Daily Roshni News

تونس کی قربان گاہ

تونس کی قربان گاہ

جہالت کے دبیز اندھیرے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شمالی افریقہ میں تونس کی قدیم سرزمین پر ایک ایسی ہولناک قربان گاہ کے آثار موجود ہیں جو تاریخ کے سیاہ ترین اور خوفناک ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں ہزاروں معصوم انسانوں کی جلی ہوئی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں، جن میں اکثریت ان نوخیز بچوں کی تھی جو ابھی چند ہفتوں یا چند مہینوں کے تھے۔ یہ کوئی عام قبرستان نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی وبائی بیماری کے نتیجے میں ہونے والی اجتماعی ہلاکتوں کا مقام تھا، بلکہ یہاں ایک انتہائی سفاک اور ہیبت ناک مذہبی رسم کے تحت معصوم جانوں کی قربانیاں دی جاتی تھیں۔ کانسی کا ایک عظیم الجثہ اور بھیانک مجسمہ بنایا گیا تھا، جس کے ہاتھ نیچے کی طرف ڈھلوانی انداز میں بنے ہوئے تھے، جبکہ ان ہاتھوں کے بالکل نیچے دہکتی ہوئی آگ روشن رہتی تھی۔ بچوں کو ان ہاتھوں پر رکھا جاتا اور وہ پھسلتے ہوئے سیدھے بھڑکتے شعلوں میں جا گرتے۔ اس دوران چاروں طرف اتنی شدت سے ڈھول بجائے جاتے کہ بچوں کی دلدوز چیخیں اس شور میں دب جاتیں۔

تقریباً تین ہزار سال پہلے کارتھیج کے شہر میں سال کی مخصوص راتوں کے دوران یہ سفاکانہ رسم ادا کی جاتی تھی۔ اس پورے عمل کی سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ تھی کہ بچے کی ماں کو ایک آنسو بہانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اگر اس کی آنکھ سے ایک بھی آنسو نکل آتا تو اس قربانی کو ناکام اور منسوخ سمجھا جاتا، جس کا مطلب یہ ہوتا کہ اپنی خواہش پوری کروانے کے لیے دوبارہ قربانی دینا پڑے گی۔ جب ریاست کسی بڑی افتاد، جنگ یا وبا کی زد میں آتی تو طاقت، دولت اور اقتدار کی بقا کے لیے ایک ہی رات میں سیکڑوں بچوں کو اس خونخوار وجود کی بھینٹ چڑھانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ قدیم یونانی مؤرخ ڈیوڈورس کی تحریروں کے مطابق ایک ہی رات میں کارتھیج کے دو سو اعلیٰ اور امیر ترین خاندانوں کے بچوں کو اس مجسمے کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

بیسویں صدی میں جب ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے شمالی افریقہ میں کھدائی شروع کی تو وہاں سے ملنے والی دریافتوں نے دنیا کو حیران کر دیا اور ان قدیم روایات کی حقیقت پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔ کارتھیج کے قریب ایک ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ایک مقام دریافت ہوا جسے ’’توفیت‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہاں سے دو ہزار سے زیادہ مٹی کی مٹکیاں اور قبریں ملیں جن میں چھوٹے بچوں کی جلی ہوئی ہڈیاں اور راکھ موجود تھی۔ ان کے ساتھ موجود کتبوں پر یہ درج تھا کہ اپنی مراد، اقتدار اور برکت کے حصول کے لیے بچوں کو بعل کے نام پر نذر کیا گیا۔ یوں یہ ایک طرح کا فکری اور خونریز سودا بن گیا تھا، جس میں طاقت اور خواہشات کے حصول کے لیے اپنے ہی معصوم بچوں کو نذرانہ بنا دیا جاتا تھا۔ یہ مقام اس قدر خوفناک سمجھا گیا کہ بعد کے زمانے میں عبرانی زبان میں ’’توفیت‘‘ کا لفظ جہنم یا دوزخ کے مفہوم سے بھی منسلک ہوگیا۔

قدیم پراسرار اور خفیہ تحریروں، خصوصاً سترہویں صدی کے سحر انگیز صحیفوں میں بعل کی شکل و صورت ایک انتہائی ہیبت ناک اور شیطانی وجود کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ ان تحریروں کے مطابق بعل کا کوئی ایک مستقل چہرہ نہیں تھا بلکہ وہ تین چہروں کے ساتھ ظاہر ہوتا تھا: ایک بلی کا، دوسرا مینڈک کا اور تیسرا انسان کا۔ اس کا جسم بھی عام انسانی جسم جیسا نہیں بلکہ ایک دیوہیکل مکڑی سے مشابہ بتایا جاتا تھا، جس کی آٹھ پتلی اور سیاہ ٹانگیں تھیں۔ کہا جاتا تھا کہ وہ انہی ٹانگوں کے ذریعے خاموشی سے چھتوں اور دیواروں پر حرکت کرسکتا تھا اور بغیر کسی آواز کے کہیں بھی پہنچ جاتا تھا۔ اس کی آواز کو بھی انتہائی گہری، بھاری اور خوفناک بیان کیا گیا، جیسے زمین کی گہرائیوں سے نکل رہی ہو۔ ان روایات میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کے زیرِ اثر ارواح کا ایک عظیم لشکر تھا اور وہ اپنے پجاریوں کو دنیاوی دولت، شہرت اور سیاسی طاقت کا لالچ دیا کرتا تھا۔

اگر بعل کی تاریخی جڑوں کا جائزہ لیا جائے تو تقریباً تین ہزار سال قبل مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً لیوانٹ کے علاقوں یعنی شام، لبنان اور فلسطین میں ’’بعل‘‘ کا بنیادی مطلب ’’مالک‘‘ یا ’’آقا‘‘ تھا۔ ابتدائی دور میں اسے کسی خونخوار یا خوفناک وجود کے طور پر نہیں بلکہ بارش، طوفان اور زمین کی زرخیزی سے وابستہ ایک معبود سمجھا جاتا تھا، جو زندگی اور شادابی کا سبب بنتا ہے۔ جب موسم اچھا ہوتا اور فصلیں لہلہاتیں تو اسے بعل کی کرم نوازی قرار دیا جاتا۔ لیکن اس عقیدے میں خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب شدید قحط اور خشکسالی کے دور آتے۔ مہینوں بارش نہ ہوتی، کنویں خشک ہوجاتے اور قحط پھیل جاتا تو مذہبی پروہت لوگوں کے خوف اور بے یقینی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلان کرتے کہ معبود ناراض ہے اور اسے راضی کرنے کے لیے نذرانوں اور قربانیوں کی ضرورت ہے۔

اس خوف کی فضا میں معصوم بچوں کو قربانی کے لیے منتخب کیا جانے لگا، کیونکہ وہ مکمل طور پر بے بس ہوتے تھے اور کسی مزاحمت کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ جب مسلسل قربانیوں کے بعد بالآخر قدرتی طور پر بارش ہوجاتی تو عوام کا وہمی ذہن یہ یقین کر لیتا کہ بارش ان معصوم جانوں کے نذرانے ہی کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ اس طرح ایک قدرتی موسمیاتی عمل کو انسانی قربانی کے ساتھ جوڑ کر خوف اور بقا کا ایک انتہائی سفاک چکر قائم ہوگیا۔ رفتہ رفتہ بعل صرف بارش کا معبود نہیں رہا بلکہ ایسی ہیبت ناک طاقت تصور کیا جانے لگا جسے خوش رکھنے کے لیے لوگ اپنے اپنوں تک کی قربانی دینے پر آمادہ ہوجاتے تھے۔ خاص طور پر کارتھیج کی مالدار اور طاقتور ریاست نے اپنے سیاسی زوال کو روکنے اور سمندر پار اپنے غلبے کو برقرار رکھنے کے لیے ان قربانیوں کو ایک منظم اور خوفناک ریاستی نظام میں تبدیل کردیا۔

