Daily Roshni News

اہل بیت اطہار  ۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔  محمد غفران الندوی الہندی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اہل بیت اطہار  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر ۔۔۔  محمد غفران الندوی الہندی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔  اہل بیت اطہار  ۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔  محمد غفران الندوی الہندی)کافی سوچ وچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ “شیعہ اہل بیت کو نہیں مانتے، اہل بیت کے نام پر تراشے ہوئے فرضی کرداروں کو مانتے ہیں!”

​ایک طویل عرصے سے یہ مغالطہ عام کیا گیا ہے کہ اہلِ تشیع اہلِ بیتِ نبوت کے حقیقی پیروکار اور محافظ ہیں۔ مگر جب ہم ان کے عقائد، روایات اور تاریخ کا علمی، سندی اور معروضی جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ شیعہ درحقیقت تاریخی اہلِ بیت کو مانتے ہی نہیں، بلکہ انہوں نے اپنی فکری تسکین اور سیاسی مقاصد کے لیے ایک خود ساختہ، فرضی اور خیالی کردار (Character) تراش رکھا ہے، جس کا تعلق تاریخ کے حقیقی اہلِ بیتِ اطہار سے دور کا بھی نہیں۔

​ہم ہر اس افراط و تفریط سے بری الذمہ ہیں جو ایک طرف تاریخ کے گھڑے ہوئے افسانوں کی بنیاد پر اہلِ بیت کے مقام کو مسخ کرتی ہے اور دوسری طرف ان کی حقیقی عظمت کا ادراک کرنے سے قاصر ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک سیدنا علی المرتضیٰ، سیدہ فاطمۃ الزہرا اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم ہمارے دین و ایمان کا لازمی حصہ ہیں، جبکہ شیعہ فکر نے ان ہستیوں کو اپنے مخصوص خانوں میں قید کر رکھا ہے۔

​اس تضاد، خود ساختہ کردار کشی اور تاریخی حقائق کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:

​…. 1. شیرِ خدا کی شجاعت پر حملہ اور ایک کمزور و مظلوم کردار کی تخلیق

​شیعہ روایات نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ ایک بہادر، غیرت مند اور فاتحِ خیبر کے بجائے ایک بے بس اور مغلوب انسان کی تصویر ہے۔ یہ دعویٰ کرنا کہ سیدنا علیؓ کے سامنے ان کے گھر کا دروازہ جلایا گیا، سیدہ فاطمہؓ پر تازیانے برسائے گئے، ان کا حمل ساقط ہوا اور سیدنا علیؓ خاموش دیکھتے رہے، یہ اہلِ بیت کی محبت نہیں بلکہ شیرِ خدا کی غیرت و شجاعت پر تاریخ کا سب سے گھناؤنا حملہ ہے۔ تاریخ کا سچ یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے خلفائے راشدین کے دور میں مرکزی مشیر، قاضی اور مخلص معاون کے طور پر کردار ادا کیا، نہ کہ کسی مجبور و مقہور شخص کے طور پر۔ سیدنا علیؓ کا اپنا فرمان ہے: “إِنَّ بَنَاتِ الْمُلُوكِ لَا يُعَامَلْنَ مُعَامَلَةَ غَيْرِهِنَّ” (کافی: 1/466)۔

​…. 2. رشتوں اور محبتوں کا مکمل انکار

​شیعہ فکر تاریخ کے اس حصے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا جس میں خلفائے راشدین اور اہلِ بیت کے مابین باہمی محبت، رشتے داریاں اور احترام پایا جاتا ہے:

​…. ناموں کا اشتراک: سیدنا علیؓ نے اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر، عمر اور عثمان رکھے (حوالہ: کشف الغمہ، اربلی، جلد 2، صفحہ 67)، اسی طرح سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ نے بھی اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر اور عمر رکھے۔

​…. سیدہ ام کلثومؓ کا نکاح: سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثومؓ کا نکاح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ہوا، جس کی توثیق کتبِ اربعہ کی کتاب الکافی (کتاب النکاح، باب تزویج ام کلثوم، جلد 5، صفحہ 346) میں بھی موجود ہے۔

​…. سیدہ عائشہؓ اور سیدہ فاطمہؓ کا احترام: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: “مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ سَمْتًا وَدَلًّا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي قِيَامِهَا وَقُعُودِهَا مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ” (“میں نے شکل و شباہت، وقار اور چال ڈھال میں سیدہ فاطمہ سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ ﷺ کے مشابہ نہیں پایا”) (سنن الترمذی: 3872)۔

