیا کے بارے میں صحیح تناسب سکھاتی ہے۔

دنیا موجود ہے۔

اس میں ذمہ داریاں ہیں۔

اس میں خاندان ہیں۔

اس میں محنت ہے۔

اس میں کاروبار ہے۔

اس میں خوشیاں بھی ہیں اور مشکلات بھی۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انسان عارضی چیز کو مستقل سمجھ بیٹھتا ہے۔

جو چیز ختم ہونے والی ہے، اسے ہمیشہ کی منزل سمجھ لینا انسان کی سب سے بڑی فکری غلطیوں میں سے ایک ہے۔

دنیا کھیل کیوں کہی گئی؟

بچپن میں ہم کھیلتے تھے۔

کھیل کے دوران جیت جاتے تو بہت خوش ہوتے۔

ہار جاتے تو غم ہوتا۔

کبھی کوئی کھلونا ٹوٹ جاتا تو لگتا تھا دنیا ختم ہو گئی۔

پھر کچھ سال گزرے…

وہ کھلونا کہاں گیا؟

یاد بھی نہیں۔

آج ہماری بہت سی پریشانیاں بھی اسی طرح ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں:

“اگر یہ چیز مجھے نہ ملی تو میں ختم ہو جاؤں گا۔”

پھر چند سال بعد وہی چیز ہماری نظر میں معمولی ہو جاتی ہے۔

ایک وقت تھا جب ہمیں ایک خاص موبائل چاہیے تھا۔

ملا تو کچھ دن خوشی ہوئی۔

پھر نیا ماڈل آ گیا۔

پہلے ایک خاص لباس بہت اہم تھا۔

پھر الماری بھر گئی۔

ایک وقت میں معمولی تنخواہ خواب لگتی تھی۔

پھر وہ بھی کم محسوس ہونے لگی۔

ایک گھر چاہیے تھا۔

گھر مل گیا تو بڑا گھر چاہیے۔

ایک گاڑی چاہیے تھی۔

گاڑی مل گئی تو بہتر گاڑی چاہیے۔

انسان کی خواہش اگر تربیت نہ پائے تو منزلیں بڑھتی رہتی ہیں، سکون نہیں۔

دنیا کا مسئلہ چیزیں نہیں، دل کی بھوک ہے

ایک غریب شخص ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسہ چاہتا ہے۔

یہ فطری ہے۔

لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کروڑوں رکھنے والا شخص بھی اندر سے بے چین رہتا ہے۔

کیوں؟

کیونکہ مسئلہ ہمیشہ کمی کا نہیں ہوتا۔

کبھی مسئلہ قناعت کی کمی ہوتا ہے۔

ایک انسان کے پاس کم ہو مگر دل مطمئن ہو تو وہ خوش رہ سکتا ہے۔

دوسرے کے پاس بہت کچھ ہو مگر دل مسلسل مزید مانگتا رہے تو وہ اندر سے فقیر رہتا ہے۔

دولت جیب میں ہو تو نعمت ہے، دل میں بیٹھ جائے تو آزمائش بن سکتی ہے۔

کامیابی کا جدید پیمانہ

ہم نے کامیابی کے کچھ نئے پیمانے بنا لیے ہیں:

کتنی آمدنی؟

کتنی گاڑیاں؟

کتنا بڑا گھر؟

کتنے فالوورز؟

کتنے لوگ جانتے ہیں؟

کتنی شہرت؟

کتنی طاقت؟

لیکن قرآن ایک مختلف سوال پوچھتا ہے:

تمہارا انجام کیا ہوگا؟

دنیا پوچھتی ہے:

“تم نے کتنا حاصل کیا؟”

آخرت پوچھے گی:

“تم نے جو حاصل کیا، اسے کہاں استعمال کیا؟”

دنیا پوچھتی ہے:

“تم کتنے مشہور تھے؟”

آخرت کا سوال یہ ہوگا:

“تم اللہ کے ہاں کتنے سچے تھے؟”

دنیا پوچھتی ہے:

“تمہارے پاس کیا تھا؟”

لیکن اصل کامیابی یہ ہے:

“تم اپنے رب کے پاس کیا لے کر گئے؟”