قدیم مذہبی تاریخ اور صحائف میں بعل کے اس عقیدے کو ایک بڑے فکری اور روحانی فتنے کے طور پر دیکھا گیا، کیونکہ یہ لوگوں کو سچائی سے دور کرکے باطل اور خوفناک رسومات کی طرف لے جا رہا تھا۔ نویں صدی قبل مسیح میں جب اس خطے میں شدید قحط سالی پھیلی تو ملکہ جزیبل کے اثر و رسوخ کے باعث بعل کی پرستش بہت عام ہوچکی تھی۔ اسی موقع پر حضرت الیاس علیہ السلام نے جبلِ کرمل کے مقام پر بعل کے ساڑھے چار سو کاہنوں اور پیروکاروں کو ایک کھلے مقابلے کا چیلنج دیا۔ طے یہ پایا کہ بعل اور حقیقی معبود میں سے جو سچا ہوگا وہ آسمان سے آگ نازل کرکے اپنی حاکمیت ثابت کرے گا۔ بعل کے پجاریوں نے دن رات ڈھول بجائے، ناچ گانا کیا اور حتیٰ کہ اپنی ناکامی کے خوف سے اپنے جسموں کو زخمی کرکے خون بہانا شروع کردیا، لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ اس کے برعکس جب قربان گاہ کو پانی سے مکمل طور پر تر کردیا گیا اور دعا کی گئی تو آسمان سے آگ نازل ہوئی اور یوں بعل کا جھوٹ سب کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔

اس واقعے کے بعد بعل کی حیثیت ایک حقیقی دیوتا کے بجائے ایک باطل، خطرناک اور شیطانی عقیدے کے طور پر مزید نمایاں ہوئی۔ تاہم تاریخی اور فکری مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ مسئلہ صرف کسی نادیدہ وجود کا نہیں تھا بلکہ انسان کی اپنی بے لگام خواہشات، خوف اور اقتدار کی ہوس بھی اس پورے نظام کی بنیاد بن رہی تھی۔ انسان نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس ہولناک جال کو خود بُنا اور پھر اسی کا شکار بھی ہوتا رہا۔ جدید دور کی مخفی نظریات اور Conspiracy Theories میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ تاریک طاقتیں اور ان سے وابستہ علامات آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں بلکہ نئے اور زیادہ شاطرانہ انداز میں موجود ہیں۔ ’’الومیناٹی‘‘ جیسے خفیہ گروہوں اور بین الاقوامی طاقتور طبقات کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ دنیاوی شہرت، بے تحاشا دولت اور اقتدار کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے بعض لوگ اپنی روح اور اخلاقیات تک کا سودا کرکے انہی باطل اصولوں کی پیروی کرتے ہیں۔

جدید میڈیا، تفریحی صنعت اور پاپ کلچر میں نظر آنے والی مختلف پراسرار علامتیں اور ڈیزائن بھی بعض لوگوں کے نزدیک اسی قدیم تاریک تاریخ کے تسلسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کہانیوں، علامتوں اور تصورات کا یہ سفر اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ بعل صرف ایک تاریخی بت نہیں بلکہ انسان کی اس دائمی فکری گمراہی اور مادی ہوس کی علامت بھی ہے جس میں انسان دنیاوی ترقی، دولت اور طاقت کے حصول کے لیے اپنی اعلیٰ انسانی اقدار اور سچائی تک کو قربان کردیتا ہے۔ جب تک انسان اپنی بے جا خواہشات اور ظاہری طاقت کو اپنا معبود بناتا رہے گا، بعل جیسا باطل نظام نئے نام، نئی علامت اور نئی شکل اختیار کرکے دوبارہ انسان کو گمراہ کرتا رہے گا۔

#غزالیات #غــزالیــات #احـمــدالــغــزالی

احـمــد الــغــزالی

Loading