سلسلۂ سلوک
قسط ہشتم: انسان کی باطنی قوتیں
کشش، غضب، وہم اور عقل
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مصر کے ایک عالیشان محل کی تنہائی میں حسن و جمال کا ایک شاہکار، غلامی کے پیرائے میں، اپنے فرائضِ خدمت انجام دے رہا تھا۔ محل کی مالکہ، جو اپنے اقتدار، شباب اور تمکن کے سبب ہر تمنا پر قادر تھی، اس نوجوان کے حسنِ بے مثال پر شیفتہ ہو گئی۔
ایک روز اس نے تمام درہا کر مقفل کر دیے اور بے باک شوخی سے پکار اٹھی: “ہیْتَ لَکَ” (آ جاؤ، میں تمہارے لیے ہی ہوں)
یہ لمحہ ہر نفسِ انسانی کے لیے سخت ترین ابتلا اور آزمائش کا مقام تھا۔ نہ کوئی دیدہ شاہد تھا، نہ کوئی دستِ مانع۔ جوانی، قصر کی خلوت اور صاحبِ اقتدار و جمال عورت کی دعوت, ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ گھڑی نہایت کڑی تھی۔
مگر اس مطہر نوجوان حضرت یوسف علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے قلب سے فوراً ندائے توحید بلند ہوئی۔
آپ نے فرمایا:
مَعَاذَ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ ۖ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
خدا کی پناہ, بے شک وہ (تمہارا شوہر) میرا آقا ہے، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے، اور سچ یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے.
قرآنِ کریم اس باطنی کشمکش کی باریک بین تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتا ہے:
اور بے شک اس عورت نے ان کا قصد کیا، اور وہ بھی اس کا قصد کر بیٹھتے اگر اپنے رب کی برہان (دلیل و تقویٰ) نہ دیکھ لیتے, ایسا اس لیے ہوا تاکہ ہم ان سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھیں، بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے۔
(سورۃ یوسف: ۲۴)
یہ آیتِ کریمہ واضح کرتی ہے کہ یوسف علیہ السلام کے وجودِ مسعود میں بھی وہی بشری فطرت ودیعت تھی جو ہر انسان کی سرشت کا حصہ ہے، کیونکہ یہی انسانیت کا خاصہ ہے۔
مگر فرق یہ تھا کہ ان کے صلبِ قلب میں اللہ کی “برہان” یعنی یقینِ کامل، تقویٰ اور باطنی بصیرت اس فطری کشش کے آگے سدِ سکندری بن کر حائل ہو گئی۔
وہ فوراً بابِ فرار کی طرف لپکے، عورت نے پیچھے سے پیراہن چاک کر دیا، اور دہلیز پر ہی عزیزِ مصر سے سامنا ہو گیا۔
یہ سرفروشی ہمیں سکھاتی ہے کہ فطری کشش کوئی نقص نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی ودیعت کردہ فطرت ہے؛ اصل فتح و ولایت اس لمحے میں ہے جب باطنی کشش اور نورِ یقین آمنے سامنے آ جائیں اور روح، یقین کا دامن تھام لے۔
باطن کے چار ارکان: مملکتِ نفس کی قوتیں
سالکانِ راہِ حق نے انسان کے عالمِ باطن میں چار بنیادی قوتوں کی نشاندہی کی ہے، اور تربیتِ سلوک کا اصل مقصد انہی قوتوں کی شیرازہ بندی اور ان پر عقلِ ایمانی کی حکمرانی قائم کرنا ہے.
