کیفیات محمود ہیں مقصود نہیں
تحریر ۔۔۔ حنا عرفان سہروردی
انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کیفیات محمود ہیں مقصود نہیں ۔۔۔ تحریر ۔۔۔ حنا عرفان سہروردی۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی)کیفیات اور ذوق گو لذیذ ہیں مگر مقصود نہیں البتہ مقصود کے معین ضرور ہیں اور مقصود میں لذت لازم نہیں، جیسے ڈاکٹر سے نسخہ لیں تو کسی کو وجد نہیں ہوتا مگر نفع لازم ہے اس ہی طرح مقصود جو سیدھی سیدھی بات ہوتی ہے اس میں کیفیات کا ہونا لازم نہیں اور جہاں یہ کیفیات اور شورش ہے انکے محمود ہونے کے باوجود اسکے نفسانی حظ ہونے کا شبہ ہے
مقصود روحانی حظ ہے اگرچہ عوام الناس بڑی قدر کرتے ہیں جہاں چیخ و پکار، کود پھاند زیادہ دیکھیں گے تو دوڑے جائیں گے، انکے محمود ہونے میں شبہ نہیں مقصود ہونے میں کلام ہے
انبیاء علیہم السلام میں سکون اور اطمینان کی کیفیت راسخ تھی شورش کا غلبہ نہیں تھا اس لیے یہ نبیوں کی سنت تو نہیں
ان کیفیات کے بڑے مسائل ہیں جیسے ایک صاحب کو نماز میں تیس سال کیفیات رہیں وہ شباب کا وقت تھا مگر ضعیفی میں وہ کیفیات جاتی رہیں، تب وہ سمجھے کہ جنہیں وہ کیفیات سمجھ رہے تھے وہ تو حرارت عزیزیہ کے سبب ذوق و شوق کی کیفیت معلوم ہوتی تھی اگر وہ نماز کی ہی کیفیت ہوتی تو پیرانہ سالی میں اور بڑھ جاتی تو بہت جگہوں پر تو کیفیات کی یہ حقیقت ہے
اس لئے اس طریق میں شیخ کامل کی ضرورت ہے جو قدم قدم پر کان کے کیڑے جھاڑتا رہے نفسانی اور روحانی معیار کے متعلق یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ افعال اکثر روح کی طرف سے ہوتے ہیں اور انفعالات نفس کی طرف سے
انفعالات کو قرب میں دخل نہیں، جیسے نماز میں کوئ کیفیت نہ ہو نہ وجدی نہ اسغراقی تو کیا نماز ناقص ہوگی ؟ نہیں بلکہ نماز کامل ہوگی ان انفعالات کی مثال ایسے سمجھ لیں جیسے کوئ شخص آفس میں کام کرتا ہو اور حسین بھی ہو تو کیا اسکی ترقی اسکے حسن کی وجہ سے ہوگی یا کام میں لگے رہنے سے، تو معیار کام ہے کیفیات ہوں نہ ہوں معمولات وقت پہ پورے ہوں۔۔۔۔۔
سلوک کی راہ میں بعض اوقات دل پر ایسی واردات اترتی ہیں جن کی شیرینی بیان سے باہر ہوتی ہے۔ ذکر میں دل کا ڈوب جانا، عبادت میں عجب سرور محسوس ہونا، آنکھوں کا بے اختیار نم ہوجانا، دل میں نور کی سی کیفیت پیدا ہونا، کسی معنوی حقیقت کا انکشاف ہونا—یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطائیں ہیں۔ ان کی لذت سے انکار نہیں، مگر ایک سالک کے لیے سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ کیفیت منزل نہیں، راستے کی ایک منزلت ہے؛ مشاہدہ مقصود نہیں، مشاہدہ کرانے والا مقصود ہے۔
