Daily Roshni News

وحی : ضرورت سے نور تک ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔  محمد شعیب عمر

وحی : ضرورت سے نور تک

تحریر  ۔۔۔۔۔۔  محمد شعیب عمر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ وحی : ضرورت سے نور تک ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔  محمد شعیب عمر) انسان نے جب اپنے وجود پر غور کیا تو سوال پیدا ہوا، سوال نے اسے علم کی تلاش میں ڈالا، علم نے اسے اپنے ذرائع سے روشناس کرایا، عقل نے ان ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو پرکھا، اور فطرت نے اس کے اندر حق کی طرف ایک بنیادی میلان کو آشکار کیا۔ مگر اس پورے سفر کے باوجود ایک حد باقی رہی۔ انسان بہت کچھ جان سکتا ہے، مگر کیا وہ اپنے بل بوتے پر یہ بھی جان سکتا ہے کہ اللہ اس سے کیا چاہتا ہے؟ آخرت کی تفصیلات کیا ہیں؟ عبادت کی صحیح صورت کیا ہے؟ حلال و حرام کی قطعی حدود کہاں ہیں؟ کون سا عمل اللہ کے ہاں محبوب ہے اور کون سا ناپسندیدہ؟ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی علم اپنی حدود کو پہچانتا ہے اور وحی کی ضرورت سامنے آتی ہے۔

وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے برگزیدہ انبیاء علیہم السلام کی طرف وہ خصوصی ہدایت ہے جو اللہ اپنے بندوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ﴾۔ وحی اس اعتبار سے انسانی دریافت نہیں بلکہ الٰہی عطا ہے۔ انسان اسے اپنی عقل سے ایجاد نہیں کرتا، تجربے سے پیدا نہیں کرتا اور حواس کے ذریعے حاصل نہیں کرتا؛ بلکہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے نبی تک پہنچاتا ہے، اور نبی اسے امانت کے ساتھ انسانوں تک پہنچاتا ہے۔

یہاں وحی کی ضرورت کا راز سمجھ میں آتا ہے۔ انسان کی عقل عظیم نعمت ہے، مگر محدود ہے۔ وہ محسوسات سے استدلال کر سکتی ہے، موجودات میں نظم و حکمت کو دیکھ سکتی ہے، اخلاقی اصولوں کی بعض بنیادوں کو سمجھ سکتی ہے اور بہت سے معاملات میں خیر و شر کے درمیان امتیاز پیدا کر سکتی ہے؛ لیکن عقل بذاتِ خود غیب کی دنیا کا مشاہدہ نہیں کر سکتی۔ وہ قیامت کو دیکھے بغیر اس کی تمام تفصیلات دریافت نہیں کر سکتی، جنت و جہنم کی حقیقت اپنے تجربے سے نہیں جان سکتی، اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات کو اس وقت تک قطعی طور پر متعین نہیں کر سکتی جب تک اللہ خود اس کی خبر نہ دے۔

اسی لیے عقل کے ناکافی ہونے کا مطلب عقل کی بے وقعتی نہیں بلکہ اس کی حد کا اعتراف ہے۔ آنکھ دیکھنے کے لیے عظیم ذریعہ ہے، مگر وہ آواز نہیں سن سکتی؛ کان سننے کے لیے ضروری ہے، مگر وہ رنگ نہیں دیکھ سکتا۔ کسی آلے کی محدودیت اس کی خرابی نہیں ہوتی۔ اسی طرح عقل اپنے دائرے میں نہایت اہم ہے، لیکن اس سے اس کام کا مطالبہ کرنا جو اس کی فطری صلاحیت سے باہر ہے، عقل کا احترام نہیں بلکہ اس پر ظلم ہے۔ وحی عقل کو ختم نہیں کرتی؛ اسے اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں انسانی عقل خود اپنی حد کو پہچان کر الٰہی خبر کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے۔ اگر انسان صرف عقل، فطرت اور تجربے کے ذریعے اپنے تمام بنیادی دینی مسائل تک قطعی طور پر پہنچ سکتا تو رسالت کی ضرورت باقی نہ رہتی۔ لیکن انسان کے اندر اختلاف، خواہش، تعصب، ماحول اور محدود علم کی ایسی قوتیں موجود ہیں جو اسے حقیقت سے منحرف کر سکتی ہیں۔ نبی ان انسانی کمزوریوں کے درمیان اللہ کی طرف سے آنے والی واضح ہدایت کا حامل بن کر آتا ہے۔

