Daily Roshni News

عشقِ حقیقی کی لافانی منزل

عشقِ حقیقی کی لافانی منزل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)[ سچے یار دی یاری اندر، ہو گئے مست الستے

[ عشق دے ناویں لگ گئے سارے، کئی سچ چل سرمستے

​عشق جب اپنی انتہا کو چھوتا ہے تو انسان دنیاوی ہوش و ہواس سے بے نیاز ہو کر اپنے اصل مرکز یعنی ربِ کریم کی یاد میں کھو جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں روح ‘الست’ کے اس عہد کی خوشبو محسوس کرتی ہے جو روزِ اول سے ہمارے خمیر میں شامل ہے۔ سچی یاری وہی ہے جو بندے کو خود سے نکال کر خدا تک پہنچا دے۔ جو مسافر اس سچائی کی راہ پر چل پڑتے ہیں، وہ پھر کسی مادی لذت کے محتاج نہیں رہتے بلکہ وہ رب کی رضا میں ایسے مست ہوتے ہیں کہ کائنات کی ہر شے انہیں اسی کے نور کا عکس نظر آتی ہے۔

​[ شاہ حسین دی کافی اندر، عشق دھمالاں پاوے۔

[ میں تے تو دا فرق مٹا کے، پیار امر ہو جاوے

​حضرت شاہ حسین صاحب کے کلام کی تاثیر دلوں میں ایک وجد برپا کر دیتی ہے۔ یہ وہ عشق ہے جو دل کے صحن میں محبت کی دھمال ڈالتا ہے اور انسان کو انا کے بت توڑنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جب تک انسان ‘میں’ اور ‘تو’ کے چکر میں الجھا رہتا ہے، وہ حقیقت سے دور ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ فرق مٹ جاتا ہے اور بندہ اپنی ہستی کو محبوب کی مرضی میں فنا کر دیتا ہے، تو اس کی محبت کو دوام حاصل ہو جاتا ہے۔ فنا میں ہی بقا کا راز چھپا ہے، اور یہی وہ پیار ہے جو کبھی نہیں مرتا۔

​[ اس دے ناں دے شجرے گاون، گا عنیتا رج کے

[ اک دن وینڑا تو وی قبریں، سیں جانڑا مونہ کج کے

​اے انسان! اس عارضی دنیا کی رنگینیوں میں گم ہونے کے بجائے اس پاک ذات کے گیت گا اور اسی کے نام کی مالا جپ، کیونکہ سکون صرف اسی کے ذکر میں ہے۔ اپنی روح کو اس کی یاد سے سیراب کر، اس سے پہلے کہ وقت کا پرندہ اڑ جائے۔ یاد رکھ کہ یہ زندگی ایک سرائے کی مانند ہے اور ہم سب یہاں مسافر ہیں۔ ایک دن موت کی آغوش میں جانا برحق ہے جہاں انسان اکیلا ہوگا اور مٹی اس کا اوڑھنا بچھونا ہوگی۔ خوش نصیب وہی ہے جو اس سفر پر جانے سے پہلے اپنے دامن میں سچی محبت اور نیک اعمال کا نور سمیٹ لیتا ہے۔

Loading