Daily Roshni News

سلسلہ عظیمیہ کا پیغام تعلیمات اور تربیتی نظام۔۔۔ تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی۔۔۔قسط نمبر4

سلسلہ عظیمیہ کا پیغام تعلیمات اور تربیتی نظام

تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی

پیشکش ۔۔۔انجنیئر سہیل احمد عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سلسلہ عظیمیہ کا پیغام تعلیمات اور تربیتی نظام۔۔۔ تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی)شر کام کلاس ! علم کی ان درجہ بندیوں اور ان کے اطلاقات یعنی Applications کو سمجھنے کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ سلسلہ عظیمیہ کے اراکین علم کی صورت میں ملنے والی اللہ کی بہت بڑی نعمت سے آگاہ ہوں۔ ان میں اس نعمت کی قدر اور اس نعمت کے شکر کے جذبات پر وان چڑھیں۔ سلسلہ عظیمیہ کے ارا کن کو علم میں مسلسل اضافے کی ترغیب ملے۔ ان کا ذہنی اور فکری ارتقا ہو۔ ان میں خود اپنی قدر پہچاننے اور اپنی ظاہری و باطنی زندگی سنوارنے کی خواہش زور پکڑے۔ ان پر اپنے ذاتی محاسبہ یعنی -Self Accountability کی اہمیت واضح ہو ۔ در چه به درجہ علم حاصل کرتے ہوئے ان کے درجه تسلسل بہتری آتی رہے۔ ان میں دوسروں ظرف میں کے لیے اخلاص اور خیر خواہی بڑھتی رہے۔ یہ اعلیٰ اوصاف سلسلہ عظیمیہ کے اراکین کی لا شعوری صلاحیتوں اور ان کی باطنی نظر بیدار و متحرک کرنے میں معاون ہیں۔

ان کی روحانی صلاحیتوں میں اضافہ ہو۔ اللہ کی بندگی اخلاص اور حضوری قلب کے ساتھ ہو۔

ہمارے اخلاق اچھے اور ہمارے معاملات صاف ستھرے ہوں، ہماری صلوۃ اور دیگر سب عبادات مرتبہ احسان کی حامل ہوں۔

علم نافع

معلم اعظم ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے آگہی ملتی ہے کہ علم …. نافع ہو نا چاہیے یعنی علم فائدہ مند ہونا چاہیے۔

نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا: اللہ سے علم نافع مانگو اور علم غیر نافع سے اللہ کی پنا مانگو۔“ [ سنن ابن ماجہ ]

ہر وہ علم جس کے ذریعہ انسان کا ، طالب علم کا اللہ تعالی کی وحدانیت پر ایمان پختہ تر ہوتا جائے اللہ کے او پر یقین اور توکل میں اضافہ ہو، علم نافع کہلائے گا۔ ہم سلسلہ عظیمیہ کے اراکین پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نیچرل سائنس کے علوم کے ذریعہ یا مادی علوم کے ذریعہ انسان اس کائنات کے خالق اللہ وحدہ لا شریک کی صفات کے بارے میں جان رہا ہے۔ ہم کیمسٹری میں عناصر یعنی Elements سے آگہی حاصل کرتے ہیں ، مختلف عناصر کے ملاپ سے بننے والے مرکبات کے بارے میں جانتے ہیں۔ دیکھئے، عناصر کو خواص اور مزاج قدرت نے عطا کیا ہے۔ عناصر کے ملاپ سے بننے والے مرکبات کے خواص قدرت کے متعین کردہ ہیں۔

پانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پانی زندگی ہے۔ پانی ہائیڈروجن کے دو اور آکسیجن کے ایک ایٹم سے مل کر بنتا ہے ۔ ہائیڈ روجن ایک گیس ہے۔ یہ گیس آتش گیر Flammable ہے۔ آکسیجن ایک گیس ہے، آکسیجن جلنے میں مدد دیتی ہے۔ آگ کو موت سے تشبیہ بھی دی جاتی ہے۔

غور کیجئے کہ آتش اور آتش کی مددگار دو گیسر کا ایک خاص پیٹرن میں ملاپ ان کے خواص یکسر بدل دیتا ہے۔ دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن مل کر پانی بن جاتے ہیں اور پانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ زندگی ہے۔

