اسلام اور حسن اخلاق
انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اسلام اور حسن اخلاق۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی)چند لوگوں کی تلخی کی سزا تمام مخلص لوگوں کو نہ دیں۔زندگی میں ہر انسان کو کچھ ایسے لوگ ضرور ملتے ہیں جو اعتماد توڑ دیتے ہیں، جذبات سے کھیلتے ہیں یا خلوص کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایسے تجربات یقیناً انسان کو محتاط بنا دیتے ہیں، لیکن احتیاط اور بدگمانی میں ایک باریک فرق ہے۔
چند بے مروت لوگوں کی وجہ سے اپنے دل کے دروازے ہر مخلص انسان پر بند کر دینا انصاف نہیں۔ ہر شخص ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اگر چند ہاتھوں نے زخم دیے ہیں تو بہت سے ہاتھ مرہم رکھنے والے بھی ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾ “کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔” (سورۃ المائدہ: 8)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ چند لوگوں کے رویّے کی بنیاد پر دوسروں کے ساتھ ناانصافی کرنا ایک مسلمان کا شیوہ نہیں۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مَن لا يَشْكُرِ النَّاسَ لا يَشْكُرِ اللَّهَ” “جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔” (سنن ابی داؤد)
لہٰذا جو لوگ آپ کے دکھ میں ساتھ کھڑے ہوں، آپ کی خیرخواہی کریں، آپ کے لیے دعا کریں یا بے غرض محبت کریں، ان کے خلوص کی قدر کیجیے۔ ان کے جذبات کو ایسے سخت الفاظ، بے اعتنائی یا غیر ضروری فاصلے سے مجروح نہ کیجیے۔
یاد رکھیے! انسان، انسان کے لیے اللہ کی بھیجی ہوئی رحمت اور تسلی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ خود کو ایسی تنہائی کا قیدی نہ بنائیں جہاں ہر دستک مشکوک اور ہر مخلص چہرہ اجنبی لگنے لگے۔
اگر برے لوگوں کو ان کے رویّے کی سزا نہیں دے سکتے تو کم از کم اچھے لوگوں کو ان کے جرم کے بغیر سزا نہ دیں۔ ان کے اخلاص کا مذاق نہ اڑائیں، ان کی محبت کو کمزوری نہ سمجھیں اور ان کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔
اعتدال یہی ہے کہ نہ ہر ایک پر اندھا اعتماد کیا جائے، نہ ہر ایک کو بداعتماد لوگوں کی صف میں کھڑا کر دیا جائے۔ یہی انصاف ہے، یہی حسنِ اخلاق ہے اور یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
![]()

