360 زندہ درگور ہونے والی لڑکیوں کو پالنے والے
حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ در رسول الله ﷺ❤️
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخِ انسانیت میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو اندھیروں کے دور میں روشنی کی کرن بن کر ابھرتے ہیں۔ عرب کے دورِ جاہلیت کا زمانہ بھی ایک ایسا ہی دور تھا جہاں انسانی اقدار شدید زوال کا شکار تھیں، خصوصاً بیٹی کی پیدائش کو عار سمجھا جاتا تھا اور بعض قبائل میں زندہ درگور کرنے جیسی سنگ دل رسم عام تھی۔ ایسے سفاک ماحول میں ایک شخصیت نے انسانیت، رحم دلی اور غیر معمولی جرأت کی مثال قائم کی، وہ شخصیت ہیں حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرت صعصعہ بن ناجیہؓ جب دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے اور ایمان کی دولت سے سرفراز ہوئے تو ان کے دل میں ایک سوال تھا، ایک ایسا سوال جو ان کے ماضی اور ان کے اعمال سے جڑا ہوا تھا۔ انہوں نے ادب سے عرض کیا: “یا رسول اللہ ﷺ! کیا جاہلیت کے دور میں کی گئی نیکیوں کا بھی اجر ملے گا؟” نبی کریم ﷺ نے شفقت سے فرمایا: “بتاؤ تم نے کیا نیکی کی ہے؟”
تب حضرت صعصعہؓ نے ایک واقعہ بیان کیا جو سننے والوں کے دلوں کو ہلا دینے والا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ان کے دو اونٹ گم ہو گئے، جنہیں تلاش کرتے کرتے وہ ایک دور دراز آبادی میں جا پہنچے۔ وہاں ایک بوڑھے شخص سے ملاقات ہوئی جس کے پاس ان کے اونٹ موجود تھے۔ اسی دوران ایک بچے کے رونے کی آواز آئی۔ جب انہوں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ بچی پیدا ہوئی ہے، اور وہ شخص اسے زندہ دفن کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ بیٹی کو وہ اپنی بے عزتی سمجھتا تھا۔
یہ سن کر حضرت صعصعہؓ کا دل تڑپ اٹھا۔ انہوں نے فوراً اس شخص کو پیشکش کی کہ وہ اس بچی کو انہیں دے دے، اور بدلے میں وہ اسے اپنے اونٹ دے دیں گے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے تین اونٹ دے کر اس معصوم بچی کی جان بچائی۔ وہ بچی ان کے گھر آئی، ان کی پرورش میں پلی، اور ان کے دل میں ایسی محبت پیدا ہوئی کہ وہ اس نیکی کے عادی ہو گئے۔
اس کے بعد حضرت صعصعہؓ نے اپنا مشن بنا لیا کہ جہاں کہیں بھی بچیوں کو زندہ دفن کیا جا رہا ہو، وہ انہیں بچائیں گے۔ وہ تین اونٹ دے کر ایک بچی کو خرید لیتے اور یوں انہوں نے 360 بچیوں کی جان بچائی۔ ان کی حویلی ان معصوم جانوں سے آباد ہو گئی، اور وہ سب ان کے لیے رحمت کا ذریعہ بن گئیں۔
جب انہوں نے یہ سارا واقعہ نبی کریم ﷺ کو سنایا تو آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، اور آپ ﷺ نے انہیں اپنے سینے سے لگا لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “تمہیں اس کا اجر مل چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان کی دولت عطا فرما دی ہے، اور قیامت کے دن تمہارے لیے مزید خزانے کھولے جائیں گے۔”
یہ واقعہ صرف ایک انسان کی نیکی کا قصہ نہیں بلکہ اسلام کی تعلیمات کا عملی نمونہ ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جس کا تصور بھی جاہلیت کے زمانے میں ممکن نہ تھا۔ بیٹی کو رحمت قرار دیا، اس کی پرورش کو جنت کا ذریعہ بنایا، اور اس کے حقوق کو واضح کیا۔
حضرت صعصعہؓ کے اس عظیم عمل کا ذکر ان کے پوتے، مشہور شاعر فرزدق نے اپنے اشعار میں بھی فخر کے ساتھ کیا: “میرے دادا وہ ہیں جو زندہ درگور ہونے والی بچیوں کو بچا لیتے تھے۔”
یہ داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک انسان بھی معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، اگر اس کے دل میں رحم، ہمدردی اور حق کا جذبہ ہو۔ حضرت صعصعہؓ کا کردار اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلام نے نہ صرف عورت کو عزت دی بلکہ ایسے لوگوں کو بھی سراہا جنہوں نے انسانیت کے لیے قربانیاں دیں۔
کروڑوں درود وسلام ہو حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر
اگر آپ کو ہماری پوسٹ پسند آئی ہو تو لائک ضرور کریں، اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید خوبصورت مواد کے لیے ہمارا پیج فالو کرنا نہ بھولیں۔
#Islam #Seerat #Sahaba #Humanity #WomenRights #History #IslamicStories #Mercy #Faith
![]()

