Daily Roshni News

الْغَفْلَةُ حقیقت سے بے خبری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الْغَفْلَةُ حقیقت سے بے خبری

انسان کی زندگی میں کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کا علاج آسان نہیں ہوتا، کیونکہ مریض کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ بیمار ہے۔ جسم بیمار ہو تو درد محسوس ہوتا ہے، بخار ہو تو انسان علاج کے لیے نکل پڑتا ہے، زخم ہو تو اسے دیکھ بھی سکتا ہے، لیکن دل کی ایک بیماری ایسی ہے جو انسان کو اندر سے کمزور کرتی رہتی ہے اور اسے خبر تک نہیں ہونے دیتی کہ اس کے اندر کچھ مر رہا ہے۔ اس بیماری کا نام ہے:
*الْغَفْلَةُ* غفلت۔
عام طور پر غفلت کو ہم صرف بھول جانے، سستی کرنے یا کسی کام سے بے توجہی کے معنی میں لیتے ہیں، لیکن قرآن کی زبان میں غفلت اس سے کہیں زیادہ گہری کیفیت ہے۔ غفلت یہ ہے کہ حقیقت سامنے ہو مگر انسان حقیقت کو محسوس نہ کرے۔ اللہ کی نشانیاں ہر طرف موجود ہوں، مگر انسان ان سے سبق نہ لے۔ موت روزانہ دوسروں کو اٹھا کر لے جا رہی ہو، مگر انسان اپنے بارے میں یہ سوچتا رہے کہ ابھی بہت وقت ہے۔ قرآن پڑھا جائے مگر قرآن انسان کے اندر سوال پیدا نہ کرے۔ نماز پڑھی جائے مگر دل کو یہ احساس نہ ہو کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہوں۔ گناہ کیا جائے مگر ضمیر بے چین نہ ہو۔ نعمتیں ملتی رہیں مگر منعم یاد نہ آئے۔ دنیا کی حقیقت معلوم ہو مگر دل دنیا ہی کو منزل سمجھ بیٹھے۔ یہ غفلت ہے۔

غفلت صرف آنکھوں کا بند ہونا نہیں

انسان کی آنکھیں کھلی ہوں اور پھر بھی وہ غافل ہو سکتا ہے۔ وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے، مگر حقیقت نہ دیکھ سکے۔ وہ بہت کچھ سن سکتا ہے، مگر حق نہ سن سکے۔ وہ بہت کچھ پڑھ سکتا ہے، مگر اس علم سے بیدار نہ ہو۔ وہ مذہبی گفتگو بھی کر سکتا ہے، آیات بھی پڑھ سکتا ہے، احادیث بھی بیان کر سکتا ہے، لیکن اس کا اپنا دل اللہ کی یاد، آخرت کے احساس اور جواب دہی کی فکر سے خالی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے قرآن انسان کو صرف ظاہری آنکھوں اور کانوں سے نہیں پرکھتا بلکہ دل کی کیفیت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا ۖ وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا ۖ وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ یعنی ان کے دل ہیں مگر ان سے سمجھتے نہیں، آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں، کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں؛ یہی لوگ غافل ہیں۔
یہاں غفلت کا تعلق جسمانی حواس کی خرابی سے نہیں بلکہ *حقیقت کو سمجھنے اور اس سے سبق لینے کی صلاحیت کے بے اثر ہو جانے سے ہے۔* یہی غفلت کا اصل خطرہ ہے۔ غفلت میں انسان حقیقت کو جان کر بھی حقیقت سے دور ہو جاتا ہے کبھی انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ موت یقینی ہے، لیکن وہ ایسے زندگی گزارتا ہے جیسے اسے کبھی مرنا ہی نہیں۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ گناہ ہے، پھر بھی جھوٹ بولتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ حرام مال نقصان دہ ہے، پھر بھی حرام کماتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ غیبت بری ہے، پھر بھی مجلس اسی سے آباد کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم کا حساب ہوگا، پھر بھی کمزور کا حق دبا لیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وقت واپس نہیں آتا، پھر بھی زندگی بے مقصد مشاغل میں گزار دیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے، مگر تنہائی میں وہ وہ کام کر گزرتا ہے جو لوگوں کے سامنے کرنے سے ڈرتا ہے۔ یہ صرف گناہ نہیں۔ یہ *غفلت کے گہرے ہو جانے کی علامت* بھی ہے۔ کیونکہ انسان کے اندر علم موجود ہے، مگر علم نے اس کے رویے کو تبدیل کرنا چھوڑ دیا ہے۔

سب سے خطرناک غفلت آخرت سے غفلت ہے

قرآن انسان کو بار بار دنیا کی عارضی حقیقت اور آخرت کی دائمی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ غور کیجیے۔ یہاں صرف یہ نہیں کہا گیا کہ لوگ حساب کو نہیں جانتے۔ بلکہ فرمایا: *وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ* وہ غفلت میں ہیں اور منہ پھیر رہے ہیں۔ یعنی حقیقت سامنے ہے مگر انسان اس طرف دیکھنا نہیں چاہتا۔ یہی غفلت کا ایک انتہائی خطرناک مرحلہ ہے: *انسان کو حقیقت سے لاعلمی نہیں ہوتی، بلکہ وہ حقیقت کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔*

موت غافل انسان کو اچانک جگاتی ہے

دنیا میں انسان بہت سی چیزوں کے لیے وقت نکالتا ہے۔ کاروبار کے لیے وقت۔ موبائل کے لیے وقت۔ تفریح کے لیے وقت۔ دوستوں کے لیے وقت۔ بحث کے لیے وقت۔ اپنی پسند اور خواہشات کے لیے وقت۔ لیکن کبھی کبھی اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے لیے وقت نہیں ملتا۔ پھر ایک دن موت آتی ہے۔ اس وقت انسان کو پہلی مرتبہ معلوم ہوتا ہے کہ جس زندگی کو وہ مستقل سمجھ رہا تھا، وہ تو عارضی تھی۔ جس گھر کو اپنا سمجھ رہا تھا، اسے چھوڑنا تھا۔ جس مال کو جمع کر رہا تھا، وہ پیچھے رہ جانا تھا۔ جن لوگوں کے لیے اللہ کی نافرمانی کی، وہ بھی ساتھ نہیں جائیں گے۔ اور جس آخرت کو بار بار مؤخر کرتا رہا، وہ اچانک سامنے آ جائے گی۔ قرآن اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے: *حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ* یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دے۔ لیکن واپسی کا دروازہ بند ہو چکا ہوتا ہے۔ غفلت کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ انسان کو حقیقت اس وقت پوری طرح دکھائی دیتی ہے جب عمل کا وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے۔

غفلت اور دنیا کی چمک

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل، تماشا، زینت، آپس میں فخر، اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کا نام ہے۔ دنیا بذاتِ خود حرام نہیں۔ مال حرام نہیں۔ گھر، کاروبار، خاندان، آسائش اور خوشی بھی بذاتِ خود برائی نہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں یہ چیزیں *منزل* بن جائیں۔ غافل انسان دنیا استعمال نہیں کرتا، دنیا اسے استعمال کرنے لگتی ہے۔ وہ مال رکھتا نہیں بلکہ مال اسے رکھ لیتا ہے۔ وہ دنیا میں رہتا نہیں بلکہ دنیا اس کے دل میں رہنے لگتی ہے۔ پھر آخرت کا ذکر اسے بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ موت کی بات اسے ناگوار لگتی ہے۔ قرآن کی تنبیہ اسے سخت محسوس ہوتی ہے۔ اصلاح کی بات اسے اپنی توہین محسوس ہوتی ہے۔ اور اپنی خواہش کے خلاف دلیل اسے دشمنی معلوم ہونے لگتی ہے۔ یہ غفلت کی ایک اور شکل ہے۔