​…. 3. ائمہ اہلِ سنت کی اہلِ بیت کے لیے عظیم قربانیاں بمقابلہ رسمی کوفی دعوے

​روافض جہالت کا وہ چشمہ پہنتے ہیں جس میں صرف 10 محرم کا رسمی ماتم ہی اہلِ بیت کو ماننا کہلاتا ہے، جبکہ عملاً اہلِ بیتِ اطہار کا ساتھ دینے اور ان کی نصرت میں جان و مال کی قربانی دینے کا زریں ریکارڈ ائمہ اہلِ سنت کا رہا ہے

​…. امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ: جب امام زین العابدین کے فرزند حضرت زید بن علی بن الحسین شہیدؒ نے بنو امیہ کے ظالم نظام کے خلاف خروج کیا، تو امام اعظم ابو حنیفہؒ نے نہ صرف ان کے حق میں جہاد کا فتویٰ دیا اور مالی معاونت فرمائی، بلکہ ان کے خروج کو غزوہ بدر سے تشبیہ دی۔ بعد ازاں جب سیدنا حسنؓ کی اولاد میں سے امام محمد نفس الزکیہ اور امام ابراہیم بن عبد اللہ نے عباسی آمریت کے خلاف قیام کیا، تو امام ابو حنیفہؒ نے علی الاعلان ان کا ساتھ دیا، جس کی پاداش میں عباسی خلیفہ منصور نے آپ کو قید میں ڈالا، کوڑے برسائے اور جیل ہی میں زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

​…. امام مالک بن انسؒ: جب امام نفس الزکیہ نے مدینہ منورہ میں بیعت کا اعلان کیا، تو امام مالکؒ نے عباسیوں کی جبری بیعت کو باطل قرار دیتے ہوئے فتویٰ دیا: “لَيْسَ عَلَى مُسْتَكْرَهٍ يَمِينٌ” (مجبور کی بیعت شرعاً باطل ہے)۔ اس فتوے کی پاداش میں عباسی گورنر جعفر بن سلیمان نے امام مالکؒ کو سرعام کوڑے مارے اور ان کے بازو شانے سے جدا کر دیے گئے، مگر امام دار الہجرۃ نے اہلِ بیت کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔

​…. امام محمد بن ادریس الشافعیؒ: جب آلِ علیؓ سے محبت اور یمن میں علوی سادات کی نصرت کے الزام میں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں آپ کو زنجیروں اور طوق میں جکڑ کر پیش کیا گیا اور “رافضی” ہونے کا الزام لگایا گیا، تو آپ نے وہ تاریخی شعر کہا:

“إِنْ كَانَ رَفْضًا حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ .. فَلْيَشْهَدِ الثَّقَلَانِ أَنِّي رَافِضِي”

(اگر آلِ محمد کی محبت کا نام رفض ہے تو جن و انس گواہ رہیں کہ میں رافضی ہوں)۔ امام شافعیؒ نے اہلِ بیت کی سچی محبت کی خاطر دربارِ شاہی کی سخت ترین صعوبتیں برداشت کیں۔

​…. امام احمد بن حنبلؒ اور ائمہ حدیث: ائمہ اہلِ سنت نے فضائلِ اہلِ بیت کی احادیث کو اپنی جانوں پر کھیل کر کتبِ صحاح و مسانید میں محفوظ کیا، جبکہ اسی دور میں غالی راویوں نے اہلِ بیت کے نام پر باطل عقائد گھڑ کر دین کو مسخ کیا۔

​…. 4. اولادِ رسول اور اولادِ علیؓ کا انتخابی انکار (Selective Belief)

​…. بناتِ رسول کا انکار: شیعہ یہ باور کراتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی صرف ایک ہی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ تھیں، جبکہ قرآن اور تاریخ شاہد ہے کہ سیدہ زینب، سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہن بھی رسول اللہ ﷺ کی حقیقی بیٹیاں تھیں۔

​…. اولادِ علیؓ کی تفریق: سیدنا علیؓ کی دیگر باوقار اولاد، مثلاً امام محمد بن الحنفیہ، حضرت عباس بن علی (علمدار)، حضرت جعفر، حضرت عثمان اور حضرت ابوبکر بن علی کی عظمت کو پسِ پشت ڈال کر صرف ایک خاص سلسلے کو لیا گیا، اور جب امام محمد بن الحنفیہ نے غلو سے براءت کا اعلان کیا تو غالیوں نے ان پر بھی طعن کیے۔

​…. 5. غلو کا فتنہ:

عبد کو معبود اور نبی سے افضل بنانے کی کوشش

​شیعہ خطابت اور مجالس میں سیدنا علیؓ کو اس مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے جہاں وہ انبیاء علیہم السلام سے افضل اور “یا علی مدد” کے نعروں سے مشکل کشا کے درجے پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ عقیدہ خود سیدنا علیؓ کے اس فرمان کے خلاف ہے: “يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي” (“میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے: ایک حد سے بڑھ کر تعریف کرنے والا غالی، اور دوسرا بغض کی بنا پر بہتان باندھنے والا”) (نہج البلاغہ، خطبہ 127)۔

