*ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں 5 اگست یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے پروقار تقریب اور تصویری نمائش کا انعقاد*
انقرہ، ترکیے(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔نمائندہ خصوصی سید رضوان حیدر بخاری)ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کی کیچیورن (Keçiören) بلدیہ کی جانب سے تاریخی ایسٹرگون کیسل کلچرل سینٹر میں ‘یومِ استحصالِ کشمیر’ کے موقع پر ایک پروقار تقریب اور تصویری نمائش کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں سفارتی نمائندوں، میونسپل حکام اور ممتاز مہمانوں نے شرکت کی تاکہ دہائیوں پر محیط تنازعے کے متاثرین کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا جا سکے۔
تقریب کا آغاز شہداء کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے سے ہوا، جس کے بعد ترکیہ اور پاکستان کے قومی ترانے بجائے گئے اور تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی گئی۔
افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کیچیورن کے ڈپٹی میئر، عاتلہ زورلو (Atilla Zorlu) نے میئر ڈاکٹر میسوت اوزارسلان (Dr. Mesut Özarslan) کی جانب سے خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اجتماع محض ایک عام نمائش سے بڑھ کر ہے اور خطہ کشمیر کے ساتھ گہرے جذباتی اور تاریخی تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان اس دیرینہ برادرانہ تعلق کو اجاگر کرتے ہوئےجو ترکیہ کی جنگِ آزادی کے دوران قائم ہوا تھا محترم زورلو نے شعراء مہمت عاکف ایرسوئے (Mehmet Akif Ersoy) اور علامہ محمد اقبال کی جانب سے پیش کی گئی تاریخی یکجہتی کی مثال کا ذکر کیا۔ انہوں نے مظلوم خطوں میں امن، انصاف اور استحکام کے لیے ترکیہ کی مسلسل دعاؤں کا اعادہ کیا۔
جناب زورلو کے بعد، انقرہ میں پاکستان کے سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن، شائق احمد بھٹو نے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید کی جانب سے شرکاء سے خطاب کیا۔ 5 اگست 2019 کے واقعات کے سات سال مکمل ہونے پر، شائق بھٹو نے کہا کہ نمائش میں رکھی گئی تصاویر اس تنازعے کی انسانی قیمت کی “خاموش گواہ” ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر خبر کی سرخی کے پیچھے ایک انسانی کہانی پوشیدہ ہوتی ہے، اور انہوں نے زخمی بچوں، بلا جواز حراست کے شکار افراد اور سوگوار خاندانوں کی تصاویر کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا موقف بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مبنی ہے اور وہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے۔
تقاریر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس نمائش کا مقصد غصہ یا اشتعال پیدا کرنا نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کو بیدار کرنا اور انسانی وقار، ہمدردی اور پرامن حل کی بنیادی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔
باضابطہ تقاریر کے بعد، معزز مہمانوں نے ربن کاٹنے کی رسمی تقریب میں حصہ لیا اور تصویری نمائش کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس کے بعد مہمانوں نے گیلری کا دورہ کیا اور ایسی مؤثر بصری دستاویزات کا مشاہدہ کیا جو کشمیری عوام کی مسلسل استقامت، وقار اور انسانی حقائق کی عکاسی کرتی تھیں۔
![]()











