کیا بلیک ہول اپنی کہکشاں سے پہلے پیدا ہو سکتا ہے؟ — جیمز ویب کی حیران کن دریافت
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہم فلکیات کی روایتی کتابوں میں اب تک یہی پڑھتے اور سمجھتے آئے ہیں کہ کائنات میں پہلے کہکشاں کا ڈھانچہ تیار ہوتا ہے، گیس کے بادلوں میں کھربوں ستارے جنم لیتے ہیں، اور پھر ان میں سے انتہائی دیو قامت ستارے اپنی عمر پوری کر کے زور دار دھماکے کے ساتھ ایک بلیک ہول بناتے ہیں۔ پھر یہ بلیک ہول وقت کے ساتھ ساتھ اردگرد کا مادہ نگلتے ہوئے کروڑوں یا اربوں سورجوں جتنا وزنی ہو جاتا ہے۔ لیکن امریکی و یورپی خلائی دوربین جیمز ویب (James Webb) کی ایک تازہ ترین تحقیق نے اس پرانے اور سیدھے سادھے نظریے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سائنس دانوں نے ابتدائی کائنات کے گھپ اندھیروں میں جھانک کر ایک ایسا بلیک ہول ڈھونڈ نکالا ہے جو اپنی میزبان کہکشاں کے ننھے وجود کے مقابلے میں ناقابلِ فہم حد تک دیو ہیکل ہے۔ اس محیر العقول دریافت نے فلکیاتی حلقوں میں یہ سنسنی خیز سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا کائنات میں کچھ بڑے بلیک ہولز ستاروں کی بستی یعنی کہکشاں کے بننے سے بھی پہلے وجود میں آ گئے تھے؟
تیرہ ارب سال پرانی روشنی اور ننھا لال نقطہ
اس پراسرار نظام کو سائنسی کیٹلاگ میں ایبل 2744 کیو ایس او 1 (Abell2744-QSO1) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کائنات کے ان انتہائی چھوٹے اور گہرے سرخ اجسام میں شامل ہے جنہیں ماہرینِ فلکیات اصطلاحاً لٹل ریڈ ڈاٹس (Little Red Dots) کہتے ہیں۔ خلائی دوربین جیمز ویب نے اسے اس حالت میں دیکھا ہے جب بگ بینگ (Big Bang) کے بعد بمشکل 70 کروڑ سال گزرے تھے، یعنی اس وقت کائنات اپنی موجودہ عمر کا صرف پانچ فیصد حصہ ہی طے کر پائی تھی۔
اس پوری کہکشانی دنیا کا پھیلاؤ صرف 1,300 نوری سال کے لگ بھگ ہے، جبکہ موازنے کے لیے ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے (Milky Way) کا قطر ایک لاکھ نوری سال پر محیط ہے۔ اس کے باوجود اس ننھی سی دنیا کے عین مرکز میں ایک ایسا خوفناک بلیک ہول براجمان ہے جس کا اکیلا وزن ہمارے سورج کے مقابلے میں تقریباً پانچ کروڑ گنا زیادہ ہے۔
سائنس دانوں نے بلیک ہول کا وزن کیسے ناپا؟
ابتدائی کائنات کے بلیک ہولز کا وزن عام طور پر روشنی کے اندازوں سے لگایا جاتا تھا جس میں غلطی کی بڑی گنجائش رہتی تھی۔ لیکن اس مرتبہ جیمز ویب پر نصب جدید ترین آلے نر اسپیک (NIRSpec) نے تاریخ میں پہلی بار کمال کر دکھایا۔ اس آلے نے بلیک ہول کے دہانے پر چکر کاٹتی ہوئی ہائیڈروجن گیس کی گردش کو باقاعدہ نقشے پر ناپ لیا۔
