Daily Roshni News

فلکیات کی باتیں

کبھی رات کو چھت پر لیٹے آسمان میں ایک روشن، ستارے جیسا نقطہ دیکھا ہو تو ممکن ہے وہ ستارہ نہ ہو، سیارہ ہو۔ اکثر وہ مشتری ہوتا ہے۔ اس کے جسم پر ایک نشان صدیوں سے وہیں ہے، ایک سرخی مائل دھبہ، جیسے کوئی زخم کبھی نہ بھرا ہو۔
۱۶۶۵ میں ایک اطالوی ماہرِ فلکیات، جیووانی کاسینی، نے مشتری پر ایسا ہی ایک نشان دیکھا تھا۔ کچھ عرصے بعد وہ نشان آسمان سے غائب ہو گیا۔ لیکن ۱۸۳۰ کی دہائی سے یہ دوبارہ نظر آنے لگا، اور تب سے آج تک، مسلسل، ہر دور کی دوربین نے اسے وہیں دیکھا ہے۔ باپ کی نسل نے دیکھا، بیٹے کی نسل نے دیکھا، پوتے کی نسل نے بھی۔
ذرا اندازہ لگائیں۔ کراچی یا لاہور میں کوئی آندھی تین دن چلے تو بڑی خبر بن جاتی ہے۔ اب تصور کریں ایک ایسا طوفان جو تقریباً دو سو سال سے مسلسل چل رہا ہو۔ نہ تھکا۔ نہ رکا۔
دراصل یہ کوئی داغ نہیں، ایک زبردست طوفان ہے۔ مشتری گیس سے بنا سیارہ ہے، اور اس کی فضا میں ہوا کے بڑے بگولے بنتے اور مٹتے رہتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا بگولہ اتنا وسیع ہے کہ آج بھی اس کے اندر پوری زمین سما جائے، اور کچھ عشرے پہلے تک اس میں دو یا تین زمینیں سما جاتی تھیں۔ اسی بگولے کا نام گریٹ ریڈ اسپاٹ ہے، یعنی عظیم سرخ دھبہ۔
اس طوفان کے کنارے پر ہوا چار سو سے چھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔ ہمارے یہاں کی تیز ترین آندھی بھی اس کے سامنے دھیمی لگے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ طوفان کے عین بیچ میں ہوا نسبتاً پرسکون رہتی ہے، بالکل ویسے جیسے سمندری طوفان کی آنکھ ہوتی ہے۔
۲۰۱۷ سے ۲۰۱۹ کے درمیان امریکی خلائی ادارے کا جونو نامی خلائی جہاز اس طوفان کے اوپر سے کئی بار گزرا۔ اس نے مائیکرو ویو لہروں اور کشش ثقل کی باریک تبدیلیوں سے طوفان کے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔ نتیجہ حیران کن نکلا۔ یہ طوفان صرف بادلوں کی سطح تک محدود نہیں۔ یہ سیارے کے اندر تین سو سے پانچ سو کلومیٹر تک گہرا پھیلا ہوا ہے۔
ایک منٹ رکیے۔ اصل بات صرف اتنی ہے: مشتری پر ایک طوفان صدیوں سے چل رہا ہے، اور یہ محض اوپری تہہ نہیں بلکہ سیارے کے اندر تک گہرا ہے۔
یہاں ایک الجھن پیدا ہوتی ہے۔ زمین پر کوئی طوفان خشکی سے ٹکرا کر یا ٹھنڈے پانی سے گزر کر کمزور پڑ جاتا ہے۔ مشتری کے پاس ایسی کوئی رکاوٹ نہیں۔ پورا سیارہ ہی گیس اور مائع تہوں پر مشتمل ہے، اوپر سے نیچے تک۔ نہ خشکی۔ نہ کوئی سخت زمین۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ طوفان اتنی مدت تک زندہ رہا۔ ایک اور خیال یہ بھی ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے طوفانوں کو اپنے اندر جذب کر کے اپنی توانائی برقرار رکھتا ہے۔ مگر حتمی جواب ابھی سائنس کے پاس نہیں۔
اور ایک اور بات۔ یہ طوفان ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہا۔ انیسویں صدی کے آخر میں یہ اتنا بڑا تھا کہ اس میں تین زمینیں سما جاتیں۔ ۱۹۷۹ میں ناسا کے وائجر خلائی جہاز نے اسے ناپا تو یہ سکڑ کر تقریباً تئیس ہزار کلومیٹر رہ گیا تھا۔ اب یہ سولہ ہزار کلومیٹر سے بھی کم رہ گیا ہے، اور ہر سال مزید نو سو کلومیٹر تک سکڑ رہا ہے۔ اگر یہی رفتار جاری رہی تو شاید ایک دن یہ مکمل طور پر غائب ہو جائے، مگر یہ ابھی صرف ایک اندازہ ہے۔
مجھے یہ بات ہمیشہ حیران کرتی ہے کہ ایک طوفان اتنے عرصے تک چل سکتا ہے کہ انسان کی کئی نسلیں گزر جائیں اور وہ اب بھی وہیں گھوم رہا ہو، بغیر تھکے، بغیر رکے، بغیر کسی خشکی یا رکاوٹ کے۔ اگلی بار جب کسی صاف رات کو چھت پر لیٹیں اور آسمان میں مشتری کو ایک معمولی سے روشن نقطے کی طرح چمکتا دیکھیں، تو یاد رکھیں: اس چھوٹے سے نقطے کے اندر ایک ایسا طوفان ہے جو پوری زمین کو نگل سکتا ہے، اور جو شاید ہماری زندگی سے بھی زیادہ دیر تک وہیں گھومتا رہے گا۔
اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔
ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔

Loading