ہالینڈ کی ڈائری۔
تحریر۔۔ راجہ فاروق حیدر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ ہالینڈ کی ڈائری۔۔۔ تحریر۔۔ راجہ فاروق حیدر)
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئ
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
گذشتہ روز دی ہیگ میں عرصہ دراز سے مقیم تحریک منہاج القران ہالینڈ کے دیرینہ متحرک راہنما سماجی شخصیت امانت علی چوہان کے جواں سال فرزند ذیشان علی چوہان اچانک انتقال کر گۓ اس المناک موت سے پاکستانی کمیونٹی میں سوگ کی فضا چھا گئ مرحوم ذیشان علی دنیاوی تعلیم کے علاوہ قران پاک کا بہترین قرات کرنے والا قاری اور نعت رسول پڑھنے والا عاشق رسول تھا منہاج القران دی ہیگ سے تربیت یافتہ تھا اور پاک ڈچ کمیونٹی میں نہایت ہر دلعزیز تھا علامہ حافظ نذیر احمد قادری سفیر منہاج القران براۓ یورپ کی اقتداء میں منہاج القران دی ہیگ کے مرکز میں ادا کی گئ جنازے میں ہالینڈ کے تمام شہروں میں بسنے والے سینکڑوں پاکستانیوں نے شرکت کی اس موقعہ پر علامہ افتخار علی چشتی علامہ یاسر نسیم علامہ احمد رضا قادری قا ری عبد الصمد نے موت و حیات کے فلسفے پر خطاب کیا اور امانت علی چوہان سے ان کے جواں سال بیٹے ذیشان علی کی المناک موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور دعاۓ مغفرت کی غوثیہ مسجد کے خطیب مولانا سید افتخار حسین شاہ نے مرحوم کے لئیے خصوصی دعا کرائ
۔13 جولائ سوموار کو دی ہیگ کے مقامی قبرستان میں سنکڑوں پاکستانیوں کی موجودگی رقت امیز مناظر میں مرحوم کی تدفین کی گئ اس موقع پر شاہی خاندان کے پرنس پرنسس اور دیگر سفید فام لوگوں کی بھی کثیر تعداد موجود تھی مرحوم شاہی خاندان کے ساتھ بسلسلہ ملازمت منسلک تھا اور اپنے اچھے اخلاق کارکردگی کی وجہ سے بڑا ہر دلعزیز تھا ان لوگوں نے ذیشان علی کے والدین سے گہرے غم کا اظہار کرتے تعزیت کی انھوں نے اس موقعہ پر پاک ڈچ کمیونٹی کی اتنی کثیر تعداد دیکھ کر تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کی آپس میں اتحاد محبت دیکھ کر ہمیں بہت خوشی ہوئ وہ خود بھی سخت گرمی کے باوجود قبرستان میں موجود رہے بلا مبالغہ یہ بات قابل تحسین ہے کہ ہماری کمیونٹی نے اس دکھ کو اپنا دکھ سمجھا ہر آنکھ پرنم تھی
۔14 جولائ بروزمنگل منہاج القران میں رسم کل ادا کی گئ اس موقع پر بھی منہاج القران دی ہیگ میں پاکستانیوں کا جم غفیر تھا مردوں اور خواتین کی کثیر تعداد جبکہ فرینڈز آف روشنی فورم کے اراکین بھی متاثرہ غم ذرہ خاندان سے تعزیت کے لئیے موجود تھے۔ علامہ یاسر نسیم علامہ احمد رضا قاری عبد الصمد نے خطاب کیا جبکہ مرحوم کے والد امانت علی چوہان نے بڑی رقت امیز لہجے میں پاکستانی کمیونٹی سے اظہار تشکر کیا چوہدری محمد سعید مہر اور بلبل باغ رسالت حاجی محمد صادق بٹ نے نعتیہ کلام پیش کیا تقریب حسینی مشن نیدرلینڈز کے خطیب مولا نا سید اسرار حسین حسنی نے بھی شرکت کی اور گہرے غم کا اظہار کیا
جواں سال بیٹے کی اچانک موت والدین کے لئیے بہت بڑا صدمہ ہے ایسے زخم زندگی میں کبھی مندمل نہیں ہوتے واقعہ کربلا ایسے مواقعوں پر ایک ڈھارس ہے جو کہ غم کی شدت کی دوا ہے حضرت امام حسین علیہ سلام جب اپنے جواں سال کڑیل نوجوان شہزادہ علی اکبر کی میت پر کہنیوں کے بل جارہے تھے تو فرما رہے تھے علی اکبر بیٹا مجھے کچھ نظر نہیں آرہا تم کہاں ہو دعاہے کہ اللہ پاک نبی کریم اور اپنی اہل بیت کے صدقے مرحوم کے درجات بلند کرے والدین دیگر عزیزو اقرب کو صبر دے
![]()