غفلت انسان کو اپنی اصلاح سے بھی محروم کر دیتی ہے

ایک بیدار انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ غلطی کے بعد رک جاتا ہے۔ سوچتا ہے۔ اپنے آپ سے سوال کرتا ہے۔ اللہ سے معافی مانگتا ہے۔ اپنا راستہ درست کرتا ہے۔ غافل انسان کی مشکل یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی کو بھی اپنے حق میں دلیل بنا لیتا ہے۔ اسے کوئی سمجھائے تو وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے بحث شروع کر دیتا ہے۔ کوئی قرآن کی آیت سامنے رکھے تو وہ شخصیت تلاش کرنے لگتا ہے۔ کوئی صحیح حدیث پیش کرے تو وہ گروہ تلاش کرنے لگتا ہے۔ کوئی اس کے اخلاق پر سوال کرے تو وہ دوسرے لوگوں کے عیب گنوانے لگتا ہے۔ کوئی اسے کہے کہ تم سے غلطی ہوئی ہے تو وہ فوراً ثابت کرنے لگتا ہے کہ دوسرے بھی غلط ہیں۔ یہ سب اپنے آپ سے فرار کی شکلیں ہیں۔ اور کبھی کبھی انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا **انا کا دفاع** بن جاتا ہے۔

غفلت کا تعلق صرف گناہ سے نہیں، نیکی سے بھی ہے

غفلت صرف یہ نہیں کہ انسان گناہ کرے۔ کبھی انسان نیکی کرتا رہتا ہے لیکن اپنی نیکی کے مقصد سے غافل ہو جاتا ہے۔ نماز پڑھتا ہے مگر نماز اسے برائی سے نہیں روکتی۔ صدقہ دیتا ہے مگر دل میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔ علم حاصل کرتا ہے مگر دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ دین کی بات کرتا ہے مگر اپنے اخلاق میں سختی، تحقیر اور نفرت پیدا کر لیتا ہے۔ قرآن پڑھتا ہے مگر قرآن کے مخاطب ہونے کا احساس نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں عمل موجود ہے، مگر *روحِ عمل کمزور ہو سکتی ہے۔* اسی لیے اصل سوال صرف یہ نہیں: میں کیا کر رہا ہوں؟ اصل سوال یہ بھی ہے: *میں جو کر رہا ہوں، اس سے میرے اندر کیا پیدا ہو رہا ہے؟* اگر عبادت مجھے اللہ کے قریب کر رہی ہے تو یہ زندگی ہے۔ اگر عبادت مجھے دوسروں سے متکبر بنا رہی ہے تو مجھے اپنے دل کا جائزہ لینا چاہیے۔

غفلت اور ذکرِ الٰہی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ* اور غافل لوگوں میں شامل نہ ہونا۔ یہ حکم اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غفلت سے بچنے کے لیے انسان کو اپنے دل کو مسلسل اللہ کی یاد سے زندہ رکھنا پڑتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: *أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ* یاد رکھو، اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔ ذکر صرف زبان سے چند الفاظ دہرانے کا نام نہیں۔ اللہ کا حقیقی ذکر یہ بھی ہے کہ انسان فیصلہ کرتے وقت اللہ کو یاد رکھے۔ مال کماتے وقت اللہ کو یاد رکھے۔ کسی پر ظلم کرنے لگے تو اللہ کو یاد رکھے۔ غصے میں اللہ کو یاد رکھے۔ تنہائی میں اللہ کو یاد رکھے۔ اختیار ملے تو اللہ کو یاد رکھے۔ اور جب کوئی اسے دیکھ نہ رہا ہو تب بھی یہ یاد رکھے کہ *اللہ دیکھ رہا ہے۔* یہ کیفیت غفلت کے خلاف ایک مضبوط حصار بن جاتی ہے۔

