شباب کی باتیں
نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)تاریخ کو مسخ کرنے کا رواج بہت پرانا ہے خواہ یہ سیاسی تاریخ ہو سماجی یا پھر ادبی تاریخ، بعض لوگوں کا کام ہی اپنے اپنے شعبے میں اصل حقائق پر جھوٹے بے بنیاد دعوے کرنے اور ذاتی خواہشات کو فوقیت دینے کا ایک جنون سوار ہوتا ہے تاہم دوسرے شعبوں کے برعکس اج ہم خود کو صرف ادبی میدان تک ہی محدود رکھتے ہوئے چند گزارشات پیش کریں گے ۔اکبر الہ ابادی نے اپنے زمانے کے حوالے سے سر سید احمد خان کی قوم و ملت کے لیے انتھک محنت کو دیکھ کر کہا تھا۔
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے
نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں
کچھ ایسی ہی صورتحال ان دنوں پشاور کے سب سے اہم ادبی تنظیم حلقہ ارباب ذوق کی ہے جو اگرچہ گزشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے ادب کی ترویج میں مصروف عمل ہے اور لا تعداد ایسے اجلاس حلقے کے ریکارڈ پر ہیں جن کو اگر بروقت اکٹھا کیا جاتا تو ایک ایسی ادبی تاریخ مرتب ہو کر دستاویزی صورت میں سامنے آجاتی جس سے اج کی نسل بھرپور استفادہ کرتی اور کئی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے تحریر کیے جاتے، مگر بد قسمتی سے ہمارے سینیئر ساتھی صاحب طرز افسانہ نگار اور شاعر یوسف عزیز زاہد کی مسلسل علالت اور وہ تمام ریکارڈ جو ان کے پاس تھا اور ان سے کسی نے شائع کرنے کی غرض سے حاصل کیا تھا مگر اب اس کا کچھ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ وہ کہاں ہے کس کے پاس ہے اور واپس نہ کر کے کیا مقصد حاصل کیا جا رہا ہے؟ اگرچہ اس دوران حلقے کے سینیئر ساتھیوں اور تازہ کار اہل دل نے کئی بار کوشش کی کہ وہ پرانا ریکارڈ کسی نہ کسی طور ڈھونڈ کر دستاویزی شکل میں ڈھال لیا جائے تاکہ محفوظ ہو جائے مگر انہیں ناکامی ہوئی تو پھر یہ طے کیا گیا کہ کم از کم جو سرگرمیاں گزشتہ ڈیڑھ دو برس میں ہوتی رہیں اور ان کا ریکارڈ موجود ہے تو اسے کتابی صورت دینے کا مسلسل عمل اپنایا جائے، یعنی اب ہر چند ماہ بعد رپورٹوں پر مبنی دستاویز شائع کرنے پر توجہ دی جائے اور اس حوالے سے پہلی کاوش حلقے کی موجودہ ٹیم یعنی سیکرٹری ڈاکٹر فضل کبیر، جوائنٹ سیکرٹری مسرور حسین ژوار اور مجلس عاملہ کے سب سے اہم رکن ناصرعلی سید اور دیگر احباب کی مشاورت سے سامنے اگئی ہے اور 60 صفحات پر مشتمل پی ڈی ایف کی صورت میں حلقے کے آفیشل وٹس ایپ اکاؤنٹ میں دستیاب ہے۔
پشاور کے ادبی سفر کے اس اہم موڑ پر اگرچہ پوری تاریخ کو یکجا نہیں کیا جا سکا تا ہم ناصر علی سید کے ساتھ جو مکالمہ اس دستاویز کا حصہ بنایا گیا ہے اس سے ماضی میں جھانکنے کا موقع ضرور ملتا ہے اور بہت حد تک ادبی سرگرمیوں کی داستان جستہ جستہ سامنے ا جاتی ہے، اس موقع پر چند تلخ یادیں بھی ذہن کے پردے پر مرتسم ہو جاتی ہیں جب ادبی سفر کے دوران کچھ ایسے کرداروں سے بھی واسطہ پڑا جن کا ادبی قد کاٹھ بڑھانے میں اگرچہ حسب عادت ناصر علی سید نے کردار ادا کیا اور آج انہیں دو چار لوگ پہچاننے لگے ہیں مگر ایک ایک موقع ایسا بھی آیا کہ وہی پستہ قد خم ٹھونک کر پیٹھ پیچھے ناصر علی سید کی مخالفت کرنے لگا شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے سعدی شیرازی نے صدیوں پہلے جو کچھ کہا تھا وہ بالکل درست کہا تھا
