Daily Roshni News

پاکستانی انٹرنیشنل صحافی محمد عامر صدیق کی جانب سے اقوامِ متحدہ (یو این سی اے وی) ویانا میں پاک میڈیا جرنلسٹس فورم انٹرنیشنل کی رکنیت منسوخی کی باضابطہ درخواست جمع

پاکستانی انٹرنیشنل صحافی محمد عامر صدیق کی جانب سے اقوامِ متحدہ (یو این سی اے وی) ویانا میں پاک میڈیا جرنلسٹس فورم انٹرنیشنل کی رکنیت منسوخی کی باضابطہ درخواست جمع

آسٹریا(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔نیوز ڈیسک))پاکستانی انٹرنیشنل صحافی محمد عامر صدیق نے اقوامِ متحدہ ویانا (UNCAV)، یو این سی اے وی آسٹریا اور آئی اے ای اے (IAEA) ہیڈ آفس میں پاک میڈیا جرنلسٹس فورم انٹرنیشنل کی مبینہ وابستگی اور رکنیت کی منسوخی کے لیے باضابطہ درخواست جمع کروا دی ہے۔ درخواست میں جعلی نمائندگی، غلط بیانی، مشکوک سرگرمیوں، جامعات اور سفارتی حلقوں کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاک میڈیا جرنلسٹس فورم انٹرنیشنل سے وابستہ بعض سینئر اراکین، سفارتی شخصیات اور بین الاقوامی سطح پر شریک افراد نے فورم کے نام، حیثیت، رجسٹریشن اور مبینہ جعلی نمائندگی کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق فورم کی موجودہ انتظامیہ پر غیر مصدقہ معلومات، مبینہ جعلی بیانیے اور گمراہ کن دعوؤں کے ذریعے سفارتکاروں، سیاسی شخصیات، جامعات اور میڈیا نمائندگان کو متاثر کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فورم کے قیام کے دوران اسے مختلف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رجسٹر کروانے کی کوششیں کی گئی تھیں، جن میں آسٹریا میں اقوامِ متحدہ (یو این سی اے وی) سے متعلق رجسٹریشن کا معاملہ بھی شامل تھا۔ اسی پلیٹ فارم کے تحت مختلف بین الاقوامی کانفرنسز، سفارتی تقریبات اور پروفیشنل ایونٹس منعقد کیے گئے، جن میں مختلف ممالک کے سفارتکاروں، میڈیا نمائندگان، تعلیمی اداروں اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔

تاہم اب بعض سینئر اراکین نے الزام عائد کیا ہے کہ فورم کی انتظامیہ نے اس کی بین الاقوامی حیثیت، رجسٹریشن اور نمائندگی کے حوالے سے مبینہ طور پر غلط اور غیر شفاف معلومات فراہم کیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف سفارتی شخصیات بلکہ تعلیمی و صحافتی حلقوں کو بھی گمراہ کیا گیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق بعض ڈپلومیٹس نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایسی معلومات کی بنیاد پر تقریبات میں مدعو کیا گیا جو بعد ازاں متنازع اور غیر مصدقہ ثابت ہوئیں۔ ان کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی یا پروفیشنل پلیٹ فارم پر غلط نمائندگی اور غیر شفاف دعوے ناقابلِ قبول ہیں، کیونکہ اس سے اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق بعض جامعات کے ساتھ بھی مبینہ طور پر غلط معلومات شیئر کی گئیں، جن میں پاکستان کی ہزارہ یونیورسٹی کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ فورم کی بعض سرگرمیوں کے حوالے سے بھی مشکوک نوعیت کے خدشات سامنے آئے ہیں، جنہیں مستقبل میں پاکستان مخالف عناصر یا تنظیمیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے، مبینہ غلط نمائندگی اور غیر شفاف سرگرمیوں کی تفصیلات دنیا بھر میں موجود اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور متعلقہ حکام کو باضابطہ تحریری طور پر ارسال کی جائیں گی۔

اسی سلسلے میں انٹرنیشنل پاکستانی صحافی محمد عامر صدیق، جنہوں نے آسٹریا میں اس فورم کی اقوامِ متحدہ (یو این سی اے وی) سے متعلق رجسٹریشن کے عمل میں کردار ادا کیا تھا، نے اقوامِ متحدہ ویانا میں فورم کی مبینہ وابستگی اور رکنیت کی منسوخی کے لیے باضابطہ درخواست جمع کروا دی ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک فورم کے ساتھ اقوامِ متحدہ (UN) / (یو این سی اے وی) کے نام، لوگو، حیثیت یا وابستگی کو استعمال نہ کیا جائے۔ ان کے مطابق اگر بغیر اجازت یا تصدیق کے آئندہ اقوامِ متحدہ کے نام یا رجسٹریشن کا حوالہ استعمال کیا گیا تو متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر فورم کی اقوامِ متحدہ سے مبینہ وابستگی یا رجسٹریشن کو فوری طور پر معطل تصور کیا جا رہا ہے جبکہ اس معاملے کو قانونی اور انتظامی سطح پر بھی اٹھایا جا رہا ہے۔

مزید برآں، اس معاملے کی تفصیلات پاکستان کے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز کو بھی ارسال کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ صحافتی، سفارتی اور تعلیمی حلقوں کو صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ رکھا جا سکے۔

فورم کے بعض سینئر اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام معاملات کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی کمیونٹی، میڈیا پلیٹ فارم یا بین الاقوامی فورم کو ذاتی مفادات، غلط نمائندگی یا مبینہ جعلی دعوؤں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اقوامِ متحدہ (یو این سی اے وی) سے متعلق رجسٹریشن کے عمل میں محمد عامر صدیق کو مخصوص اختیارات دیے گئے تھے، جن کے تحت وہ کسی بھی مبینہ قانونی خلاف ورزی یا قواعد کی عدم پاسداری کی صورت میں متعلقہ منظوری یا خط کی منسوخی کی سفارش کر سکتے ہیں۔

Loading