چراغِ دِل
ازقلم: خاکِ رواں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ چراغِ دِل۔۔۔ ازقلم: خاکِ رواں)بِسْمِ اللَّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔مومنہ ہر گزرتے سورج اور ڈھلتی شب کے ساتھ اپنے اندر ایک پُر اسرار باطنی انقلاب محسوس کر رہی تھی۔ وہ امیر زادی جو دنیا کی تمام ظاہری چمک دمک اور پرتعیش رنگینیوں میں چہکتی ہوئی پلی بڑھی تھی، اب اِنہی مادی محفلوں اور دنیاوی رنگوں سے اُسے ایک عجیب سی کوفت اور بے زاری محسوس ہونے لگی تھی۔
اُس کا زیادہ تر وقت اب تنہائی کے حجرے میں، خشوع و خضوع کے ساتھ نمازِ پنجگانہ کی ادائیگی میں، تلاوتِ قرآنِ حکیم میں اور اسمِ ذات کے ذکر و اذکار میں گزرتا؛ مگر باطن کا وہ ابدی سرور اور قرار جو روح کو مطلوب تھا، ابھی تک اُس کی گرفت سے دور تھا، گویا وہ ابھی تک اِسی لاجورد باطنی تلاش میں سرگرداں تھی،
جس کی طرف عارفِ باللہ، حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ نے اپنے دیوان میں اشارہ فرمایا ہے کہ: “طالب اور عاشقِ صادق کی حقیقی منزل صرف ظاہری وصال نہیں ہوتا، بلکہ وہ اندرونی تڑپ اور سوزِ ہجر ہے جو اُسے مسلسل منزلِ مقصود کی طرف کھینچتی رہتی ہے۔”
اِسی تڑپ کے عالم میں، ایک شب مومنہ نماز اور مناجات سے فارغ ہو کر بستر پر لیٹی اور اپنے دل پر دھیان جما کر اسمِ ذات کا ذکر کرتے کرتے نہ جانے کب نیند کی مخملیں آغوش میں چلی گئی۔
خوابِ غیب کا دائرہ اور وصالِ مرشد
خواب کی وادی نے مومنہ کو اپنے ماورائی گھیرے میں لے لیا۔ وہ دیکھ رہی تھی، ایک نہایت وسیع و عریض، لاامتناہی میدان ہے جہاں نور کی بارش ہو رہی ہے، اور وہاں رب کے پیارے بندوں کا ایک عظیم جمِ غفیر ہے۔ سب لوگ نہایت ادب سے دائرے کی شکل میں، لائن در لائن دوزانو بیٹھے ہیں، اور اِس عظیم دائرے کے عین وسط میں ایک برگزیدہ ہستی اپنے پُر نور، چمکدار چہرے کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔ سبھی زائرین عقیدت سے سر جھکائے مہرِ سکوت بنے بیٹھے تھے۔
مومنہ نے حیرت سے خود کو دیکھا وہ اِس غیبی محفل میں ایک سفید براق لباس زیبِ تن کیے کھڑی تھی اور اُس کے سر پر حیا کی ایک خوبصورت سبز چادر لہروا رہی تھی۔ اُسے اپنی مادی عقل سے سمجھ نہ آئی کہ وہ اِس نورانی مجمع میں کس جگہ جا کر اپنی نشست سنبھالے۔ اِسی اضطراب میں، اچانک مجمع کے بیچوں بیچ سے ایک نادیدہ ہاتھ فضا میں اٹھا اور لوگوں کے درمیان خود بخود ایک پرسکون راہ بنتی چلی گئی، گویا غیب سے اُسے خاص طور پر اِس محفل کے مرکز تک بلایا جا رہا ہو۔
مومنہ سحر زدہ قدموں سے اِس نورانی راستے پر چلتی ہوئی دائرے کے مرکز تک پہنچ گئی، اور جیسے ہی اُس نے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی نظریں اٹھائیں تو سامنے کا منظر دیکھ کر روح لرز گئی، وہاں مسکراتے چہرے کے ساتھ کوئی اور نہیں، بلکہ وہی درویش ‘ولی’ بیٹھا تھا ، وہ بے اختیار اِسی کے مقرب دائرے میں پاس ہی بیٹھ گئی۔
