کسی کی زندگی کی ایک پراسرار آپ بیتی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میرا نام سرفراز احمد ہے۔ اس وقت میری عمر تقریباً ستر سال ہے اور میں نارتھ ناظم آباد میں رہائش پذیر ہوں۔ یہ میری زندگی کا ایک سچا واقعہ ہے، جو آج سے تقریباً تیس سے پینتیس سال پرانا ہے۔
ان دنوں ہم لوگ ماڈل کالونی، کراچی میں رہتے تھے۔ ہمارے گھر کا نام “کاشانہ” تھا۔ اس زمانے میں ماڈل کالونی کی آبادی نہ ہونے کے برابر تھی، اردگرد سنسانی اور ویرانی کا ماحول تھا۔ ہمارا گھر بہت بڑا اور کافی پرانا تھا، تقریباً ایک ہزار گز پر مشتمل۔ اس میں سے آدھا حصہ، یعنی لگ بھگ پانچ سو گز، گھنے درختوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہاں برگد، نیم، املی اور کئی پھلدار درخت موجود تھے۔
ان درختوں کے درمیان ایک بڑی سی چارپائی کو جھولے کی طرح باندھا گیا تھا، جو ایک مضبوط درخت کی شاخوں پر لٹکی ہوئی تھی۔ بارش کے دنوں میں ہم سب بچے اس پر جھولا جھولتے اور بہت لطف اندوز ہوتے۔ لیکن مجھے اس جگہ سے ایک عجیب سی محبت تھی۔ میں اکثر دوپہر کے وقت، چاہے سردی ہو، گرمی یا برسات، اسکول سے آ کر اسی چارپائی پر جا کر سوتا تھا۔ حالانکہ میری والدہ بہت سخت مزاج تھیں اور باہر سونے سے منع کرتی تھیں، مگر مجھے سکون وہیں ملتا تھا۔
اس وقت میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا، مگر پڑھائی میں خاصا کمزور تھا۔
ایک دن کی بات ہے، سخت گرمی کی دوپہر تھی۔ میں اسکول سے واپس آیا، کھانا کھایا اور حسبِ معمول اپنی پسندیدہ جگہ، یعنی اس درخت کے نیچے بندھی چارپائی پر جا کر لیٹ گیا۔ میں ابھی نیم خواب اور بیداری کی کیفیت میں تھا کہ اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی میرے کان میں آہستہ سے سرگوشی کر رہا ہو:
“تم درخت پر آ جاؤ… وہاں تمہیں اور زیادہ سکون ملے گا…”
میں نے پہلے تو اسے وہم سمجھا، مگر جب یہ آواز بار بار سنائی دی تو میں بے اختیار اٹھا اور درخت پر چڑھ گیا۔ وہاں دو مضبوط شاخوں کے درمیان اس طرح لیٹ گیا جیسے کسی نے آرام دہ بستر لگا دیا ہو۔
اس دن کے بعد مجھے درخت پر سونا اور بھی اچھا لگنے لگا۔ اب تو حال یہ ہو گیا تھا کہ جیسے ہی اسکول سے واپس آتا، سیدھا دوڑ کر درخت پر چڑھ جاتا اور وہیں سو جاتا۔
پھر ایک دن عجیب واقعہ پیش آیا۔
میں درخت پر سو رہا تھا کہ اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے میرے سرہانے کوئی آہستہ آہستہ رو رہا ہو۔ وہ آواز بہت دھیمی اور اداس تھی، جیسے کسی عورت کی سسکیوں کی آواز ہو۔ میں نے اس بات پر زیادہ توجہ نہ دی اور اسے اپنی تھکن یا وہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
شام ہونے پر میں درخت سے اترا اور ٹیوشن پڑھنے چلا گیا۔ لیکن واپسی کے دوران بار بار مجھے وہی دھیمی آواز سنائی دینے لگی۔ اس بار وہ صاف طور پر ایک عورت کی آواز تھی، جو کہہ رہی تھی:
“آج رات درخت پر ضرور آنا…”
رات کو میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا کہ تقریباً دو بجے کے قریب، وہی آواز ایک بار پھر سنائی دینے لگی…
میں جلدی سے اٹھا اور خاموشی کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھا۔ باہر جانے والے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا اور اس کی چابی اماں کے پاس تھی۔ مگر جیسے ہی میں نے تالے کو ہاتھ لگایا، وہ خود بخود کھل گیا۔ یہ دیکھ کر میں بغیر کچھ سوچے سیدھا درخت کی طرف گیا اور اپنی پسندیدہ جگہ پر جا کر سو گیا۔
صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں اپنے بستر پر تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ لیکن رات کا سارا واقعہ مجھے واضح طور پر یاد تھا۔
یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا۔ اب تو میں دن کے بجائے رات کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا تھا۔ ایک عجیب سی کشش مجھے ہر رات اس درخت کی طرف کھینچتی تھی۔
یہاں ایک بات بتانا ضروری ہے کہ رات کے وقت اس جگہ پر شدید اندھیرا ہوتا تھا، اتنا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا۔ مگر میرے لیے وہی جگہ ایسے روشن ہو جاتی جیسے دن نکلا ہو۔ میں سب کچھ صاف صاف دیکھ سکتا تھا۔
ایک رات جب میں درخت پر لیٹا ہوا تھا، تو مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی نہایت نرمی سے میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا ہو۔ اس لمس میں ایک عجیب سا سکون بھی تھا اور ہلکی سی خوف کی لہر بھی۔
دن گزرتے گئے اور میرا حال بدلتا گیا۔ پڑھائی سے میرا دل مکمل طور پر اٹھ چکا تھا۔ ہر وقت بس یہی خیال رہتا کہ کب رات ہو اور میں درخت کے پاس جاؤں۔ میری طبیعت میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔
ایک رات جب میں حسبِ معمول درخت کی طرف جانے کے لیے اٹھا، تو میرے بڑے بھائی کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے مجھے چپکے سے باہر نکلتے دیکھ لیا اور فوراً شور مچا دیا۔ پورا گھر جاگ گیا اور سب لوگ میرے پیچھے بھاگے۔
مگر اس وقت میری رفتار غیر معمولی تھی۔ میں اتنی تیزی سے درخت پر چڑھ گیا کہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
درخت پر پہنچ کر میں نے نیچے دیکھا۔ میرے گھر والے بے حد پریشان کھڑے تھے، مجھے ڈھونڈ رہے تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ میں انہیں صاف صاف دیکھ سکتا تھا، مگر وہ مجھے نہیں دیکھ پا رہے تھے۔
پوری رات وہ لوگ پریشانی میں مبتلا رہے، جبکہ میں درخت پر بے فکر ہو کر سوتا رہا۔
اگلی صبح جب میں واپس آیا تو سب نے مجھے گھیر لیا اور بار بار پوچھنے لگے کہ میں رات کو کہاں تھا۔ مگر میں نے لاعلمی ظاہر کی اور بات ٹال دی۔
اب اماں کو شدید فکر لاحق ہو گئی۔ انہوں نے میری نگرانی کے لیے میری بڑی بہن کو مقرر کر دیا۔ مگر اس کا بھی کوئی خاص فائدہ نہ ہوا، کیونکہ رات بارہ بجتے ہی وہ خود گہری نیند میں سو جاتی تھی، اور میں چپکے سے نکل جاتا تھا۔
دن بدن میری صحت خراب ہونے لگی۔ جسم کمزور پڑتا جا رہا تھا اور چہرہ زرد ہو گیا تھا۔
آخرکار، پریشان ہو کر میری والدہ نے میرے والد کو خط لکھا اور فوراً واپس آنے کو کہا۔ اس زمانے میں وہ مشرقی پاکستان ریلوے میں ملازم تھے، جو اب بنگلہ دیش بن چکا ہے۔
تقریباً ایک مہینے بعد میرے والد صاحب گھر واپس آ گئے…
…………
درخت 2
میرے والد صاحب کے آنے کے بعد انہوں نے مجھے ہر وقت اپنے ساتھ رکھنا شروع کر دیا۔ خاص طور پر وہ مجھے نماز کے لیے اپنے ساتھ مسجد لے جاتے، تاکہ میں ان کی نگرانی میں رہوں اور رات کو کہیں جا نہ سکوں۔
مگر جو کچھ ہو رہا تھا، وہ عام بات نہیں تھی۔
ایک دن فجر کی نماز کے دوران اچانک میں اٹھا اور تیزی سے باہر کی طرف بھاگ نکلا۔ کسی کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔ میں سیدھا اسی درخت کے پاس پہنچا اور اپنی پسندیدہ جگہ پر جا کر سو گیا۔
اس کے بعد پورے دو دن تک میں نیچے نہیں اترا۔
گھر والوں نے مجھے ہر جگہ تلاش کیا، مگر کہیں کوئی نشان نہیں ملا۔ آخرکار میرے والد صاحب نے تھانے میں میری گمشدگی کی رپورٹ درج کروا دی۔ سب لوگ سخت پریشان تھے۔
ان دو دنوں کے دوران، جب میں درخت پر تھا، وہی مانوس سرگوشی بار بار سنائی دیتی رہی:
“تم مت گھبراؤ… میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گی…”