سعدیا شیرازیا پند مدہ کمزاد را
کمزاد گر عاقل شود گردن زند استاد را
جس کی جانب ہم نے اشارہ کیا ہے اسے ادبی برادری بخوبی جانتی ہے مختصرا” بات اتنی ہے کہ ناصر علی سید نے اس کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے حلقے کے سالانہ انتخابات کے موقع پر سیکرٹری بنوایا، وہ کچھ مدت تک یہ ذمہ داری نبھاتا رہا اور پھر موصوف کا تبادلہ پشاور سے قدرے دور ایک علاقے میں ہو گیا تو اس نے از خود حلقے کی ذمہ داریاں مزید نبھانے سے معذرت کر دی، اگرچہ ہم سب نے اسے بہت سمجھایا کہ ہفتے میں صرف ایک بار ہی تو آنا ہوگا مگر وہ مصر رہا کہ اسے والدہ صاحبہ نے منع کر دیا ہے۔ یوں اس نے خود ہی حلقے سے تعلق عارضی طور پر توڑا کہ جب بھی دوبارہ پشاور یا قریبی کسی شہر میں تبادلہ ہوگا تو وہ اپنا ادبی سفر جاری رکھے گا مگر کچھ ہی عرصے بعد اسے اپنے ہی کیے ہوئے فیصلے پر تاسف ہونا شروع ہو گیا مگر اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا اور دوسرے ساتھیوں نے حلقے کی ذمہ داریاں بخوبی سنبھال لی تھیں، اس کے بعد موصوف اگرچہ تبدیل ہو کر پشاور کے زیادہ قریب بھی آگیا مگر اب حلقہ نئی انتظامیہ کے تحت کامیابی کے ساتھ سفر جاری رکھے ہوئے تھا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حلقے کی نئی انتظامیہ کے خلاف موصوف “بول ک لب ازاد ہیں تیرے” کے اصول پر گامزن ہو گیا بات یہاں تک رہتی تو کوئی بات بھی تھی مگر اس نے پشاور اور خاص طور پر حلقہ ارباب ذوق کی تاریخ مسخ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اپنے شاگردوں کے سامنے یہ دعوے کرنے لگا کہ حلقہ تو تباہ ہو گیا اور اس کے دور میں حلقے نے ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے اوج ثریا کو چھو لیا تھا مگر اس کے علیحدہ ہونے سے حلقہ منقار زیر پر ہو کر رہ گیا ہے،ں اس پر اب اس کے علاوہ کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے
جن لوگوں کے اذہان کو پراگندہ کرتے ہوئے وہ جھوٹے دعووں سے اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کرتا ہے کوئی اس سے پوچھے کہ اس کے “عہد ذریں” سے پہلے لگ بھگ 50 سال کے ادبی سفر اور اس کے بعد کے اب تک کی ادبی سرگرمیاں کیا ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی متقاضی ہیں، اور صرف موصوف کا دور ہی “سنہرا ادبی دور تھا”؟ موصوف جس نرگسیت کا شکار ہے اس سے وہ جس قدر جلد ممکن ہو باہر ا کر حقائق کا سامنا کرے اور صریح جھوٹ پر مبنی, بے بنیاد دعوے کرنا بند کر دے تو خود اس کے حق میں بہتر ہوگا، کیونکہ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں اور ایسے موقعوں پر پستہ قد، جھوٹے اور دروغ گوؤں سے بابا بلھے شاہ کی زبان میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ
پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویا
کدی اپنے اپ نوں پڑھیا نئیں
جا جا وڑیا مسجداں مندراں وچ کدی من اپنے وچ وڑیا نئیں
موصوف کے دور میں حلقے کو کون سے سرخاب کے پر لگ گئے تھے کہ پہلے اور بعد کے ادوار کی کوئی حیثیت اور اہمیت ہی نہیں ہے
وما علینا الا البلاغ۔
ق
![]()

