اکیسویں صدی کے صوفی
خواجہ شمس الدین عظیمی رحمتہ اللہ علیہ
تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ : وراثت۔۔تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی)ترجمہ : اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دیجیے، اور ان سے بہت احسن طریقہ سے مباحثہ کیجیے ۔[ سورة النحل (16): آیت 125]
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول مٹی ایم نے فرمایا: ترجمہ: میری طرف سے (لوگوں تک پہنچاد و گرچہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو۔ [ صحیح بخاری، حدیث: 346] قرآن کے حکم اور حضرت محمد ﷺ کی سنت کی اتباع کرتے ہوئے امت مسلمہ میں بے
شمار اولیاء اللہ نے توحید کی دعوت کے لیے خود کو وقف کیے رکھا۔ اولیاء اللہ کی بنیادی اور
مرکزی خدمت توحید کا پیغام عام کرنا ہے۔ اولیاء اللہ کی تبلیغ سے دنیا کے مختلف معاشروں میں رہنے والے اور متنوع تہذیبوں سے وابستہ لاکھوں افراد ایمان لائے۔
2- تزکیہ اور تعلیم: اولیاء اللہ نے اپنے شاگردوں کی تربیت و تعلیم کے لیے طریقہ تدریس قرآن اور سنت نبوی سے اخذ کیا۔
ترجمہ : وہی ہے جس نے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، ( یہ رسول) ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھتے ہیں، ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔[ سورہ جمعہ (62): آیت 2]
اللہ کے احکامات اور اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی اتباع میں اولیاء اللہ نے تعلیم سے پہلے تربیت پر خصوصی توجہ دی۔
اولیاء اللہ نے تزکیہ کے لیے اور مرتبہ احسان پانے کے لیے شخصیت کی تعمیر اور کردار سازی کی سعی کی۔ اس تربیتی نظام کے کئی مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ عبادات میں اخلاص اور تزکیۂ نفس کے ذریعے نفس مطمئنہ کے درجہ تک پہنچا جائے۔ اولیاء اللہ نے کوشش کی کہ ان کے شاگرد اللہ پر توکل کرنے والے، اللہ کے شکر گزار اور صابر بنہیں۔ اولیاء اللہ کی ان تعلیمات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بندے کو خالق و مالک کائنات اللہ وحدہ لا شریک کی معرفت و قربت اور اللہ کے آخری نبی حضرت محمد می بینیم کی نسبت نصیب ہو جائے۔
3- اخلاق و بھائی چارے کا فروغ اور معاشرتی اصلاح
اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر انسان آدم و حوا کی اولاد ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔
“اے لوگو! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے،اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کر سکو۔ در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہو ۔ یقین رکھو کہ اللہ سب جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے۔ “ [ سورہ حجرات (49) : آیت 13] ترجمہ: “کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ہے، سوائے تقویٰ کے۔ [مسند احمد، بیہقی، طبرانی)
علاقه ، نسل، زبان اور ذات پات کی بنیاد پر امتیاز انسانوں کا اپنا مقرر کردہ ہے۔
قدرت کا نظام انسانوں میں مادی لحاظ سے امتیاز کی تائید نہیں کرتا۔ کئی قدرتی خصوصیات ہر علاقہ اور ہر نسل کے انسان میں مشترکہ ہیں۔ مثلا بلڈ گروپ، ٹمپر بچر اور دیگر کئی مشترکہ خصوصیات۔ انسانی جسم کے کئی نظام مخطہ یا نسل کے امتیاز کے بغیر ہر آدمی میں یکساں اندز میں کام کرتے ہیں۔ اللہ کی مشیت اور قوانین قدرت کو سمجھتے ہوئے اولیاء اللہ نے رنگ، نسل، زبان اور ذات پات کی تفریق سے بالا تر ہو کر سب انسانوں کی بھلائی کا سوچا۔ اولیاء اللہ کی خانقاہوں کے در بلا امتیاز مذہب و ملت ، رنگ و نسل سب انسانوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہے۔ اولیاء اللہ کی کوششوں سے انسانی معاشروں میں امن، بھائی چارہ اور باہمی اعتماد کو فروغ ملا۔ اولیاء اللہ نے فرد کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح کو بھی پیش نظر رکھا۔