قوتِ جاذبہ (کششِ فطری)
یہ وہ قوت ہے جو لذت، کشش اور بقائے وجود کی طلب سے جڑی ہے, طعام، آرام اور زوجیت کی رغبت اسی کا عکس ہے۔
یہ قوت بذاتِ خود مذموم نہیں۔ اسی کے طفیل انسان غذا کھا کر زندہ رہتا ہے اور نکاح کے ذریعے نسلِ انسانی کی آبیاری کرتا ہے۔ خرابی تب جنم لیتی ہے جب یہ قوت حدودِ شرعیہ کو توڑ کر طغیانی پر اتر آئے۔
اس کی تزکیہ کا طریقہ ضبطِ نفس، حدودِ الٰہی کی پاسداری اور غضِ بصر (نگاہ کی حفاظت) ہے۔
فرمانِ نبوی ﷺ ہے: “نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے۔”
اسی لیے یوسف علیہ السلام کا پہلا قدم فتنے کا مقابلہ کرنا نہیں، بلکہ فتنے سے بھاگنا (دروازے کی طرف دوڑنا) تھا۔
قوتِ غضبیہ (دافعہ)
یہ دفاع، غیرت اور مزاحمت کی طاقت ہے۔ یہی قوت سالک کو ظلم کے خلاف ایستادہ ہونے، اپنے حمیتِ دین کی حفاظت کرنے اور منکرات کو روکنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ لیکن اگر یہ بے مہار ہو جائے تو قہر، انتقام، تکبر اور درندگی کا روپ دھار لیتی ہے۔
حضورِ اکرم ﷺ نے نصیحت کے جوئندہ صحابی کو بار بار یہی ارشاد فرمایا: “غصہ نہ کرو۔” اس قوت کی تربیت اسے کچلنے میں نہیں، بلکہ اسے صحیح مصرف یعنی اعلائے کلمۃ اللہ اور باطنی شر کے خلاف استعمال کرنے میں ہے۔
قوتِ وہمیہ (متخیلہ)
یہ قوت خیالی خدشات، وسوسوں، بدگمانیوں اور بلاوجہ کے باطنی خوف کی آماجگاہ ہے۔ یہی وہم انسان کو بغیر ثبوت کے بندگانِ خدا سے بدگمان کرتا ہے اور مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا کر کے خدا کی رحمت سے دور کرتا ہے۔
حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو بہت گمان کرنے سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔
(الحجرات: ۱۲)
اس قوت کی طہارت حسنِ ظن اور یقین باللہ کی روشنی سے ممکن ہے۔
قوتِ عاقلہ (نورِ قلبی)
یہ وہ ملکوتی قوت ہے جسے باقی تینوں قوتوں پر حاکم و قاضی ہونا چاہیے۔ یہ وہ باطنی نور ہے جو حق و باطل میں تمیز کرتا ہے اور یوسف علیہ السلام کو اس کڑی آزمائش کی گھڑی میں “معاذ اللہ” پکارنے پر آمادہ کرتا ہے۔
عقلِ سلیم کی آبیاری علمِ نافع، تدبر، ذکرِ دائمی اور صحبتِ اولیاء سے ہوتی ہے۔
تمثیلِ مملکتِ باطن
امام غزالیؒ ‘احیاء علوم الدین’ میں فرماتے ہیں کہ دل کی مثال ایک بادشاہ کی سی ہے، اور جاذبہ و غضب اس کے دو ایسے لشکری ہیں جو اگر بادشاہ کے فرمانبردار رہیں تو مملکتِ وجود کی حفاظت کرتے ہیں، اور اگر خود حاکم بن بیٹھیں تو بادشاہ کو بسترِ مرگ پر سلا دیتے ہیں۔
اگر عقلِ ایمانی حاکم ہو اور جاذبہ، غضب اور وہم اس کے مطیع رعایا بن کر رہیں، تو انسان کا باطن اقلیمِ امن بن جاتا ہے۔
لیکن اگر جاذبہ یا غضب تخت پر بیٹھ جائیں، تو وہی باطن ایک طوائف الملوکی اور انتشار کا دوزخ بن جاتا ہے۔
یوسف علیہ السلام کا اسوہ بتاتا ہے کہ اس باطنی معرکے میں نصرت کی کنجی “برہانِ رب” ہے, یعنی اللہ کی ہمہ وقت حضوری کا وہ جاگتا ہوا احساس جو آزمائش کی شدت کے وقت دل میں برق بن کر کوندتا ہے اور سالک کو معصوم بنا دیتا ہے۔
سالک کے لیے ہدایتِ راہ
اس منزل میں سالک “حکمرانیِ عقل” کے مقام پر فائز ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ نہیں کہ وہ جاذبہ یا غضب کو بالکل قتل کر دے, کیونکہ یہ نہ ممکن ہے نہ شریعت کو مطلوب, بلکہ کام یہ ہے کہ ان سب پر تقویٰ اور بصیرتِ ربانی کا پہرہ بٹھا دے۔
اے ہمارے رب جس طرح تو نے اپنے برگزیدہ بندے یوسف علیہ السلام کو اپنی برہانِ قدسی دکھا کر آزمائش کے سمندر سے ساحلِ مراد تک پہنچایا، اسی طرح ہمیں بھی اپنے حفظ و امان میں رکھ۔
ہماری فطری کشش کو حدودِ پاکیزگی میں مقید فرما، ہمارے غضب کو حق کی نصرت میں لگا، ہمارے وہم کو نورِ حسنِ ظن سے بدل دے، اور ہماری عقل کو اپنے معرفت و یقین سے ایسا روشن فرما کہ وہ ہمارے باطن کے اقلیم پر ہمیشہ حاکم رہے۔
آمین یا رب العالمین
#Khaak_e_rawan
![]()