رسالت کا مقصد صرف یہ نہیں کہ انسان کو چند مذہبی معلومات دے دی جائیں۔ رسول انسان کو اس کے رب سے متعارف کراتا ہے، اسے اس کی تخلیق کا مقصد بتاتا ہے، اسے عبادت کا راستہ دکھاتا ہے، اخلاق کو وحی کی بنیاد فراہم کرتا ہے، حلال و حرام کی حدود واضح کرتا ہے، آخرت کی جواب دہی سے آگاہ کرتا ہے اور ایک ایسی عملی زندگی پیش کرتا ہے جس میں الٰہی ہدایت انسانی کردار میں مجسم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے رسولوں کی بعثت کو لوگوں پر حجت قائم کرنے اور انہیں اللہ کی طرف متوجہ کرنے سے جوڑا ہے۔

نبوت کی حقیقت بھی اسی پس منظر میں واضح ہوتی ہے۔ نبی وہ انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے اپنی ہدایت عطا فرماتا اور اسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے منتخب کرتا ہے۔ نبوت انسانی کوشش، روحانی ریاضت یا محض ذہانت کا حاصل نہیں؛ یہ اللہ کا انتخاب ہے۔ قرآن کہتا ہے: ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ﴾۔ رسالت جسے ملتی ہے، اللہ کے انتخاب سے ملتی ہے، اور نبی کا مقام اسی الٰہی انتخاب اور امانتِ تبلیغ سے متعین ہوتا ہے۔

تمام انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں میں جزوی احکام مختلف رہے، مگر ان کا بنیادی پیغام ایک تھا۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا: ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾۔ انبیاء نے انسان کو مخلوق کی غلامی سے نکال کر خالق کی بندگی کی طرف بلایا۔ انہوں نے انسان کے سامنے یہ حقیقت رکھی کہ وہ بے مقصد وجود نہیں، اس کا ایک رب ہے، ایک ذمہ داری ہے اور ایک آخری منزل ہے۔

اس مشترک پیغام کا مرکز توحید تھا۔ آدم علیہ السلام سے لے کر نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام اور خاتم النبیین محمد ﷺ تک دعوت کی بنیادی روح یہی رہی کہ عبادت صرف اللہ کی ہو۔ ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾۔ توحید محض ایک فلسفیانہ تصور نہیں بلکہ انسان کے پورے وجود، مقصد، اخلاق اور عمل کو ایک مرکز عطا کرتی ہے۔

انبیاء کا دوسرا بنیادی پیغام آخرت تھا۔ انسان اگر صرف دنیا کے محدود زمانے تک اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھے تو بہت سے مظالم بے جواب رہ جاتے ہیں، بہت سی قربانیاں بے معنی دکھائی دیتی ہیں اور بہت سے اخلاقی سوالات حل نہیں ہوتے۔ وحی انسان کو بتاتی ہے کہ دنیا آخری عدالت نہیں۔ ایک ایسا دن آئے گا جب اعمال کا حساب ہوگا، حق اور باطل کے درمیان فیصلہ ہوگا اور ہر انسان اپنے کیے کا سامنا کرے گا۔ آخرت کا یقین اخلاق کو محض سماجی معاہدے سے اٹھا کر الٰہی جواب دہی سے جوڑ دیتا ہے۔

وحی اور عقل کا تعلق اس لیے مقابلے کا نہیں بلکہ تکمیل کا ہے۔ عقل وحی کو سمجھنے، اس کے دلائل پر غور کرنے، اس کے مفاہیم میں تدبر کرنے اور اس کے احکام کے حکیمانہ پہلوؤں کو دریافت کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے؛ لیکن وہ وحی کی جگہ نہیں لے سکتی۔ عقل یہ سمجھ سکتی ہے کہ وحی کا آنا معقول اور ضروری ہے، مگر وحی کے ذریعے ملنے والے ہر غیبی جزئیے کو محض اپنی آزاد قوت سے دریافت کرنا اس کے دائرے میں نہیں۔ صحیح منہج یہ ہے کہ عقل کو استعمال کیا جائے، مگر عقل کو معبود نہ بنایا جائے۔