اس گیس کی گھومنے کی رفتار نے بالکل ویسا ہی باقاعدہ توازن دکھایا جیسے ہمارے نظامِ شمسی کے سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں، جسے سائنسی زبان میں کیپلیرین روٹیشن (Keplerian rotation) کہا جاتا ہے۔ گیس کی اسی مداری رفتار کے حسابی فارمولے سے سائنس دان اس کا قطعی وزن ناپنے میں کامیاب ہوئے، اور معتبر سائنسی جریدے نیچر (Nature) کی رپورٹ کے مطابق یہ وزن پانچ کروڑ شمسی کمیت کے برابر نکلا۔ اتنی قدیم کائنات میں کسی بلیک ہول کا براہِ راست وزن ناپنے کا یہ تاریخ کا پہلا اور مستند ترین سائنسی ریکارڈ ہے۔
حیرت انگیز معمہ: بلیک ہول بڑا اور کہکشاں ننھی
اس کائنات میں پانچ کروڑ سورجوں جتنا بلیک ہول ہونا بذاتِ خود کوئی انوکھی بات نہیں ہے کیونکہ اس سے بھی بڑے بلیک ہول موجود ہیں۔ اصل حیرت اور الجھن اس بلیک ہول کے گھر یعنی اس کی کہکشاں کے انتہائی چھوٹے اور کمزور ہونے پر ہے۔ عام طور پر آج کی کہکشاؤں میں مرکزی بلیک ہول کا وزن پوری کہکشاں کے ستاروں کے مجموعی وزن کا بمشکل ایک فیصد یا اس سے بھی کم ہوتا ہے۔
مگر اس ننھی دنیا میں معاملہ بالکل الٹ نکلا۔ سائنسی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مرکزی بلیک ہول کا وزن وہاں موجود تمام ستاروں کی مجموعی کمیت سے بھی کم از کم دو گنا زیادہ ہے، یعنی پورے نظام کا دو تہائی حصہ صرف اکیلا بلیک ہول ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب ستارے اتنے کم تھے تو اتنے مختصر عرصے میں اتنا بڑا عفریت کس چیز کو کھا کر پل بڑھ گیا؟
بھاری عناصر کی غیر موجودگی اور ستاروں کا نہ ہونا
اس معمے کا دوسرا سرا اس نظام کی کیمیائی جانچ سے جڑتا ہے۔ جیمز ویب کے معائنے سے پتا چلا کہ اس بلیک ہول کے اردگرد گیس میں صرف خالص ہائیڈروجن اور ہیلیم بھری ہوئی ہے، جبکہ آکسیجن، کاربن اور لوہے جیسے بھاری عناصر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کے مطابق اس میں دھاتوں کی مقدار سورج کے مقابلے میں آدھے فیصد سے بھی کم ہے۔
فلکیات کا بنیادی اصول ہے کہ کائنات میں آکسیجن اور کاربن جیسے بھاری مادے صرف ستاروں کے پیٹ میں بنتے ہیں اور ان کے مرنے کے بعد فضا میں بکھرتے ہیں۔ ان عناصر کی شدید کمی یہ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ اس جگہ ستاروں کی کوئی پرانی نسلیں پیدا ہی نہیں ہوئی تھیں جنہوں نے مر کر یہ بلیک ہول بنایا ہو۔ یعنی ستارے ابھی بنے ہی نہیں تھے اور بلیک ہول پہلے سے موجود تھا۔
ابتدائی کائناتی بیج اور براہِ راست خاتمے کا نظریہ
سائنس دانوں کے پاس اس کائناتی تضاد کو سلجھانے کے لیے دو بڑے سائنسی ماڈلز سامنے آئے ہیں۔ ایک نظریہ ڈائریکٹ کولیپس (Direct Collapse) کہلاتا ہے، جس کے مطابق کائنات کے ابتدائی دور میں گیس کے دیو ہیکل بادل ستاروں میں تبدیل ہوئے بغیر اپنے ہی بے پناہ وزن سے اچانک سکڑ کر براہِ راست ایک بہت بڑے بلیک ہول میں تبدیل ہو گئے۔
دوسرا زیادہ حیران کن امکان پرائمورڈیل بلیک ہولز (Primordial Black Holes) کا ہے۔ یہ وہ مفروضی بلیک ہولز ہیں جو ستاروں کے مرنے سے نہیں بلکہ کائنات کی پیدائش کے پہلے چند سیکنڈز کے دوران مادے کی زبردست کثافت سے پیدا ہوئے تھے۔ اگر یہ نظریہ درست مانا جائے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوگا کہ بلیک ہول پہلے پیدا ہوا اور اس کے ثقلی اثر نے بعد میں اردگرد ستاروں کو جمع کر کے کہکشاں کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ سائنس دان ابھی حتمی فیصلے میں احتیاط برت رہے ہیں، مگر یہ شواہد ثابت کرتے ہیں کہ بلیک ہول کا وجود کہکشاں کے جنم سے پہلے کا ہی ہے۔