4- خدمتِ خلق
اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی پانے اور اللہ کا قرب پانے کے لیے اولیاء اللہ نے دیگر امور کے ساتھ ساتھ اللہ کی مخلوق کی خدمت کو بھی اپنا شعار بنایا۔ ضرورت مند کی مدد ، کھانا کھلانا، تیمار داری کرنا مظلوم کی داد رسی کے لیے اولیاء اللہ مسلسل مصروف عمل رہے۔
ترجمہ : ( نیکی یہ ہے کہ ) اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، قیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں پر خرچ کیا جائے۔ سورۃ البقرہ (2): آیت 177]
ترجمہ: جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے، اللہ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ [صحیح مسلم] ترجمہ : جو لوگ اپنا مال اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے
بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں اور نہ ایڈا دیتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وہ ھمکیں ہوں گے ۔ [ سورۃ البقرہ (2): آیت 262]
قرآنی حکم کی تعمیل میں اولیاء اللہ نے خدمت کے کام کسی پر احسان جتاتے ہوئے یا کسی کو ایذا دیتے ہوئے نہیں بلکہ بہت عاجزی اور انسانوں کی عزت احترام کا خیال رکھتے ہوئے کیے۔
اللہ کے ایک دوست حضرت محمدعظیم برخیانے 1960ء میں سلسلہ عظیمیہ قائم کیا۔ سلسلہ عظیمیہ صدیوں سے قائم سلاسل طریقت کا تسلسل
سلسہلہ عظیمیہ کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی در کی گوناگوں خدمات میں اولیاء اللہ کی رخشند وروایات کا عکس نظر آتا ہے۔
آئے.. ! ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
بشکریہ ماہنا مہ روحانی ڈائجسٹ مارچ 2026
اکیسویں صدی کے صوفی
خواجہ شمس الدین عظیمی رحمتہ اللہ علیہ
تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اکیسویں صدی کے صوفی خواجہ شمس الدین عظیمی رحمتہ اللہ علیہ ۔۔تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی) سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات کے چند بنیادی نکات:
توحید:اس کائنات کا ایک ہی خالق اور مالک ہے۔ اس ہستی کا اسم اللہ ہے۔ اللہ واحد لاشریک اور بے مثل ہے۔ سور کا اخلاص تو حید کا جامع بیان ہے۔
2۔ نبوت اور رسالت
حضرت آدم علیہ السلام پہلے نبی اور نوع انسانی کے جد ہیں۔ اللہ کے بھیجے ہوئے سب انبیاء اور رسل نے توحید کی دعوت دی۔ حضرت محمد ﷺاللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔
معلم اعظم حضرت محمد ﷺ کی نسبت کے بغیر اللہ کی معرفت اور قرب ممکن نہیں۔
-3 تخلیق انسان اور مقصدِ حیات
اللہ تعالی نے انسان کو تخلیق فرمایا، اسے اسماء کا علم عطا کیا اور زمین پر خلیفہ اللہ کا منصب دے کر ایک محدود مدت کے لیے آزمائش میں بھیجا۔ (سور بقر 2: 36030)
انسان کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کی بندگی اختیار کی جائے، خالق کی معرفت حاصل کی جائے اور زمین پر زندگی اللہ کی مشیت کے مطابق گزاری جائے۔
4 ہدایت کے ذرائع اللہ تعالی نے انسان کی رہنمائی کئی ذرائع سے فرمائی۔ ہدایت کے تین معلوم ذرائع یہ ہیں:
(1) دورازل: انسان نے اللہ کی ربوبیت کا اقرار کیا۔ [ بحوالہ سورۃ اعراف (7) : 172] (ب) وحی: زمین پر آمد کے بعد انبیاء ورسل کے ذریعے ہدایت دی گئی۔ [ بحوالہ سورہ بقرہ (2): آیت 136]
نبوت کا اختتام حضرت محمد من با اینیم پر ہوا۔ [ بحوالہ سور واحزاب (33): آیت 40]
(ج) ضمیر ( باطنی شعور): ہر انسان کو صحیح اور غلط کی پہچان کی داخلی صلاحیت عطا کی گئی۔ بحوالہ سورہ شمس (92): آیت 7تا8]