فطرت کے ساتھ بھی وحی کا یہی تعلق ہے۔ فطرت انسان کے اندر حق کی طرف میلان اور اسے قبول کرنے کی استعداد پیدا کرتی ہے، جبکہ وحی حق کو واضح صورت میں سامنے رکھتی ہے۔ فطرت میں توحید کی قبولیت کی صلاحیت ہے، وحی توحید کی تفصیلی معرفت دیتی ہے۔ فطرت خیر کی طرف مائل کرتی ہے، وحی خیر کی حدود اور اس کے عملی طریقے واضح کرتی ہے۔ فطرت سوال کو زندہ رکھتی ہے، وحی اس سوال کو ہدایت کی سمت لے جاتی ہے۔

تجربہ بھی اپنی جگہ علم کا اہم ذریعہ ہے، لیکن تجربہ محدود اور جزوی ہوتا ہے۔ انسان اپنے مشاہدے سے دنیا کے بہت سے قوانین، انسانی رویوں اور مادی اسباب کو سمجھ سکتا ہے، مگر تجربہ اسے یہ نہیں بتا سکتا کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا، اللہ کی عبادت کس طرح کرنی ہے یا آخری اخلاقی معیار کیا ہے۔ وحی تجربے کی نفی نہیں کرتی بلکہ اسے اس کے صحیح دائرے میں رکھتی ہے۔ دنیاوی امور میں تجربہ انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے، جبکہ غیب اور الٰہی احکام میں وحی اس علم کی رہنما بن جاتی ہے جو تجربہ فراہم نہیں کر سکتا۔

اسی لیے وحی انسانی علم کی تکمیل کرتی ہے۔ انسانی علم محدود، تدریجی اور خطاپذیر ہے؛ وحی انسان کو ان حقائق کے بارے میں یقینی خبر دیتی ہے جن تک وہ اپنے محدود ذرائع سے نہیں پہنچ سکتا۔ تاہم وحی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان کو غور و فکر سے آزاد کر دیا گیا۔ قرآن خود تدبر، تعقل، نظر اور اعتبار کی دعوت دیتا ہے۔ گویا وحی انسان کو سوچنے سے نہیں روکتی بلکہ اسے درست بنیاد اور صحیح سمت عطا کرتی ہے۔

وحی اور اخلاق کا تعلق اس سے بھی زیادہ گہرا ہے۔ عقل بعض اخلاقی قدروں کو سمجھ سکتی ہے، فطرت بعض برائیوں سے نفرت محسوس کر سکتی ہے اور معاشرہ بعض اصول وضع کر سکتا ہے، مگر وحی اخلاق کو ایک قطعی الٰہی نسبت دیتی ہے۔ سچائی اس لیے بھی مطلوب ہے کہ اللہ اسے پسند کرتا ہے، عدل اس لیے بھی ضروری ہے کہ اللہ عدل کا حکم دیتا ہے، اور ظلم اس لیے بھی مذموم ہے کہ اللہ نے اسے حرام کیا ہے۔ یوں اخلاق محض اجتماعی پسند ناپسند نہیں رہتا بلکہ بندے اور رب کے تعلق کا حصہ بن جاتا ہے۔

وحی قانون کو بھی ایک ایسی بنیاد عطا کرتی ہے جو محض انسانی مفاد سے بلند ہوتی ہے۔ انسان قوانین بنا سکتا ہے، ان میں ترمیم کر سکتا ہے اور اپنے اجتماعی حالات کے مطابق انہیں بدل سکتا ہے، لیکن وحی حلال و حرام، حقوق و فرائض اور عدل و ظلم کے بعض بنیادی حدود کو الٰہی حکم سے متعین کرتی ہے۔ اس کا مقصد انسانی آزادی کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے ظلم، خواہش اور طاقت کی بے لگام حکمرانی سے محفوظ کرنا ہے۔

