Daily Roshni News

آسمانی بجلی کی گرج کی آواز اتنی خوفناک کیوں ہوتی ہے

آسمانی بجلی کی گرج کی آواز اتنی خوفناک کیوں ہوتی ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سوال ۱۸۷۱: آسمانی بجلی کی گرج کی آواز اتنی خوفناک کیوں ہوتی ہے

جواب: جب بجلی کڑکتی ہے تو یہ ہوا کو اچانک پھیلا کر ایک زبردست دباؤ پیدا کرتی ہے، جس سے پیدا ہونے والی آواز میں بھاری اور گونجتی ہوئی لہریں شامل ہوتی ہیں۔ یہ کم فریکوئنسی والی آوازیں صرف ہمارے کانوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ یہ ایک طرح کی جسمانی تھرتھراہٹ یا دھمک پیدا کرتی ہیں جسے ہم اپنے سینے اور ہڈیوں میں محسوس کرتے ہیں۔

ہمارا دماغ ان آوازوں پر بہت حساس ردعمل ظاہر کرتا ہے کیونکہ انسانی ارتقاء کے دوران ایسی بھاری آوازیں ہمیشہ کسی بڑی تباہی، جیسے درختوں کے گرنے، پہاڑوں کے سرکنے یا کسی بڑے جانور کے حملے کا اشارہ ہوتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا لاشعور ان آوازوں کو سنتے ہی خطرے کا سائرن بجا دیتا ہے اور ہم غیر اختیاری طور پر سہم جاتے ہیں۔یہ دراصل ہمارے دماغ کا ایک قدرتی دفاعی نظام ہے جو ہمیں کسی بھی ممکنہ بڑے حادثے سے خبردار کرنے اور بچانے کے لیے متحرک ہوجاتا ہے۔

&&&&&

سوال ۱۸۷۲: الیکڑان نیوکلیس کے گرد کس قسم کی حرکت کر رہے ہیں؟  بوہر نے کہا تھا کہ الیکڑان نیوکلیس کے گرد گردش کر رہے ہیں بوہر  کا اٹامک ماڈل تو مسترد ہو چکا ہے تو پھر جدید تحقیقات کی روشنی میں الیکڑان نیوکلیس کے گرد کس قسم کی حرکت کر رہے ہیں؟

جواب: جدید کوانٹم مکینکس کے مطابق الیکٹران نیوکلیس کے گرد سیاروں کی طرح گردش نہیں کر رہے، بلکہ وہ ایک ساکن لہر یا Standing Wave کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے سائنسدان الیکٹران کلاؤڈ آربیٹل کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ یہ نیوکلیس کے گرد وہ ممکنہ علاقہ ہے جہاں الیکٹران کے پائے جانے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی الیکٹران کسی خاص راستے پر نہیں چل رہا، بلکہ وہ بیک وقت اس پورے بادل میں ہر جگہ موجود ہے، اسے superposition کہتے ہیں۔ لیکن جب ہم اسے دیکھنے یا ڈٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ لہر سکڑ کر ایک ذرے کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور ہمیں ایک خاص مقام پر نظر آتی ہے۔

&&&&&

سوال ۱۸۷۳: اگر بجلی electron کی رفتار کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تو بیٹری میں کچھ مہینوں کے بعد mass (مادہ )پیدا ہونا ضروری تھا۔ کیونکہelectron کا بھی  mass ہوتا ہے۔

جواب: یہ ایک اچھا سوال ہے، اس کے پیچھے موجود تصور میں ایک چھوٹی سی تصحیح کی ضرورت ہے۔ بیٹری دراصل الیکٹرانز کا گودام نہیں ہے جہاں الیکٹران جمع ہوتے رہیں، بلکہ یہ ایک پمپ کی طرح کام کرتی ہے۔ جب ہم بیٹری چارج کرتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ الیکٹران اس کے اندر جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ دراصل جتنے الیکٹران بیٹری کے ایک سرے سے داخل ہوتے ہیں، ٹھیک اتنے ہی الیکٹران دوسرے سرے سے باہر نکل جاتے ہیں۔ یعنی بیٹری کے اندر الیکٹرانز کی کل تعداد ہمیشہ برابر رہتی ہے، اس لیے اس کے ماس میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔

بیٹری میں صرف توانائی جمع ہوتی ہے، مادہ نہیں۔ جب بجلی بیٹری سے گزرتی ہے تو وہ بیٹری کے اندر موجود کیمیکلز میں تبدیلی لاتی ہے یعنی کیمیکل بانڈز بناتی ہے۔ جب ہم بیٹری استعمال کرتے ہیں تو یہی بانڈز ٹوٹتے ہیں اور کرنٹ پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا بیٹری کا کام الیکٹران جمع کرنا نہیں بلکہ انہیں حرکت دینے کی صلاحیت یعنیPotential Difference پیدا کرنا ہے۔

&&&&&

سوال ۱۸۷۴: سائنسی علوم کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ سائنسی علوم کی بنیاد کیا ہے اور سائنس کس طرح دیگر علوم سے اثر لیتی ہے یا اثر انداز ہوتی ہے۔

جواب: سائنس ایک طریقہ کار ہے۔ اس کا مقصد ہر فرد اپنے اقدار کے حساب سے طیے کرتا ہے۔ البتہ ایک مجموعی مقصد حقائق کا زیادہ سے زیادہ معروضی ماڈل بنانا ہے۔

سائنس بنیادی طور پر معروضی مشاہدات اور falsifiability پر مبنی ہے۔

سائنس بنیادی طور پر علم ریاضی سے اثر لیتی ہے کیونکہ یہ استخراجی منطق اور معقولات کی سب سے زیادہ خالص شکل ہے۔ اس کے علاوہ کسی خاص علم سے اثر انداز نہیں ہوتی، البتہ سائنسدان ایک انسان ہوتا ہے تو یہ ہوسکتا ہے کہ ایک سائنسدان اپنی تحقیق میں کسی علم، مقصد یا ذہنیت سے اثر انداز ہوتا ہو۔

اثر انداز ہونے کے اعتبار سے سائنس فلسفہ، نفسیات، بشریات، تاریخ، سوشیولوجی وغیرہ پر اثر انداز ہوتی ہے۔

&&&&&

سوال ۱۸۷۵: کیا مردے کے دل کی ٹرانسپلانٹیشن کامیاب ہو سکتی ہے

جواب: مرنے کے فورا بعد دل کے پٹھے خراب ہونے لگتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو برین ڈیڈ قرار دیا جایے اور دل مصنوعی آلات سے چلایا جا رہا ہو تبھی وہ دل پیوندکاری کے لئے مفید ہوتا ہے۔ اگر ایک بار دل جسم سے نکال کر محفوظ کیا جائے تو چار سے چھ گھنٹے کے اندر دوسرے انسان میں امپلانٹ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

Loading