یہ آواز عجیب طرح کی تسلی دیتی تھی، جیسے کوئی میری حفاظت کر رہا ہو۔
دو دن بعد، ایک دوپہر کو میں خود ہی درخت سے اترا اور گھر واپس آ گیا۔ گھر کا ماحول بالکل بدل چکا تھا۔ سب کے چہروں پر پریشانی اور خوف صاف نظر آ رہا تھا۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہوا، سب لوگ مجھے گھیر کر کھڑے ہو گئے۔
ہر کوئی مجھ سے ایک ہی سوال پوچھ رہا تھا:
“تم کہاں چلے گئے تھے؟”
مگر میں خود بھی حیران تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ لوگ اتنے پریشان کیوں ہیں۔ میں کوئی واضح جواب نہ دے سکا، بس یہی کہتا رہا کہ “میں تو گھر پر ہی تھا۔”
میرے والد صاحب کو دوبارہ ڈیوٹی پر جانا تھا، اس لیے انہوں نے میری حالت دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ مجھے کچھ دنوں کے لیے نواب شاہ بھیج دیا جائے۔ وہاں میرے بڑے بھائی نثار رہتے تھے، جو ٹی این ٹی کے محکمے میں ملازم تھے۔
میں اپنے بھائی کے ساتھ نواب شاہ چلا گیا۔
مگر وہاں جا کر بھی یہ سلسلہ ختم نہ ہوا۔
رات کو وہی کیفیت ہوتی۔ میں بستر پر سوتا، مگر جیسے ہی رات گہری ہوتی، مجھے کچھ یاد نہیں رہتا… اور صبح آنکھ کھلتی تو میں نواب شاہ میں ہی اپنے بستر پر ہوتا۔ جیسے سب کچھ معمول کے مطابق ہو، مگر اندر کچھ عجیب ضرور ہو رہا تھا۔
وقت اسی کشمکش میں گزرتا رہا۔
آخرکار، ایک دن میرے بھائی مجھے واپس کراچی لے آئے۔ انہوں نے امی کو تمام صورتحال بتائی اور پریشانی کے عالم میں کہا:
“میں نوکری کروں یا اس کا خیال رکھوں؟ یہ رات کو بستر سے غائب ہو جاتا ہے اور صبح پھر بستر پر ہی موجود ہوتا ہے…”
یہ سن کر میری والدہ کی پریشانی اور بھی بڑھ گئی…
میری والدہ بہت زیادہ پریشان ہو گئیں۔ آخرکار انہوں نے ایک مولوی صاحب کو بلوا کر میری حالت دکھائی اور شروع سے لے کر ساری باتیں بتائیں۔ مولوی صاحب نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا:
“اس لڑکے پر سایہ ہو چکا ہے… اس کا خاص خیال رکھیں، ورنہ یہ خود بھی نقصان اٹھا سکتا ہے اور گھر والوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔”
یہ سن کر میری والدہ اور بھی خوفزدہ ہو گئیں۔ فوراً ایک تعویذ میرے گلے میں ڈال دیا گیا۔
مگر جیسے ہی وہ تعویذ میرے جسم کو لگا، مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے پورے بدن میں آگ لگ گئی ہو۔ شدید بے چینی ہونے لگی۔ میں نے چند گھنٹوں کے اندر ہی وہ تعویذ اتار کر پھینک دیا۔
جب دوبارہ مجھے تعویذ پہنانے کی کوشش کی گئی تو میں بے قابو ہو گیا۔ میں نے پورا گھر سر پر اٹھا لیا، برتن اٹھا اٹھا کر زمین پر مارنے لگا۔ گھر کے سب لوگ مل کر بھی مجھے قابو نہیں کر پا رہے تھے۔
اسی دوران میں بھاگتا ہوا دوبارہ درخت پر چڑھ گیا… اور ایک بار پھر سب کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
جیسے ہی میں درخت پر پہنچا، وہی آواز میرے کانوں میں گونجی:
“اب تم میری پناہ میں ہو… اب تمہارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا…”
یہ سن کر مجھے عجیب سا سکون ملا، اور میں وہیں سو گیا۔
اس رات نیند میں مجھے ایک خواب آیا… میں نے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کو دیکھا، جو میرے سرہانے بیٹھی تھی اور نرمی سے میرا سر دبا رہی تھی۔ میں بے اختیار اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور اس کے قریب ہو گیا۔
اس وقت میری عمر تقریباً پندرہ سال تھی…
پتہ نہیں کب میری آنکھ کھلی، مگر جب میں جاگا تو خود کو اپنی چارپائی پر پایا۔ میں بالکل اکیلا تھا۔ گھر والے کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ اب میری حالت یہ ہو گئی تھی کہ مجھے کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہتا تھا۔ گھر والوں کو دیکھ کر بھی اجنبیت محسوس ہوتی تھی، جیسے میں ان سب سے دور ہوتا جا رہا ہوں۔
بالآخر میرے بھائی مجھے زبردستی ایک نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس لے گئے، جس کا کلینک بندر روڈ پر تھا۔ کئی مہینوں تک میرا علاج چلتا رہا۔ اسی دوران میں نے میٹرک کا امتحان دیا اور تھرڈ ڈویژن میں پاس بھی ہو گیا۔
پھر 1965 کی جنگ شروع ہو گئی۔ رات ہوتے ہی پورے شہر میں بلیک آؤٹ ہو جاتا تھا۔ اس اندھیرے کا میں بھرپور فائدہ اٹھاتا اور موقع ملتے ہی درخت پر جا کر سو جاتا۔
جنگ کو تقریباً ایک ہفتہ ہوا تھا کہ ایک رات، جب میں درخت پر تھا، مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی آدمی کا سایہ ہمارے گھر کی چھت پر حرکت کر رہا ہو۔ حالانکہ چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا، مگر مجھے سب کچھ ایسے نظر آ رہا تھا جیسے دن کی روشنی ہو۔
میں فوراً درخت کی اس شاخ سے، جو چھت کے قریب تھی، چھلانگ لگا کر چھت پر پہنچ گیا۔
وہ آدمی مجھے دیکھ کر گھبرا گیا۔
اچانک میرے منہ سے ایک زور دار آواز نکلی، اتنی بلند اور رعب دار کہ میں خود حیران رہ گیا کہ یہ میری ہی آواز ہے۔ میری چیخ سن کر پورا گھر جاگ گیا۔ سب لوگ لالٹینیں لے کر صحن میں آ گئے۔
میں نے چھت پر کھڑے ہو کر اس آدمی سے للکار کر پوچھا:
“تم کون ہو؟!”
میری آواز میں ایسا دبدبہ تھا کہ محلے والے بھی جمع ہو گئے۔ اسی دوران وہ رضاکار بھی آ گئے جو جنگ کے دنوں میں فوج کے لیے سامان اکٹھا کر رہے تھے۔ سب نے کہا:
“آواز چھت سے آ رہی ہے!”
لوگ تیزی سے چھت پر چڑھ گئے اور اس آدمی کو پکڑ لیا، جو اپنا پیراشوٹ سمیٹ رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ دوسرے ملک کا جاسوس تھا، جو غلطی سے ہمارے علاقے میں اتر آیا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد ماڈل کالونی کی پولیس آئی اور اسے گرفتار کر کے لے گئی۔
جنگ ختم ہونے کے بعد کالجوں میں داخلے شروع ہوئے، مگر میں نے گھر والوں کے بہت اصرار کے باوجود داخلہ نہیں لیا، اور یوں میرا ایک سال ضائع ہو گیا۔
گھر والوں کے مطابق، میں اکثر مہینوں کے لیے غائب رہنے لگا تھا۔
ایک بار میں ایک گاؤں چلا گیا، جہاں میں “اصغری” کے ساتھ رہنے لگا۔ اصغری وہی لڑکی تھی، جو مجھے خواب میں نظر آتی تھی… اب وہ حقیقت میں میرے ساتھ تھی۔ وہ مجھے حوصلہ دیتی، میرا خیال رکھتی، اور جب کبھی مجھے گھر والوں کی یاد آتی، تو وہ مجھے اس طرح بہلاتی کہ میں سب کچھ بھول جاتا۔
کچھ عرصے بعد، ہمارے محلے کے ایک شخص کا اس گاؤں جانا ہوا۔ انہوں نے مجھے وہاں دیکھ لیا اور فوراً گھر والوں کو اطلاع دے دی۔ میرے گھر والے وہاں پہنچے اور زبردستی مجھے واپس کراچی لے آئے۔
وقت گزرتا گیا… اب میں سترہ سال کا نوجوان بن چکا تھا۔ مسلسل علاج اور پیروں فقیروں کی دعاؤں کے بعد میری حالت کچھ بہتر ہو گئی تھی۔
آخرکار میں نے اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا اور باقاعدگی سے کالج جانے لگا۔
وہیں میری ایک کلاس فیلو لڑکی سے ملاقات ہوئی، جس کا نام “حمیدہ” تھا۔ وہ مجھے بہت اچھی لگی… اور آہستہ آہستہ ہماری دوستی محبت میں بدلنے لگی…
مکمل کہانی کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے گروپ جوائن کریں 👇👇👇👇👇
Follow this link to join my WhatsApp group: https://chat.whatsapp.com/Jq6GdMAgBGTICpkzlSpLKn?mode=gi_t
#novelandstories
#urduromancenovel
#urdustoy
#urdunovelsreader
#UrduHorror
#horrorurdu
#urdunovel
#horrormoviesandchill
#KahaniSuno2_0
#horrorstoryinhindi
![]()