جب وحی فرد تک محدود نہیں رہتی تو معاشرہ بھی اس کے اثر میں آتا ہے۔ وحی انسان کو صرف نماز پڑھنے والا فرد نہیں بناتی بلکہ اسے والدین، اولاد، پڑوسی، یتیم، مسکین، کمزور، مخالف اور معاشرے کے ہر فرد کے حقوق کا شعور دیتی ہے۔ عبادت اور معاملات، اخلاق اور عدل، فرد اور جماعت، حق اور ذمہ داری ایک ہی الٰہی تصورِ زندگی میں مربوط ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح تہذیب بھی وحی سے ایک بنیادی سمت حاصل کرتی ہے۔ تہذیب محض عمارتیں، لباس، زبان یا فنون کا نام نہیں؛ یہ انسان کے تصورِ انسان، تصورِ زندگی اور تصورِ قدر کا مجموعہ بھی ہے۔ جب وحی کسی تہذیب کے فکری مرکز میں آتی ہے تو علم، اخلاق، قانون، خاندان، معیشت، عدل اور انسانی تعلقات کو ایک الٰہی مقصد سے جوڑ دیتی ہے۔ یوں تہذیب صرف طاقت اور آسائش کا نظام نہیں رہتی بلکہ انسان سازی کا وسیلہ بن سکتی ہے۔

وحی کی عظمت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ زندگی کے کسی ایک گوشے تک محدود نہیں رہتی۔ وہ انسان کو مسجد میں بھی مخاطب کرتی ہے اور بازار میں بھی، تنہائی میں بھی اور معاشرے میں بھی، عبادت میں بھی اور معاملات میں بھی، محبت میں بھی اور اختلاف میں بھی۔ وہ انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کے مختلف حصے ایک دوسرے سے کٹے ہوئے نہیں؛ اگر رب ایک ہے تو زندگی بھی اپنے بنیادی مقصد کے اعتبار سے ایک وحدت رکھتی ہے۔

پھر وحی انسان کو یقین تک لے جاتی ہے۔ عقل دلیل فراہم کرتی ہے، فطرت حق کی طرف مائل کرتی ہے، مشاہدہ نشانیوں کو دکھاتا ہے، مگر وحی انسان کو ایسی خبر دیتی ہے جسے وہ اللہ کے کلام اور رسول کی صداقت کی بنیاد پر قبول کرتا ہے۔ یہاں یقین محض نفسیاتی اطمینان نہیں بلکہ علم کی ایک مضبوط کیفیت بن جاتا ہے جس میں انسان حق کو پہچان کر اس کے سامنے اپنی زندگی کو منظم کرتا ہے۔

لیکن وحی سے حاصل ہونے والا یقین بھی صرف ذہنی تصدیق پر ختم نہیں ہوتا۔ قرآن کا مقصد انسان کو محض یہ باور کرانا نہیں کہ کچھ حقائق درست ہیں؛ وہ اسے ان حقائق کے مطابق جینے کے لیے بلاتا ہے۔ جب وحی دل کو بدلتی ہے تو علم یقین بنتا ہے، یقین ایمان میں ڈھلتا ہے، ایمان عمل پیدا کرتا ہے اور عمل انسان کے کردار کو بدل دیتا ہے۔ اسی تبدیلی میں وحی کی تاثیر کا اصل راز پوشیدہ ہے۔

اور جب وحی انسان کی عقل کو سمت، فطرت کو بیداری، علم کو یقین، یقین کو ایمان اور ایمان کو عمل عطا کرتی ہے تو وہ محض معلومات کا مجموعہ نہیں رہتی؛ وہ نور بن جاتی ہے۔ قرآن اسی لیے خود کو ﴿قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ﴾ کے مفہوم میں انسان کے لیے نور اور واضح کتاب قرار دیتا ہے۔

یوں انسانی سفر حیرت سے سوال تک، سوال سے علم تک، علم سے عقل تک، عقل سے فطرت کی پہچان تک، اور فطرت سے وحی تک پہنچتا ہے۔ اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ وحی سے ملنے والی حقیقت انسان کے اندر کس طرح یقین پیدا کرتی ہے، یقین کی اقسام کیا ہیں، ظن اور شک کہاں کھڑے ہوتے ہیں، اور وہم انسان کو حقیقت سے کس طرح دور کرتا ہے۔

کیونکہ حق کو جان لینا سفر کا اختتام نہیں؛ حق کے بارے میں یقین حاصل کرنا اور پھر اس یقین کے مطابق زندگی گزارنا ہی علم کے سفر کا اگلا مرحلہ ہے۔

Loading