شباب کی باتیں
*وہ چاہتا ہے کہ بس میں ہی میں نظر آؤں*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ سلطان اولیاء ہے تو وہ شاہ قبول ہے ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ مشتاق شباب مشتاق شباب)وہ کہانی تو آپ نے سنی ہوگی کہ ایک شخص نے گاؤں میں پرانی اور قدیم مسجد کی جگہ نئی مسجد تعمیر کر کے، اس میں ہر سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی نیک کمائی سے فراخ دلی سے اخراجات کئے، جس کی وجہ سے ہر نماز کے بعد لوگ اسے دعائیں دینے لگے۔ اسی گاؤں کے ایک اور شخص کو جو مسجد کی تعمیر نو کرنے والے کے اس اقدام پر اس سے حسد اور جلن صرف اس لیے محسوس کرتا تھا کہ لوگ دن رات، نہ صرف مسجد بلکہ حجروں، بیٹھکوں، بلکہ راہ چلتے بھی اسے کیوں دعائیں دیتے ہیں؟ اس لیے موصوف نے خود کو بھی نمایاں کرنے کے لیے مسجد میں جا کر غلاظت پھینک دی۔ اس کا یہ حربہ اس حوالے سے کامیاب رہا کہ جہاں لوگ مسجد تعمیر کرنے والے کو دعائیں دیتے، اسے اچھے لفظوں سے یاد کرتے، ساتھ ہی مسجد میں غلاظت پھینکنے والے کو بھی یاد تو ضرور کرتے، اس کا تذکرہ بھی کرتے مگر برے الفاظ میں۔ گویا بد نیت شخص نے جو حربہ استعمال کیا تھا اس پر یہ مصرعہ پوری طرح منطبق ہوتا تھا کہ
*بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟*
یہ کہانی یوں یاد آئی کہ آج کل سوشل میڈیا بھی کچھ ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے۔ بعض ایپس میں ایسے لوگ سرگرم دکھائی دیتے ہیں جن کی اپنی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے بھی خاصے پاپڑ بیلنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے، مگر وہ کئی ایک گروپس میں شامل ہو کر، بلا ضرورت یا تو تبصرہ آرائی کرتے ہیں یا پھر غلط سلط معلومات کہیں سے حاصل کر کے، پوسٹیں شیئر کرتے ہیں اور خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پشتو کے ایک مقولے کے مطابق ” *تہ م شمیرہ زہ در گڈ یم*” یعنی تم بے شک مجھے کسی شمار میں نہ رکھو، مگر میں تو ہوں نا۔۔۔
*عشق و حسن سب فانی، پھر غرور کیا معنی؟*
*کس شمار میں ہم ہیں؟، کس قطار میں تم ہو؟*
ایک صاحب ہیں جو چند گروپس میں خود کو نمایاں کرنے کے لیے ہر پوسٹ پر تبصرے کر کے، لائک کا بٹن دبا کر، یا پھر غیر ضروری اشعار لکھ کر اپنی حاضری لگوانا اپنا پیداشی حق سمجھتے ہیں۔ ان کو کئی بار دبی زبان میں سمجھانے کی کوشش بھی کی گئی کہ ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے سے فائدہ نہیں بلکہ متعلقہ گروپ کے ایڈمنز کی جانب سے تنبیہ بھی کی گئی کہ جناب اس قسم کی پوسٹوں سے متعلقہ گروپ کے ایپ پر بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ مگر حرام ہو جو انہیں سمجھ آتی ہو اور اگر بہ امر مجبوری ان کی پوسٹوں کو ڈیلیٹ کر دیا جائے تو آگے سے، ڈھٹائی سے ہنسنے والے ایموجیز سے اپنی خفت مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ہی ایک شاعر نعیم ضرار نے شاید کہا تھا کہ
*تم اگر صاحب رائے ہو تو لازم تو نہیں*
*تم جسے ٹھیک سمجھتے ہو وہی ٹھیک بھی ہو*
بلکہ اسی شعر کو ایک اور محترم پر بھی آسانی کے ساتھ منطبق کیا جا سکتا ہے، جس میں اور تو کوئی خاصیت نہیں بس وہ “اس مظلوم شہر پشاور” کی تاریخ اور بعض لوگوں کے حوالے سے معلومات اکٹھی کر کے اور ان میں تحریف کر کے، یا ان کے بارے میں غلط دعوے کر کے، بڑی بڑی پوسٹیں لگا کر خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ابھی چند روز پہلے اس کی اسی قسم کی ایک پوسٹ پر بعض باخبر لوگوں نے تبصرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ (—– خدا تجھ سے سمجھے)، معلوم نہیں خدا اس سے کب سمجھے گا، مگر اس کی پوسٹوں پر منفی تبصروں سے لوگ اس سے ضرور سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ آگے سے اس کے غلط دعوؤں پر تبصرہ کرنے والے، اگر اس کی تصحیح کر بھی دیں تو ڈھٹائی اور شرمندگی کی ساری حدیں پھلانگتے ہوئے، موصوف اپنے غلط دعووں پر ڈٹ جاتا ہے اور کسی کی تصحیح سے اسے کوئی تعرض نہیں ہوتا۔ دراصل ان دونوں حضرات کا مطمح نظر بالکل اس شخص کی مانند ہے کہ اگر مسجد تعمیر کرنے کی بجائے مسجد میں غلاظت بکھیر دی جائے تو لوگ انہیں یاد تو کریں گے۔ یعنی بقول خالد محبوب
*وہ چاہتا ہے کہ بس میں ہی میں نظر آؤں*
*عجیب شخص ہے وہ ہر کسی سے جلتا ہے*
اب کیا ضروری ہے کہ خود کو نمایاں کرنے کے لیے دوسروں کی خوشہ چینی کی جائے، اور اس میں بھی تحریف سے کام لے کر خود کو دوسروں کے لیے مضحکہ خیز بنا کر رکھ دیا جائے؟ نمایاں ہونے کا شوق کوئی غلط سوچ نہیں، ہر کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو نمایاں کر کے لوگوں کی نظروں میں استحسان کے درجے پر فائز کرے۔ تاہم ایسے لوگوں کو بھی قدیم زمانے کے اساتذہ اور سمجھدار لوگوں نے جو مشورہ دیا ہے اس پر عمل کر کے ہی اس مقام پر فائز ہوا جا سکتا ہے۔ اور وہ مشورہ کچھ یوں ہے کہ
*کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی*
مشتاق احمد یو سفی نے بھی ایسے ہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑی خوبصورت بات کہی ہے کہ “اپنی تعریف اور تعارف کرانا کار ثواب ہے ، کہ اس طرح دوسرے جھوٹ بولنے سے بچ جاتے ہیں”. مگر کیا کیا جائے کہ جب اپنی تعریف اور تعارف کراتے ہوئے بندہ خود ہی جھوٹ بولنے پر اتر آئے تو اس کا کیا علاج ہوگا؟ کاش یوسفی صاحب آج زندہ ہوتے تو ان سے یہ سوال ضرور پوچھنے کی جرات کرتا، تاہم اس ساری صورتحال پر کسی اور شاعر کا یہ شعر اس قسم کے کرداروں کی خدمت میں ضرور پیش کیا جا سکتا ہے کہ
*دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد*
*پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے*
![]()