ہم زندگی جمع کرنے میں لگا دیتے ہیں

یہ ایک عجیب تضاد ہے۔

ہم پیسہ جمع کرتے ہیں۔

چیزیں جمع کرتے ہیں۔

جائیداد جمع کرتے ہیں۔

تصاویر جمع کرتے ہیں۔

کپڑے جمع کرتے ہیں۔

سرمایہ جمع کرتے ہیں۔

لیکن جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ جمع نہیں کرتے:

نیک اعمال۔

ہم کہتے ہیں:

“وقت نہیں ہے۔”

لیکن موبائل کے لیے وقت ہے۔

تفریح کے لیے وقت ہے۔

گپ شپ کے لیے وقت ہے۔

کاروبار کے لیے وقت ہے۔

دنیا کے لیے وقت ہے۔

اور اللہ کے لیے؟

کبھی صرف چند منٹ۔

یہ سوچنے کی بات ہے۔

جس رب نے ہمیں وقت دیا، کہیں ہم نے وہی وقت دنیا جمع کرنے میں تو نہیں لگا دیا؟

دنیا دشمن نہیں، امتحان ہے

دنیا کو دشمن سمجھ لینا بھی ایک غلطی ہے۔

اسلام انسان کو دنیا چھوڑ کر پہاڑوں میں چھپ جانے کا حکم نہیں دیتا۔

اسلام کہتا ہے:

محنت کرو۔

رزق تلاش کرو۔

اپنے خاندان کی کفالت کرو۔

علم حاصل کرو۔

معاشرے میں خیر پھیلاؤ۔

اپنے جسم اور وسائل کا خیال رکھو۔

لیکن ساتھ یہ یاد رکھو:

تم دنیا کے لیے نہیں بنائے گئے؛ دنیا تمہارے امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔

ایک کسان زمین کو استعمال کرتا ہے۔

وہ زمین کی عبادت نہیں کرتا۔

ایک تاجر مال کو استعمال کرتا ہے۔

وہ مال کو اپنا خدا نہیں بناتا۔

ایک انسان موبائل استعمال کرتا ہے۔

موبائل اس کی زندگی کا مالک نہیں ہوتا۔

اسی طرح دنیا ہمارے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔

دل کے تخت پر نہیں۔

ایک بہت اہم فرق: ضرورت اور خواہش

ہماری زندگی کی بہت سی الجھنیں اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم ضرورت اور خواہش میں فرق بھول جاتے ہیں۔

ضرورت کہتی ہے:

“اتنا کافی ہے۔”

خواہش کہتی ہے:

“مزید چاہیے۔”

ضرورت پیٹ بھرتی ہے۔

خواہش کبھی کبھی پوری دنیا بھی کھا جائے تو کہتی ہے:

“ابھی اور چاہیے۔”

ضرورت زندگی کو آسان بناتی ہے۔

بے قابو خواہش زندگی کو بوجھ بنا دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انسان کے پاس پہلے سے زیادہ سہولتیں ہیں، مگر ذہنی سکون ہمیشہ زیادہ نہیں۔

چیزیں بڑھ گئیں، لیکن اطمینان ضروری نہیں کہ بڑھ گیا ہو۔

موازنہ: خوشی کا خاموش دشمن

آج دنیا کی چمک پہلے سے کہیں زیادہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔

آپ گھر بیٹھے سینکڑوں لوگوں کی زندگیاں دیکھ سکتے ہیں۔

کسی کی نئی گاڑی۔

کسی کا خوبصورت گھر۔

کسی کی بیرونِ ملک سیر۔

کسی کا کاروبار۔

کسی کی کامیابی۔

کسی کا لباس۔

کسی کی شہرت۔

پھر انسان اپنی زندگی دیکھتا ہے اور سوچتا ہے:

“میرے پاس تو کچھ بھی نہیں!”

حالانکہ جس شخص سے وہ اپنا موازنہ کر رہا ہے، وہ بھی شاید کسی اور سے اپنا موازنہ کر رہا ہو۔

یوں ایک ایسا مقابلہ شروع ہو جاتا ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔

سوشل میڈیا نے ہمیں دوسروں کی زندگی کا ہائی لائٹ دکھایا، اور ہم نے اسے اپنی پوری زندگی سے موازنہ کرنا شروع کر دیا۔

