غزل
شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اظہر ناطر
آج بھی تیری خبر رکھتا ہُوں
یہ محبت نہیں تو اور کیا ہے
دِل کی حسرت نہیں تو اور کیا ہے
یہ حقیقت نہیں تو اور کیا ہے
آج بھی تیری خبر رکھتا ہُوں
یہ محبت نہیں تو اور کیا ہے
کرتا ہُوں میں تو پرستش تیری
یہ عبادت نہیں تو اور کیا ہے
جھُکی جاتی ہیں یہ آنکھیں میری
دیکھا ہے مُبتلا کو اپنے بھی
یہ عنایت نہیں تو اور کیا ہے
یہ عقیدت نہیں تو اور کیا ہے
دیکھتے غیر کو چاہت سے ہو
یہ رقابت نہیں تو اور کیا ہے
کتنے چہروں پہ گُماں ہے تیرا
یہ شباہت نہیں تو اور کیا ہے
دیکھنا آپ کا چھُپ چھُپ کے ہمیں
یہ شرارت نہیں تو اور کیا ہے
غیر کی ہے جو دلالت ہم سے
یہ حمایت نہیں تو اور کیا ہے
آپ کی ہی جھُکی سی پھر نظریں
یہ اجازت نہیں تو اور کیا ہے
نظریں برسا رہی ہیں شُعلے آج
یہ شکایت نہیں تو اور کیا ہے
نہیں بے کس کو یاں جینے کا حق
یہ حقیقت نہیں تو اور کیا ہے
اپنی بولی سے ہی اتنی نفرت
یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے
اظہر ناظؔر
🍂🍁
#Azharnaazirurdupoetry
#Rakhtesafar2024
#Harfetaaza2026
#urdunagarpoetryhub
![]()

