قطعہ۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی
قطعہ تراشنے میں لگے جن کو زمانے اپنے اس نے رخ پھیر لیا درد نہ جانے اپنے جن کو انگاروں سے پھول بنایا ہم نے لگے ہیں پھول وہ اب ہاتھ جلانے اپنے ناصر نظامی
![]()
قطعہ۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
قطعہ تراشنے میں لگے جن کو زمانے اپنے اس نے رخ پھیر لیا درد نہ جانے اپنے جن کو انگاروں سے پھول بنایا ہم نے لگے ہیں پھول وہ اب ہاتھ جلانے اپنے ناصر نظامی
![]()
قطعہ۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی زندگی میں بڑا شرمندہ ہوں کب تو مر بھی گئی میں زندہ ہوں میں شعر و سخن کا پرندہ ہوں سوچ کی روشنی سے زندہ ہوں ایک مدت کے بعد آ یا ہوں میں اسی شہر کا باشندہ ہوں لفظوں کے آ ئینے تراشتا ہوں میں علم و ادب کا کارندہ ہوں
![]()
غزل۔۔۔زندگی میں بڑا شرمندہ ہوں۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
تازہ شعر شاعر۔۔ناصر نظامی سر اٹھا کر چلنے کی قیمت ہوتی ہے قطرہ صدف میں رہ کر بنتا موتی ہے ناصر نظامی
![]()
تازہ شعر۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
تازہ شعر شاعر۔۔ناصر نظامی کہاں گفتار سے بڑے بنتے ہیں لوگ کردار سے بڑے بنتے ہیں ناصر نظامی
![]()
تازہ شعر۔۔۔شاعر۔۔ناصر نظامی Read More »
کراچی میں گاڑی کے حادثہ میں مارے گئے چھ افراد کے نام شاعر۔۔۔ناصر نظامی اے سفاک دل منچلی نتاشا تم نے کھیلا ہے اک خونی تماشا چھ انسانوں کی زندگی چھین کر پاگل ہونے کا بجاتی ہو اب تاشہ ناصر نظامی
![]()
کراچی میں گاڑی کے حادثہ میں مارے گئے چھ افراد کے نام۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
قطعہ نظر بدلے تو نظارہ بدل جاتا ہے سوچ بدلے تو ستارہ بدل جاتا ہے کشتیاں بدلنے سے کچھہ نہیں بدلتا رخ اگر بدلے تو کنارہ بدل جاتا ہے ناصر نظامی
![]()
قطعہ۔۔سوچ بدلے تو ستارہ بدل جاتا ہے۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی ٹوٹ کر اپنے ہی اندر، بکھرتے جاتے ہیں ہاتھ سے ریت کی صورت، سرکتے جاتے ہیں کبھی تھی بحر محبت میں کتنی طغیانی زمزمے عشق کے اب تو، اُترتے جاتے ہیں کرچیاں وعدوں کی چبھنے لگی ہیں آنکھوں میں آئینے خوابوں کے اب تو، چٹکتے جاتے ہیں لا تعلق ہےاگروہ توبے نیاز
![]()
غزل۔۔۔ٹوٹ کر اپنے ہی اندر، بکھرتے جاتے ہیں۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی تیرا چہرہ ہے مئے خانہ نظرتیری جام ہے ساقی تیری مستی سے عالم مست یہ تمام ہے ساقی جس پہ ہلکی سی تیری اک نظر پڑ جاتی ہے ساقی نشے میں جھومتا وہ عمر پھرتمام ہے ساقی نظر آ تا ہے ہر چہرے میں اب تو یار کا چہرہ ہم نے یکتائی
![]()
غزل۔۔۔تیرا چہرہ ہے مئے خانہ نظرتیری جام ہے ساقی۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
قطعہ پہلے بجلی آ تی تھی روشنی لاتی تھی اب آ تی ہے آ نکھوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے آ دمی پر ہو جاتا ہے اک سکتہ سا طاری یارو بجلی کا اتنا زیادہ بل آ تا ہے ناصر نظامی
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی مجھ کو شراب چاہیے نہ جام چاہیئے ساقی تیری نگاہ کا الزام چاہیئے ہر قطرے میں ہو نور الٰہی کی تجلی مجھ کو مئےء طہورکا وہ جام چاہیئے بن جائے جس کو پی کے اندھیرا بھی روشنی مجھ کو سیاہ شناسی کا وہ جام چاہیئے مئے نہ بھی ملے پھر بھی لگے
![]()
غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »