کیا شہد کی مکھی کے پاس کوئی جینیاتی GPS موجود ہے؟
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کیا شہد کی مکھی کے پاس کوئی جینیاتی جی پی ایس موجود ہے؟۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)اگر میں آپ سے کہوں کہ اپنے گھر سے چند کلومیٹر دور کسی گھنے جنگل میں جائیں، وہاں سے ایک خاص پھول کا رس چوسیں اور بغیر کسی نقشے، سمارٹ فون یا راستے کے نشانات کے، بالکل سیدھے اپنے گھر واپس پہنچ جائیں۔۔۔ تو کیا آپ ایسا کر پائیں گے؟ شاید نہیں! لیکن ہمارے ماحول میں اڑنے والا ایک چھوٹا سا وجود روزانہ یہ پیچیدہ سفر نہ صرف خود طے کرتا ہے، بلکہ واپس آکر اپنی ساتھی مکھیوں کو اس کا درست پتہ بھی بتاتا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ جدید سائنس شہد کی مکھی کے اس حیرت انگیز نیویگیشن سسٹم (راستہ تلاش کرنے کے نظام) کے بارے میں کیا کہتی ہے۔
سفر کی شروعات اور سورج کا کمپاس
جرمن ماہرِ حیاتیات کارل وان فرش (Karl von Frisch) — جنہیں اس تحقیق پر نوبل انعام سے نوازا گیا — اور ان کے بعد ہونے والی جدید ریسرچ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھی سفر کے لیے “سورج” کو اپنا بنیادی کمپاس (Compass) بناتی ہے۔ اب یہاں ایک سائنسی الجھن پیدا ہوتی ہے: سورج تو ہر لمحہ اپنی جگہ بدل رہا ہوتا ہے، پھر مکھی کا حساب کیسے درست رہتا ہے؟
سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ مکھی کے چھوٹے سے دماغ میں ایک اندرونی “حیاتیاتی گھڑی” (Circadian Clock) ہوتی ہے۔ یہ گھڑی اڑان کے دوران سورج کی بدلتی ہوئی پوزیشن کا حساب لگاتی رہتی ہے۔ اگر آسمان پر بادل بھی آ جائیں، تب بھی مکھی کی مرکب آنکھیں (Compound Eyes) سورج سے نکلنے والی پولرائزڈ لائٹ (Polarized Light) کو دیکھ سکتی ہیں، جس سے اسے سمت کا بالکل درست اندازہ رہتا ہے۔
مقناطیسی نیویگیشن اور مائیکرو اسکوپک کمپاس
ناسا اور دیگر سائنسی اداروں کی ہنی بی ریسرچ کے مطابق، جب آسمان مکمل طور پر تاریک ہو جائے یا بادل بہت گہرے ہوں، تو مکھیاں زمین کی مقناطیسی لہروں (Earth’s Magnetic Field) کا استعمال کرتی ہیں۔ مکھیوں کے پیٹ (Abdomen) کے حصے میں لوہے کے مائیکرو اسکوپک ذرات (Magnetite) پائے جاتے ہیں، جو ایک قدرتی مقناطیسی کمپاس کا کام کرتے ہیں اور انہیں زمین کے مقناطیسی خطوط کے مطابق راستہ تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
“ویگل ڈانس” (Waggle Dance): مکھیوں کی اپنی گوگل میپ
جب کوئی مکھی چھتے سے دو یا تین کلومیٹر دور رس کا کوئی بڑا ذخیرہ تلاش کر لیتی ہے، تو وہ چھتے میں واپس آ کر اپنی ساتھی مکھیوں کو ایک خاص انداز میں ہل کر بتاتی ہے، جسے سائنس کی زبان میں “ویگل ڈانس” کہا جاتا ہے۔
یہ صرف کوئی رقص نہیں بلکہ ایک ریاضیاتی کوڈ (Mathematical Code) ہے۔ مکھی چھتے کی دیوار پر جس زاویے (Angle) سے گھومتی ہے، وہ سورج کے مقابلے میں اس پھول کی درست سمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اور وہ جتنی دیر تک اپنے پیٹ کو ہلاتی ہے، وہ اس فاصلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یوں باقی مکھیاں اس لائیو لوکیشن (Live Location) کو سمجھ کر بغیر وقت ضائع کیے سیدھی اسی جگہ پہنچ جاتی ہیں۔
قرآن ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
جدید سائنس کی یہ حیرت انگیز دریافتیں ایک مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور حکمت پر تدبر کا ایک خوبصورت موقع فراہم کرتی ہیں۔ چودہ سو سال پہلے قرآن مجید نے سورہ النحل میں اس چھوٹے سے جاندار کو ملنے والی جینیاتی پروگرامنگ کو “وحی” (الہام) سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا:
وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ ﴿٦٨﴾ ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ﴿٦٩﴾
“اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی (الہام کر دیا) کہ پہاڑوں میں، اور درختوں میں اور لوگوں کی بنائی ہوئی چھتوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا۔ پھر ہر قسم کے پھلوں سے رس چوس اور اپنے رب کے بنائے ہوئے آسان راستوں پر چلتی رہ۔” (سورہ النحل: 68-69)
غور کیجیے، جہاں جدید سائنس مکھی کے دماغ میں موجود جینیاتی الگورتھم اور نیویگیشن سسٹمز کو دیکھ کر حیران ہے، وہیں قرآن ہمیں اس کے پیچھے موجود حقیقی محرک یعنی “رب کے سکھائے ہوئے راستوں” کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ سائنسی بائیولوجی دراصل خالقِ کائنات کی اسی تکوینی رہنمائی کا مادی مظہر ہے، جو اس نے اس ننھی سی جان کو ودیعت فرمائی ہے۔
حاصلِ کلام
شہد کی مکھی کا میلوں دور جا کر اپنے چھتے کا راستہ نہ بھولنا، سورج کی پوزیشن اور زمین کی مقناطیسی لہروں کا حساب رکھنا کوئی اتفاقیہ ارتقاء نہیں ہو سکتا۔ یہ کائنات کے عظیم ڈیزائنر کی دیانتدارانہ انجینئرنگ کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ عقل اور مشاہدے کے ذریعے اپنے رب کی معرفت حاصل کرے۔
#سائنس #تحقیق #شہد_کی_مکھی #نیویگیشن #سائنس_اور_قرآن
حوالہ جات:
Nature Journal (Studies on Bee Navigation & Circadian Clock)
Karl von Frisch (The Dance Language and Orientation of Bees)
NASA Ames Research Center (Insect Navigation Studies)
National Geographic (How Bees Use Magnetic Fields)
سورۃ النحل: 68-69
![]()