قرآنِ حکیم اور کائناتی تخلیق پر تفکر
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے اندر کائنات کے ان پوشیدہ اور سربستہ رازوں پر عقل والوں کو تدبر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾
ترجمہ: “یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔”
حوالہ: سورۃ آل عمران، آیت نمبر 190
اس آیتِ مبارکہ کے بعد فرمایا گیا کہ یہ اہلِ عقل وہ ہیں جو کائنات کے کارخانے پر گہری نگاہ ڈال کر اپنے رب کی کاریگری کو پہچانتے ہیں۔ امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ آسمانوں کے عجائبات انسان کو خالق کے کمالِ قدرت کا احساس دلاتے ہیں۔ ہم اس فلکیاتی دریافت کو کسی سائنسی فارمولے کے طور پر قرآنی آیت پر زبردستی نہیں تھوپتے، مگر یہ سائنسی حقائق ایک مومن کے دل کو یہ تسلیم کرنے پر ضرور مائل کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت کی تدبیر کے ایسے لامتناہی سلسلے ہیں جنہیں انسان جتنا سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، کائنات کی وسعتیں اتنی ہی حیرت انگیز ہو کر سامنے آتی ہیں۔
حاصلِ کلام
خلائی دوربین جیمز ویب کی یہ دریافت کائناتی تاریخ کے ایک نئے اور انوکھے باب کا آغاز ہے۔ تیرہ ارب سال پرانی کائنات میں ایک ایسی دنیا کا پایا جانا جہاں بلیک ہول کا وزن پوری کہکشاں کے ستاروں سے دو گنا زیادہ ہے، اس پرانے مفروضے کو باطل کرتا ہے کہ بلیک ہول ہمیشہ ستاروں کے مرنے کے بعد ہی بنتے ہیں۔
شواہد اشارہ کرتے ہیں کہ کائنات کی ابتدا میں بعض بلیک ہول پہلے بنے اور انہوں نے بعد میں کہکشاؤں کو جنم دیا، اگرچہ اس ابتدائی بیج کے بننے کا اصل طریقہ کار ابھی مزید تحقیق کا طلب گار ہے۔ سائنس کا سب سے بڑا حسن یہی ہے کہ وہ پرانی غلط فہمیوں کو نئے شواہد کے سامنے جھکا دیتی ہے، اور جیمز ویب نے اس انکشاف سے کائنات کی کہانی کو پہلے سے کہیں زیادہ مسحور کن اور پُراسرار بنا دیا ہے۔
#کائنات #بلیک_ہول #جیمز_ویب #فلکیات #سائنس_اور_قرآن #طارق_اقبال_سوہدروی
حوالہ: سائنسی تحقیقی مقالہ، جریدہ نیچر (Nature) — ریڈ ڈاٹ کہکشاں میں بلیک ہول کے وزن کی پیمائش، 2026ء
حوالہ: پریس ریلیز، یورپی خلائی ایجنسی ویب (ESA/Webb) — کہکشاں سے پہلے بننے والا بلیک ہول، مئی 2026ء
حوالہ: مشاہداتی ڈیٹا، ناسا و یورپی خلائی ایجنسی — ایبل 2744 کیو ایس او 1 مشاہدات
حوالہ: کائناتی تجزیہ، جریدہ نیچر ایسٹرونومی (Nature Astronomy) — کائنات کے ابتدائی بھاری بیج
حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ آل عمران، آیات 190 تا 191
حوالہ: تفسير القرآن العظيم، عماد الدين اسماعيل بن كثير، سورۃ آل عمران
![]()