یہاں ایک نہایت باریک حجاب پیدا ہوتا ہے۔ سالک جب کسی کیفیت سے آشنا ہوتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ وہ کیفیت دوبارہ آئے، بلکہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ آئے۔ پھر آہستہ آہستہ ذکر اللہ کے لیے کم اور کیفیت کے لیے زیادہ ہونے لگتا ہے۔ عبادت کے پیچھے ایک پوشیدہ مطالبہ پیدا ہوجاتا ہے: آج بھی وہی حال ہو، وہی نور محسوس ہو، وہی گریہ آئے، وہی لذت نصیب ہو۔
یہ مقام خطرناک ہے۔
کیونکہ بندے کا کام عبادت کرنا ہے، کیفیت طلب کرنا نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
“میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔”
(الذاریات: 56)
غور کیجیے، ارشاد یہ نہیں کہ میں نے تمہیں کیفیتوں کے لیے پیدا کیا، کشف کے لیے پیدا کیا، مشاہدات کے لیے پیدا کیا یا روحانی لذتوں کے لیے پیدا کیا؛ فرمایا: لِيَعْبُدُونِ—تاکہ وہ میری عبادت کریں۔
یہی عبدیت کا راز ہے۔
سالک آج بھی ذکر کرے جب دل میں کوئی کیفیت نہ ہو۔
آج بھی قرآن پڑھے جب آنکھ نم نہ ہو۔
آج بھی تہجد میں کھڑا ہو جب دل پر کوئی خاص واردات نہ اترے۔
آج بھی دعا کرے جب اندر کوئی غیر معمولی سرور محسوس نہ ہو۔
کیونکہ وہ کیفیت کے لیے نہیں، رب کے لیے کھڑا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ
“اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ تھوڑا ہو۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث سالک کو ایک عظیم اصول عطا کرتی ہے: استقامت، کیفیت سے بلند ہے۔
کیفیت آتی ہے، جاتی ہے۔
لذت بڑھتی ہے، گھٹتی ہے۔
آنکھ کھلتی ہے، پھر معمول کی حالت میں آجاتی ہے۔
دل کبھی وسیع محسوس ہوتا ہے اور کبھی اپنی ہی گرفت میں تنگ۔
مگر عبادت کا سفر ان سب کے باوجود جاری رہتا ہے۔
صوفی کے لیے اصل کمال یہ نہیں کہ اسے ہر وقت کچھ دکھائی دے؛ اصل کمال یہ ہے کہ جب کچھ دکھائی نہ دے تب بھی وہ اپنے رب سے منہ نہ موڑے۔
حضرت جنید بغدادیؒ سے منسوب ایک نہایت معنی خیز قول ہے کہ تصوف کی راہ وہی ہے جس میں بندہ اپنے حال کا نہیں بلکہ اپنے رب کا ہوکر رہ جائے۔ اہلِ معرفت کے ہاں یہی کیفیتِ عبدیت کی جان ہے کہ بندہ اپنی واردات کا ناظر بنے، اس کا طالب نہ بنے۔
مشاہدہ اگر اللہ عطا فرمادے تو شکر۔
کیفیت اگر عطا فرمادے تو شکر۔
دل پر نور اتر آئے تو شکر۔
اور اگر کچھ بھی محسوس نہ ہو تو بھی شکر۔
کیونکہ عطا کی حقیقت عطا میں نہیں، عطا کرنے والے میں ہے۔
قرآن کہتا ہے:
وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
“اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔”
(الجمعہ: 4)
پس سالک فضل کا محتاج رہے، فضل کی کسی خاص صورت کا نہیں۔
لہذا یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مشاہدات اور کیفیات ہمیشہ قرب کی قطعی دلیل نہیں ہوتیں۔ کبھی ایک کیفیت انسان کو اپنے رب کے قریب لے جاتی ہے اور کبھی وہی کیفیت انسان کے نفس کو یہ گمان دے دیتی ہے کہ میں پہنچ گیا ہوں۔