مومنہ نے گہرے ادب سے اپنی آنکھیں موند لیں اور دوزانو بیٹھ کر اپنا سر جھکا لیا۔ چند ہی لمحات گزرے تھے کہ وہ پوری بھیڑ اور محفل ہوا میں غائب ہو گئی، اور اِس وسیع و عریض فضائی منظر نامے میں اب صرف مومنہ اور ولی ہی موجود تھے۔
“باطن کے راستوں پر بھٹکے ہوئے مسافر آخر کار ایک نہ ایک دن تڑپ کر اپنی حقیقی راہ کو پا ہی لیتے ہیں،” ولی کی وہی ریشم جیسی نرم اور رعب دار آواز سنسان فضا میں گونجی۔
مومنہ نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں، اُس کی خوبصورت آنکھوں میں پچھلی غفلتوں اور احسان فراموشی کے آنسو تھے، چہرے پر سچی شرمندگی کا غازہ ملا ہوا تھا۔ وہ رُندھے ہوئے گلے سے بولی: “ولی صاحب آخر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ میں کیوں اِس غفلت کے اندھیرے میں لوٹ گئی تھی؟”
ولی نے آتش دان کی چنگاریوں کی طرح چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھا اور تصوف کا ایک بڑا نکتہ بیان کیا: “مومنہ جی کائنات میں سچائی اور بندگی کا صرف ایک ہی سیدھا راستہ ہے، اور وہ ‘دل کا راستہ’ ہے، مادی عقل کا نہیں اپنے اِس دلِ بیدار کو اپنا اولین مرشد اور آئینہ بناؤ۔ اگر نفسِ امارہ کے خلاف اِس مادی دنیا میں جنگ جیتنا چاہتی ہو، تو روح کا لطیف راستہ اپناؤ اور اپنے دل کے اندر اسمِ ذات کا چراغ روشن کرو، کیونکہ یہ گوشت کا لوتھڑا نہیں، بلکہ روح ہی وہ امانت ہے جو رب کی حقیقی معرفت کو پا سکتی ہے۔”
یہ تصوف کی وہی ابدی حقیقت ہے جس کی طرف حجت الاسلام، امام محمد غزالیؒ نے اپنی تصانیف میں اشارہ فرمایا ہے کہ: انسان کا دل دراصل ایک صیقل شدہ آئینہ ہے، اور جب تک اِس آئینے پر دنیاوی خواہشات اور غفلت کی گرد جمی رہے، یہ کبھی بھی رب کے جمال اور تجلیات کا سچا عکس نہیں دکھا سکتا۔”
“مگر ولی صاحب میں تو دنیا کے بکھیڑوں میں پڑ کر اپنے ہاتھوں سے اپنا وہ نورانی چراغ بجھا چکی ہوں، اب مجھ میں وہ سکت کہاں؟ مومنہ نے روتے ہوئے اعتراف کیا۔
“مومنہ جی یہ الٰہی چراغ اگر ایک دفعہ سچے اذن سے دل میں جل جائے، تو پھر موت تک کبھی نہیں بجھتا، بس دنیاوی غفلت اور لاپرواہی کے موٹے پردے ہماری ظاہری آنکھوں کو اور ہماری مادی سوچ کو عارضی طور پر نابینا اور مفلوج کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے آنکھیں حق دیکھ نہیں پاتیں اور روح کا تصور اُس نورانی تپش کو محسوس نہیں کر پاتا،” ولی نے تسلی دی۔
“اب۔۔۔ اب میں دوبارہ اِس نورِ قلب کو کیسے محسوس کروں؟ مجھ پر رحم کیجئے” مومنہ نے التجا کی۔
ولی نے نہایت شفقت سے اپنے لکڑی کے تختے پر رکھی ہوئی ایک تازہ کھجور کا ٹکڑا اُس کی طرف بڑھایا اور بولا: “لو مومنہ یہ برکت کا ٹکڑا کھا لو، یہ تمہارے قلب پر جمی غفلت کا سارا زنگ ایک پل میں دھو کر صاف کر دے گا۔”
یہ وہ باطنی برکت تھی جس کی سچائی کی گواہی خود مخبرِ صادق ﷺ کی حدیثِ پاک دیتی ہے:
“بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ”
“جس گھر میں کھجور نہ ہو، اُس کے رہنے والے (روحانی طور پر) بھوکے ہیں۔”(صحیح مسلم)
مومنہ نے بڑے ادب اور لرزتے ہاتھوں سے وہ غیبی کھجور کا ٹکڑا تھام لیا اور منہ میں رکھ لیا۔
