کدورت کو دل سے نکال دینا بہت، بہت زیادہ، بلکہ شاید بہت ہی زیادہ مشکل کام ہے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)زخم جسم پر ہو تو وقت کے ساتھ بھر جاتا ہے، مگر دل پر لگا ہوا زخم نظر نہیں آتا۔ انسان بظاہر معمول کے مطابق زندگی گزارتا رہتا ہے، مسکراتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، کام کرتا ہے، مگر دل کے کسی کونے میں ایک بات، ایک رویہ، ایک شخص یا ایک واقعہ خاموشی سے موجود رہتا ہے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ ہم اکثر دوسروں کو معاف نہ کرکے انہیں نہیں، خود کو سزا دے رہے ہوتے ہیں۔
جس شخص سے ہمیں شکایت ہوتی ہے، ممکن ہے وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا ہو، اسے وہ واقعہ یاد بھی نہ ہو۔ مگر ہم اسے اپنے دل میں اٹھائے پھرتے ہیں۔ وہ شخص ہماری زندگی میں موجود نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے سکون پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔
کدورت چھوڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ جو کچھ ہوا اسے درست تسلیم کر لیا جائے۔
نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی بھول جائیں۔
اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم فیصلہ کریں:
“میں اس واقعے کو اپنی باقی زندگی کا بوجھ نہیں بناؤں گا۔”
معاف کرنا ہمیشہ دوسرے کے لیے نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی انسان اپنے دل کو آزاد کرنے کے لیے معاف کرتا ہے۔
زندگی ویسے ہی بہت مختصر ہے۔
ہم نے نیند میں سال گزار دیے، بچپن میں سال گزار دیے، اور اب جو وقت شعور کے ساتھ ہمارے پاس بچا ہے، اسے بھی اگر پرانی رنجشوں، شکایتوں اور کدورتوں میں گزار دیا تو آخر ہمارے پاس بچے گا کیا؟
شاید پختگی یہی ہے کہ انسان یہ سمجھ لے:
ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں،
ہر زخم کو سینے سے لگائے رکھنا ضروری نہیں،
اور ہر شخص کو دل میں جگہ دیے رکھنا بھی ضروری نہیں۔
کچھ لوگوں کو معاف کر کے چھوڑ دینا چاہیے،
کچھ واقعات کو سمجھ کر گزر جانا چاہیے،
اور کچھ بوجھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اٹھائے رکھنے کے بجائے زمین پر رکھ دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔
کیونکہ دل نفرت، کدورت اور شکووں کا گودام نہیں۔
دل جتنا ہلکا ہوگا،
زندگی اتنی ہی خوبصورت محسوس ہوگی۔
![]()