یہیں سے عجب اور خود پسندی کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
ایک شخص کو گریہ نصیب ہوا، دوسرے کو سکون، تیسرے کو نور محسوس ہوا، چوتھے کو خواب میں کوئی بشارت ملی؛ اگر ہر شخص ان عطاؤں کو اپنی بزرگی کی سند سمجھنے لگے تو عطا، حجاب بن جاتی ہے۔
اہلِ معرفت اسی لیے کیفیات سے زیادہ اخلاق، اخلاص، تواضع، شریعت کی پابندی، حقوق العباد اور دوامِ عبادت کو دیکھتے ہیں۔
کیونکہ جس کیفیت کے بعد بندہ نرم ہوجائے، وہ نعمت ہے؛
اور جس کیفیت کے بعد بندہ اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنے لگے، وہ آزمائش بھی ہوسکتی ہے۔
اسی لیے مطالبہ کرنا بھی ایک لطیف مسئلہ ہے۔
بندہ اللہ سے دعا کرے، اس کے فضل کا سوال کرے، ہدایت، قرب، رضا اور عافیت مانگے—یہ سب دعا کے ابواب ہیں۔ لیکن عبادت کو اس شرط سے باندھ دینا کہ جب تک مجھے وہ کیفیت نہیں ملے گی، مجھے عبادت میں لطف نہیں آئے گا، یہ عبدیت کے مزاج کے خلاف ہے۔
عبد کہتا ہے:
یا اللہ! تو چاہے تو دکھا دے، تو چاہے تو چھپا لے؛ میرا کام تیرے در سے وابستہ رہنا ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں سالک کی عبادت، کیفیت کی طلب سے نکل کر محبت اور عبدیت میں داخل ہوتی ہے۔
سعدیؒ کا ایک معروف شعر ہے:
تو بندگی چو گدایان به شرط مزد مکن
که خواجہ خود روش بندهپروری داند
یعنی بندگی مزدوری کی شرط پر نہ کر کہ مجھے یہ ملے تو میں تیری بندگی کروں گا؛ آقا خود جانتا ہے کہ بندے کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے۔
یہی راز ہے۔
تم ذکر کرتے رہو، وہ جانتا ہے کب دل میں لذت اتارنی ہے۔
تم عبادت کرتے رہو، وہ جانتا ہے کب پردہ اٹھانا ہے۔
تم دروازے پر بیٹھے رہو، وہ جانتا ہے کب در کھولنا ہے۔
کبھی کبھی اللہ تعالیٰ سالک سے کیفیت اس لیے بھی لے لیتا ہے کہ وہ کیفیت کے بجائے اللہ کو تلاش کرے۔
اور یہ سلوک کا ایک نہایت لطیف سبق ہے:
جب لذت ملے تو شکر کرو، جب لذت نہ ملے تو صبر کرو؛ مگر دونوں حالتوں میں عبادت نہ چھوڑو۔
کیونکہ سالک کی وفاداری اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اسے کچھ محسوس نہ ہو اور پھر بھی وہ کہے:
“اے میرے رب! میں تیرے لیے ہوں، تیری عطا کے لیے نہیں۔”
یہی عبدیت ہے۔
اور جب عبدیت پختہ ہوجاتی ہے تو پھر جو کچھ اللہ عطا فرمائے، وہ نعمت بھی بن جاتا ہے اور حجاب بھی نہیں بنتا۔
مشاہدہ آئے تو سر جھک جاتا ہے،
کیفیت آئے تو دل شکر کرتا ہے،
اور پردہ قائم رہے تو بندہ پھر بھی در نہیں چھوڑتا۔
کیونکہ عاشق کی نگاہ عطا پر نہیں، عطا کرنے والے پر ہوتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔
ازمودم عقل دور اندیش را
بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را
( میں عقل دور اندیش کو آزمانے کے بعد دیوانہ حق بنا یوں)
حنا عرفان سہروردی
نفحات تصوف
19 اگست 2026 بدھ
![]()