یہ ذہنی سکون چھین سکتا ہے۔

ہر چمکتی ہوئی زندگی خوش نہیں ہوتی

ایک خوبصورت تصویر خوشی کی ضمانت نہیں۔

ایک بڑی گاڑی سکون کی ضمانت نہیں۔

ایک کامیاب کاروبار اطمینان کی ضمانت نہیں۔

مشہور ہونا محبت کی ضمانت نہیں۔

بہت سے لوگ باہر سے مسکرا رہے ہوتے ہیں اور اندر سے تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔

ہم دوسروں کی زندگی کا صرف ظاہر دیکھتے ہیں۔

ان کے اندر کی جنگ نہیں دیکھتے۔

اس لیے اپنے رب کی دی ہوئی زندگی کو دوسروں کے دکھائے ہوئے چند لمحوں سے مت ناپو۔

تمہاری زندگی کا مقصد کسی دوسرے انسان کی زندگی کی نقل بننا نہیں۔

اللہ نے دنیا کیوں دی؟

اگر دنیا اتنی عارضی ہے تو پھر اللہ نے اسے بنایا ہی کیوں؟

کیونکہ دنیا امتحان ہے۔

یہاں انسان کے سامنے انتخاب ہے:

شکر یا ناشکری۔

حلال یا حرام۔

عدل یا ظلم۔

سخاوت یا بخل۔

صبر یا بے صبری۔

اطاعت یا نافرمانی۔

دنیا کی چیزیں خود امتحان نہیں ہوتیں؛ ہم ان کے ساتھ کیا کرتے ہیں، وہ امتحان بن جاتا ہے۔

پیسہ کسی کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔

اور کسی کے لیے تکبر۔

طاقت کسی کے لیے عدل بن جاتی ہے۔

اور کسی کے لیے ظلم۔

علم کسی کے لیے ہدایت بن جاتا ہے۔

اور کسی کے لیے غرور۔

صحت کسی کے لیے عبادت کا ذریعہ بنتی ہے۔

اور کسی کے لیے غفلت۔

ایک ہی نعمت دو انسانوں کے لیے بالکل مختلف انجام پیدا کر سکتی ہے۔

مال کم ہو تو آزمائش، زیادہ ہو تو بھی آزمائش

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ غریب کا امتحان مشکل ہے اور امیر آرام میں ہے۔

لیکن قرآن کا تصور اس سے زیادہ گہرا ہے۔

کم مال بھی امتحان ہے:

کیا انسان صبر کرے گا؟

کیا حرام سے بچے گا؟

کیا اللہ سے بدگمان تو نہیں ہوگا؟

اور زیادہ مال بھی امتحان ہے:

کیا انسان شکر کرے گا؟

کیا زکوٰۃ دے گا؟

کیا ضرورت مندوں کو یاد رکھے گا؟

کیا تکبر سے بچے گا؟

کیا مال کو مقصد بنائے گا یا وسیلہ؟

کبھی محرومی انسان کو آزماتی ہے، کبھی فراوانی۔

اس لیے یہ مت سمجھو کہ جس کے پاس زیادہ ہے وہ لازماً زیادہ کامیاب ہے۔

قرآن کا معیار: آخرت

اللہ تعالیٰ اسی آیت میں فرماتا ہے:

وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ

“اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔”

یہاں قرآن ہمیں مستقبل کی طرف دیکھنا سکھاتا ہے۔

انسان عام طور پر فوری فائدے کو دیکھتا ہے۔

آج کا فائدہ۔

آج کی خوشی۔

آج کا پیسہ۔

آج کی تعریف۔

لیکن ایمان انسان کی نظر کو لمبا کرتا ہے۔

وہ پوچھتا ہے:

اس فیصلے کا انجام کیا ہوگا؟

ایک شخص حرام مال سے فوری فائدہ دیکھتا ہے۔

مومن اس کے آگے آخرت دیکھتا ہے۔

ایک شخص غصے میں بدلہ لینے کا مزہ دیکھتا ہے۔

مومن اس کے آگے اللہ کے سامنے جواب دہی دیکھتا ہے۔

ایک شخص تنہائی میں گناہ کا لطف دیکھتا ہے۔

مومن اس کے آگے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا دن دیکھتا ہے۔

