Daily Roshni News

خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر  ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  محمد شعیب عمر

خود شناسی سے خدا شناسی

تک کا سفر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  محمد شعیب عمر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر  ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  محمد شعیب عمر)انسان جب پہلی مرتبہ اپنے وجود کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے تو ایک بنیادی سوال اس کے سامنے آتا ہے: میں کون ہوں؟ بظاہر یہ ایک مختصر سوال ہے، مگر اس کے اندر پوری انسانی زندگی کا فلسفہ پوشیدہ ہے۔ انسان اپنے نام، خاندان، پیشے، قوم، جسم اور سماجی حیثیت سے پہچانا جاسکتا ہے، لیکن کیا اس کی اصل حقیقت صرف یہی ہے؟ اگر یہ سب نسبتیں بدل جائیں تو ’’میں‘‘ میں سے کیا باقی رہتا ہے؟

یہی سوال خود شناسی کی ابتدا ہے۔

انسان کا جسم اس کی شخصیت کا ایک اہم حصہ ہے، مگر انسان صرف جسم نہیں۔ جسم مسلسل تبدیل ہوتا ہے؛ بچپن کا جسم جوانی میں بدل جاتا ہے، پھر بڑھاپا آتا ہے، لیکن انسان اپنے وجود کی ایک مسلسل شناخت محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح اس کے خیالات، جذبات، عادات اور ترجیحات بھی بدلتے رہتے ہیں، مگر وہ پھر بھی اپنے آپ کو وہی ’’میں‘‘ سمجھتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقیقت کو محض ظاہری جسمانی وجود تک محدود کرنا کافی نہیں۔

قرآن مجید انسان کو اس کے ظاہری وجود سے آگے اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ مخلوق اور بندہ ہے۔ فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم﴾

’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں پیدا کیا۔‘‘

انسان کی سب سے بنیادی شناخت یہ ہے کہ وہ خود پیدا کرنے والا نہیں، پیدا کیا گیا ہے؛ خود مختار مطلق نہیں، اپنے خالق کا بندہ ہے۔ یہی نسبت اس کے وجود کو معنی دیتی ہے۔

اسی حقیقت کو قرآن ایک دوسرے مقام پر نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾

’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا کے دوسرے تمام کام چھوڑ دے، بلکہ یہ کہ اس کی پوری زندگی کا آخری مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے۔ علم، تجارت، خاندان، معاشرت، سیاست اور دیگر انسانی سرگرمیاں اسی وقت اپنی صحیح قدر پاتی ہیں جب وہ اس بنیادی نسبت اور ذمہ داری سے کٹ نہ جائیں۔

لیکن ’’میں کون ہوں؟‘‘ کا جواب صرف یہ جان لینا بھی کافی نہیں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ انسان ایک مکلف بھی ہے؛ اسے عقل، ارادہ اور اختیار دیا گیا ہے، اسی لیے اس کے اعمال کا حساب بھی ہوگا۔ قرآن کہتا ہے:

﴿أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى﴾

’’کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بے مقصد چھوڑ دیا جائے گا؟‘‘

انسان نہ بے مقصد پیدا ہوا ہے اور نہ بے جواب دہ۔ اسے جو اختیار ملا ہے وہ مطلق آزادی نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ عطا کیا گیا اختیار ہے۔ یہی احساس انسان کو اپنی خواہشات کا غلام بننے کے بجائے اپنے اعمال کا جواب دہ بناتا ہے۔

خود شناسی کا ایک اور پہلو انسان کی کمزوری کو پہچاننا ہے۔ انسان علم رکھتا ہے مگر محدود؛ طاقت رکھتا ہے مگر عارضی؛ اختیار رکھتا ہے مگر محدود دائرے میں؛ زندگی رکھتا ہے مگر موت سے فرار نہیں کرسکتا۔ اس حقیقت کا شعور تکبر کو توڑتا اور عاجزی پیدا کرتا ہے۔ انسان جب اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصل عظمت خود مختاری میں نہیں بلکہ اپنے رب کی بندگی میں ہے۔

یہاں ’’میں کون ہوں؟‘‘ کا سوال ’’میں کیا چاہتا ہوں؟‘‘ سے بھی مختلف ہوجاتا ہے۔ خواہش انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے، جبکہ خود شناسی اسے اپنی حقیقت کی طرف واپس لاتی ہے۔ میں جو چاہتا ہوں ضروری نہیں کہ وہ میرے لیے اچھا ہو، اور جو چیز مجھے پسند ہے ضروری نہیں کہ وہ حق بھی ہو۔ اس لیے حقیقی خود شناسی انسان کو اپنی خواہشات کا مشاہدہ کرنا سکھاتی ہے، ان کی غلامی نہیں۔

اسی طرح انسان کو اپنی کمزوریوں اور صلاحیتوں دونوں کو پہچاننا چاہیے۔ وہ خطا کرسکتا ہے، مگر توبہ بھی کرسکتا ہے؛ وہ بھٹک سکتا ہے، مگر ہدایت بھی طلب کرسکتا ہے؛ وہ کمزور ہوسکتا ہے، مگر اپنے ارادے کی تربیت بھی کرسکتا ہے۔ خود شناسی انسان کو نہ خود پسندی میں مبتلا کرتی ہے اور نہ احساسِ کمتری میں؛ وہ اسے اپنی حقیقت کا متوازن شعور دیتی ہے۔

’’میں کون ہوں؟‘‘ کا سب سے گہرا جواب شاید ایک ہی جملے میں یوں بیان ہوسکتا ہے:

میں اللہ کا پیدا کیا ہوا بندہ ہوں، دنیا میں آزمائش اور ذمہ داری کے لیے بھیجا گیا انسان ہوں، مجھے محدود اختیار کے ساتھ عمل کا موقع دیا گیا ہے، اور بالآخر مجھے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔

جب انسان اپنی یہ حقیقت سمجھ لیتا ہے تو زندگی کے بہت سے دوسرے سوالات خود اپنی جگہ پانے لگتے ہیں۔ پھر سوال اٹھتا ہے: میں کہاں سے آیا ہوں؟ مجھے کیوں پیدا کیا گیا؟ مجھے کیسے زندگی گزارنی چاہیے؟ اور مجھے کہاں لوٹ کر جانا ہے؟

یوں ’’میں کون ہوں؟‘‘ محض خود شناسی کا سوال نہیں رہتا؛ یہ انسان کو خالق، مقصد اور انجام کی تلاش تک پہنچا دیتا ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں شعور محض اپنے وجود کو دیکھنے سے آگے بڑھ کر اپنے رب کو پہچاننے کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔

Loading