گیسر کا اس طرح ملانا اور اپنی بنیادی خصوصیات سے ہٹ کر ایک مختلف صفت کے ساتھ نئی شکل اختیار کرنا، اللہ کی قدرت کا کتنا بڑا اظہار ہے۔ ہم فنر کس میں طبیعی قوانین پڑھتے ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی میں انسان کی حیران کن ترقی کا ایک بڑا سبب فزکس کے قوانین سے انسان کی آگہی ہے۔ انسان ہوائی سفر کے ذریعے کم وقت میں بہت زیادہ فاصلہ طے کر رہا ہے ۔ ایوی ایشن انڈسٹری کے قیام اور اس کی ترقی میں فنر کس کے قوانین سے آگہی کا بہت بڑا کردار ہے۔ فنر کس کے سب Laws اللہ کے بنائے ہوئے ہیں۔

ہم میڈیکل سائنس میں انسان کے جسم اور جسمانی نظاموں سے آگاہ ہوتے ہیں ۔ مخلوقات کے جسم کا ایک ایک انگ اور ان کے جسم کے سب نظام اللہ کے بنائے ہوئے ہیں۔

ان تین مثالوں سے میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ مادی علوم کے ذریعے انسان اللہ کی صفات خصوصا صفت قدرت اور خالقیت سے آگاہ ہو رہا ہے۔ ان علوم میں ترقی کرتے ہوئے اگر ہم خالق کے بارے میں سوچیں تو یہ مادی علوم ہمارے لئے اللہ کی نشانیوں کو سمجھنے اور اللہ کی قربت کا ذریعہ بنتے جائیں گے۔ سلسلہ عظیمیہ چاہتا ہے کہ مادی علوم کی تحصیل میں مصروف اس کے سب اراکین علوم کو اللہ کی معرفت اور قربت کا ذریعہ بنائیں ۔ یہ علم سے صحیح معنوں میں نفع حاصل کرنا کہلائے گا۔ ایسا ہر علم، علم نافع ہو گا۔

روحانی علوم کے ذریعہ بھی انسان اللہ تعالی کی صفات اللہ کی مرضی واقف ہوتا ہے اور اللہ تعالی کے عرفان کے قابل ہوتا ہے۔

جس علم کے حصول کے بعد اللہ پر ایمان پختہ ہو، دوسرے انسانوں اور اللہ کی تمام مخلوقات کے لیے اخلاص اور خیر خواہی کے جذبات بیدار ہوں، آخرت میں اللہ کے حضور جواب دہی کے احساس میں اضافہ ہو ایسا علم، علم نافع ہے۔

ایسا علم جسے حاصل کرنے کے بعد کوئی انسان اللہ کی بندگی کے احساس سے عاری ہونے لگے، آخرت میں جواب دہی کا یقین اس کے ذہن سے نکل جائے، اس کے دل میں دنیا کی رغبت میں بے جا اضافہ ہو جائے ( اس میں خود غرضی، لالچ یا تکبر بھی شامل ہے) ۔ ایسا علم غیر نافع ہے۔

علم نافع کا مطلب ہے وہ علم جس کی وجہ سے ہمارا ذہن اور قلب توحید باری تعالی کی طرف متوجہ ہو ، ہم معلم اعظم علیہ الصلواۃ والسلام کے اچھے پیروکار بنیں۔ ہم انسانوں کے لیے اخلاص و خیر خواہی کا ذریعہ بنیں اور ہمارے دل میں آخرت میں اللہ کے حضور جواب دہی کے احساس میں پختگی آئے۔

آج کے اس لیکچر کے اختتام پر آئیے ہم سب مل کر اللہ تعالی سے وہ دعائیں مانگیں، جو حضرت محمد رسول الله لﷺ حضرت موسی اور ابو الانبیاء حضرت ابراہیم نے اللہ سے مانگی ہیں۔

اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما [سوروطه (20): آیت 114]

اے میرے رب! میرے لئے میرا سینہ کھول دے [ سوره طه (20): آیت 25]

یارب! مجھے علم و دانش عطا فرما اور مجھے صالح لوگوں میں شامل فرما دے۔ آمین

[ سوره شعراء (26): آیت 83]

آئیے اب یہ مسنون و علما تمیں :

ترجمہ: اے اللہ ! میں تجھ سے نافع علم کا اور پاکیزہ رزق کا اور ایسے عمل کا سوال کرتا ہوں جو تیری بارگاہ میں مقبول ہو ۔ [مسند احمد ۔ ابن ماجہ ] (جاری ہے)

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مارچ 2026

Loading