غافل دل کی ایک علامت

انسان کو اپنے دل کا جائزہ لینے کے لیے کبھی کبھی ایک سادہ سوال کرنا چاہیے: *کیا قرآن مجھے بدل رہا ہے؟* اگر میں برسوں سے قرآن پڑھ رہا ہوں مگر میری زبان وہی ہے، میرا غصہ وہی ہے، میرا ظلم وہی ہے، میری تجارت میں دھوکا وہی ہے، میرے معاملات میں خیانت وہی ہے، میرے دل میں تکبر وہی ہے، میرے تعلقات میں ناانصافی وہی ہے، تو مجھے دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے اندر جھانکنا چاہیے۔

قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں۔

یہ انسان کو **دیکھنے کا نیا زاویہ** دینے والی کتاب ہے۔ یہ انسان کو اپنے نفس کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔ یہ پوچھتی ہے: تم کہاں جا رہے ہو؟ تم کس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہو؟ تمہارے اعمال کا انجام کیا ہوگا؟ تم کس کے سامنے جواب دہ ہو؟

غفلت اور سنی سنائی باتیں

غفلت کا ایک جدید روپ یہ بھی ہے کہ انسان ہر سنی سنائی بات کو سچ سمجھ لیتا ہے۔ ایک پیغام آیا۔ آگے بھیج دیا۔ کسی نے کہا فلاں حدیث ہے۔ مان لیا۔ کسی نے کہا فلاں بزرگ نے فرمایا۔ یقین کر لیا۔ کسی نے دین کے نام پر کوئی عجیب واقعہ سنایا۔ بغیر تحقیق کے اسے پھیلا دیا۔ قرآن ہمیں خبر کی تحقیق کا اصول بھی دیتا ہے: *فَتَبَيَّنُوا* پس تحقیق کر لیا کرو۔ دین کے معاملے میں غفلت صرف عبادت چھوڑنے کا نام نہیں۔
*بغیر تحقیق اللہ اور رسول ﷺ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا بھی انتہائی سنگین معاملہ ہے۔* بیدار مسلمان جذبات سے پہلے تحقیق کرتا ہے۔ وہ محبت کے ساتھ بھی سچ تلاش کرتا ہے۔ وہ اپنی پسند کی بات سن کر بھی پوچھتا ہے: یہ کہاں سے ثابت ہے؟

غفلت اور فرقہ وارانہ تعصب

انسان جب اپنی نسبت کو حق کی جگہ معیار بنا لیتا ہے تو غفلت کی ایک اور شکل پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر وہ دلیل کو اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ دلیل ہے، بلکہ اس لیے قبول کرتا ہے کہ اسے اس کے اپنے گروہ نے بیان کیا ہے۔ اور اگر وہی بات کسی دوسرے شخص سے آئے تو اسے رد کر دیتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف اختلاف کا نہیں۔ اختلاف علمی زندگی کا حصہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انسان *حق سے زیادہ اپنی شناخت کی حفاظت کرنے لگے۔* بیداری یہ ہے کہ انسان کہے: اگر میری بات قرآن و سنت کے مطابق ہے تو دلیل اسے مضبوط کرے گی۔ اور اگر میری بات غلط ہے تو میری اصلاح ہو جائے گی۔ یہ رویہ انسان کو غفلت سے نکال کر علم، تقویٰ اور انصاف کی طرف لے جاتا ہے۔

غفلت کا سب سے خطرناک جملہ

غافل انسان اکثر ایک جملہ کہتا ہے: *ابھی بہت وقت پڑا ہے۔* ابھی توبہ کر لیں گے۔ ابھی نماز درست کر لیں گے۔ ابھی قرآن سمجھ لیں گے۔ ابھی والدین کی خدمت کر لیں گے۔ ابھی حق واپس کر دیں گے۔ ابھی معافی مانگ لیں گے۔ ابھی زندگی پڑی ہے۔ لیکن انسان کو اپنی اگلی سانس کا بھی اختیار نہیں۔ ہم نے کتنے لوگوں کو کل کے منصوبے بناتے دیکھا اور آج ان کے لیے صرف دعا باقی ہے۔ اسی لیے توبہ کا بہترین وقت وہ نہیں جو ہم اپنے لیے مستقبل میں مقرر کرتے ہیں۔ بہترین وقت وہ ہے جب انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو۔ *ابھی۔*