​…. 6. مظلومیت کی اجارہ داری اور دیگر صحابہ کی عظیم شہادتوں کی نفی

​کربلا کا سانحہ بلا شبہ تاریخِ اسلام کا ایک دردناک باب ہے، لیکن شیعہ فکر نے ایسا تاثر قائم کیا گویا پوری کائنات میں صرف سیدنا حسینؓ ہی پر ظلم ہوا:

​…. سیدنا عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت: ذوالنورین سیدنا عثمانؓ کو 40 دن تک بھوکا پیاسا رکھ کر، پانی کا ایک ایک گھونٹ بند کر کے تلاوتِ قرآن کے دوران ان کے اپنے گھر میں خون میں نہلا دیا گیا۔

​…. دیگر صحابہ کی قربانیاں:

حضرت یاسرؓ اور سیدہ سمیہؓ کو تپتی ریت پر نیزوں سے شہید کیا گیا، حضرت خبیب بن عدیؓ کو سولی پر چڑھایا گیا، حضرت حرام بن ملحانؓ کو دھوکے سے شہید کیا گیا، اور سیدنا عمر فاروقؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ کو محرابِ عبادت میں شہید کیا گیا۔ ان تمام عظیم شہادتوں کو فراموش کر کے صرف 10 محرم کو رسمی ماتم تک دین کو محدود کر دینا خالص بدعت ہے۔

​…. 7. صلحِ حسنؓ کے بعد صحابہ کو فاسق و کافر ٹھہرانے کا تضاد

​جب سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے 41 ہجری میں امت کو خونریزی سے بچانے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تاریخی صلح فرمائی (عام الجماعۃ)، تو شیعہ تاریخ کا تضاد کھل کر سامنے آیا۔ جو صحابہ اور تابعین سیدنا حسنؓ کے اس فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہیں کوفہ کے سبائیوں نے “مذل المؤمنین” (مومنوں کو رسوا کرنے والا) تک کہا۔ جلیل القدر صحابہ جیسے سیدنا قیس بن سعد بن عبادہؓ اور سیدنا سلیمان بن صرد خزاعیؓ کو جنہوں نے بیعت کی، شیعہ روایات میں کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔

​…. 8. دین کی قربانیوں کا کریڈٹ اور عملی منافقت

​جب کسی شیعہ سے اسلام کی فتوحات، تبلیغ اور قربانیوں کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ اور حسنین کریمینؓ کے نام گنوانا شروع کر دیتے ہیں، گویا یہ ہستیاں سنیوں کی نہیں صرف ان کی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد چودہ سو سال کی تاریخ میں شیعہ فکر نے اسلام کو کیا دیا؟ نہ سندھ و ہند کی فتوحات میں ان کا نام ہے، نہ طارق بن زیاد و محمد بن قاسم ان کے تھے، نہ صلاح الدین ایوبی ان کے تھے، اور نہ ہی برصغیر و وسطی ایشیا میں اسلام پھیلانے والے اولیاء و صوفیاء ان کے تھے۔

​…. 9. اپنے ہی حق پسند علماء کا بائیکاٹ

​جب بھی کسی شیعہ محقق یا عالم نے عقل، علم اور حقیقت پسندی کی بات کی اور ان خرافات کا انکار کیا، ان کے اپنے معاشرے نے انہی کو مطعون کیا:

​…. آیت اللہ سید ابو الفضل البرقعی: جنہوں نے غلو کے خلاف کتابیں لکھیں تو انہیں کافر قرار دے کر قاتلانہ حملے کیے گئے۔

​…. علامہ سید محمد حسین فضل اللہ (لبنان): جنہوں نے واقعہ بابِ سیدہ (دروازہ جلانے اور پسلی توڑنے) کا علمی رد کیا تو قم و نجف کے روایتی مراجع نے ان کے خلاف فتوے جاری کیے

​…. احمد الکسروی اور علی شریعتی: جنہیں حقائق بیان کرنے پر فکری و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

​…. 10. ایران، اسرائیل اور صیہونیت کے تاریخی و اسٹریٹجک تعلقات کا پردہ چاک

​شیعہ سیاسی لابی آج ایران کو “محورِ مقاومت” اور اسلام کا واحد علمبردار بنا کر پیش کرتی ہے، جبکہ تاریخ کے اوراق ایران، اسرائیل اور صیہونی گٹھ جوڑ کی تلخ حقیقتوں سے بھرے پڑے ہیں:

​…. پہلوی دور کا کھلم کھلا اسٹریٹجک اتحاد:

1948ء میں اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد ترکی کے بعد ایران دوسرا اکثریتی مسلم ملک تھا جس نے اسرائیل کو “ڈی فیکٹو” تسلیم کیا۔ شاہِ ایران کے دور میں “پیریفیری ڈاکٹرائن” (Periphery Doctrine) کے تحت ایران اور اسرائیل کا خفیہ سیکیورٹی معاہدہ “ٹرائیڈن” (Trident) قائم ہوا، جس میں موساد اور ایرانی خفیہ ایجنسی “ساواک” (SAVAK) نے مشترکہ انٹیلی جنس نیٹ ورک چلایا اور ایران نے اسرائیل کو سستے داموں تیل فراہم کیا۔

​…. ایران-کونٹرا اسکینڈل اور اسرائیلی ہتھیاروں کی ترسیل (1980 کی دہائی):

1979 کے نام نہاد “انقلاب” اور “مرگ بر اسرائیل” کے کھوکھلے نعروں کے باوجود، ایران-عراق جنگ کے دوران ایران نے خفیہ طور پر اسرائیل سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ اسرائیلی تاریخ دان رونن برگمین (Ronen Bergman) نے اپنی دستاویزی کتاب The Secret War with Iran میں ثابت کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کو ہزاروں TOW اینٹی ٹینک میزائل، ہاک (Hawk) اینٹی ایئرکرافٹ سسٹمز اور ایف-4 جیٹ طیاروں کے اسپیئر پارٹس فراہم کیے۔ سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع موشے آرینز (Moshe Arens) نے واضح بیان دیا تھا کہ “ہم نے صدام کے خلاف توازن قائم رکھنے کے لیے ایران کو اسلحہ فراہم کیا”۔

​…. آپریشن اوپرا (Operation Opera – 1981):

عراق کے اوسیراک (Osirak) ایٹمی ری ایکٹر پر اسرائیلی حملے سے قبل، ایرانی فضائیہ نے خفیہ طور پر اس تنصیب کی جاسوسی تصاویر اور نقشے اسرائیل کو فراہم کیے تاکہ سنی اکثریتی عرب ملک کی ایٹمی صلاحیت تباہ ہو سکے۔

​…. اصفہان اور یہودیت کی تاریخی ہم آہنگی: ایران کے شہر اصفہان، تہران اور شیراز میں مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی غیر عرب یہودی آبادی آزادی سے بستی ہے، جن کے پاس ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) میں مخصوص نشست ہے اور وہ ریاستی تحفظ میں رہتے ہیں، جبکہ تہران جیسے کروڑوں کی آبادی والے دارالحکومت میں اہلِ سنت والجماعت کو ایک بھی جامع مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں۔

​…. عرب و مسلم دنیا کی تباہی بمقابلہ زبانی زرد صحافت:

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور اس کی پراکسیز (حزب اللہ، حوثی، حشد الشعبی) نے شام، عراق، یمن اور لبنان میں لاکھوں سنی مسلمانوں کا قتلِ عام کیا، تاریخی سنی شہروں کو کھنڈر بنا دیا، مگر 45 سالہ تاریخ میں ان کا ایک بھی میزائل براہِ راست اسرائیل کے قبضے سے بیت المقدس کی ایک اینٹ بھی آزاد نہ کروا سکا۔ یہ سارا کھیل سنی دنیا کے گرد گھیرا ڈالنے کی ایک خالص قوم پرستانہ اور جغرافیائی سیاست ہے۔

​شیعہ درحقیقت تاریخی اہلِ بیت کے پاکیزہ اسوۂ حسنہ، ان کے اعتدال، ان کی شجاعت، اور ان کے صحابہ کے ساتھ پیار و الفت کے قائل ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے تعصبات کو زندہ رکھنے کے لیے ایک خیالی خاکہ تیار کر رکھا ہے۔

​سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ اور حسنین کریمینؓ تمام اہلِ ایمان کی آنکھوں کا تارا ہیں، اور ان کا اصل وارث وہ ہے جو ان کی سیرت پر چلے، نہ کہ وہ جو ان کے نام پر امت میں تفریق پیدا کرے۔

​ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے

یہ دل ہے مگر دل میں بسا اور ہی کچھ ہے

دل آئینہ ہے۔۔۔۔۔۔ جلوہ نما اور ہی کچھ ہے

​بے خود بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں دیکھنے والے

ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے

​تحریر: محمد غفران الندوی الہندی

۱۹/۰۸/۲۰۲۶

​ ​#اہل_بیت_اطہار #تاریخ_اسلام #اہل_سنت_والجماعت #رد_بدعات #محمد_غفران_الندوی

Loading