تقویٰ دراصل مستقبل کی بصیرت ہے۔

اگر دنیا تمہاری ہو جائے تو؟

ذرا تصور کریں…

اگر تمہیں وہ سب مل جائے جو تم چاہتے ہو؟

بڑا گھر۔

بہترین گاڑی۔

کافی پیسہ۔

شہرت۔

سفر۔

کاروبار۔

لوگوں کی تعریف۔

تو پھر؟

کیا تم مطمئن ہو جاؤ گے؟

شاید کچھ عرصے کے لیے۔

لیکن انسان کا دل اگر اللہ سے جڑا نہ ہو تو نئی خواہش پیدا ہو جائے گی۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں:

“میرے پاس کتنا ہے؟”

اصل سوال:

“میرے پاس جو ہے، اس سے میرا دل کیا بن رہا ہے؟”

اگر مال تمہیں شکر گزار بنا رہا ہے تو نعمت ہے۔

اگر مال تمہیں متکبر بنا رہا ہے تو خطرہ ہے۔

اگر کامیابی تمہیں دوسروں کی مدد پر آمادہ کرتی ہے تو خیر ہے۔

اگر کامیابی تمہیں دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتی ہے تو نقصان ہے۔

دنیا ہاتھ میں رکھنے کا مطلب کیا ہے؟

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خوبصورت چیزیں استعمال نہ کرے۔

بلکہ مطلب یہ ہے کہ:

تمہارے پاس مال ہو، مگر مال تمہارے فیصلے نہ کرے۔

تمہاری شہرت ہو، مگر شہرت تمہاری شخصیت نہ بنے۔

تم کامیاب ہو، مگر کامیابی تمہیں اللہ سے غافل نہ کرے۔

تمہارے پاس اختیار ہو، مگر اختیار تمہیں ظالم نہ بنائے۔

تمہارے پاس دنیا ہو، مگر دنیا تمہاری آخرت نہ کھا جائے۔

دنیا ہاتھ میں ہو تو تم اسے استعمال کرتے ہو؛ دنیا دل میں ہو تو وہ تمہیں استعمال کرتی ہے۔

کبھی “نہیں” کہنا بھی عبادت ہے

دنیا ہر وقت کہتی ہے:

“مزید!”

قرآن انسان کو سکھاتا ہے:

“کافی!”

کبھی اضافی خریداری سے رک جانا۔

کبھی دکھاوے سے رک جانا۔

کبھی فضول خرچی سے رک جانا۔

کبھی صرف لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے چیز خریدنے سے رک جانا۔

کبھی اس لیے رک جانا کہ کسی ضرورت مند کو زیادہ ضرورت ہے۔

یہ سب دل کی تربیت ہے۔

انسان جب اپنی ہر خواہش پوری نہیں کرتا تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ:

میں اپنی خواہش کا غلام نہیں۔

قناعت کا مطلب ہاتھ روکنا نہیں، دل بھرنا ہے

قناعت کو بعض لوگ غربت سمجھتے ہیں۔

ایسا نہیں۔

قناعت یہ نہیں کہ انسان ترقی نہ کرے۔

قناعت یہ ہے کہ انسان ترقی کرے، مگر اپنی خوشی کو صرف ترقی سے نہ باندھے۔

مزید کمانا چاہتا ہے؟ کماؤ۔

لیکن حرام کے بغیر۔

بڑا گھر چاہتے ہو؟ محنت کرو۔

لیکن نماز قربان کیے بغیر۔

کاروبار بڑھانا چاہتے ہو؟ بڑھاؤ۔

لیکن ظلم اور دھوکے کے بغیر۔

اچھی زندگی چاہتے ہو؟ ضرور چاہو۔

لیکن یہ سمجھو کہ اچھی زندگی صرف مہنگی چیزوں کا نام نہیں۔

اصل آسودگی دل کی ہے۔

ایک وقت آئے گا جب “میرا” ختم ہو جائے گا

ہم کہتے ہیں:

میرا گھر۔

میرا کاروبار۔

میرا بینک بیلنس۔

میری گاڑی۔

میری زمین۔

میری دکان۔

میری شہرت۔

میرا عہدہ۔

لیکن موت ایک لمحے میں انسان کو دکھا دیتی ہے کہ “میرا” کتنا عارضی تھا۔

جس گھر کو بنانے میں پوری عمر لگا دی، اس میں کوئی اور رہ سکتا ہے۔

جس کاروبار کو کھڑا کرنے میں جان لگا دی، اسے کوئی اور چلا سکتا ہے۔

جس مال کو جمع کیا، وہ وارثوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔

جس جسم پر غرور تھا، وہ مٹی میں جا سکتا ہے۔

دنیا کی ہر ملکیت کے ساتھ ایک خاموش جملہ لکھا ہے: “عارضی۔”

لیکن انسان اسے پڑھنا نہیں چاہتا۔

موت دنیا کی حقیقت کو بے نقاب کر دیتی ہے

موت کسی غریب اور امیر میں فرق نہیں کرتی۔

بادشاہ ہو یا مزدور۔

مشہور ہو یا گمنام۔

جوان ہو یا بوڑھا۔

ہر شخص کو ایک دن دنیا چھوڑنی ہے۔

یہ حقیقت ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں، جگانے کے لیے ہے۔

تاکہ ہم دنیا کو آخرت کی قیمت پر نہ خریدیں۔

تاکہ ہم اس عارضی زندگی کو اس طرح نہ گزاریں جیسے یہی سب کچھ ہے۔

تاکہ ہم آج کے فیصلوں میں کل کو دیکھ سکیں۔

دنیا کی سب سے بڑی کامیابی

اگر دنیا میں رہ کر بھی انسان اللہ کو نہ بھولے، تو یہ کامیابی ہے۔

اگر مال آئے اور دل میں شکر بڑھے، یہ کامیابی ہے۔

اگر غربت آئے اور ایمان باقی رہے، یہ کامیابی ہے۔

اگر شہرت ملے اور عاجزی باقی رہے، یہ کامیابی ہے۔

اگر طاقت ملے اور انصاف باقی رہے، یہ کامیابی ہے۔

اگر اختیار ملے اور انسان دوسروں کے حقوق یاد رکھے، یہ کامیابی ہے۔

اگر نعمت ملے اور منعم یاد رہے، یہ کامیابی ہے۔

دنیا چھوڑ دینا کمال نہیں؛ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کو دل کا خدا نہ بننے دینا کمال ہے۔

اپنے دن کا حساب کریں

ایک دن کے 24 گھنٹے۔

ذرا سوچیں:

کتنا وقت رزق کے لیے؟

کتنا خاندان کے لیے؟

کتنا آرام کے لیے؟

کتنا موبائل کے لیے؟

کتنا تفریح کے لیے؟

اور کتنا اللہ کے لیے؟

یہ سوال کسی کو مجرم بنانے کے لیے نہیں۔

یہ ہمیں اپنا توازن دیکھنے کے لیے ہے۔

کیونکہ وقت دنیا کی وہ دولت ہے جو خرچ ہونے کے بعد واپس نہیں آتی۔

پیسہ ختم ہو کر دوبارہ آ سکتا ہے، وقت نہیں۔

اور ہم اکثر وقت کو ایسی چیزوں پر خرچ کر دیتے ہیں جنہیں کچھ دن بعد یاد بھی نہیں رکھتے۔

آج سے ایک چھوٹی تبدیلی

دنیا کو چھوڑنے کا فیصلہ نہ کریں۔

دنیا کے ساتھ اپنا تعلق درست کرنے کا فیصلہ کریں۔

کمانا ہے؟ حلال کماؤ۔

کھانا ہے؟ شکر کے ساتھ کھاؤ۔

گھر بنانا ہے؟ سکون اور حلال سے بناؤ۔

کاروبار کرنا ہے؟ دیانت سے کرو۔

کامیاب ہونا ہے؟ دوسروں کو کچل کر نہیں۔

خوبصورت زندگی گزارنی ہے؟ ضرور گزارو۔

لیکن ہر کامیابی کے بعد یہ پوچھو:

“کیا اس کامیابی نے مجھے اللہ کے قریب کیا یا دور؟”

یہ ایک سوال تمہاری پوری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔

اگر دنیا چھن جائے تو؟

یہ سب سے مشکل سوال ہے۔

اگر کاروبار ختم ہو جائے؟

اگر نوکری چلی جائے؟

اگر دولت کم ہو جائے؟

اگر شہرت ختم ہو جائے؟

اگر لوگ ساتھ چھوڑ دیں؟

اگر وہ مقام نہ ملے جس کی تم نے خواہش کی تھی؟

کیا تم پھر بھی اللہ کو اپنا رب کہہ کر مطمئن رہ سکتے ہو؟

یہاں ایمان کی حقیقت سامنے آتی ہے۔

جس انسان کا دل صرف دنیا سے بندھا ہو، دنیا کے ساتھ اس کا سکون بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

لیکن جس کا دل اللہ سے بندھا ہو، دنیا کی تبدیلیاں اسے ہلا تو سکتی ہیں، مٹا نہیں سکتیں۔

آخری منزل یاد رہے

ہم دنیا میں مہمان ہیں۔

یہاں ہمیں رکنے نہیں، گزرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

ہمیں دنیا سے نفرت نہیں کرنی۔

ہمیں دنیا کو سمجھنا ہے۔

اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔

اس میں خیر کرنا ہے۔

اس کے ذریعے آخرت بنانی ہے۔

دنیا کو ہاتھ میں رکھو، دل میں نہیں۔

کیونکہ ہاتھ کی چیز چھن جائے تو انسان دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔

لیکن اگر دنیا دل میں بیٹھ جائے تو انسان دنیا کے چھن جانے کے ساتھ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔

اپنا دل اللہ کے لیے رکھو۔

دنیا کو ہاتھ میں رہنے دو۔

آج رات اپنے آپ سے چند سوال کریں:

اگر میری آمدنی وہی رہے جو آج ہے، تو کیا میں پھر بھی شکر گزار رہ سکتا ہوں؟

اگر میرے پاس دوسروں جیسی چیزیں نہ ہوں، تو کیا میں اپنی زندگی کو کمتر سمجھوں گا؟

کیا میری کوئی ایسی خواہش ہے جس کے لیے میں حلال و حرام کی حد بھول سکتا ہوں؟

میں اپنی زندگی کے کتنے گھنٹے ایسی چیزوں پر خرچ کر رہا ہوں جو میری آخرت میں میرے کام نہیں آئیں گی؟

اور سب سے اہم:

اگر آج مجھے دنیا کی ایک بڑی چیز مل جائے، لیکن اس کے بدلے اللہ کی رضا کم ہو جائے، تو کیا میں اسے قبول کروں گا؟

اگر اس سوال کا جواب دل سے “نہیں” ہے…

تو سمجھو تم نے دنیا کی حقیقت سمجھنا شروع کر دی ہے۔

دنیا رکھو، مگر دنیا کو اپنے اندر مت رکھو۔

مال کماؤ، مگر مال کو اپنا مالک مت بناؤ۔

کامیاب ہو، مگر کامیابی کو اپنی پہچان مت بناؤ۔

زندگی خوبصورت بناؤ، مگر آخرت کو بھول کر نہیں۔

کیونکہ ایک دن دنیا پیچھے رہ جائے گی…

اور ہم اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

اس دن نہ ہماری گاڑی ساتھ ہوگی، نہ گھر، نہ عہدہ، نہ فالوورز۔

صرف وہی چیز کام آئے گی جسے ہم نے اللہ کی رضا کے لیے آگے بھیجا ہوگا۔

اللہ ہمیں دنیا کی نعمتیں بھی عطا فرمائے، مگر ایسا دل دے جو نعمت میں منعم کو نہ بھولے، کامیابی میں عاجزی نہ چھوڑے، اور دنیا کو آخرت پر قربان نہ کرے۔

آمین یا رب العالمین

اگلی قسط میں…

دنیا کی حقیقت سمجھنے کے بعد ایک اور سوال ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے:

اگر دنیا اتنی عارضی ہے تو پھر مصیبتیں، آزمائشیں اور نقصان ہماری زندگی میں کیوں آتے ہیں؟

کیا ہر مشکل اللہ کی ناراضی کی علامت ہے؟

یا کبھی آزمائش بھی اللہ کی تربیت کا ایک راستہ ہوتی ہے؟

قسط 13: “مصیبت آئی ہے… تو کیا اللہ ناراض ہے؟”

ہر مشکل سزا نہیں ہوتی… کچھ مشکلات انسان کو اس مقام تک پہنچاتی ہیں جہاں آسانی اسے کبھی نہ پہنچا پاتی

اگر یہ پیغام آپ کے دل تک پہنچا ہے تو پیج کو فالو کریں، پوسٹ کو لائک کریں اور اسے اپنے دوستوں، عزیزوں اور ان لوگوں تک ضرور شیئر کریں جنہیں دنیا اور آخرت کے درمیان صحیح توازن کی یاد دہانی کی ضرورت ہے۔

Loading