“اور ہاں مومنہ جی آج سے تم نے اِس مادی دنیا میں چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے ایک خاص ورد کو اپنی زبان کی زینت بنانا ہے،” ولی نے رخصت کا اشارہ کیا۔
“جی فرمائیے وہ کیا ورد ہے؟”
“‘إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، یا سلامُ، یا وارثُ! نمازوں اور روزمرہ کے تمام وظائف کے بعد یہ کلمات ہر وقت تمہاری بیدار زبان پر رواں رہنے چاہئیں۔ اِس سے باطن محفوظ رہے گا۔”
یہ نصیحت ختم ہوتے ہی ولی کا سراپا اچانک فضا کے نوری پردے میں غائب ہو گیا، اور مومنہ کی آنکھ ایک جھٹکے سے کھل گئی۔
جیسے ہی مومنہ کی آنکھ کھلی، اُسے اپنے مادی وجود میں ایک انتہائی سحر انگیز اور حیرت ناک تبدیلی کا احساس ہوا۔ اُسے صاف محسوس ہوا کہ گویا اُس نے ابھی ابھی جاگنے سے ایک سیکنڈ پہلے سچ مچ کچھ کھایا ہے، اور اُس کے منہ کے اندر مدینے کی تازہ کھجور کا وہ میٹھا اور برکت بھرا ذائقہ مکمل طور پر موجود تھا۔ اُس نے گھبرا کر بیڈ سائیڈ کلاک پر وقت دیکھا تو رات کا آخری تہائی پہر چل رہا تھا۔
یہ وہی نورانی اور مبارک پہر تھا جس کی عظیم فضیلت اور تجلی خود نبی کریم ﷺ نے اپنے فرمان میں بیان فرمائی ہے:
“يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ”
“ہمارا رب ہر رات آخری تہائی حصے میں آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے۔”(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
مومنہ نے اِس غیبی لمس پر خدا کا شکر ادا کیا، بیڈ سے اُٹھی، تازہ وضو کیا، مصلّے پر کھڑے ہو کر نوافلِ تہجد ادا کیے اور عاجزی کی انتہا کرتے ہوئے اپنا سر سجدے میں رکھ کر زار و قطار رونے لگی۔ ابھی وہ سجدے میں ہی تھی کہ اچانک اُسے اپنے بائیں سینے کے اندر، دل کے عین مقام پر ایک تیز اور تڑپاتی ہوئی حرکت محسوس ہوئی، ماضی کی وہ اسمِ ذات کی باطنی تپش اور لو کچھ ماہ کی غفلت کے بعد پھر سے جاگ اُٹھی تھی۔ وہ اور زیادہ گہرائی اور عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہو گئی، اور روتے ہوئے اپنے لرزتے لبوں سے بس ایک ہی الٰہی لفظ دہرانے لگی: “یا اللہ رحم فرما یا ربِ رحیم مجھ گنہگار پر رحم فرما”
پھر وہ باطنی تپش اور نورانی حرارت سینے میں اِس قدر بڑھی کہ پورے کمرے کی فضا پر وجد طاری ہو گیا، اور اُس کے دھڑکتے ہوئے دل کے اندر سے خود بخود بلند اور پُر سوز صدا گونجنے لگی”اللہ ھُو۔۔۔ اللہ ھُو۔۔۔ اللہ ھُو”
مومنہ نے سجدے سے سر اٹھایا اور دیوار سے ٹیک لگا کر مصلّے پر ہی بیٹھ گئی۔ اُس کی مخمور آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک انوکھی لڑی جاری تھی؛ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی گندا آئینہ صاف پانی سے دُھل رہا ہو، اور باطن کا سارا دنیاوی غبار ان پاکیزہ آنسوؤں کے راستے بہہ کر خارج ہو رہا ہو۔
اگلی روشن صبح جیسے ہی سورج طلوع ہوا، مومنہ کے بیدار دل میں ایک شدید تڑپ اٹھی کہ وہ ابھی اِسی وقت دُور دراز پاکستان میں بیٹھے ولی کو کال ملائے۔ اُس نے دراز سے وقار کی دی ہوئی وہ پرچی نکالی، موبائل اٹھایا اور کانپتی انگلیوں سے ولی کا پرسنل نمبر ڈائل کر دیا۔
دوسری طرف دور افتادہ گاؤں میں درویش ولی نے اپنے دیسی چولہے کے پاس بیٹھے ہوئے موبائل پر ایک نامعلوم غیر ملکی (انٹرنیشنل) نمبر چمکتا دیکھ کر نہایت دھیمے سے کال ریسیو کی: “السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ”
“وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ” مومنہ کی لرزتی آواز سپیکر سے ابھری۔
“مومنہ جی کیسی ہیں آپ؟” ولی نے بغیر نام پوچھے مشفقانہ لہجے میں پوچھا۔
مومنہ حیرت سے دنگ رہ گئی: “ولی صاحب کیا۔۔۔ کیا آپ کو اِس بھیڑ میں اب بھی میری یہ گنہگار آواز یاد ہے؟”
ولی کے لبوں پر ایک پُر نور مسکراہٹ بکھر گئی، وہ دھیمے سے بولا: “مومنہ جی ابھی چند گھنٹے پہلے رات کے آخری پہر محفلِ غیب میں تو ہماری تفصیلی گفتگو ہوئی ہے، اتنی جلدی اِس درویش کی آواز کو بھول گئیں کیا؟”
مومنہ اِس باطنی کشف پر مسکرا دی، آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلکے: “ہاں ولی صاحب سچ فرمایا آپ نے، مگر خواب تو آخر خواب ہوتا ہے نا، مادی دنیا تو الگ ہے۔”
“مومنہ جی کیا آپ اِس باطنی سفر کے بعد بھی خواب اور مادی حقیقت کے اِس باریک پردے سے ناآشنا ہیں؟” ولی نے گہرا سوال کیا۔
“میں اب پورے یقین سے تو کچھ نہیں کہہ سکتی، مگر میرے وجود کے ساتھ کچھ تو بہت عجیب اور ماورائی ہو رہا ہے،” مومنہ نے اعتراف کیا۔
“کیا عجیب محسوس ہو رہا ہے آپ کو؟”
“یہی۔۔۔ کہ کائنات کی اِس اتھاہ بھیڑ میں صرف میرے ہی ساتھ قدرت کا یہ پُر اسرار کھیل کیوں کھیلا جا رہا ہے؟”
ولی نے تسبیح کا دانہ گرایا اور تصوف کا ایک بڑا قانون بیان کیا: “مومنہ جی یہ بھی قدرت کا ایک پوشیدہ راز ہے، جو اپنے معین وقت پر آپ کے دل پر کھل جائے گا۔ ابھی کیوں نہیں کھل سکتا؟ کیونکہ اِس کائناتِ الٰہی میں ہر چیز کے ہونے یا نہ ہونے کا ایک خاص اور اٹل وقت مقرر ہے۔ کبھی کوئی مطلوبہ چیز ہماری ظاہری آنکھوں کے بالکل سامنے موجود ہوتی ہے، مگر طلب نہ ہونے کے باعث ہم اِسے پا نہیں سکتے؛ اور کبھی وہ چیز خود چل کر ہمارے پاس آتی ہے اور کہتی ہے ‘مجھے لے لو’ مگر تب تک انسان کے اندر سے اُس مادی چیز کی طلب ہی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔”
ولی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا: “کیا ہم انسان اکثر وقت آنے سے پہلے ہی کسی چیز کو پانے کی اندھی آرزو میں خود کو ہلکان نہیں کرتے؟ اور کیا جب مقدر کا وہ سچا وقت آ جاتا ہے، تو وہ پرانی مادی جستجو خود بخود دل کے اندر دم نہیں توڑ چکی ہوتی؟ اِس کائنات کا اِک اِک ذرہ ایک وقتِ معین پر مقرر ہے؛ بس انسان کے بس میں جو قدرت کی طرف سے صرف ایک فیصد ظاہری اختیار دیا گیا ہے، اُسی اختیار کے استعمال میں وہ مادی جلد بازی کر جاتا ہے یا پھر غفلت کی کوتاہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اِس کے برعکس، سچے طالب کو اِن سب دنیاوی فکروں سے آزاد ہو کر ہر لمحہ صرف اپنے رب کی یاد میں محو رہنا چاہیے، بس”
“جی ٹھیک ہے ولی صاحب میں پورے دل سے اِس صوفیانہ راستے پر چلنے کی کوشش کروں گی،” مومنہ نے عزم کیا۔
“بس مصلّے پر بیٹھ کر وہ قرآنی آیت اور اسمائے الٰہی وردِ زبان رکھنا، غیب کا راستہ خود بخود تمہاری روح پر کھلتا چلا جائے گا، اور اپنے قلب کے اندر اسمِ ذات کا دوام پیدا کرو۔ یاد رکھنا اِس کٹھن راستے پر اب نفس کی طرف سے بے شمار وسوسے اور مادی شکوک آئیں گے، مگر تم نے اِن سب سے منہ موڑ کر صرف اپنے دل کے مقام پر متوجہ رہنا ہے۔”
“جی ان شاء اللہ آپ کی نصیحت پر عمل ہوگا، پھر زندگی رہی تو بات ہوگی، اللہ حافظ” مومنہ نے بڑے ادب سے کہا۔
“اللہ حافظ و ناصر” ولی نے کال بند کر دی۔
کال بند ہوتے ہی ولی نے مصلّے سے اٹھ کر اپنے کچے صحن سے آسمانِ ازل کی طرف ایک گہری نظر اٹھائی، اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے اور نم آنکھوں سے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں التجا کی: “یا اللہ پاک اِس پیاسی روح کو اِس مادی دنیا کے فتنوں میں استقامت نصیب فرما، اور اپنے بندوں کو صراطِ مستقیم دکھا، وہ سیدھا راستہ جس پر تیرے انعام یافتہ اولیاء اور صالحین چلے اور تجھ تک پہنچے، نہ کہ اُن کا راستہ جن پر اِس دنیا میں تیرا غضب نازل ہوا یا جو راستے سے بھٹک کر گمراہ ہو گئے۔ آمین یا رب العالمین”
یہ کائنات کی وہ عظیم الٰہی دعا ہے جو ہر سچا مسلمان اپنی روزمرہ کی نمازوں میں کئی بار اپنے رب کے سامنے دہراتا ہے:
اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
“ہمیں سیدھا راستہ دکھا، اُن لوگوں کا راستہ جن پر تُو نے انعام کیا، نہ کہ اُن کا جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا۔ (سورۃ الفاتحہ: 6-7)
جیسے جیسے امریکہ میں وقت گزرتا گیا، مومنہ کی مادی زندگی میں ایک حیرت انگیز انقلاب برپا ہوتا چلا گیا۔ امریکہ میں مقیم اُس کے بزنس مین والدین اور دونوں بھائیوں نے بھی اب شدت سے یہ بات محسوس کر لی تھی کہ اُن کی چہکتی ہوئی ماڈرن مومنہ اب یکسر بدل چکی ہے۔ نہ وہ اب کسی ہائی پروفائل پارٹی میں جاتی تھی، نہ اِسے برانڈڈ فیشن کا کوئی شوق باقی رہا تھا، اور نہ ہی مہنگے ہوٹلوں کے کھانے پینے کی کوئی طلب تھی؛ وہ تو بس اپنے کمرے کی ایک زاہدہ بن چکی تھی۔
ایک شب، امریکہ کے ایک عالی شان ڈائننگ ہال میں کھانے کی میز پر فیملی کے تمام ممبران جمع تھے، اور آج کی گفتگو کا اصل موضوعِ بحث مومنہ کی یہی خاموشی تھی۔
والد نے بڑے پیار سے مومنہ کا نرم ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے پوچھا: “بیٹا مومنہ کیا کوئی ذہنی پریشانی یا کوئی تکلیف ہے ہماری لاڈلی بیٹی کو؟ ہم سے شیئر کرو۔”
“نہیں تو میرے پیارے بابا میں ظاہری اور باطنی طور پر بالکل ٹھیک ہوں، مجھے کوئی تکلیف نہیں،” مومنہ نے عاجزی سے جواب دیا۔
“پھر بھی بتاؤ بیٹا تم پہلے جیسی ہنستی کھیلتی لڑکی نہیں رہی، تم ہر وقت چپ چاپ اور گم سم رہتی ہو، یہ ہم سب کئی ہفتوں سے نوٹ کر رہے ہیں،” والد کے لہجے میں فکر تھی۔
مومنہ نے ایک گہرا سانس لیا اور صوفیانہ لہجے میں جواب دیا: “بابا جان ایسی کوئی مادی بات نہیں ہے۔ بس میرا دل اب اِس کھوکھلی دنیا کی رنگینیوں سے یکسر اُکتا چکا ہے۔ اِس مادی شہر کے لوگ چہروں پر کئی بناوٹیں اور جھوٹے مکھوٹے سجائے پھر رہے ہیں۔ اِس ظاہری چمک دمک کے پیچھے سب جھوٹ ہے بابا۔۔۔ سب فریب ہے”
والدہ نے تشویش اور گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا: “بیٹی سچ بتاؤ، کیا امریکہ میں یا یونیورسٹی میں کسی نے تم سے کچھ غلط کہا ہے؟”
“نہیں امی جان مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا۔ بس اب مجھے اکیلے میں اپنے اللہ کی یاد میں رہنا اور مصلّے پر بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ امی میرا دل اب اِس دیارِ غیر میں بالکل نہیں لگتا، میں واپس اپنے وطن پاکستان جانا چاہتی ہوں، اور میرا دل کہتا ہے میں اب ہمیشہ کے لیے وہیں اپنے وطن میں رہوں۔”
والدہ نے مسکرا کر ایک چور نظر بیگماتی انداز میں شوہر پر ڈالی اور پوچھا: “بیٹا یہ سادگی کی باتیں۔۔۔ کہیں تمہیں پاکستان کے سفر کے دوران کسی سے سچا پیار تو نہیں ہو گیا؟”
مومنہ کے چہرے پر حیا کا ایک سرخ گلاب کھل اٹھا، وہ نم آنکھوں سے بولی: “ہاں امی جان وہ سچا پیار تو مجھے ہو گیا ہے۔۔۔ مگر کسی فانی انسان سے نہیں، بلکہ اپنے مالِکِ حقیقی، اپنے رب سے اب بس اُسی واحد ذات کو پانے کی سچی جستجو ہے۔”
کھانے کے اِس پُر اسرار اختتام کے بعد مومنہ بڑے ادب سے اجازت لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی، جبکہ فیملی کے باقی تمام ممبران وہیں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے رہ گئے۔ سب کا مادی خیال یہی تھا کہ لڑکی جوان ہے، شاید پاکستان میں کسی لڑکے کے سحر میں ہے، اِس لیے اِس کی جلد از جلد شادی کر دینی چاہیے تاکہ یہ سادگی کا بھوت اترے۔
والد نے بیگم سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا: “تم ماں ہو اِس کی، تنہائی میں ایک بار کھل کر پوچھ لو؛ اگر پاکستان میں اِسے کوئی لڑکا پسند ہے تو ہم اِس کی شادی وہیں کر دیں گے۔ شاید ہمارے سامنے بتانے سے شرما گئی ہو۔”
کچھ ہی دیر بعد، مومنہ کی امی اِسی ارادے سے خاموشی کے ساتھ اُس کے بیڈ روم میں داخل ہوئیں۔
“امی جان خیریت سے اِس وقت میرے کمرے میں آنا ہوا؟” مومنہ نے قرآنِ پاک بند کرتے ہوئے پوچھا۔
“بس میری پیاری بیٹی ایسے ہی دل چاہا کہ اپنی لاڈلی کے پاس بیٹھ کر کچھ وقت گزار لوں،” امی نے پیار سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“جی امی جان ضرور بیٹھیے، اِس سے بڑی خوشی کیا ہوگی،” مومنہ نے جگہ بنائی۔
“تو بیٹا مومنہ تم اپنے مستقبل کے بارے میں آج کل کیا سوچ رہی ہو؟” امی نے اصل موضوع کا تانا بانا بنا۔
“امی کچھ بھی تو نہیں سوچ رہی، سب کچھ اُسی مالک کے حوالے ہے۔”
“بیٹا کیا پاکستان میں تمہیں کوئی لڑکا پسند ہے کیا؟” امی نے سیدھا سوال داغ دیا۔
مومنہ نے مسکرا کر امی کا ہاتھ چوما: “تو امی جان کیا آپ اِس وقت میرے کمرے میں اِسی لیے آئی ہیں کہ اِس بہانے میرے دل کا باطنی حال جان سکیں؟”
“جی میرے بچے ماں ہوں تمہاری، اِتنی بڑی تبدیلی کے بعد تمہارا یہ درد تو سمجھ سکتی ہوں،” امی نے اقرار کیا۔