واضح رہے کہ مندرجہ بالا میں پہلا اور دوسرا ذریعہ خارجی ہے جبکہ تیسر اذریعہ داخلی ہے۔
5۔ انسان کی تکریم اور فضیلت: اللہ تعالی نے بنی آدم کو عزت و تکریم عطا فرمائی اور مخلوقات پر فضیلت دی۔ [ بحوالہ : سورۂ بنی اسرائیل (17): 170 تمام انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ انسان کی موجودہ ساخت کسی ارتقائی عمل Evolution کا نتیجہ نہیں۔ 6 کائنات انسان اور تسخیر یہ کائنات اللہ کی صفات کا مظہر ہے۔ اللہ کی صفات کا اظہار اسماء کے ذریعے ہوتا ہے۔ انسان کو تخلیق میں تصرف کی صلاحیت اور اختیار عطا کیا گیا ہے۔ آسمان و زمین کی ہر شے انسان کے لیے مسخر کی گئی [ بحوالہ سورۂ جاشیہ (45): 13] 7۔
علم اور آگہی: اللہ نے انسان کو علم حاصل کرنے کی صلاحیت عطا کی تاکہ وہ زمین پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکے۔ علم کے دو بنیادی در ہے ہیں: علم حصولی اور علم حضوری
علم کے فہم اور اطلاق کے لیے انسان کو عقل عطا کی گئی ہے، عقل کے استعمال کا درست نتیجہ اس وقت ممکن ہے جب عقل وحی کے تابع ہو۔
انسان کی ذمہ داریاں
انسان کو دی گئی تمام صلاحیتوں کا مقصد یہ ہے کہ : انسان اللہ کی مشیت کو سمجھے ۔ اخلاص کے ساتھ مسلم اور عابدبنے، بحوالہ سورۂ بقر و(2): 139136]
1- توحید کا پرچار اور تبلیغ اسلام بیسویں صدی اور اکیسویں صدی کے آغاز میں صنعتی انقلاب، تیز رفتار سائنسی ترقی اور ابلاغی وسعت کی وجہ سے انسانوں کو بہت سہولتیں ملیں ۔ ان سہولتوں کے ساتھ انسانوں کو کئی نئے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ سائنس کی وجہ سے ہونے والی دریافتوں اور انکشافات کی غلط تشریحات سے انسانوں کی بڑی تعداد غلط فہمی میں مبتلا ہورہی ہے۔ اس غلط فہمی کا ایک بڑا نتیجہ الحاد (Atheism) کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ نظریہ الحاد کے مطابق کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے اور یہ کائنات از خود وجود میں آگئی ۔ محمد ین کہتے ہیں کہ انسان روح اور جسم کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ صرف ایک مادی وجود ہے۔ نظریہ الحاد حیات بعد الموت اور آخرت میں خالق کا ئنات اللہ کے سامنے جواب دہی پر یقین نہیں رکھتا۔ سلسلہ عظیمیہ کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒنے لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے کائنات کی تخلیق اور انسان کے مادی دروحانی وجود کی حقیقت آسان الفاظ میں بیان کی۔ انسانوں کو اللہ کی طرف بلانے اور اللہ سے تعلق استوار کرنے کے لیے آپ نے تعلیمات تصوف کو بصیرت اور حکمت کے ساتھ پیش کیا۔
حضرت خواج شمس الدين عظیمی ؒنے بتایا کہ قرآن وسنت کی بنیاد پر تصوف کی تعلیمات الحاد کی گمراہی سے بچاتی ہیں۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ جدید دور کی متعدد فکری الجھنوں، نفسیاتی اضطراب سے نجات اور یقین کی دولت پانے کے لیے ایمان کی روشنی سے منور صوفیانہ طرز فکر بہت زیادہ مددگار ہے۔ 2
– تزکیہ اور تعلیم:
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒنے سائنس و ٹیکنالوجی کی بالادستی کے دور میں انفرادی اور اجتماعی بھلائی کے لیے لوگوں کو تزکیہ نفس اور اعلیٰ اخلاقیات کی اہمیت پر قائل کرنے کی سعی کی۔ آپ نے عوام الناس اور اپنے شاگردوں کو یہ آگہی دی کہ علم کا ایک بہت بڑا اثر یہ ہے کہ بندے کو خود اپنے مقام کا اور اک ہونے لگتا ہے۔ ایسے بندے کے قلب و ذہن میں خالق کی عظمت اور اپنی جواب دہی کا احساس بڑھتا ہے۔
-3- اخلاق و بھائی چارے کا فروغ اور معاشرتی اصلاح
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒنے انسانوں کے۔۔۔جاری ہے۔۔
بشکریہ ماہنا مہ روحانی ڈائجسٹ مارچ 2026
![]()