غفلت سے بیداری کیسے پیدا ہو؟

غفلت سے نکلنے کے لیے انسان کو اپنے اندر ایک مستقل محاسبہ پیدا کرنا ہوگا۔ روزانہ چند سوال اپنے آپ سے پوچھنے چاہییں: میں آج اللہ کے کتنا قریب ہوا؟ میں نے آج کس کا حق ادا کیا؟ میں نے کس پر ظلم کیا؟ میں نے کس سے زیادتی کی؟ میں نے کون سا گناہ معمولی سمجھ کر کیا؟ میں نے آج قرآن سے کیا سیکھا؟ میری نماز نے میرے اخلاق میں کیا بدلا؟ اگر آج میری زندگی ختم ہو جائے تو کیا میں اپنے آج کے اعمال سے مطمئن ہوں؟ یہ سوال انسان کو توڑنے کے لیے نہیں۔ *جگانے کے لیے ہیں۔*

غفلت سے نکلنے کا راستہ

غفلت کا علاج صرف خوف نہیں۔ غفلت کا علاج *معرفت، ذکر، فکر، توبہ، علم اور عمل* ہے۔ اللہ کو پہچانیے۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھیے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو معتبر علم کے ذریعے جانیے۔ اپنے اعمال کا محاسبہ کیجیے۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے کی عادت پیدا کیجیے۔ لوگوں کے حقوق ادا کیجیے۔ حلال و حرام کی فکر کیجیے۔ اور سب سے بڑھ کر اپنے دل کو یہ یاد دلاتے رہیے کہ: *میں یہاں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا۔* یہ دنیا قیام گاہ نہیں، امتحان گاہ ہے۔

شاید ہماری سب سے بڑی غفلت یہی ہے

ہم دنیا کی ہر چیز کے لیے منصوبہ بناتے ہیں۔ بچوں کے مستقبل کا منصوبہ۔ کاروبار کا منصوبہ۔ گھر کا منصوبہ۔ ریٹائرمنٹ کا منصوبہ۔ سفر کا منصوبہ۔ لیکن اس سفر کا منصوبہ نہیں بناتے جس کا اختتام قبر پر ہونا ہے۔ ہم جسم کو سنوارنے کے لیے آئینہ دیکھتے ہیں، مگر دل کو سنوارنے کے لیے اپنے اندر نہیں دیکھتے۔ ہم اپنے کپڑوں پر داغ برداشت نہیں کرتے، مگر دل پر حسد، تکبر، بغض، کینہ اور حرام مال کے داغ لیے پھرتے ہیں۔ ہم گھر میں گرد دیکھ کر صفائی کرتے ہیں، مگر دل میں جمع ہونے والی غفلت کی گرد کو دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ انسان باہر سے زندہ اور اندر سے سویا ہوا رہ سکتا ہے۔

غفلت سے جاگنے کا ایک لمحہ

کبھی کسی قبرستان سے گزرتے ہوئے ذرا رک کر سوچیں۔ یہاں وہ لوگ ہیں جو کبھی ہماری طرح منصوبے بناتے تھے۔ وہ بھی کسی دن کہیں جانے کے لیے جلدی میں ہوتے تھے۔ وہ بھی سمجھتے تھے کہ ابھی وقت ہے۔ وہ بھی کسی بات پر ناراض ہوتے تھے۔ وہ بھی مال جمع کرتے تھے۔ وہ بھی اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے تھے۔ آج ان کے پاس صرف ان کے اعمال ہیں۔ پھر خود سے پوچھیں: *اگر میری باری آج آ جائے تو میں کس چیز کو اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں؟* یہ سوال اگر دل کو ہلا دے تو سمجھ لیجیے کہ غفلت کی نیند میں ایک دراڑ پیدا ہو گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے

غفلت انسان کو دنیا سے نہیں جوڑتی۔ غفلت انسان کو *حقیقت سے کاٹ دیتی ہے۔* وہ اسے اپنے خالق سے دور کرتی ہے۔ وہ اسے آخرت سے بے فکر کرتی ہے۔ وہ اسے اپنے نفس کے فریب میں مبتلا کرتی ہے۔ وہ اسے اپنی غلطیوں کا وکیل بنا دیتی ہے۔ وہ اسے دوسروں کے عیب دکھاتی ہے مگر اپنے عیب چھپا دیتی ہے۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ غافل انسان اکثر یہ سمجھتا رہتا ہے کہ *مسئلہ سب میں ہے، صرف مجھ میں نہیں۔* قرآن اسی لیے ہمیں جگاتا ہے۔ موت ہمیں جگاتی ہے۔ مصیبت ہمیں جگاتی ہے۔ کبھی ایک آیت جگا دیتی ہے۔ کبھی ایک جنازہ۔ کبھی کسی عزیز کی جدائی۔ کبھی رات کی تنہائی۔ کبھی اپنی ہی غلطی۔ اور کبھی ایک سچا انسان ہمیں وہ بات کہہ دیتا ہے جس سے ہم برسوں بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ خوش نصیب وہ ہے جو *موت آنے سے پہلے جاگ جائے۔*

آخری سوال

غفلت کا علاج یہ نہیں کہ انسان ہر وقت پریشان رہے۔ بلکہ یہ ہے کہ وہ *بیدار رہے۔* نعمت ملے تو شکر کرے۔ غلطی ہو تو توبہ کرے۔ علم ملے تو عمل کرے۔ دلیل سامنے آئے تو حق قبول کرے۔ مصیبت آئے تو اللہ کی طرف رجوع کرے۔ کسی پر ظلم کیا ہو تو حق واپس کرے۔ اور ہر دن یہ احساس زندہ رکھے کہ: *اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔* میں اس کے سامنے لوٹ کر جانے والا ہوں۔ میری زبان کا حساب ہوگا۔ میرے ہاتھ کا حساب ہوگا۔ میرے مال کا حساب ہوگا۔ میرے وقت کا حساب ہوگا۔ میرے تعلقات کا حساب ہوگا۔ اور میرے دل کی ان کیفیتوں کا بھی حساب ہوگا جنہیں دنیا نہیں جانتی۔ تب شاید *الْغَفْلَةُ* کا پردہ آہستہ آہستہ اٹھنے لگے۔ اور انسان کو معلوم ہو جائے کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں۔ زندگی یہ جاننے کا نام ہے کہ: *میں کس کا بندہ ہوں، کہاں سے آیا ہوں، کہاں جا رہا ہوں، اور وہاں اپنے ساتھ کیا لے کر جاؤں گا۔*

اے اللہ!

ہمیں ایسی غفلت سے بچا جس میں حقیقت سامنے ہو اور ہم اسے دیکھنے سے محروم رہیں۔ ہمارے دلوں کو زندہ کر دے۔ ہمیں اپنے ذکر سے غافل نہ ہونے دے۔ ہمیں قرآن کو صرف پڑھنے والا نہیں بلکہ اسے سمجھ کر اپنی زندگی بدلنے والا بنا۔ ہمیں حق پہچاننے، حق قبول کرنے اور اپنی غلطی اصلاح کے ساتھ چھوڑنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں ایسی بیداری عطا فرما جو موت سے پہلے حاصل ہو جائے۔ اور جب ہم تیرے سامنے حاضر ہوں تو ہم غافلوں میں نہیں بلکہ توبہ کرنے والے، شکر کرنے والے اور تیرے فرمانبردار بندوں میں شامل ہوں۔
*آمین یا رب العالمین۔*

Loading