Daily Roshni News

سیشن برائے رُوحانی سوال و جواب۔۔۔ مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمیؒ

سیشن برائے رُوحانی سوال و جواب

کتاب : خطباتِ لاہور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سیشن برائے رُوحانی سوال و جواب۔۔۔ مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب )مرشدِ کریم حضور خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے ساتھ سلسلۂِ عظیمیہ کے دوستوں نے مختلف اوقات میں، مختلف مقامات پر لاہور کے اَندر، ذاتی اور اجتماعی نشست و برخاست میں رُوحانیت کے عمیق موضوع پر اپنی فکر کو وسعت دینے کیلئے اور مرشدِ کریم کی طرزِ فکر کو اختیار کرنے کیلئے، سوالات کئے جن کے جوابات مرشدِ کریم نے اپنے مخصوص اندز میں دئیے۔ نوع ِ انسانی کیلئے مرشدِ کریم کے عمل کا یہ ورثہ، اس کی بھلائی کیلئے عام کیا جا رہا ہے۔ قارئین کیلئے یہ سوالات اور جوابات دلچسپی کا باعث ہوں گے۔ یہ تمام سوالات سلسلے کے بہن بھائیوں نے مراقبہ ہال لاہور کے زیرِ اہتمام مختلف مقامات پر کئے جن میں جامعہ عظیمیہ و مراقبہ ہال کاہنہ نَو لاہور، مراقبہ ہال برائے خواتین سمن آباد، مراقبہ ہال مزنگ اور کچھ نجی تقریبات شامل ہیں۔ یہ سوالات ۱۹۹۵ء  سے لیکر ۲۰۰۲ء تک کے عرصہ پر مشتمل تھے مگر کانٹ چھانٹ کر کے ان میں سے کچھ اہم سوالات اور ان کے جوابات آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین!

سوال: سلسلۂِ عظیمیہؔ کے بنیادی ڈھانچہ کے بارے میں کچھ بیان فرمائیں؟

جواب:

دنیا میں تقریباًدو سو سلاسل مَوجود ہیں۔ ہر خطے میں ہر ملک میں کوئی نہ کوئی سلسلہ مشہور رہا ہے۔ برِّصغیر پاک و ہند میں چار سلسلے زیادہ مشہور ہیں۔

سلسلے سے مراد یہ ہے کہ:

ماورائی علوم کو ترتیب و تدوین کے ساتھ بیان کرنا، اور

بندے کا اللہ سے تعارف حاصل کرنا ہے….

دنیا میں جس طرح اور بے شمار سلاسل مَوجود ہیں اسی طرح ایک سلسلہ، سلسلۂِ عظیمیہ ہے۔

سلسلۂِ عظیمیہ کی جو تعلیمات ہیں وہ ان چاروں سلاسل کے عین مطابق ہیں۔ سلسلۂِ عظیمیہؔ کی تعلیمات کو مَوجودہ سائنس کی توجیہات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ بہت ساری باتیں ہیں کہ جو اگر اب سے پچاس سال پہلے کہہ دی جاتی تھیں تو شعور پر وزن پڑتا تھا۔ سائنس میں نئی نئی ایجادات اور نئی نئی ٹیکنالوجی سامنے آنے سے اور فاصلے کم سے کم ہونے سے انسانی شعور میں بیداری پیدا ہوئی۔ شعور میں بیداری پیدا ہونے سے ذہنوں میں وسعت آئی ہے۔ جب شروع میں پتہ چلا کہ ٹیلی فون ایجاد ہوگا تو لوگوں نے مذاق اڑایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ پھر ٹیلی فون بن گیا۔ اس کے بعد ریڈیو آیا لوگوں نے اس کا بھی مذاق اڑایا مذاق اڑانے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے شعور میں اتنی سکت ہی نہیں تھی کہ وہ آنے والی ٹیکنالوجی کو قبول کر سکیں۔ پھر پتہ چلا کہ T.Vآئے گا اور وہ فلاں فلاں کام کرے گا۔ جتنی مخالفت ریڈیو اور ٹیلی فون کی ہوئی اتنی ٹی وی کی نہیں ہوئی کیونکہ لوگوں کے شعور میں یہ سکت آگئی تھی کہ وہ ٹی وی کو قبول کر سکیں۔ اس کے بعد کمپیوٹر آ گیا کمپیوٹر نے ڈاک کے نظام کو نہایت آسان کر دیا۔ لوگوں کے ذہنوں میں جو مادّی تقاضے تھے وہ ختم کر دئیے کیونکہ مَوجودہ سائنسی دور نے انسانی شعور کو ترقی دی ہے۔

سائنس کے مطابق پانچ فیصد سیل دماغ کے کھلے ہیں اور باقی بند پڑے ہیں انسانی شعور کی ترقی اور وسعت کا یہ عالَم ہے کہ اب تو چھوٹا بچہ بھی دلیل کے بغیر کسی بات کو قبول نہیں کرتا۔ ایک بچہ میرے پاس آیا اور مجھ سے پوچھا اللہ میاں کہاں ہیں؟ ہر چیز نظر آرہی ہے، یہ ریڈیو ہے، یہ کرسی میز ہے…. نظر آرہے ہیں…. اللہ کیوں نہیں نظر آتا؟

رُوحانی سلسلوں کا تعلق چونکہ اَندرونی کیفیات اور ماورائی علوم کے ساتھ ہے اس لئے ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ ہر دَور میں انسانی سکت کے مطابق عوام کو، مخلوق کو، اللہ سے متعارف کرائیں۔ اسلئے ایسے سلسلے کی بنیاد رکھی جائے جو سائنسی علوم کے مطابق کام کرے۔ جو پرانے تمام سلسلوں کی تعلیمات کو سائنسی علوم کی روشنی میں لوگوں تک پہنچائے۔ اس طرح عظیمیہ سلسلہ وُجود میں آیا۔

Loading