“امی خدا کی قسم ایسی کوئی دنیاوی بات نہیں ہے؛ اگر زندگی میں کبھی کوئی ایسا موڑ آیا تو میں سب سے پہلے اپنی ماں کو بتاؤں گی،” مومنہ نے تسلی دی۔
“بیٹا تمہارے پاپا اِس بار تمہاری شادی کی بات کر رہے تھے،” امی نے فائنل پتا کھیلا۔
مومنہ نے حیرت سے امی کو دیکھا اور دوٹوک لہجے میں بولی: “امی جان یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ مجھے ابھی کوئی شادی نہیں کرنی، میری منزل کچھ اور ہے۔”
“مگر بیٹا ایک نہ ایک دن تو تمہیں اپنا گھر بسانا ہی ہے۔”
“امی جب قدرت کی طرف سے وہ مقدر وقت ابھی آیا ہی نہیں، تو اُس وقت کے آنے سے پہلے اِس دنیاوی وقت کا سوچ کر اپنے آج کو کیوں برباد کرنا؟” یہ گہرا جملہ کہتے ہوئے مومنہ کے ذہن کے پردے پر درویش ولی کی وہی ٹیلیفون پر کہی ہوئی بات گونج اٹھی۔
‘ہر چیز کا ایک وقتِ معین مقرر ہے’
“اچھا ٹھیک ہے بابا اب تم زیادہ بحث نہ کرو اور آرام سے سو جاؤ،” امی نے ہار مانتے ہوئے کہا۔
“امی جان میں واقعی بہت جلد پاکستان جانا چاہتی ہوں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم سب اپنا بزنس وہیں شفٹ کر لیں اور اپنے ملک چلے جائیں؟” مومنہ نے التجا کی۔
“بیٹا یہاں امریکہ میں پاپا کا اربوں کا کاروبار سیٹ ہے، ہم سب یکدم اِتنی جلدی کیسے وہاں جا سکتے ہیں؟” امی نے مجبوری بتائی۔
“تو پھر امی آپ پاپا سے کہہ کر صرف مجھے ہی پاکستان جانے کی اجازت دے دیں۔ میرا دل اب اِس کفر کے دیار میں بالکل نہیں لگتا۔ میں ممی پاپا سے ملنے کبھی کبھی یہاں امریکہ آ جایا کروں گی، مگر اب میں اپنا زیادہ تر وقت اپنے ہی ملک کی مٹی میں گزارنا چاہتی ہوں،” مومنہ نے فائنل خواہش رکھی۔
“ٹھیک ہے میری جان میں تمہارے پاپا سے اِس بارے میں بات کروں گی،” امی نے محبت سے چوما اور کمرے سے باہر چلی گئیں.
کچھ دن اِسی انتظار اور دعاؤں میں گزر گئے، اور آخر کار ایک مبارک صبح مومنہ کو پاپا کی طرف سے وہ گرین سگنل مل گیا کہ وہ اپنی تسکین کے لیے پاکستان جا سکتی ہے اور اسلام آباد والے بنگلے میں رہ سکتی ہے۔ مومنہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، اُس کا دل شکرِ الٰہی سے لبریز ہو گیا. اُسی وقت اُس نے خوشی کے عالم میں پاکستان کا نمبر ملایا اور اپنی کزن ‘ندا’ کو کال کر کے یہ مژدہ سنایا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے واپس پاکستان شفٹ ہو رہی ہے۔
ندا کو فون پر یہ حیرت انگیز اور غیبی خبر سن کر بے حد دلی خوشی ہوئی، اور وہ بے صبری کے ساتھ ائیرپورٹ پر اُس مبارک گھڑی کا انتظار کرنے لگی جب دونوں روحیں دوبارہ ملیں گی۔
(جاری ہے۔۔۔)
جب انسان کا دل ایک بار اپنے سچے رب کی محبت کے الٰہی رنگ میں کامل طور پر رنگ جائے، تو دنیا کی بڑی سے بڑی مادی رونق اور محلوں کی عیش و عشرت بھی روح کے لیے پھیکی اور لغو محسوس ہونے لگتی ہے۔
یہی وہ مبارک الٰہی نشانی ہے جسے اہلِ تصوف اور سالکینِ طریقت “ذوقِ فراق” یا “ہجرتِ عشق” کہتے ہیں، جو دراصل حقیقتِ اولیٰ کے وصال کی طرف بندے کا پہلا اور سب سے سچا قدم ہوتا ہے۔
#Khaak_e_rawan #چراغـدل
![]()

